کون کس کے ہاتھ پر لہو تلاش کرے…؟

 

سچ تو مگر کہنے د و

 

ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز

چیف ایڈیٹر ہفت روزہ گواہ حیدرآباد

9395381226

مغربی بنگال میں جو کچھ ہوا اور آئندہ جو کچھ ہونے والا ہے اس کی پیشن گوئی ’گواہ‘ کے گزشتہ شمارے میں کی جا چکی ہے۔ کیونکہ SIR کے نام پر جو کچھ ہو رہا تھا اور پھر جس طرح سے مرکزی حکومت نے اپنے ماتحت اداروں، ایجنسیوں، عہدیداروں کو جس طرح سے استعمال کیا اس سے اس بات کا یقین ہر باشعور ہندوستانی کو ہوچکا تھا کہ مغربی بنگال میں مشن لوٹس (کنول) کامیاب ہوگا۔ بہار میں جیتی ہوئی پارٹی کا تختہ الٹا گیا او رپلٹو رام کا جو حشر کیا گیا، وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ ممتا بنرجی جو کبھی بی جے پی کی بھی حلیف رہیں اور جب اس سے رشتے ناطے توڑ کر ٹی ایم سی کو مستحکم کیا، مغربی بنگال میں گرفت کو مضبوط کیا اور بی جے پی سے ٹکراتی رہیں تو ڈبل انجن سرکار کا نصب العین مغربی بنگال پر قبضہ ہوگیا تھا۔ اپوزیشن جماعتیں اب آہ و بکا کر رہی ہیں۔ اب ان کی آواز مرغ کی بانگ سے زیادہ نہیں۔ کانگریس کے قائد راہول گاندھی کو یہ احساس ہو رہا ہے کہ ممتا ہاری نہیں، ہرائی گئی ہیں۔ حالانکہ خود راہول گاندھی نے مغربی بنگال میں انتخابی ریالیوں میں اپنی تقاریر میں ممتا بنرجی پر کڑی تنقید کی، ان پر الزامات عائد کئے، ان کے خلاف ای ڈی، سی بی آئی کی کاروائی نہ ہونے پر مرکز سے سوال بھی کیا اور اب شکست خوردہ ممتا بنرجی کے ساتھ یگانگت کا اظہار کرنے سے حاصل ہونے والا کچھ نہیں۔ کمیونسٹ پارٹیاں جن کے طویل اقتدار کا ممتا بنرجی نے صفایا کردیا تھا۔ جو بی جے پی پالیسیوں اور نظریات کی سخت مخالفت رہی ہیں۔ اس نے بھی دشمن کا دشمن دوست کی پالیسی اختیار کرتے ہوئے چپکے سے ممتا کے خلاف بی جے پی کے حق میں اپنے پارٹی کیڈر کا ووٹ استعمال کیا۔ ممتا کا ساتھ مسلمانوں نے دیا اور مسلمانوں کو بھی تقسیم کرنے کے لئے بی جے پی نے ’ہمایوں کبیر‘ کے فتنے کا استعمال کیا۔ بہرحال! اب یہ بات ساری دنیا جان چکی ہے کہ مغربی بنگال میں بی جے نہیں جیتی بلکہ الیکشن کمیشن آف انڈیا، سپریم کورٹ، ای ڈی، سی بی آئی، آئی ٹی، سی آر پی ایف اس کے ساتھ ساتھ بنگال کی پولیس نے جمہوریت کا قتل کیا اور ٹی ایم سی کو ہرایا۔ انتخابی نتائج کے ساتھ مغربی بنگال میں ٹی ایم سی کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے ساتھ جو پر تشدد سلوک کیا جارہا ہے وہ بھی توقع کے عین مطابق ہے۔ مسجدوں کے مناروں کو گرایا جارہا ہے، تماشائیوں میں پولیس شامل ہے۔ ویسے ان سے یہ امید کہ وہ مسلمانوں اور ٹی ایم سی کارکنوں کو اور ان کی املا ک و جائیدادوں کو اشرار کے حملوں سے بچائیں گے‘ احمقانہ ہے۔ بی جے پی کی کامیابی کے اعلان کے ساتھ جلوس میں پارٹی کارکنوں کے ساتھ پولیس اور سی آر پی ایف کے جوانوں کا ڈانس وائرل ہوچکا ہے، جسے دیکھ کر 6دسمبر 1992ء کی وہ تصویر تصور کے پردے پر ابھر آئی جب بابری مسجد کی شہادت کے بعد وہاں ایک چھوٹی سی مورتی رکھی گئی تھی تو ڈیوٹی پر تعینات پولیس جوان اس کی پوجا کرنے لگے تھے۔ ہندوتوا ہندو راشٹریہ کا منتر اس قدر عام ہوچکا ہے کہ ہر عمر اور ہر طبقے کے غیر مسلموں کی اکثریت مسلم مکت بھارت چاہتی ہے۔ سب سے شرمناک بات تو سیاست دانوں کے وہ بیانات ہیں جس میں وہ علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ مسلمانوں نے ہمیں ووٹ نہیں دیا اس لئے وہ صرف ہندوؤں کے لئے کام کریں گے۔ کسی نے ہندوستانی مسلمانوں کا حال اور حشر’غزہ‘ کے مسلمانوں جیسا کرنے کا اعلان کیا۔ چند دن تک یہ ماحول ایسا ہی رہے گا پھر آہستہ آہستہ حالات معمول پر آجائیں گے۔ اس دوران جو لٹ گئے، جو بے گھر ہوئے، جن کے مکانات کو منہدم کیا گیا، جن کی دوکانوں کو جلا دیا گیا، انہیں نئے سرے سے اپنی زندگی شروع کرنی ہوگی۔ مسلمانوں کی ہمدردی کرنے والے صرف بیان بازی کریں گے۔ مظالم کی مذمت کریں گے اور اپنی سیاسی دکان چمکاتے رہیں گے۔ مغربی بنگال میں مسلمانوں کی آبادی اچھی خاصی ہے۔ چونکہ متحد نہیں ہے بکھری ہوئی ہے، بکھرائی گئی ہے۔ مختلف جماعتوں کی جانب سے ان کی سودے بازی کی جاتی رہی ہے۔ اپنی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے ان کے ذہنوں پرہندو انتہاء پسندوں کا خوف مسلط کیا گیا ہے۔ ورنہ اتنی آبادی تو ناقابل تسخیر ہوتی ہے۔ ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں بسنے والے مسلمانوں کو ممتا بنرجی سے کوئی ہمدردی نہیں ہے۔ انہیں دی دی کے ہارنے کا افسوس اور غم اس لئے ہے کہ ان کے دور اقتدار میں مسلمان دوسرے ریاستوں کے مقابلوں میں محفوظ رہے۔4/مئی کے دو پہر سے جب انتخابی نتائج کے رجحانات بی جے پی کے حق میں آنے لگے اس کے ساتھ مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا جانے لگا اس سے اس بات کا اندازہ ضرور ہوگیا کہ بی جے پی اور اس کے چاہنے والوں کے ارادے کیا ہیں۔ 5/مئی کو بی جے پی کارکنوں نے پولیس کی اجازت سے اپنے جلوس میں نہ صرف بلڈوزرس شامل کئے بلکہ ان کے ذریعے ٹی ایم پی کی املاک کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے گھروں، دکانوں اور جائیددادوں کو بھی نشانہ بنایا۔ اتر پردیش میں بلڈوزر کاروائی شروع ہوئی تھی، بہار میں بی جے پی آنے کے بعد وہاں بھی اس کی تقلید کی گئی، آسام کے چیف منسٹر کو یوگی سے کسی بھی معاملے میں پیچھے رہنا گوارہ نہیں۔ وہاں کاسی ایم تو مسلم دشمنی کے نئے ریکارڈس قائم کرتا جارہا ہے۔ اس کی بد قسمتی یہ ہے کہ مسلم دشمن تقاریر کے باوجود آسام اسمبلی میں 21 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے، دلچسپ بات تو یہ ہے کہ کانگریس کے 20 میں سے 18 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ بدر الدین اجمل جن کا اپنا ایک مقام رہا ہے ان کی جماعت کو شکست فاش ہوئی۔ بدر الدین اجمل ایم پی کا الیکشن بھی ہار گئے تھے۔ ان کی جماعت جو کبھی آسام کی ایک طاقتور مسلم جماعت سمجھی جاتی تھی، آہستہ آہستہ کمزور ہوتی گئی۔ وہ کانگریس کی مخالفت کرتے رہے اور مسلم دشمن ہیمنت بسوا شرما کی دبے دبے لہجے میں تعریف کرتے رہے۔ مجلس اتحاد المسلمین کے ساتھ ان کی انتخابی مفاہمت سے کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ جمعیت العلماء ہند نے مجلس سے مفاہمت پر نوٹس بھی دی تھی۔ کیرالا میں انڈین یونین مسلم لیگ کے 21 اور کانگریس کے 14 اور دیگر جماعتوں کے 9 مسلم امیدوار یعنی 44 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ آسام اور کیرالا میں کانگریس کے ٹکٹ پر مسلمانوں کی کامیابی پر بی جے پی قائدین تلملائے ہوئے ہیں، بلکہ انہوں نے کانگریس کو چھوٹی مسلم لیگ کا نام دے دیا ہے۔ مسلمانوں نے کانگریس یا دوسرے سیکولر جماعتوں کو اس لئے ووٹ دیا کہ بی جے پی مسلمانوں کو اس ملک کا شہری ہی نہیں مانتے، ان کے خلاف زہر اگلنے سے نہیں تھکتی۔ اگر وہ مسلمانوں کو اپنے قریب کرتی، انہیں ان کے مسائل میں دلچسپی لیتی تو کچھ عجب نہیں کہ مسلمانوں کے ووٹ بھی انہیں ملتے۔ ویسے جس دن بی جے پی مسلمانوں کی مخالفت ختم کردے گی، اس دن سے اس کا وجود ختم ہو جائے گا۔ یہ لکھنا اور کہنا غلط نہ ہوگا کہ بی جے پی کا وجود اس کی کامیابی صرف اور صرف مسلمانوں کی مخالفت کے طفیل میں ہے۔ ترنمول کانگریس نے مسلمانوں کے ساتھ بحث، زبانی ہمدردی یا بیان بازی نہیں کی، بلکہ اس نے مسلم امیدواروں کو زیادہ سے زیادہ ٹکٹ دیئے۔ اور مسلمانوں نے بھی اس کی لاج رکھی۔ ایمان اسمبلی میں کوشش کی جائے گی مسلم ارکان کی آواز کو کچلنے کی۔ تمل ناڈو میں تبدیلی کی لہر چلی، اسٹالن نے بہت اچھا کام کیا، پوری ریاست کو ترقی سے ہمکنار کیا۔ تاہم جواں سال فلم اداکارٹی وجئے کی لہر میں ڈی ایم کے بہہ گئی۔ ماضی میں کئی مثالیں ہیں جب فلمی اداکاروں نے سیاست میں قدم رکھا تو عوام نے انہیں اپنے سر پر بیٹھا لیا۔ انادورائی،کرونا ندھی،جے للیتا،این ٹی راما راؤ نے اپنی فلمی مقبولیت کا سیاست میں خوب فائدہ اٹھایا تھا اور چیف منسٹر کے عہدوں پر فائز رہے۔ پون کلیان ڈپٹی چیف منسٹر آندھرا پردیش ہیں۔ ان کے علاوہ کئی ایسے اداکاروں کی تاریخ ملتی ہے جنہوں نے کہنہ مشق سیاستدانوں کو چاروں خانے چت کیا تھا، جیسا کہ امیتابھ بچن نے الہ آباد سے 8 مرتبہ ایم پی کا الیکشن جیتنے والے ایچ این بہوگنا کو شکست دی تھی۔ راجیش کھنہ، ونودکھنہ، ہیما مالینی، گوندا اور بھی کئی اداکار سیاست میں کامیاب رہے ہیں۔ جہاں تک تمل ناڈو سے وجئے کی کامیابی کا تعلق ہے۔ وہ کانگریس کے تعاون سے حکومت تشکیل دیں گے۔ فلمی دنیا میں سوپر اسٹار رہے سیاست میں کس حد تک کامیاب رہیں گے؟ آنے والا وقت بتائے گا۔ ان کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ سیکولر ہے اور مسلمانوں کی طرف جھکاؤ ہے۔ ان کی پارٹی ٹی وی کے سے بھی ایک مسلم خاتون کامیاب ہوئی ہیں۔ تمل ناڈو سے 7 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ چار ریاستوں سے مجموعی طور پر 104مسلم امیدوار کامیاب ہوئے ہیں۔ جو ایک خوش آئند بات ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ مسلم ارکان اسمبلی اپنی قوم کی نمائندگی کرنے میں کامیاب رہتی ہے یا اپنے مفادات کو ترجیح دینے میں۔بی جے پی کا مشن بنگال کامیاب رہا، اگلا پڑاؤ یقینی طور پر کیرالا ہی میں ہوگا۔ کانگریس کی زیر قیادت یو ڈی ایف نے140 میں سے 102نشستوں پر کامیابی حاصل کی، جن میں مسلم امیدواروں کی تعداد 38 ہے۔جن میں سے 22 مسلم لیگ کے امیدوار ہیں۔ اتنی تعداد میں مسلم امیدواروں کی کامیابی یقینی طور پر بی جے پی اور اس کی ہم خیال جماعتوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکے گی۔ یہ اور بات ہے کہ مسلمانوں کو اس بات افسوس ضرور رہے گا کہ مغربی بنگال کی کابینہ میں پہلی بار کوئی مسلمان شامل نہیں رہے گا۔ اتار چڑھاؤ سیاست کا حصہ ہے۔ حالات کب بدلتے ہیں یہ نہیں کہا جاسکتا۔ مسلمان حالات سے سبق لے کر خود کو کب بدلیں گے؟ اس کا جواب کسی کے پاس نہیں۔

Comments are closed.