فکری غلامی کے بڑھتے سائے

 

محمد نفیس خان ندوی

 

عالمی افق پر بدلتی ہوئی سیاسی بساط اور مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے پوری دنیا کو ایک نئے اضطراب سے دوچار کر رکھا ہے۔ یہ کشمکش محض علاقائی تنازع نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن، سیاسی بالادستی اور نظریاتی غلبہ کی ایک گہری علامت ہے۔

 

اس صورت حال میں ترقی پذیر ممالک ایک مشکل دوراہے پر کھڑے ہیں۔ انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی میں خودمختاری برقرار رکھیں یا عالمی طاقتوں کے دباؤ میں آ کر اپنی راہ تبدیل کر دیں۔ اس کشمکش میں ہندوستان کی پالیسی کا کردار خاص طور پر اہم ہے۔

 

آج ہندوستان کی خارجہ پالیسی اور داخلی سیاست دونوں بتدریج عالمی طاقتوں کے سامنے سپر ڈالتی ہوئی محسوس ہو رہی ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ آزادی کے بعد جو ملک اپنی پالیسیوں میں خودمختار تھا، اس پر ایک نئی قسم کی غلامی کا سایہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ یہ غلامی طوق و سلاسل کی نہیں بلکہ افکار، نظریات، سیاسی ترجیحات اور عالمی پالیسیوں کی غلامی ہے۔ جب کسی ملک کی داخلی اور خارجی سیاست کی سمتیں بیرونی طاقتیں طے کرنے لگیں تو وہ آزادی اور ترقی کے نام پر درحقیقت غلامی کی طرف پیش قدمی کر رہا ہوتا ہے۔

 

آزادی کے بعد ہندوستان نے جس خارجہ پالیسی کی بنیاد رکھی تھی، وہ خودمختاری، طاقت کے توازن اور عدم وابستگی کے بلند اصولوں پر قائم تھی۔ آزدی کے بعد اختیار کی گئی یہ حکمت عملی محض سفارتی تدبیر نہیں تھی بلکہ ایک فکری و تہذیبی موقف تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ ایک نئی آزاد قوم کسی بھی عالمی بلاک کی تابع داری اختیار نہ کرے، بلکہ اپنے قومی مفادات، تہذیبی شناخت اور اخلاقی اقدار کی روشنی میں اپنا راستہ خود طے کرے۔ مگر موجودہ سیاسی منظرنامہ اس روایت سے واضح انحراف کر رہا ہے اور ایک نئی نوع کی فکری وابستگی کو جنم دے رہا ہے۔

 

آج ہندوستان کی خارجہ پالیسی محض سفارتی ضرورت یا قومی سلامتی تک محدود نہیں رہی بلکہ اس کے اثرات کروڑوں کی آبادی پر پڑ رہے ہیں۔ امریکہ کے ساتھ بڑھتی قربت کو ترقی، جدیدیت اور سلامتی کے دلکش نعروں سے سجایا جاتا ہے، مگر اس کے دوررس مضمرات پر سنجیدہ فکری مکالمہ نہیں ہوتا،دفاعی معاہدے اور اسٹریٹجک اتحاد‘ توازن کے بجائے ایک خاص سمت میں جھکاؤ کو ظاہر کرتی ہیں، جو طویل مدت میں خودمختاری اور فکری آزادی کو کمزور کر سکتی ہیں۔

 

یاد رہے کہ کسی بھی قوم کی بقا اور مضبوطی کی بنیاد اس کی خودمختاری اورفکری آزادی ہے۔ اگر یہ متاثر ہو جائے تو نہ تو ملک حقیقی ترقی کر سکتا ہے اور نہ ہی قوم آزاد رہ سکتی ہے۔

اسی تسلسل میں ایک اور نازک پہلو مسلم عوام کے فکری رویوں میں نمایاں ہو رہا ہے۔ حالیہ عالمی کشمکش کے تناظر میں بعض حلقوں میں ایک ایسی مرعوبیت جنم لے رہی ہے جو سنجیدہ فکری تجزیے کے بجائے جذباتی وابستگی پر مبنی ہے۔ بعض علاقائی طاقتوں یا گروہوں کا مغربی قوتوں کے مقابلے میں مزاحمتی رویہ بظاہر دلکش لگتا ہے، مگر اسی بنیاد پر بلا امتیاز ان کی تائید یا ان کے فکری و مذہبی ماڈل کو اختیار کرنے کی دعوت ایک خطرناک رجحان بن سکتا ہے۔

 

اہل سنت کی اپنی ایک مضبوط علمی، فقہی اور اعتقادی روایت ہے، جو صدیوں کے اجتہاد، اعتدال اور توازن کا نتیجہ ہے۔ اس روایت کو نظر انداز کر کے کسی دوسرے مکتب فکر سے مرعوب ہو جانا دراصل اپنی مذہبی خودمختاری اور فکری آزادی سے دست برداری کے مترادف ہے۔

 

یاد رہے!سیاسی اتحاد اور مذہبی ہم آہنگی دو الگ دائرے ہیں۔ وقتی طور پرسیاسی مفادات کے تحت کسی گروہ کی حمایت ایک بات ہے، مگر اس کے فکری و مذہبی تصورات کو بلا تنقید قبول کر لینا بالکل مختلف معاملہ ہے۔ اگر یہ حد مٹ جائے تو فکری انتشار پیدا ہوتا ہے اور امت کے اندر اعتدال کی جگہ مسلکی انتہا پسندی اور مذہبی مرعوبیت کا رجحان پروان چڑھتا ہے۔

اہل سنت نے ہمیشہ توازن، اعتدال اور علمی دیانت کو مقدم رکھا۔ نہ وہ کسی سیاسی طاقت سے مرعوب ہوئے اور نہ اپنے مذہبی اصولوں پر سمجھوتہ کیا۔

 

آج بھی ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ حالات کا تجزیہ جذبات کے بجائے علم، بصیرت اور اصولی موقف کی روشنی میں کیا جائے۔ کسی بھی ملک یا گروہ کی حمایت یا مخالفت کا معیار صرف عدل، حق اور امت کے وسیع تر مفادات ہونے چاہیں، نہ کہ وقتی جذبات یا سیاسی نعروں کی گونج!

Comments are closed.