دوستی کا معیار : نیک رفاقت اور بُری صحبت
محمد انعام الحق قاسمی
ریاض، مملکت سعودی عرب
13 اپریل 2026ء
نیک دوست انسان کے لیے اللہ کی نعمت ہوتا ہے۔ وہ باتوں، رویّوں اور عمل سے خیر کی طرف رہنمائی کرتا ہے، مشکل وقت میں سہارا بنتا ہے اور غلطی پر نرمی سے ٹوکتا ہے۔ اس کے ساتھ بیٹھنے سے دل میں سکون اور کردار میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس بُرا دوست انسان کو غفلت، گناہ اور بے مقصد زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کی صحبت دل کو سخت اور اعمال کو بگاڑ دیتی ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ انسان اپنے دوستوں کے دین اور عادت پر ہوتا ہے، اس لیے دوستی ہمیشہ سوچ سمجھ کر کرنی چاہیے۔
انسان فطرتاً معاشرتی ہے، وہ تنہا نہیں رہ سکتا۔ مگر خوش نصیب وہ ہے جو نیک ساتھی اختیار کرے، اور بدبخت وہ ہے جسے برے دوست گمراہی اور معصیت کی طرف کھینچ لے جائیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"روحیں جمع شدہ لشکر ہیں، جو ایک دوسرے سے مانوس ہوں وہ قریب ہوجاتی ہیں، اور جو ناآشنا ہوں وہ جدا رہتی ہیں۔”
ہر وہ شخص جو ہمارے ساتھ بیٹھے، ضروری نہیں کہ وہ ہمارا خیرخواہ ہو، اور نہ ہر ہم نشین اللہ کے لیے محبت کرنے والا ہوتا ہے۔ لہٰذا ایسے دوست چنیں جو ہمیں غفلت میں یادِ خدا کی طرف متوجہ کریں، کمزوری میں نیکی کی طرف لے جائیں۔ اور برے دوستوں سے بچیں، کیونکہ وہ گناہ کو خوبصورت بنا کر دکھاتے ہیں، معصیت کو ہلکا کرتے ہیں، اور پھر وقت آنے پر نہ پردہ رکھتے ہیں نہ ساتھ دیتے ہیں، بلکہ انسان کو رسوائی اور ندامت تک پہنچا دیتے ہیں۔پس ایسے لوگوں سے بچیں، اور ظاہری چمک دمک یا دل کی وقتی رغبت پر دھوکا نہ کھائیں۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، لہٰذا دیکھو کہ تم کس کو دوست بناتے ہو۔”
اور آپ ﷺ نے ایک عظیم مثال بیان فرمائی:
"نیک ساتھی اور برے ساتھی کی مثال ایسی ہے جیسے خوشبو بیچنے والا اور لوہار کی بھٹی پھونکنے والا۔”
نیک ساتھی سے یا تو خوشبو ملتی ہے یا کم از کم خوشبو کی مہک، اور برا ساتھی یا تو نقصان پہنچاتا ہے یا اس کی بدبو ہمیں تکلیف دیتی ہے۔
نیک صحبت عظیم نعمت ہے، جس کے اثرات دنیا میں بھی رہتے ہیں اور آخرت تک ساتھ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"اس دن سب دوست ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں گے، سوائے متقیوں کے۔” (الزخرف: 67)
لہٰذا نیک، سچے اور اللہ کے لیے محبت کرنے والے دوستوں کو اختیار کریں۔ اُن کی محبت میں خیر ہے، اُن کی ملاقات میں ثواب ہے، اور اُن سے محبت کرنے پر اللہ کی محبت حاصل ہوتی ہے۔
موطأ امام مالک اور مسند احمد میں صحیح سند سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
"میری محبت ان لوگوں پر واجب ہے جو میری خاطر ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں، میری خاطر بیٹھتے ہیں، میری خاطر ایک دوسرے کی زیارت کرتے ہیں، اور میری خاطر ایک دوسرے پر خرچ کرتے ہیں۔”
اور اللہ کی محبت سے بڑھ کر کیا فضیلت ہو سکتی ہے۔مزید یہ کہ جو شخص اللہ کے لیے اپنے بھائی سے محبت کرتا ہے، اسے دو اجر ملتے ہیں:ایک اللہ کے عرش کا سایہ، اور دوسرا جنت۔
صحیح بخاری و مسلم میں ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
"سات قسم کے لوگ اللہ کے عرش کے سائے میں ہوں گے، ان میں سے ایک وہ دو شخص ہیں جو اللہ کے لیے محبت کرتے ہیں، اسی پر ملتے ہیں اور اسی پر جدا ہوتے ہیں۔”
پس ہمیں اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیئے، اور ایسے دوست چننا چاہیئے جو ہمہیں اللہ کے قریب کریں۔ اپنے بچوں کو بھی نیک صحبت کی طرف رہنمائی کریں، کیونکہ دوست یا تو جنت کا راستہ ہے یا جہنم کا دروازہ۔
بعض لوگ حیران ہوتے ہیں کہ نیک اور برے دوست میں فرق کیسے کیا جائے؟
اس کے لیے چند باتیں یاد رکھیں:
1) نمازیوں کی صحبت اختیار کریں، اور نماز چھوڑنے والوں کی صحبت سے بچیں۔
2) روزہ دار، سچے اور سخی لوگوں کے ساتھ بیٹھیں، کیونکہ دل نیک لوگوں کے قریب رہ کر پاکیزہ ہوتا ہے۔
3) کامیاب لوگوں کے قریب رہیں، ان سے تجربہ بڑھتا ہے، بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے، اور ثابت قدمی پیدا ہوتی ہے۔
4) ناکام اور مایوس لوگوں سے دور رہیں، کیونکہ ایک جملہ بھی ہمت توڑ دیتا ہے۔
5) کتنے سیدھے لوگ برے دوستوں کی وجہ سے گمراہ ہوگئے۔
6) اور کتنے گناہگار نیک دوست کی وجہ سے مسجدوں کی طرف لوٹے اور ان کی زندگی سنور گئی۔
صحبت معمولی چیز نہیں:دوست کھینچ کر لے جاتا ہے، یا روشنی کی طرف، یا اندھیرے کی طرف۔
اور کمینے کی دوستی سے بچیں، کیونکہ:
"جیسے خارش والا تندرست کو بیمار کر دیتا ہے، ویسے ہی برا دوست بھی اثر ڈالتا ہے۔”
شاعر کہتا ہے:
اپنے دوست کو سوچ سمجھ کر چنو:کیونکہ ساتھی کی پہچان ساتھی سے ہوتی ہے
لہٰذا ہر شخص اپنے دوستوں پر نظر ڈال۔:
اگر ان میں وہ صفات پائے جو ہم نے بیان کیں، تو ایسے دوست کو مضبوطی سے تھامے رکھیں۔
محمد انعام الحق قاسمی
ریاض، مملکت سعودی عرب
13 اپریل 2026ء
Comments are closed.