عہد حاضر کے ابن بطوطہ کی آوارگی
سہیل انجم
لفظ آوارہ اور آوارگی کو مہذب معاشرے میں کچھ اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ کسی شخص کی بدقماشیوں کا ذکر کرنا ہو تو کہہ دیا جاتا ہے کہ ارے وہ تو آوارہ ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص خود کو آوارہ اور اپنی جہاں گردی کو آوارگی کا نام دے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ شخص جرات آموز اور روایت شکن ہے۔ یا تو بالی ووڈ کے شو مین راج کپور نے یہ اعلان کیا تھا کہ آوارہ ہوں، یا گردش میں ہوں آسمان کا تارا ہوں۔ یا پھر ڈرامے اور داستان گوئی کی دنیا کے شو مین جاوید دانش نے خود کو آوارہ اور اپنی سیاحت کو آوارگی کا نام دیا ہے۔ خود کہتے ہیں کہ” آوارگی تمام ہے میری سرشت میں۔“ فلم آوارہ کے راج کپو رکے تو ستارے گردش میں تھے لیکن جاوید دانش کے نہ تو ستارے گردش میں ہیں اور نہ ہی وہ خود۔ وہ تو گردشِ ایام کو خاطر ہی میں نہیں لاتے۔ گردش تو خود ان کے آگے پیچھے گردش کرتی ہے۔ یہ تو فخرسے کہتے ہیں کہ ”وہاں سے ایک قدم بھی نہ بڑھ سکی آگے، جہاں میں گردش ایام چھوڑ آیا ہوں۔“ غالب نے اپنے ایک شعر میں جس بازیچہ ¿ اطفال اور تماشے کا ذکر کیا ہے جاوید دانش اسی کھیل تماشے کو دیکھنے کے لیے نگری نگری پھرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس آوارگی نے میرے سامنے نئی دنیائیں کھول دی ہیں۔ جانے کیسے میرا جی جب نگری نگری پھرنے لگے تو گھر کا رستہ ہی بھول بیٹھے۔ ”نگری نگر پھرا مسافر گھر کا رستہ بھول گیا۔“ لیکن آنجناب خود فراموشی میں مبتلا ایسے دیوانے نہیں۔ یہ ایک ہوش مند سیاح ہیں اور جب گھومنے پھرنے سے من بھر جاتا ہے تو ”چل دانش گھر آپنے“ کا عنوان باندھ کر بِیٹنگ رٹریٹ کا منظر پیدا کر دیتے ہیں۔ امیر خسرو تو اس وقت اپنے گھر لوٹے تھے جب گوری مکھ پر کیس ڈال کر سونے لگ گئی تھی لیکن آنجناب تو گوری کے ناز و عشوہ و ادا کے نصف النہار کو ہی چھوڑ کر گھر کی راہ لے لیتے ہیں۔ اسی آوارگی کے تسلسل میں وہ پیرس کے حسن و جمال کی تسبیح پڑھتے ہوئے مغربی سوسائٹی کے لیے کشید کردہ اعلیٰ شراب، عمدہ پکوان، نفیس خوشبوجات اور فیشن کی حشر سامانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اسے الودع بھی کہہ دیتے ہیں۔ پیرس کی حشر سامانیوں کا تذکرہ انہی کی زبانی سنیے اور اس بیانیے میں طنز و مزاح کا بھی مزا لیجیے:
”جیسے جیسے رات ڈھل رہی تھی راستے کی رونق بڑھ رہی تھی۔ لوگ اتنے آرام سے ٹہل رہے تھے کہ گھر واپس جانے کا سوال ہی نہیں۔ میں اپنے ہم وطن ہندوستانیوں کے بارے میں سوچنے لگا۔ ہم لوگوں کی آدھی زندگی اماوں کے اس سوال کے جواب میں کٹ جاتی ہے کہ کہاں جارہے ہو؟ اور بقیہ زندگی بیگم کے سوال میں گزر جاتی ہے کہ کہاں سے آرہے ہو؟ یہ پیرس ہے پیرس، یورپ کا دل۔ یہاں کوئی کسی سے کسی طرح کا سوال نہیں کرتا۔ اگر کرتا ہے تو کوئی جواب دینے کی زحمت نہیں کرتا۔“ گویا والی آسی کی زبان میں ”ہمیں تیرے سوا اس دنیا میں کسی اور سے کیا لینا دینا، ہم سب کو جواب نہیں دیتے ہم سب سے سوال نہیں کرتے۔“
کولمبس نے تو صرف ایک نئی دنیا تلاش کی تھی اور وہ تاریخ میں امر ہو گیا۔ لیکن عہد حاضر کے اس کولمبس نے تو اپنے قارئین کو جانے کتنی دنیاو ¿ں کی سیر کرا دی۔ لیکن یہ سیاح تاریخ میں امر ہوگا یا نہیں اس کا فیصلہ تو تاریخ ہی کرے گی۔ انھوں نے پیرس میںبھی اپنے قدموں کی خاک اڑائی اور فرینکفرٹ میں بھی۔ کوپن ہیگن کی ہنگامہ خیزیوں سے لطف اندوز ہوئے تو نیو یارک میں مہاجرین کی جنت اور دوزخ کا معائنہ کرنے کے ساتھ ساتھ اس قصر ابیض کو دیکھا جس پر آجکل ایک صاحبِ قلبِ اسود کا قبضہ ہے۔ جاپانیوں کی دھوپ کی مانند اجلی ہنر مندی بھی دیکھی اور ہانگ کانگ کی شب بیداریوں سے بھی لطف اٹھایا اور اُسے” شہر خوباں“ کا نام دے کر اس کے حسن و زیبائش کا اعتراف کیا۔ بنکاک کی مسکراہٹوں پر فریفتہ ہوئے تو وہاں ایمان اور کفر کی کشمکش بھی دیکھی۔ گویا انھوں نے یہ بات بجا طور پر کہی کہ اس آوارگی نے ان پر نئی دنیاوں کے دروازے کھول دیے۔ ہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ آوارگی ہے آوارہ مزاجی نہیں۔ دونوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ یہ سفرنامہ شہادت دیتا ہے کہ جاوید دانش آوارہ گرد ہیں آوارہ مزاج نہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ جب آوارگی اول سے دل نہیں بھرا تو آوارگی دوم کرنے نکل پڑے۔
پیرس میں آوارہ گردی کرتے کرتے جب اندرونِ شکم کے باشندے آوارگی کرنے لگے تو انھوں نے انھیں چپ کرانے کا سامان ڈھونڈنا شروع کر دیا۔ حسن اتفاق ان کی نظر ایک ایسے ہوٹل پر پڑی جس کا نام تھا ”فخر ہندوستان۔“ بس پھر کیا تھا۔ غریب الوطنی میں اگر کوئی ہم وطن مل جائے تو جو مسرت و شادمانی حاصل ہوتی ہے وہیں اس ہوٹل کو دیکھ کر ہوئی۔ لیکن اس وقت ان کا سارا جوش ٹھنڈا ہو گیا جب ان کو احساس ہوا کہ یہ تو دھوکے کی ٹٹی اور فریب دہی کا مرکز ہے۔ اندر مشرقی و مغربی موسیقی گاہکوں پر سحر طاری کرنے کے لیے بے تاب تھی تو ایک ”بہت خوبصورت مگر سانولی یا سلونی سی لڑکی“ گاہکوں کو اپنے ناز و ادا کے جال میں پھانسنے میں اپنی مہارت کا مظاہرہ کر رہی تھی۔ جب اس نے بڑے سحر انگیز انداز میں ان کے سامنے مینو رکھا تو بقول ان کے ”یہ مینو پر اور محترمہ ان پر جھکی پڑتی تھیں۔“ انھیں پہلی بار بریانی کے ساتھ سالن کھانے کا تجربہ ہوا۔ انھوں نے وہاں جیسی بریانی کھائی ویسی شاید اب زندگی میں کبھی کھانے کو نہ ملے اور اگر ملے بھی تو یہ اس کو منہ نہ لگائیں۔ قیمت اور ذائقے نے ان کا موڈ خراب کر دیا بلکہ ہوش اڑا دیے اور اس طرح یہ اپنی جیب کٹا کر ہوٹل سے نکلے۔ گویا وطنی وابستگی کے فریب نے ایک ہنسنے، کھلکھلانے اور قہقہہ لگانے والے جواں مرد کو سینہ کوبی بلکہ پاکٹ کوبی کرنے پر مجبور کر دیا۔ جب پورا خاندان ہی جیب کاٹنے کے فن میں ماہر ہو تو کوئی کسیے بچ سکتا ہے۔
پیرس کے تعلق سے ایک دلچسپ بات تو رہ گئی اور وہ بات ہے مشترکہ غسل خانے یعنی کامن باتھ روم کی۔ لکھتے ہیں کہ وائی ایم سی اے کے پرسکون ماحول میں بس ایک چیز کھٹک رہی تھی کامن باتھ روم یعنی نہانے کا مشترکہ نظام۔ اب ان کی نکتہ آفرینی دیکھیے ”خیر ا س بہانے فرانسیسیوں کے اتحاد کی وجہ معلوم ہو گئی۔ ظالم نہاتے بھی اجتماعی طور پر ہیں۔ “ اب طنزیہ پیرایہ ملاحظہ ہو۔ ”جب میں اس جماعت میں شامل ہونے کو پہنچا تو اردو کا ایک مشہور محاورہ یاد آگیا کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ اللہ جھوٹ نہ بلوائے حمام اور لوگ اسم با مسمیٰ ہو رہے تھے۔“ خیر انھیں جب یہ معلوم ہوا کہ ”بد ذوق لوگ صبح فارغ ہو سکتے ہیں اور اعلیٰ ذوق والے اٹیچڈ باتھ والا کمرہ لیتے ہیں“ تب ان کی جان میں جان آئی۔
آپ کتاب میںایک جگہ لکھتے ہیں ”میرے ایک شناسا جرمنی گئے تو ایک عدد خالص جرمن وائف لیتے آئے۔ بیگم شاید فرینکفرٹ کی تھیں۔ وہ جب بھی کچھ سناتے تو کہتے پیارے بس جرمنی میں کوئی جگہ ہے تو فرینکفرٹ۔ کیا بات ہے اس شہر کی۔ خوب لن ترانی ہانکتے۔ انھیں کیا معلوم کہ ان کا پیارا بھی آوارگی کے لیے ہانکتا ہنکاتا فرینکفرٹ پہنچ ہی جائے گا۔ انھیں کیا خود پیارے کو بھی اس کا اندازہ نہیں تھا۔ آج اس واقعے کو پندرہ سال ہو گئے اور فی الحال میں فرینکفرٹ ایئر پورٹ پر اس شناسا کے سسرال کا پتہ اپنی خستہ ڈائری میں ڈھونڈ رہا ہوں۔“ جاوید دانش کے اس آوارگی نما سفر نامے کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خود صاحب مطالعہ ہیں اور جس ملک یا شہر کو آوارگی کے لیے منتخب کرتے ہیں اس کی تاریخ اور معاشرت و معیشت کو پڑھ کر جاتے ہیں۔ جبھی تو کہتے ہیں کہ ”بجلی کی کڑک اور طوفان کا زور تاریخ کے اس دور کی یاد تازہ کر رہا ہے جب یہاں ہٹلر کی حکومت تھی۔ اس ملک میں پروشیا کے جاہ و جلال والے شہنشاہ کا دور دورہ تھا۔ قصرِ ولیم، شاہ فریڈرک، پرنس بسمارک اور ہٹلر اعظم جس سے زمین کانپتی تھی۔ جس کے ابرووں کے خم سے لاکھوں مجبور عوام گیس چیمبر میں چند منٹوں میں لقمہ اجل ہو جاتے ہیں۔ سوستیکا کے پرچم تلے گستاپو اور نازیوں کی حشر سامانیاں کروڑوں انسانوں کی تقدیر سے مذاق کرتی ہیں۔“
کوپن ہیگن پہنچے تو کمال ہو گیا۔ ”ذکر میرا مجھ سے بہتر ہے کہ اس محفل میں ہے“ والی کیفیت تھی۔ یعنی وہاں ان کا زوردار استقبال ہوا۔ لہٰذا یہ شہرِ بے مثال انھیں خوب بھایا کیونکہ ہر سو ان کا نام کندہ تھا اور لوگ جیسے ورد کر رہے تھے۔ دانش چیز، دانش کوکیز، دانش ڈسکو وغیرہ وغیرہ۔ لیکن اس وقت ان کا جوش سرد پڑ گیا جب انھیں معلوم ہوا کہ یہ فریبِ نظر بلکہ فریبِ فہم ہے۔ کمبخت اس لفظ کا تلفظ غلط کر رہے تھے یعنی وہ دانش کو ڈینش پڑھتے تھے۔ ڈینش چیز، ڈینش کوکیز اور ڈینش ڈسکو۔ وہاں ایک ہوٹل میں ان کو ایک اردو جاننے والا ویٹر ملا جس نے اپنا نام سمیع بتایا۔ جب انھوں نے اپنا نام دانش بتایا تو اس نے فوراً پوچھا آپ پاکستان میں کہاں سے ہیں۔ انھوں نے الٹا سوال کیا۔ کیا اردو آجکل صرف پاکستان میں بولی جاتی ہے۔ بیچارے سمیع کو کیا معلوم کہ اس نے ایک حاضر جواب ہرفن مولا سے غلط سوال کر لیا ہے۔ جاوید دانش کو چاہیے کہ وہ دانش کو ڈینش پڑھنے کو برا نہ مانیں کیونکہ سمیع کو بھی تو وہاں سب لوگ ”سَیمی“ کہتے تھے۔ لیکن بہرحال تلفظ نے بھلے ہی دھوکہ دے دیا ہو قیمت نے دھوکہ نہیں دیا۔ یعنی ڈینش نے دانش کی جیب نہیں کاٹی بلکہ جذبہ مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سمیع نے اپنے لیے بنوائے بن کباب سے ان کی تواضع کی۔
جاوید دانش یہ کہتے ہوئے لندن گئے کہ ”سدھاریں شیخ کعبے کو ہم انگلستان دیکھیں گے، وہ دیکھیں گھر خدا کا ہم خدا کی شام دیکھیں گے۔“ لیکن لندن پہنچ کر انھیں جس احساس کمتری نے آگھیرا اس کے ذکر میں طنزیہ کاٹ بھی ہے اور احساس ندامت بھی۔ کہتے ہیں کہ ”ولایت یا یوں کہیے کہ برطانیہ عظمیٰ سے ہماری تاریخی، سیاسی اور ثقافتی یاد اللہ رہی ہے بلکہ خوب رہی ہے۔ ہمارا سابق آقا جس کے دربارِ عالی کا سورج غروب نہیں ہوتا تھا اب طلوع ہونے میں ہچکچاتا ہے۔ مگر ہم پرانی قدروں اور رشتوں کو استوار رکھنے کے قائل ہیں۔ آج بھی ہم سوری اور تھینک یو سے خود کو آزاد نہیں کر سکے ہیں۔“
غرضیکہ عہد حاضر کے اس ابن بطوطہ کی سیاحت اب بھی جاری ہے۔ آج کینیڈا میں ہیں تو کل خلیج میں اور پرسوں ہندوستان میں۔ دیکھیے نرسوں کہاں پہنچتے ہیں۔ یہ ضخیم سفرنامہ دراصل سفرنامہ بھی ہے اور عجائب خانہ بھی۔ خوبصورت رودادِ سفر بھی ہے اور مصائب و مشکلات کا تبسم ریز ذکر بھی۔ طنز و تشنیع کے تیر بھی ہیں اور پر لطف فقروں کے قہقہہ زار بھی۔ زخمی انسانی احساسات بھی ہیں اور ان احساسات پر نازک جذبات کا پھایا بھی۔ معیشت بھی ہے اور معاشرت بھی۔ ثقافت بھی ہے اور تہذیب و تمدن بھی۔ تاریخ بھی ہے اور تاریخ گر، و تاریخ ساز بھی۔ اگر آپ کو کوثر و تسنیم میں دھلی ہوئی زبان اور دلچسپ پیرایہ بیان چاہیے تو یہ کتاب پڑھیے۔ میرا دعویٰ ہے کہ اگر آپ اس کو پڑھنا شروع کر دیں گے تو ختم کرکے ہی دم لیں گے۔
اب آپ مضمون کے مطلع کو مقطع سے مربوط کیجیے۔ کوئی اور ہوتا تو اس کتاب کا ”نئی دنیاوں کی سیر یا سفرنامہ فلاں اور فلاں“ جیسا نام رکھتا۔ لیکن لفظ آوارگی ان کے دل کو اتنا بھایا کہ انھوں نے کتاب کا نام ”آوارگی اور مزید آوارگی“ رکھ دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب ان کی آوارگی کلکتہ کے روزنامہ اخبار مشرق کے قارئین کے ہوش اڑانے لگی تو بہت سے لوگ چیں بہ جبیں ہو گئے اور کہنے لگے کہ یہ جاوید دانش کیا لکھ رہے ہیں۔ لیکن پھر یوں ہوا کہ وہی لوگ ان کی آوارگی کے نہ صرف دیوانے ہو گئے بلکہ خود آوارگی کرنے کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ کتاب کی پسندیدگی کا عالم دیکھیے کہ کئی ریاستوں کی اکیڈمیوں نے اسے اول انعام سے نوازا اور دو یونیورسٹیوں میں اس پر پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے جا رہے ہیں۔ اس کا ہندی ترجمہ بھی مقبولیت کے بام عروج پر پہنچ گیا۔ سفرنامہ لکھا جائے تو ایسا کہ اس پر پی ایچ ڈی ہو ورنہ نہ لکھا جائے۔
آخر میں دو اشعار ایک اردو اور ایک فارسی کا پیش کرکے اپنی بات ختم کرتا ہوں۔ اردو شعر میں شاعر کی روح سے معذرت کے ساتھ تخلص کو تبدیل کرکے یوں کر دیا گیا ہے:
اک میں ہی ہوں ”دانش“جو بدنام ہوا
ویسے تو کرتے ہیں سب آوارہ گردی
اور فارسی شعر ہے:
نہ من بیہودہ گردِ کوچہ و بازار می گردم
مذاقِ عاشقی دارم پئے دیدار می گردم
Comments are closed.