جناب شاہد صدیقی ’نئی دنیا‘اور کچھ یادیں…
سچ تو مگر کہنے تو
ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز
9395381226
’نئی دنیا‘ فاؤنڈیشن نے اردو صحافت میں خدمات کیلئے مولانا عبد الوحید صدیقی میڈیا یونیٹی ایوارڈ کے لئے میرا انتخاب کیا ہے۔ یہ ایوارڈ میرے لئے ایسا ہی ہے جیسے کسی یونیورسٹی کے فارغ التحصیل طالبعلم کو اسی یونیورسٹی کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ سے نوازا جارہا ہو۔ نئی دنیا سے میر ارشتہ تب ہی سے ہے جب سے ہم نے اخبارات کا مطالعہ شروع کیا۔ البتہ 1986ء سے حیدرآباد کے نمائندے کے طور پر باقاعدہ رپورٹس، مضامین، انٹرویوز نئی دنیا میں شائع ہوتے رہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ میرے صحافتی کیریئر پر رہنمائے دکن اور نئی دنیا کا مثبت اور تعمیری اثر رہا۔ 1986ء میں اپنی کتاب ”اظہر الدین کرکٹ کا شہزادہ“ تبصرے کے لئے جناب شاہد صدیقی کو بھیجی تھی، اس وقت تک ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، تاہم نئی دنیا میں مکمل ایک صفحہ پر اس کتاب پر طالب رام پوری کا تحریر کردہ تبصرہ شائع ہوا۔ جس کے بعد ہندوستان کے گوشہ گوشہ سے بے شمار خطوط موصو ل ہوئے جن میں سے بیشتر نے کتاب کی فرمائش کی تھی۔ جب اندازہ ہوا تھا کہ نئی دنیا کس قدر مسلمانوں میں مقبول ہے۔ اسی سال دہلی جانا ہوا تو نئی دنیا کے دفتر بھی گیا جو نظام الدین ویسٹ میں واقع تھا۔ لحیم شحیم قداور شخصیت کے مالک شاہد صدیقی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے کتاب کی تعریف کی اور کہا کہ اردو میں اسپورٹس پر لکھنے والے کم ہیں۔ ان کی ہدایت پر میں نے پہلے نئی دنیا کے لئے کھلاڑیوں کے انٹرو یوز کا سلسلہ شروع کیا۔ ہاکی کے عظیم کھلاڑی محمد شاہد ظفر اقبال (ہندوستان)، حسن سردار(پاکستان)، کرکٹرس اظہر الدین، ارشد ایوب کے انٹرویوز خصوصی طور پر نئی دنیا کے لئے جو نمایاں طور پر شائع ہوئے۔ عظیم اداکار شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کا انٹرویو بھی نئی دنیا کے لئے لیا تھا۔ کچھ عرصے بعد ایک بار پھر دہلی جانا ہوا اور نئی دنیا کے دفتر گئے اس وقت میرے ساتھ میرے ایک ساتھی علاء الدین ذکی بھی ساتھ تھے۔ شاہد صاحب سے بات چیت ہو رہی تھی کہ سادہ لباس میں پولیس والے وہاں پہنچے اور شاہد صاحب کو اپنے ساتھ چلنے کے لئے کہا، انہوں نے آنے سے پہلے ٹیلی فون بھی منقطع کردیا تھا، اس وقت صرف لینڈ لائن فون ہی ہوا کرتے تھے، سادہ لباس پولیس والوں نے اتنا ضرور کہا کہ خالصتان تحریک کے سربراہ جگجیت سنگھ چوہان کے انٹرویو کے سلسلے میں انہیں ہیڈ کوارٹر طلب کیا گیا ہے۔شاہد صاحب کو وکیل سے تک بات کرنے کا موقع نہیں ملا۔ البتہ چپکے سے ایک چھوٹی سی ڈائری میرے حوالے کرنے کا موقع ضرور ملا۔ جس میں ہندوستان کے تقریبا تمام سرکردہ سیاستدانوں سماجی شخصیات کے فون نمبرس درج تھے، میں نے سب کو اس کی اطلاع دی۔ چند گھنٹوں میں دہلی کے گوشہ گوشہ میں دیواروں پر شاہد صاحب سے یگانگت کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کاروائی کے خلاف احتجاجی پوسٹرس چسپاں ہوگئے۔ شاہد صاحب کو تہاڑ جیل بھیج دیا گیا تھا وہ ہندوستان کے پہلے صحافی تھے جنہیں ٹاڈا جیسے سیاہ قانون کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔صحافتی برادری ان کے لئے ایک ہوگئی، حکومت کے خلاف مضامین لکھے گئے، راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے۔ انہیں ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر کی اہمیت اور مقبولیت کا اندازہ ہوا اور پھر شاہد صاحب اور راجیو گاندھی کی دوستی دوسروں کی آنکھوں میں کھٹکنے لگی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے مسائل سے راجیو گاندھی کو واقف کروانے اور اقلیتوں سے متعلق کانگریس کی پالیسی سازی میں شاہد صاحب نے اہم رول ادا کیا تھا۔ 1989ء کے الیکشن میں کانگریس کو شکست ہوئی تو راجیو گاندھی کو احساس ہوا کہ کانگریس کی ہار مسلمانوں سے کسی قدر دوری کا نتیجہ تھی۔ چنانچہ شاہد صاحب کے مشورے پر 7 مئی 1990ء کو اپنی قیام گاہ پر راجیو گاندھی نے ہندوستان بھر سے اردو صحافیوں کو مدعو کیا اور ان سے کانگریس کی دوری کی وجہ جاننی چاہی۔ اس اجلاس میں شرکت کا مجھے بھی موقع ملا تھا اور شاید اس وقت سب سے کم عمر صحافی میں ہی تھا۔ شاہد صاحب نے انتہائی فراغ دلی کے ساتھ راجیو گاندھی سے میرا تعارف ان الفاظ کے ساتھ کروایا کہ یہ یووا پیڑھی کے پتر کار ہیں جو اپنے قوم کا فیوچر ہیں۔
1988ء میں ہم نے اردو اسپورٹس میگزین جاری کیا تھا اور فروری کے مہینے میں لال بہادر انڈو اسٹیڈیم میں ایوارڈ فنکشن کا اہتمام کیا تھا، جس میں کپل دیو کو دہے کا بہترین کھلاڑی اور شاہد صدیقی کو بہترین صحافی کا ایوارڈ اس وقت کی گورنر آندھرا پردیش محترمہ کمود بین جوشی کے ہاتھوں پیش کیا گیا تھا۔ اس ایوارڈ فنکشن میں اظہر الدین، ارشد ایوب، شیو لال یادو، ماسٹر وشوا ناتھ آنند اور جناب عابد علی خان ایڈیٹر سیاست نے شرکت کی تھی۔ یہ ایک تاریخ ساز ایوارڈ ساز فنکشن تھا۔
1992ء میں ہم نے نئی دنیا کا حیدرآبادی مسلمان نمبر شائع کیا۔32 صفحات پر مشتمل نئی دنیا کا یہ خصوصی شمارہ حیدرآبادی مسلمانوں کا انسائیکلوپیڈیا ثابت ہوا اور اسے ایک دستاویز کے طور پر تقریبا ہر ایک ادارے نے اپنے ریکارڈ میں محفوظ رکھا ہے۔
1994ء میں جناب کلیم الدین شمس ڈپٹی اسپیکر مغربی بنگال اسمبلی کی میزبانی میں مسلم کانفرنس کلکتہ کی ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں منعقد ہوئی۔ جس کے روح رواں جناب شاہد صدیقی تھے۔ جنہوں نے میرے علاوہ جناب بشیر الدین بابا خان ریاستی وزیر آندھرا پردیش، جناب امان اللہ خان ایم ایل اے، جناب کے ایم معارف الدین، عبد الرشید جنید اور سید عامر حنیف کو اس کانفرنس میں مدعو کیا تھا۔ ہندوستان کے مختلف ریاستوں سے سرکردہ مسلم قائدین اس میں شریک تھے۔ جن میں قابل ذکر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ، سیف الدین سوز، غلام نبی آزاد اور طارق انور قابل ذکر ہیں۔ کانفرنس کے بعد ڈاکٹر فاروق عبد اللہ کے ساتھ بڑے دلچسپ گپ شپ رہی تھی۔
حیدرآباد کے ایک ماہر تعلیم جناب کے ایم عارف الدین اردو روزنامہ شائع کرنا چاہتے تھے، اس وقت شاہد صدیقی صاحب دہلی سے روزنامہ عوام شائع کر رہے تھے۔ ہماری خواہش پر انہوں نے عوام کا حیدرآبادی ایڈیشن کے ایم عارف الدین صاحب کے اشتراک سے شائع کرنے سے اتفاق کیا۔ افسوس کہ نظریاتی اختلافات کی وجہ سے چند ماہ بعد عارف صاحب سے علاحدگی ہوگئی۔ شاہد صاحب کو بے حد تکلیف ہوئی مگر انہوں نے ایک لفظ بھی نہیں کہا البتہ یہ کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اس میں ’فاضل‘ کی کوئی غلطی نہیں۔ کے ایم عارف الدین کی تعلیمی میدان میں غیر معمولی خدمات رہی ہیں۔ مدینہ ایجوکیشن سنٹر حیدرآباد میں سر سید ہال کا افتتاح انہوں نے جناب شاہد صدیقی صاحب سے ہی کروایا تھا، ان کے نام کی تختی ابھی بھی نصب ہے۔ یہ ایک یادگار تقریب تھی، جس میں عثمانیہ یونیورسٹی اور علی گڑھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب ہاشم علی اختر اور سعودی عرب میں ہندوستانی سفیر جناب محمود بن محمد نے شرکت کی تھی۔
1996ء میں نئی دنیا میں شائع میری ایک رپورٹ پر مجلس اتحاد المسلمین نے نئی دنیا اور رہنمائے دکن‘ شاہد صدیقی صاحب اور جناب وقار پاشاہ پر ہتک عزت کا مقدمہ دائر کیا تھا۔ میں نے سالار ملت الحاج سلطان صلاح الدین اویسی صاحب سے مل کر ان سے اس رپورٹ کے لئے معذرت کا اظہار کیا اور مقدمہ واپس لینے کی گزارش کی۔ سالار ملت نے فراخ دلی اور اعلی ظرفی کا مظاہرہ کیا اور فرمایا کہ دونوں اخبارات میں اظہار معذرت شائع ہو جائے تو وہ مقدمہ واپس لیں گے۔ اتفاق سے ان ہی دنوں اسد الدین اویسی کی شادی مقرر تھی۔ جناب عزیز احمد صاحب نے شاہد صدیقی صاحب کا دعوت نامہ میرے حوالے کیا۔ شاہد صاحب نے شادی کی تقریب میں شرکت کی۔ سالار ملت اور وہ بغل گیر ہوگئے، دوسرے دن عدالت میں مقدمہ سے دستبرداری اختیار کرلی گئی۔
شاہد صاحب‘ ہمیشہ برادرانہ شفقت سے پیش آتے رہے۔ عام طور پر کسی اخبار کا کوئی نمائندہ اپنا اخبار نکالتا ہے تو اسے ناپسند کیا جاتا ہے۔ تاہم جناب وقار الدین اور جناب شاہد صدیقی نے حیدرآباد سے ’گواہ‘ شائع کرنے پر ہمت افزائی کی اور ہم نے بھی ہمیشہ اپنے حدود کو پار کرنے کی کوشش بھی کی۔ یہ مضمون اس لئے نہیں لکھا گیا کہ’نئی دنیا‘ نے ایوارڈ سے نوازا ہے بلکہ 40 برس کے دوران کے کچھ یادیں ضبط تحریر لانے کا ارادہ تھا جسے پورا کیا۔شاہد صاحب کو جب ٹاڈا کے تحت گرفتار کیا گیا تب بھی ہم نے رہنمائے دکن میں مضمون لکھا تھا ’راجیو گاندھی سے ملاقات‘ کے وقت بھی شاہد صاحب کے کلیدی رول پر مضمون لکھا گیا تھا۔ وہ راجیہ سبھا کے ممبر منتخب ہوئے۔ تب بھی ان کے انٹر ویوز شائع کئے گئے۔ ملائم سنگھ سے دوستی، اختلاف، مایاوتی سے قربت اور دوری پر بھی انٹر ویو شائع کئے گئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا نئی دنیا میں انٹرویو شائع ہوا جس پر بڑا ہنگامہ ہوا تھا۔ ’گواہ‘ واحد اخبار تھا جس نے ایک وزیر اعظم سے اردو اخبار کے انٹرویو کو اعزاز قرار دیتے ہوئے اظہار خیال کیا تھا جسے نئی دنیا نے بھی شائع کیا تھا۔ اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے پریس کونسل آف انڈیا، پبلک ریلیشن سوسائٹی آف انڈیا، خاک طیبہ ٹرسٹ جدہ، ایفمی امریکہ کے علاوہ مختلف ریاستوں سے ایوارڈز مل چکے ہیں مگر میرے لئے ’نئی دنیا‘ کے ایوارڈ کی زیادہ اہمیت ہے۔نئی دنیا فاؤنڈیشن ایک فیملی ہے۔ نئی دنیا سے وابستہ صحافیوں کی انجمن۔ دہلی اتر پردیش سے تعلق رکھنے والے بیشتر صحافیوں کا تعلق نئی دنیا سے رہا ہے۔ سبھی نے اپنی پہچان بنائی۔ اپنے ادارے قائم کئے، یہ ضروری نہیں کہ ہر ایک فرد اس وابستگی کا اظہار کرے۔ تاہم میرا جن جن سے تعلق رہا ہے انہیں تو نئی دنیا سے وابستگی پر ناز ہے۔ نئی دنیا صرف ایک اخبار نہیں، مسلمانوں کا ترجمان رہا ہے۔ جناب شاہد صدیقی نے اپنے والد محبوب ملت مولانا عبد الوحید صدیقی ؒ کی وراثت سنبھالے رکھا۔ ان کی قابلیت سے کسے انکار ہے؟ اردو، انگریزی، ہندی میں تقریر ہو یا تحریر، عوامی جلسے ہوں یا ٹیلی ویژن کے مباحثے شاہد صاحب کی بے باکی کے سبھی قائل ہیں۔ اگر وہ بے باک نہ ہوتے اپنے خیالات کے اظہار میں آزاد نہ ہوتے۔ کسی ایک سیاسی جماعت کے ہو رہتے۔ اس بات کی خوشی اور فخر ہے کہ نئی دنیا یا صدیقی فیملی کی جانب سے شائع ہونے والی ہے۔ تمام جرائد کا قاری رہا ہوں چاہے وہ’ماہنامہ ہدی‘ ہویا ’ہما‘ یا واقعات، ہندی نئی زمین، یا پاکیزہ آنچل۔ان جرائد نے ہماری ذہنی، فکری تربیت اور صحافتی کیریئر کو فروغ دینے میں بڑا اہم رول ادا کیا۔ جس کے لئے ہم صدیقی فیملی کا شکر گزار ہیں۔
Comments are closed.