سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر علامہ شبلی نعمانی و علامہ سید سلیمان ندوی رحمہما اللہ کی مایہ ناز تصنیف سیرۃ النبی کا عربی ترجمہ
مولانا محمد رحمت اللہ ندوی(مقیم قطر) کا ایک عظیم اور بے مثال کارنامہ
تحریر: ڈاکٹر نعمت اللہ ناظم قاسمی مکی
اسلامی علوم وفنون میں ایک اہم باب پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ کا ہے جسے سیرت نبوی سے جانا جاتا ہے جس طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت ایمان کا تقاضہ ہے اسی طرح آپ کی زندگی کے شب و روز، سفر و حضر، جنگ و جہاد اور ارشادات و ہدایات، احکام و نصائح، سے واقفیت بھی ایک مسلمان کے لئے ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ علما نے ہر زمانے میں سیرت نبوی کے مختلف پہلوؤں کو اپنی تحقیق و تالیف کا موضوع بنایا ہے، عربی زبان میں سیرت نبوی کے موضوع پر مختصر سے مختصر ترین کتابچہ کے ساتھ ساتھ طویل اور مفصل ترین کتابیں عشق نبوی سے سرشار ہو کر گلاب و یاسمین سے معطر سیاہی سے لکھی گئیں ہیں، اردو زبان کے مؤلفین نے بھی گلستاں سیرت میں مختلف طرح کے پھول سجائے ہیں اور سیرت نبوی کے مختلف پہلوؤں پر تالیفی خدمات انجام دی ہیں۔
برصغیر میں سیرت نبوی کے موضوع پر جو اہم کتابیں لکھی گئی ہیں ان میں سب سے امتیازی شان کی حامل اور منفرد نوعیت کتاب سیرت النبی ہے، جس کے شروع کی دو جلدیں علامہ شبلی نعمانی اور باقی کی چار جلدیں علامہ سید سلمان ندوی رحمۃ اللہ علیہم کے علمی و تحقیقی قلم سے وجود میں آئی ہیں،جس کے بارے میں مولانا علی میاں رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دنیا کی کسی زبان میں بھی سیرت کے موضوع پر ایسی کتاب اب تک نہیں لکھی گئی،اور جسے حضرت مولانا مناظر حسن گیلانی رحمہ اللہ سیرت نبوی کا انسائیکلو پیڈیا سے تعبیر فرماتے ہیں۔

اس کتاب میں پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ، آپ کے شب و روز کے حالات پر تفصیل سے روشنی تو ڈالی ہی گئی ہے لیکن اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں صرف سیرت کے واقعات ہی بیان نہیں کیے گئے بلکہ مستشرقین اور جدید مفکرین کے اعتراضات کا علمی و تحقیقی جواب بھی دیا گیا ہے۔ اس میں نبوت کی ضرورت، اسلامی احکام کی حکمت، اور عقلی دلائل کے ذریعے اسلام کی حقانیت جیسے اہم موضوعات پر بھی بحث کی گئی ہے۔
ایک عرصہ سے اہل علم و نظر کی یہ خواہش تھی کہ اس موسوعاتی کتاب کو عربی زبان میں منتقل کیا جائے تاکہ علامہ شبلی اور علامہ سید سلیمان ندو ی رحمہم اللہ کے علوم سے عالم عرب بھی مستفید ہو سکے، چنانچہ اس سلسلے میں وقتاً فوقتاً کوششیں بھی کی جاتی رہیں، مگر اللہ رب العزت نے اس کارنامہ کے انجام دہی کے لیے اپنے تقدیر میں مولانا رحمت اللہ ندوی اور ان کے رفقاء کرام کا نام لکھ رکھا تھا، تھا چنانچہ یہ خوش قسمتی ان کے حصے میں آئی اور بتوفیق خداوندی سیرت النبی کے موضوع پر اس معرکۃ الأراء کتاب کو عربی زبان میں منتقل کرنے اور علماء عرب کے ذوق کے مطابق اس کی علمی تحقیقی خدمت کا موقع آپ حضرات کو ملا،
مولانا رحمت اللہ ندوی کو اللہ تعالی نے ترجمہ ،تالیف اور تحقیق تینوں ہی میدانوں میں امتیازی شان عطا کیا ہے،اب تک اردو و عربی زبان میں آپ کی تیس سے زیادہ کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں ، آپ کی عربی تصانیف میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی،شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب اور قاضی مجاہد الاسلام صاحب قاسمی رحمہم اللہ کی سیرت اور ان کی خدمات پر آپ کی گراں قدر تالیف عالم عرب سے طبع ہوکر داد تحسین حاصل کر چکی ہیں،نیز دو درجن سے زیادہ عربی کتابیں، مخطوطات، آپ کی علمی تحقیق و تعلیق کے ساتھ عالم عربی کے مختلف مکتبات سے شائع ہو چکی ہیں۔
مولانا رحمت اللہ ندوی نے اس کتاب کے عربی ترجمہ کے لیے عربی ترجمہ کے ماہرین اور تجربہ کار مترجمین کی ایک کمیٹی بنائی جس میں ایسے اصحاب علم و فن کو شامل کیا جو ترجمہ میں مہارت کے ساتھ ساتھ علوم اسلامی اور عربی زبان کے رمز شناس اور متعدد عربی کتابوں کے مؤلف بھی ہیں، جن میں ڈاکٹر صاحب عالم ندوی، ڈاکٹر حسیب الرحمن ندوی ،ڈاکٹر آفتاب عالم ندوی اور ڈاکٹر محمد علی غوری شامل ہیں،ان حضرات کے ساتھ ساتھ آپ خود بھی اس کے ترجمہ میں شانہ بہ شانہ شریک رہے، جب ترجمہ کا مکمل ہوا تو پھر آپ نے تحقیق و تعلیق کے جدیدعصر ی سلوب کے مطابق اس کی تحقیق کا کام انجام دیا ، عرب قارئین کی مناسبت سے ضروری مقامات پر حاشیہ میں سیکڑوں تفصیلی نوٹ کا اضافہ کیا ،بہت سے مقامات پرحوالہ جات کا اصلی مراجع سے مقابلہ کیا گیا اور جو اغلاط تھیں ان کی تصحیح کی گئی۔
کتاب میں وارد احادیث و آثار کی علمی و تحقیقی انداز میں تخریج ایک اہم علمی ضرورت تھی، مولانا رحمت اللہ ندوی صاحب نے اپنے علمی ذوق اور فن تخریج حدیث میں ایک طویل تجربہ کے حامل ہونے کی حیثیت سے انہوں نے اپنی تحقیق میں اس پہلو پر بھی خاص طورپر توجہ دی اور کتاب میں وارد احادیث و آثار کی علمی تخریج کی ، بہت سی احادیث سے متعلق صحت و ضعف کی نشاندہی کی ہے، جو یقینا اہل علم خاص طور پر علم حدیث سے شغف رکھنے والے علماء و طلبہ کے لئے ایک گراں قدر علمی تحفہ ہے، اس کے علاوہ زبان و بیان اور ترجمہ کی سلاست وروانی ،عربی قواعد کی مکمل رعایت جیسے امور کے مراجعہ کے لئے ماہرین اور تجربہ کار اصحاب علم وفضل کی خدمات حاصل کی گئیں، تاکہ یہ موسوعاتی کتاب بہتر سے بہتر شکل میں قارئین کے سامنے آسکے۔
انتہائی خوشی اور مسرت کا موقع ہے کہ ترجمہ ،تحقیق ،اور کئی بار کے علمی مراجعہ کے مراحل سے گذر کر آج سیرت نبوی کا یہ انسائیکلو پیڈیا عرب زبان کے قارئین کی آنکھوں کا سرمہ بننے اور ان کے فکر و نظر کو جلا بخشنے کے لئے تیار ہے،الحمد للہ عرب دنیا کے ممتاز ترین ناشر دارالقلم دمشق نے اس موسوعہ سیرت کو انتہائی خوبصورت و دیدہ زیب سرورق اور بہترین و اعلی ترین معیار کی طباعت کے ساتھ سات جلدوں میں شائع کیا ہے۔
اس اہم علمی کارنامہ کی تکمیل و اشاعت پر مولانا رحمت اللہ ندوی مدنی اوران کے تمام معاونین خصوصی طورپر شکریہ کے مستحق ہیں ، دعا ہے کہ اللہ تعالی اسے شرف قبولیت بخشے اور علامہ شبلی نعمانی و سید الطائفہ علامہ سید سلیمان ندوی رحمہم اللہ کا علمی فیض عام سے عام تر ہو، او ر اللہ رب العزت مولانا رحمت اللہ ندوی سے علم و تحقیق اور دین کی نشر واشاعت کا کام لیتا رہے، اور ان کا قلم کبھی تعب و تھکن سے آشنا نہ ہو۔واللہ ہو الموفق والمعین۔
Comments are closed.