ایگزٹ پول: حقیقت کی عکاسی یا سیاسی بیانیے کا فسانہ؟

 

(حافظ)افتخاراحمدقادری

iftikharahmadquadri@gmail.com

جمہوری نظام میں انتخابات اقتدار کی منتقلی کا ذریعہ نہیں ہوتے بلکہ یہ عوامی شعور، سیاسی ترجیحات اور سماجی رجحانات کی عکاسی بھی کرتے ہیں۔ ہر انتخاب اپنے ساتھ ایک نیا سیاسی منظرنامہ لے کر آتا ہے جس میں امیدیں، خدشات، دعوے اور تجزیے سب ایک ساتھ چلتے ہیں۔ انہی تجزیوں میں ایک اہم عنصر ایگزٹ پول بھی ہے جو ووٹنگ کے فوراً بعد عوامی رائے کا ایک ابتدائی خاکہ پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیا ایگزٹ پول واقعی زمینی حقیقت کی درست ترجمانی کرتا ہے یا پھر یہ ایک ایسا فسانہ ہے جو سیاسی فضا کو متاثر کرنے کے لیے ترتیب دیا جاتا ہے؟ پانچ ریاستوں میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد جاری ہونے والے ایگزٹ پول نے ایک بار پھر اسی بحث کو زندہ کر دیا ہے۔ آسام میں حکمراں جماعت کی ممکنہ ہیٹ ٹرک، پاڈوچیری میں این ڈی اے کی واپسی، تمل ناڈو میں ڈی ایم کے کی متوقع کامیابی اور کیرالہ میں سیاسی تبدیلی کے امکانات یہ سب پیش گوئیاں سیاسی حلقوں میں زبردست ہلچل کا سبب بنی ہیں۔ خاص طور پر مغربی بنگال کے حوالے سے ایگزٹ پول نے جس طرح کے متضاد اشارے دیے ہیں اس نے اس پورے عمل کی ساکھ پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔

مغربی بنگال کی سیاست ہمیشہ سے غیر معمولی رہی ہے جہاں علاقائی شناخت، نظریاتی وابستگی اور قیادت کی شخصیت سب مل کر انتخابی نتائج کو متاثر کرتے ہیں۔ اس بار بھی یہی صورتحال نظر آئی جہاں ایک طرف حکمراں جماعت نے اپنی جیت کا پرزور دعویٰ کیا تو دوسری جانب اپوزیشن نے بھی کامیابی کے امکانات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ ایگزٹ پول نے اس کشمکش کو مزید پیچیدہ بنا دیا کیونکہ مختلف سروے اداروں کی پیش گوئیاں ایک دوسرے سے متصادم دکھائی دیں۔ کچھ نے ایک جماعت کو واضح برتری دی تو کچھ نے دوسری کو جس سے یہ تاثر پیدا ہوا کہ شاید خود سروے ایجنسیاں بھی غیر یقینی کیفیت کا شکار ہیں۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ایگزٹ پول پر سوال اٹھے ہوں۔ ماضی میں بھی کئی بار ایسا ہوا ہے کہ ایگزٹ پول کی پیش گوئیاں حتمی نتائج سے یکسر مختلف ثابت ہوئی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایگزٹ پول محدود نمونوں (سیمپل سائز) پر مبنی ہوتے ہیں جو پورے ووٹر طبقے کی نمائندگی نہیں کر سکتے۔ مزید برآں ووٹرز کا بدلتا ہوا رویہ، خفیہ رائے دہی کا رجحان اور بعض اوقات سیاسی دباؤ بھی درست معلومات کے حصول میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ مغربی بنگال کے معاملے میں ایک معروف سروے ایجنسی کا ایگزٹ پول جاری کرنے سے انکار اس حقیقت کو مزید واضح کرتا ہے کہ زمینی سطح پر ڈیٹا اکٹھا کرنا کتنا مشکل ہو چکا ہے۔ جب ووٹر خود اپنی رائے ظاہر کرنے سے گریز کرے تو پھر کسی بھی قسم کی پیش گوئی محض اندازہ ہی رہ جاتی ہے جسے حتمی حقیقت نہیں کہا جا سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ کئی تجزیہ کار ایگزٹ پول کو ایک سیاسی بیانیہ قرار دیتے ہیں جو عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ سیاسی جماعتیں بھی ایگزٹ پول کو اپنے اپنے مفادات کے تحت دیکھتی ہیں۔ جو نتائج ان کے حق میں ہوں انہیں سچ اور معتبر قرار دیا جاتا ہے جبکہ مخالف نتائج کو مسترد کر دیا جاتا ہے۔ یہ رویہ خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ایگزٹ پول کو قطعی سچ ماننا درست نہیں۔ بلکہ اسے ایک ابتدائی اشارہ سمجھنا چاہیے جس کی تصدیق صرف حتمی نتائج ہی کر سکتے ہیں۔

پانچوں ریاستوں کے انتخابات میں ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ کانگریس اور اس کے اتحادیوں کے لیے یہ ایک موقع کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جہاں کھونے کے لیے کم اور پانے کے لیے زیادہ ہے۔ اس کے برعکس بڑی قومی جماعتوں کے لیے یہ انتخابات وقار اور ساکھ کا مسئلہ بن چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایگزٹ پول کے نتائج نے سیاسی ماحول کو مزید گرم کر دیا ہے اور ہر جماعت اپنی جیت کے دعوے کے ساتھ میدان میں کھڑی ہے۔ جمہوری نظام کی خوبصورتی یہی ہے کہ آخری فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہوتا ہے نہ کہ سروے اداروں کے اندازوں سے۔ ایگزٹ پول چاہے جتنا بھی مستند کیوں نہ ہو وہ صرف ایک اندازہ ہے حتمی سچ نہیں۔ اصل حقیقت وہی ہوتی ہے جو ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم ایگزٹ پول کو ایک محدود تناظر میں دیکھیں اور اسے فیصلہ کن حقیقت نہ سمجھیں۔ کیوں کہ ایگزٹ پول نہ مکمل طور پر حقیقت ہیں اور نہ ہی سراسر فسانہ۔ یہ دونوں کے درمیان ایک ایسی سرحد پر کھڑے ہوتے ہیں جہاں اندازہ اور حقیقت ایک دوسرے سے گڈمڈ ہو جاتے ہیں۔ اصل امتحان اس وقت ہوتا ہے جب نتائج کا اعلان ہوتا ہے اور تب یہ طے ہوتا ہے کہ کس کا اندازہ درست تھا اور کس کا بیانیہ محض ایک سراب۔ اب جبکہ نتائج کے اعلان میں کچھ ہی وقت باقی ہے سیاسی گلیاروں میں بے چینی عروج پر ہے۔ ہر کوئی اپنی اپنی امیدوں کے ساتھ منتظر ہے کہ عوام کا فیصلہ کس کے حق میں آتا ہے۔ تب تک کے لیے ایگزٹ پول ایک بحث ضرور ہیں مگر فیصلہ نہیں۔ یہاں یہ کہنا بیجا نہیں کہ ایگزٹ پول کے حوالے سے عوام کا رویہ کیا ہونا چاہیے اور وہ اس اطلاعاتی ہجوم میں اپنی رائے کو کس طرح متوازن رکھ سکتے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں بلکہ شعور، برداشت اور تجزیاتی بصیرت کا تقاضا بھی کرتی ہے۔ اگر عوام ایگزٹ پول کو حتمی سچ سمجھ کر اپنی ذہنی وابستگی اسی کے مطابق ترتیب دینے لگیں تو یہ نہ صرف ان کے سیاسی شعور کو محدود کر دیتا ہے بلکہ جمہوری عمل کی روح کو بھی متاثر کرتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام ایگزٹ پول کو محض ایک ابتدائی اشارہ سمجھیں نہ کہ فیصلہ کن نتیجہ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ جیسے ہی ایگزٹ پول جاری ہوتے ہیں عوامی سطح پر ایک نفسیاتی فضا قائم ہو جاتی ہے۔ کہیں جشن کا سماں بندھ جاتا ہے تو کہیں مایوسی کی چادر تن جاتی ہے حالانکہ حقیقت ابھی پردہ خفا میں ہوتی ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب سنجیدگی اور فہم و فراست کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ ایک باشعور معاشرہ وہی ہوتا ہے جو وقتی تاثر سے متاثر ہونے کے بجائے حتمی نتائج کا انتظار کرے اور اپنی رائے کو ٹھوس بنیادوں پر قائم رکھے۔ کیونکہ جمہوری فیصلے جذبات کی رو میں بہہ کر نہیں بلکہ صبر، برداشت اور حقائق کی روشنی میں کیے جاتے ہیں۔ اگر ایگزٹ پول کے نتائج بعد میں آنے والے اصل نتائج سے مختلف نکلیں تو عوام کو مایوسی یا اشتعال کا شکار ہونے کے بجائے اس فرق کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ فرق دراصل اسی حقیقت کی نشان دہی کرتا ہے کہ انسانی رویے، سماجی پیچیدگیاں اور سیاسی ترجیحات کسی ایک سروے یا اندازے میں مکمل طور پر سمٹ نہیں سکتیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ عوام اپنی رائے کو کسی ایک ذریعے تک محدود نہ رکھیں بلکہ مختلف ذرائع سے معلومات حاصل کر کے ایک متوازن نقطہ نظر قائم کریں۔ سیاسی جماعتوں اور میڈیا کا بھی یہ فرض بنتا ہے کہ وہ ایگزٹ پول کو سنسنی خیزی کا ذریعہ بنانے کے بجائے ذمہ داری کے ساتھ پیش کریں تاکہ عوام گمراہ نہ ہوں۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ عوام کی اپنی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ انہیں چاہیے کہ وہ ہر اطلاع کو تنقیدی نگاہ سے دیکھیں، سوال کریں اور بغیر تصدیق کے کسی نتیجے کو قبول نہ کریں۔ یہی رویہ جمہوری شعور کی اصل پہچان ہے۔ آخرکار جمہوریت کی اصل طاقت عوام کے ووٹ میں مضمر ہے نہ کہ اندازوں اور قیاس آرائیوں میں۔ ایگزٹ پول وقتی بحث کا حصہ ضرور ہو سکتے ہیں مگر فیصلہ کن حیثیت صرف اور صرف عوامی مینڈیٹ کو حاصل ہوتی ہے جو ووٹوں کی گنتی کے بعد سامنے آتا ہے۔ لہٰذا! عوام کو چاہیے کہ وہ صبر و تحمل کا دامن تھامے رکھیں، اپنی رائے کو اعتدال میں رکھیں اور جمہوری اقدار کی پاسداری کرتے ہوئے حتمی نتائج کا انتظار کریں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایک باشعور عوام نہ تو ایگزٹ پول کے سحر میں مبتلا ہوتی ہے اور نہ ہی ان کے اختلاف پر مایوسی کا شکار ہوتی ہے بلکہ وہ ہر مرحلے کو جمہوری عمل کا حصہ سمجھتے ہوئے اپنے اعتماد کو صرف اور صرف اپنے ووٹ کی طاقت پر قائم رکھتی ہے۔ یہی طرزِ فکر جمہوریت کو مضبوط بناتا ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو قوموں کو سیاسی بلوغت اور فکری استحکام کی منزل تک پہنچاتا ہے۔

*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت، یو.پی

(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

iftikharahmadquadri@gmail.com

 

Comments are closed.