مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
پریس ریلیز
اے ایم یو پولی ٹیکنک کے طلبہ نے ڈرون پر مبنی ماحولیاتی نگرانی نظام تیار کیا
علی گڑھ، 8 مئی: یونیورسٹی پولی ٹیکنک، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلبہ نے ”کلائیمیٹرون 1اے“ کے نام سے ڈرون پر مبنی ماحولیاتی نگرانی نظام تیار کیا ہے، جو فضائی آلودگی کا جائزہ لینے اور ناقابلِ رسائی یا غیر محفوظ علاقوں میں خطرناک گیسوں کا پتہ لگانے کی اہلیت رکھتا ہے۔
یہ پروجیکٹ الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن انجینئرنگ کے سال آخر کے ڈپلوما طلبہ کامران فردوس، محمد علی، محمد شاہ زیب، صہیب اختر اور محمد مونس نے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسن اور بوائز پولی ٹیکنک کے پرنسپل پروفیسر مجیب احمد انصاری کی رہنمائی میں تیار کیا ہے، جس میں سابق طلبہ ثوبان احمد صدیقی اور انس خان کی تکنیکی رہنمائی شامل رہی۔
یہ ڈرون ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی)، گرین ہاؤس گیسوں، خطرناک اور آتش گیر گیسوں، درجہئ حرارت اور ہوا کے دباؤ کی نگرانی کے لیے مختلف سینسروں سے لیس ہے۔ یہ ہر دو سیکنڈ میں ماحولیاتی اعداد و شمار موبائل ڈیوائسیز تک منتقل کرتا ہے اور اس میں خودکار مشن انجام دینے کی صلاحیت کے ساتھ گیس کی سطح میں اچانک اضافے پر فوری انتباہ دینے کی صلاحیت بھی موجود ہے۔
کم لاگت اور قابل منتقلی حل کے طور پر تیار کیا گیا یہ سسٹم آفات سے متاثرہ علاقوں، کان کنی کے مقامات اور گیس اخراج کے خدشات والے علاقوں میں استعمال کے لیے موزوں ہے، جہاں روایتی نگرانی نظام کو مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے۔ پروجیکٹ تیار کرنے والے طلبہ کے مطابق اے ایم یو کیمپس میں مختلف ماحولیاتی حالات میں کیے گئے فیلڈ ٹیسٹ کے دوران اس نظام نے قابل اعتماد کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
یونیورسٹی پولی ٹیکنک میں الیکٹرانکس انجینئرنگ سیکشن کی نمائش کے دوران اس پروجیکٹ کو پیش کیا گیا، جہاں اس کی عملی افادیت اور جدت کو یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے سراہا۔ ”کلائیمیٹرون 1اے“ کو نمائش میں بہترین پروجیکٹ کے انعام سے بھی نوازا گیا۔
ٹیم اس سسٹم کو مزید بہتر بنانے کے لیے جدید سینسرز کی شمولیت، ایک مخصوص گراؤنڈ کنٹرول اسٹیشن ایپلی کیشن کی تیاری اور نگرانی کی درستگی بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت (اے آئی) پر مبنی فیچرز شامل کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں شعبہ سنسکرت کے زیر اہتمام قبائلی لوک روایات پر قومی سمینار اختتام پذیر
علی گڑھ، 8 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سنسکرت کے زیر اہتمام ”ہندوستانی علمی روایت میں قبائلی لوک و ثقافتی پہلو“ کے موضوع پر منعقدہ تین روزہ قومی سمینار مقامی علمی نظاموں اور لوک روایات پر مفید علمی مباحث کے ساتھ تکمیل کو پہنچا۔
اختتامی اجلاس میں پرو وائس چانسلر پروفیسر محمد محسن خان نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی، جبکہ دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر وید پرکاش ڈنڈوریا خاص مہمان رہے۔ اجلاس کی صدارت دہلی یونیورسٹی کے شعبہ سنسکرت کے سربراہ پروفیسر بھارتیندو پانڈے نے کی۔ سمینار کا انعقاد شعبہ سنسکرت کی چیئرپرسن اور سمینار کی کنوینر پروفیسر ساریکا وارشنے کی نگرانی میں کیا گیا۔
اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر محمد محسن خان نے شعبہ سنسکرت کو اس اہم سمینار کے انعقاد پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اس نوعیت کے علمی مباحث فکری وسعت اور تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
پروفیسر وید پرکاش ڈنڈوریا نے سمینار کے موضوع کو کثیر جہتی اور مستقبل کی تحقیق کے لیے امکانات سے بھرپور قرار دیا، جبکہ پروفیسر بھارتیندو پانڈے نے کہا کہ اس موضوع پر مسلسل علمی گفتگو اور گہرے مطالعے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل ڈاکٹر عائشہ صدیقہ نے سمینار کی رپورٹ پیش کی۔ سمینار کے دوران 9 آف لائن اور 2 آن لائن نشستوں میں مجموعی طور پر 95 ریسرچ پیپرز پیش کیے گئے۔ سیمینار میں دہلی، اتر پردیش، جھارکھنڈ، راجستھان، مدھیہ پردیش اور کیرالہ سمیت مختلف ریاستوں سے ماہرین و محققین نے شرکت کی۔
مقررین میں مسٹر ہری رام مینا، مسٹر رانیندر، پروفیسر سدیش آہوجا، پروفیسر ایم شاہ الحمید، پروفیسر بجرنگ بہاری تیواری، پروفیسر ٹیک چند مینا، پروفیسر سی آر مینا، ڈاکٹر گنگا سہائے مینا، ڈاکٹر پاروتی ترکے، ڈاکٹر دھننجے منی ترپاٹھی، ڈاکٹر کمل نین چوبے، ڈاکٹر ایم کشن، ڈاکٹر نونیہال گوتم، ڈاکٹر ٹی مہندر، ڈاکٹر کوشل تیواری اور ڈاکٹر ارون نشاد شامل تھے۔ اے ایم یو کے اساتذہ میں پروفیسر عفت اصغر، پروفیسر عذرہ موسوی، پروفیسر کملانند جھا، پروفیسر ہمانشو شیکھر اچاریہ، پروفیسر وبھا شرما، ڈاکٹر قرۃ العین علی، ڈاکٹر شگفتہ نیاز، ڈاکٹر عذیر اور پرویز عالم نے بھی سمینار کے دوران خطاب کیا۔
اجلاس کی نظامت ڈاکٹر ظفر افتخار نے کی، جبکہ ڈاکٹر ہیم بالا شکلا نے اظہار تشکر کیا۔
٭٭٭٭٭٭
بنگلورو کی سیمی کنڈکٹر کمپنی میں اے ایم یو کے مزید سات طلبہ کا تقرر
علی گڑھ، 8 مئی: ذاکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈٹکنالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے مزید سات طلبہ کا انتخاب بنگلورو کی کمپنی میسرز ضیا سیمی کنڈکٹر پرائیویٹ لمیٹڈ نے 2026 بیچ کے لیے منعقدہ کیمپس پلیسمنٹ مہم کے توسط سے کیا ہے۔
آن لائن پلیسمنٹ مہم کے دوسرے مرحلے میں کمپنی نے مزید سات امیدواروں کا انتخاب کیا، اس طرح ضیا سیمی کنڈکٹر کی جانب سے ذ اکر حسین کالج آف انجینئرنگ اینڈٹکنالوجی سے منتخب طلبہ کی مجموعی تعداد 16 ہو گئی ہے۔
منتخب کئے گئے طلبہ میں محمد عادل (بی ٹیک الیکٹریکل)، مصباح الدین ہاشمی (بی ٹیک الیکٹرانکس)، محمد عدیم رضا ہاشمی، ضیف اور مونش کبیری (بی ٹیک الیکٹرانکس)، یوگل سکسینہ (بی ٹیک الیکٹرانکس – وی ایل ایس آئی اور ایمبیڈڈ سسٹمز) اور محسنہ (ایم ٹیک الیکٹریکل – انسٹرومنٹیشن اینڈ کنٹرول) شامل ہیں۔ بھرتی کے عمل میں آن لائن ٹیکنیکل اور اپٹیٹیوڈ ٹیسٹ اور اس کے بعد ٹیکنیکل گروپ ڈسکشن اور ایچ آر انٹرویوز شامل تھے۔
انجینئرنگ کالج کے پرنسپل پروفیسر محمد مزمل اور ٹریننگ اینڈ پلیسمنٹ انچارج ڈاکٹر معینہ اطہر نے منتخب طلبہ کو مبارکباد پیش کی اور ان کے پیشہ ورانہ مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی نرسنگ فیکلٹی ممبر نے قومی کانفرنس میں خطبہ پیش کیا
علی گڑھ، 8 مئی: کالج آف نرسنگ، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر سفینہ بیوی ایس ایس نے اتر پردیش یونیورسٹی آف میڈیکل سائنسز، سیفئی، اٹاوہ میں منعقدہ قومی کانفرنس بعنوان ”ایک ملین مزید مِڈ وائفز: محفوظ زچگی کا استحکام“ موضوع پر خطبہ پیش کیا۔ انھوں نے ”زچہ و بچہ کی اموات میں کمی کے لیے ٹکنالوجی سے مربوط مِڈوائفری کیئر کا کردار“ موضوع پر خطاب کرتے ہوئے زچہ و نومولود کی صحت کے نتائج کو بہتر بنانے میں ڈیجیٹل ٹکنالوجیز کے استعمال پر روشنی ڈالی۔
انہوں نے مڈوائفری پریکٹس میں ٹیلی ہیلتھ خدمات، موبائل ہیلتھ ایپلی کیشنز، الیکٹرانک ہیلتھ ریکارڈز اور سمولیشن پر مبنی تربیت کے انضمام پر تفصیل سے گفتگو کی، اور خاص طور پر وسائل کی کمی والے علاقوں میں صحت خدمات کی رسائی، تسلسل اور معیار کو بہتر بنانے کی اہمیت اجاگر کی۔ اس خطبے میں مڈوائفز کی صلاحیتوں اور مہارتوں کو مستحکم کرنے کے لیے ٹکنالوجی پر مبنی تربیت اور فیصلہ سازی میں معاون نظاموں پر بھی توجہ مرکوز کی گئی۔
کالج آف نرسنگ کی پرنسپل پروفیسر فرح اعظمی نے ڈاکٹر سفینہ بیوی کو قومی کانفرنس میں مدعو مقرر کی حیثیت سے شرکت پر مبارکباد پیش کی۔
٭٭٭٭٭٭
جے این ایم سی، اے ایم یو میں ڈیجیٹل علمی وسائل سے متعلق صارف آگہی پروگرام منعقد
علی گڑھ، 8 مئی: شعبہ پلاسٹک سرجری، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج و اسپتال (جے این ایم ایچ سی)، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی جانب سے ڈیجیٹل علمی وسائل کے موضوع پر ایک صارف آگہی و رہنمائی پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں نیشنل میڈیکل لائبریری کے ای آر میڈ کنسورٹیم اور ”ون نیشن ون سبسکرپشن“ (او این او ایس) اقدام پر توجہ مرکوز کی گئی۔
پروگرام کا مقصد اساتذہ، پوسٹ گریجویٹ ریزیڈنٹس اور ریسرچ اسکالرز کے درمیان آن لائن علمی وسائل کے مؤثر استعمال کو فروغ دینا تھا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پروفیسر عمران احمد نے طبی تعلیم، تحقیق اور شواہد پر مبنی صحت خدمات میں مستند ای ریسورسز کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ یہ پروگرام ان کی نگرانی اور رہنمائی میں منعقد کیا گیا۔
جے این ایم سی لائبریری کے اسسٹنٹ لائبریرین مسٹر عقیل احمد نے میڈیکل ڈیٹا بیس، جرائد، ای بکس اور دیگر ڈیجیٹل ریسرچ وسائل تک رسائی کا عملی مظاہرہ پیش کیا، اور شرکاء کو لٹریچر سرچ اور ریسرچ ٹولز کے استعمال سے بھی آگاہ کیا۔
پروگرام میں اساتذہ اور ریزیڈنٹ ڈاکٹروں نے فعال شرکت کی اور کلینیکل ورک، مقالہ نویسی اور تحقیقی اشاعتوں میں ای ریسورسز کے عملی استعمال پر تبادلہ خیال کیا۔ شرکاء کو جدید سرچ تکنیکوں اور ریموٹ ایکسیز سہولیات سے بھی متعارف کرایا گیا۔
پروگرام کا اختتام ڈاکٹر شیخ سرفراز علی کے کلمات تشکر کے ساتھ ہوا۔
Comments are closed.