ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی ترجیحات:جذباتیت، تقسیم اور شعور کی ضرورت

 

✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)

09422724040

┄─═✧═✧═✧═✧═─┄

 

ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی تاریخ کا اگر غیر جانب دارانہ اور گہرے تجزیاتی زاویے سے مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ اس قوم نے کئی مواقع پر جذبات کو حکمت پر، نعروں کو تدبر پر، اور وقتی جوش کو طویل المدتی مفاد پر ترجیح دی۔ یہی وہ بنیادی کمزوری ہے جس سے فرقہ پرست طاقتوں نے ہمیشہ فائدہ اٹھایا۔ سیاسیات کے میدان میں جذبات اگر شعور اور حکمت سے جدا ہو جائیں تو وہ تعمیر کے بجائے تخریب کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ افسوس کہ گزشتہ چند دہائیوں میں ہندوستانی مسلمان اسی جذباتی سیاست کے گرد گھومتے رہے جس نے انہیں مزید سیاسی تنہائی، سماجی عدمِ تحفّظ اور قومی سطح پر کمزور نمائندگی کی طرف دھکیل دیا۔

 

آزادی کے بعد ہندوستانی مسلمانوں کی سیاسی سمت کو اگر تسلسل کے ساتھ دیکھا جائے تو یہ ایک ارتقائی مگر پیچیدہ سفر نظر آتا ہے، جس میں حالات، خدشات اور ترجیحات کے بدلتے ہوئے زاویے نمایاں طور پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں۔ آزادی کے فوراً بعد کا دور عدمِ تحفّظ، ہجرت کے زخموں اور شناخت کے بحران سے عبارت تھا۔ ایسے ماحول میں مسلمانوں نے فطری طور پر ایک ایسی سیاسی قوت کا سہارا تلاش کیا جو خود کو سیکولر، جامع اور محافظ کے طور پر پیش کر رہی تھی۔ چنانچہ بڑی حد تک کانگریس پر اعتماد قائم ہوا۔ یہ اعتماد محض سیاسی وابستگی نہیں بلکہ ایک طرح کی نفسیاتی پناہ بھی تھا، جس کے ذریعے مسلمان اپنے آئینی حقوق، سماجی تحفّظ اور قومی دھارے میں شمولیت کو یقینی بنانا چاہتے تھے۔ کئی دہائیوں تک یہ رجحان غالب رہا اور مسلمانوں کی سیاسی ترجیحات زیادہ تر اسی ایک دھارے کے گرد مرکوز رہیں۔

 

تاہم 1980ء کی دہائی کے اواخر اور بالخصوص 1990ء کے بعد ہندوستانی سیاست میں ایک بنیادی تبدیلی رونما ہوئی۔ بابری مسجد کا قضیہ اور اس کے گرد ابھرنے والی تحریک نے نہ صرف ملک کی سیاست کو ایک نئے رخ پر ڈال دیا بلکہ سماج میں گہری مذہبی تقسیم کو بھی نمایاں کر دیا۔ اس سانحے کے بعد سیاست میں شناخت (identity) ایک مرکزی عنصر بن کر ابھری، اور اسی کے ساتھ پولرائزیشن کا عمل تیز ہو گیا۔ مسلمانوں کے اندر خوف، اضطراب اور ردِّعمل کی کیفیت بڑھی، جب کہ اکثریتی طبقے میں ایک منظم سیاسی شعور کے تحت اتحاد کی فضا پیدا کی گئی۔ اس مرحلے پر مسلمانوں کی سیاست میں جذباتی ردِّعمل زیادہ نمایاں ہوا، جب کہ حکمتِ عملی اور طویل المدتی منصوبہ بندی نسبتاً کمزور پڑ گئی۔

 

یہی رجحانات بالآخر 2014ء کے بعد کے سیاسی منظرنامے میں ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئے، جہاں اکثریتی سیاست نہ صرف مضبوط ہوئی بلکہ اس نے ایک واضح نظریاتی اور انتخابی غلبہ بھی حاصل کر لیا۔ اس دور میں پولرائزیشن محض ایک انتخابی حربہ نہیں رہی بلکہ ایک مستقل سیاسی بیانیے کی شکل اختیار کر گئی۔ نتیجتاً مسلمانوں کی سیاسی حیثیت مزید حاشیے پر چلی گئی، اور ان کے لیے یہ سوال زیادہ اہم ہو گیا کہ وہ اپنی بقاء، نمائندگی اور اثر پذیری کو کس طرح برقرار رکھیں۔ یوں آزادی کے بعد کانگریس پر انحصار سے شروع ہونے والا سفر، 1990ء کے بعد کی شناختی سیاست اور پولرائزیشن کے مرحلے سے گزرتا ہوا، 2014ء کے بعد اکثریتی سیاست کے عروج تک پہنچتا ہے۔ یہ تسلسل اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بدلتے ہوئے سیاسی حالات میں محض جذباتی وابستگی کافی نہیں ہوتی، بلکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق سیاسی حکمتِ عملی، شعور اور اجتماعی بصیرت کو بھی مسلسل ارتقاء دینا ضروری ہوتا ہے۔

 

یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ سنگھ پریوار اور اس سے وابستہ تنظیموں نے مسلمانوں کی نفسیات، ان کے ردِّعمل اور جذباتی مزاج کا نہایت باریک بینی سے مطالعہ کیا۔ انہوں نے یہ سمجھ لیا کہ اگر مسلمانوں کے اندر ایسے چہروں کو ابھارا جائے جو اشتعال انگیز زبان، مسلسل تصادم اور جذباتی نعروں کی سیاست کریں، تو اس کے نتیجے میں اکثریتی طبقہ خوف اور عدمِ تحفّظ کے احساس میں مبتلا ہوگا، اور یہی خوف ہندو ووٹ کو متحد کرنے کا سب سے مؤثر ذریعہ بن جائے گا۔ چنانچہ سیاست کا ایک ایسا ماحول تیار کیا گیا جس میں ہر تیز و تند مسلم آواز بالواسطہ طور پر بی جے پی کی انتخابی حکمتِ عملی کو مضبوط کرتی چلی گئی۔

 

سیاسیات کی اصطلاح میں "پولرائزیشن” اس عمل کو کہا جاتا ہے جس میں معاشرہ رفتہ رفتہ دو واضح اور متحارب گروہوں میں تقسیم ہو جاتا ہے۔ اس تقسیم کی بنیاد اکثر مذہب، شناخت، نظریہ یا سیاسی وابستگی ہوتی ہے، اور وقت کے ساتھ یہ اختلاف محض رائے کے فرق تک محدود نہیں رہتا بلکہ ایک نفسیاتی اور سماجی فاصلے کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ ایسے ماحول میں ہر فریق اپنے بیانیے کو مزید شدّت کے ساتھ پیش کرنے لگتا ہے، جب کہ اعتدال پسند آوازیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ نتیجتاً مکالمہ کمزور اور تصادم مضبوط ہو جاتا ہے۔ اس عمل کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ ایک طرف کی شدّت پسندی، دوسری طرف کے خوف اور ردِّعمل کو بڑھاتی ہے، اور یہی ردِّعمل دوبارہ پہلے فریق کی شدّت کو جواز فراہم کرتا ہے۔ یوں ایک ایسا دائرہ تشکیل پاتا ہے جس میں ہر شدّت پسند آواز، خواہ وہ کسی بھی جانب سے ہو، درحقیقت دوسرے فریق کو مزید متحد اور منظم کرنے کا سبب بن جاتی ہے۔ اس طرح پولرائزیشن صرف ایک سیاسی حکمتِ عملی نہیں رہتی بلکہ ایک سماجی حقیقت بن جاتی ہے، جس کے اثرات انتخابی نتائج سے آگے بڑھ کر معاشرتی ہم آہنگی، باہمی اعتماد اور قومی یکجہتی تک کو متاثر کرتے ہیں۔

 

یہاں مسئلہ کسی ایک فرد کی ذات تک محدود نہیں بلکہ اس سیاسی فکر کا ہے جو قوم کے حقیقی مسائل سے توجہ ہٹا کر محض جذباتی خطابت اور اشتعال انگیزی کو سیاسی کامیابی سمجھتی ہے۔ جب سیاست خدمت، حکمت، اتحاد اور طویل المدتی منصوبہ بندی کے بجائے محض نعروں اور جذباتی بیانات کا میدان بن جائے تو اس کا سب سے بڑا نقصان خود وہی طبقہ اٹھاتا ہے جس کے نام پر یہ سیاست کی جا رہی ہوتی ہے۔

 

ہندوستانی مسلمانوں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سیاست صرف اپنی موجودگی کا شور مچانے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے وجود کو محفوظ رکھنے، اپنے حقوق کے لیے دانش مندانہ جدوجہد کرنے اور سماج میں مثبت شراکت داری قائم کرنے کا عمل ہے۔ دنیا کی ہر کامیاب اقلیت نے جذباتی تصادم کے بجائے حکمت، تعلیمی ترقی، سماجی روابط، اقتصادی استحکام اور وسیع تر اتحاد کی سیاست کو اختیار کیا۔ لیکن ہمارے یہاں اکثر ایسا ہوا کہ قوم کو وقتی نعروں، جذباتی جلسوں اور اشتعال انگیز تقاریر کے ذریعے یہ احساس دلایا گیا کہ یہی جرأت اور قیادت ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ طرزِ عمل مخالف طاقتوں کے بیانیے کو مزید مضبوط کرتا رہا۔

 

ہندوستانی مسلمانوں کے سیاسی رویّوں کو سمجھنے کے لیے یہ تینوں پہلو مسلم ووٹ کا بکھراؤ، حکمتِ عملی کے تحت ووٹ دینا، اور مقامی بمقابلہ قومی سیاست آپس میں گہرے طور پر مربوط نظر آتے ہیں۔ سب سے پہلے مسلم ووٹ کے بکھراؤ کا مسئلہ سامنے آتا ہے، جو اکثر جذباتی وابستگیوں، علاقائی قیادتوں اور مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان تقسیم کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ جب ایک ہی حلقے میں مسلمان ووٹر مختلف جماعتوں یا امیدواروں میں تقسیم ہو جاتے ہیں تو ان کی اجتماعی سیاسی قوت کمزور پڑ جاتی ہے، اور وہ فیصلہ کن اثر کھو بیٹھتے ہیں۔ اسی پس منظر میں حکمتِ عملی کے تحت ووٹ دینے کی اہمیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ووٹر اپنی ذاتی یا جذباتی پسند کے بجائے اس امیدوار یا جماعت کو ووٹ دے جو حقیقتاً کامیابی کے قریب ہو اور جس کے ذریعے وہ اپنے وسیع تر مفاد کو محفوظ کر سکیں۔ یوں tactical voting دراصل ووٹ کے بکھراؤ کو روکنے اور اجتماعی اثر کو بڑھانے کی ایک شعوری کوشش ہوتی ہے۔

 

تاہم اس حکمتِ عملی کی کامیابی کا انحصار اس بات پر بھی ہے کہ ووٹر مقامی اور قومی سیاست کے فرق کو سمجھیں۔ بعض اوقات قومی سطح کا بیانیہ یا جماعتی ترجیح مقامی سطح کے زمینی حقائق سے مختلف ہوتی ہے۔ ایک حلقے میں کوئی امیدوار مضبوط ہو سکتا ہے، چاہے اس کی جماعت قومی سطح پر کمزور ہی کیوں نہ ہو۔ اگر اس فرق کو نظر انداز کیا جائے تو ووٹ کا استعمال مؤثر نہیں رہتا۔ یوں یہ تینوں عناصر ایک تسلسل کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں: ووٹ کا بکھراؤ ایک مسئلہ ہے، tactical voting اس کا ممکنہ حل ہے، اور مقامی و قومی سیاست کی صحیح تفہیم اس حل کو مؤثر بنانے کی بنیادی شرط ہے۔ جب یہ تینوں پہلو شعوری انداز میں یکجا ہو جائیں تو ایک کمزور دکھائی دینے والی ووٹنگ طاقت بھی فیصلہ کن اثر پیدا کر سکتی ہے۔

 

یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت ہمیشہ ان کی تعداد سے نہیں بلکہ ان کی اجتماعی بصیرت، اتحاد، تعلیمی ترقی اور سیاسی حکمت سے پیدا ہوگی۔ اگر قوم اپنی توانائیاں صرف ردِّعمل کی سیاست میں صرف کرتی رہے گی تو وہ ہمیشہ دوسروں کے بنائے ہوئے سیاسی جال میں پھنستی رہے گی۔ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم سماج کے اندر سنجیدہ سیاسی مکالمہ پیدا کیا جائے، نوجوان نسل کو سیاسی شعور دیا جائے، اور انہیں یہ سمجھایا جائے کہ جذباتی نعروں سے وقتی تسکین تو مل سکتی ہے مگر قوموں کی تقدیر نہیں بدلی جا سکتی۔ سیاسی بصیرت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان اپنے ووٹ کو محض جذبات کی بنیاد پر استعمال کرنے کے بجائے زمینی حقائق، سماجی ہم آہنگی، آئینی تحفّظات اور قومی مفاد کے تناظر میں فیصلہ کریں۔ انہیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ کوئی بھی ایسی سیاست جو معاشرے میں مزید تقسیم، خوف اور نفرت کو جنم دے، بالآخر خود مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔ قوموں کی تعمیر اشتعال سے نہیں بلکہ شعور سے ہوتی ہے؛ نعروں سے نہیں بلکہ حکمت سے ہوتی ہے۔

 

دنیا کی مختلف اقلیتوں کے تجربات اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ پائیدار سیاسی طاقت محض جذباتی نعروں یا وقتی ردِّعمل سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ اس کے لیے منظم حکمتِ عملی، ادارہ سازی اور طویل المدتی وژن ناگزیر ہوتا ہے۔ اس تناظر میں امریکہ میں افریقی نژاد کمیونٹی اور یورپ میں یہودی کمیونٹی کی مثالیں نہایت معنی خیز ہیں۔ امریکہ میں افریقی نژاد کمیونٹی نے اپنی تاریخی محرومیوں اور نسلی امتیاز کے باوجود ایک تدریجی مگر منظم سیاسی سفر طے کیا۔ شہری حقوق کی تحریکوں سے لے کر جدید سیاسی شرکت تک، انہوں نے احتجاج کے ساتھ ساتھ ادارہ سازی، قیادت کی تیاری اور ووٹنگ کے منظم استعمال پر خاص توجہ دی۔ نتیجتاً وہ نہ صرف مقامی بلکہ قومی سطح پر بھی ایک مؤثر سیاسی قوت کے طور پر ابھرے، جن کی رائے اور شرکت انتخابی نتائج پر واضح اثر ڈالتی ہے۔

 

دوسری طرف یورپ میں یہودی کمیونٹی نے اپنی بقاء اور استحکام کے لیے تعلیم، معیشت اور فکری اثر پذیری کو اپنی حکمتِ عملی کا مرکز بنایا۔ انہوں نے تعلیمی اداروں، تحقیقی مراکز، کاروباری نیٹ ورکس اور سماجی تنظیموں کے ذریعے ایک مضبوط داخلی ڈھانچہ قائم کیا، جس نے انہیں نہ صرف معاشی خود کفالت دی بلکہ سماجی و سیاسی سطح پر بھی باوقار مقام عطاء کیا۔ ان کی حکمتِ عملی یہ رہی کہ پہلے اپنے آپ کو علمی و معاشی طور پر مستحکم کیا جائے، تاکہ سیاسی اثر خود بخود پیدا ہو۔ ان دونوں مثالوں میں ایک مشترک نکتہ نمایاں ہے: منظم شعور، طویل المدتی منصوبہ بندی اور اجتماعی مفاد کو ترجیح دینا۔ یہی وہ اصول ہیں جو کسی بھی اقلیت کو محض بقاء سے نکال کر اثر انگیزی اور استحکام کی منزل تک پہنچاتے ہیں۔

 

آج ہندوستانی مسلمانوں کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں کہ ان کے مخالفین کون ہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنے سیاسی طرزِ فکر کا تنقیدی جائزہ لینے کے لیے تیار ہیں؟ کیا وہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنے پر آمادہ ہیں؟ کیا وہ جذباتی وابستگیوں سے اوپر اٹھ کر حقیقت پسندانہ سیاست اختیار کر سکتے ہیں؟ اگر اس قوم نے اب بھی سیاسی شعور، اجتماعی حکمت اور دانش مندانہ ترجیحات کو اختیار نہ کیا تو وہ بار بار انہی تجربات کا شکار ہوتی رہے گی جن کے نتائج آج پوری قوم کے سامنے ہیں۔ کسی بھی سماج کی مؤثر اور باوقار سیاسی موجودگی محض جذباتی وابستگیوں سے نہیں بلکہ شعوری، منظم اور تدریجی عمل سے تشکیل پاتی ہے۔ اس عمل کی پہلی بنیاد سیاسی تعلیم (Political Literacy) ہے۔

 

جب افراد کو اپنے آئینی حقوق، جمہوری نظام، انتخابی عمل اور پالیسی سازی کے بنیادی ڈھانچے کا ادراک ہوتا ہے تو وہ محض ووٹر نہیں رہتے بلکہ ایک باشعور شہری بن جاتے ہیں، جو اپنے فیصلوں کے اثرات کو سمجھتے ہیں اور انہیں ذمّہ داری کے ساتھ استعمال کرتے ہیں۔ اسی شعور کی پختگی سے اگلا مرحلہ جنم لیتا ہے، یعنی تھنک ٹینکس اور پالیسی سازی کا فروغ۔ جب کسی کمیونٹی میں فکری اور تحقیقی مراکز قائم ہوتے ہیں تو وہ محض ردِّعمل دینے کے بجائے پیشگی حکمتِ عملی تیار کرنے کے قابل ہو جاتی ہے۔ یہ ادارے مسائل کا تجزیہ کرتے ہیں، قابلِ عمل تجاویز پیش کرتے ہیں اور سیاسی قیادت کو ایک واضح سمت فراہم کرتے ہیں، جس سے سیاست محض نعروں سے نکل کر سنجیدہ منصوبہ بندی کی طرف بڑھتی ہے۔ تاہم پالیسی سازی اسی وقت مؤثر ثابت ہوتی ہے جب اس کے ساتھ مقامی سطح پر مضبوط قیادت موجود ہو۔ اس لیے ضروری ہے کہ نچلی سطح پر ایسے افراد کو تیار کیا جائے جو اپنے علاقوں کے مسائل کو سمجھتے ہوں، لوگوں کے ساتھ جڑے ہوں اور عملی طور پر ان کے حل کے لیے کام کر سکیں۔ مقامی قیادت ہی وہ پل ہوتی ہے جو نظریاتی منصوبہ بندی کو زمینی حقیقت میں تبدیل کرتی ہے۔

 

ان تمام مراحل کا نقطۂ کمال اتحاد پر مبنی سیاست ہے۔ جب سیاسی شعور، فکری رہنمائی اور مقامی قیادت ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو جائیں تو ایک ایسی اجتماعی قوت پیدا ہوتی ہے جو تفرقے کے بجائے اشتراک کو فروغ دیتی ہے۔ یہ اتحاد صرف ایک کمیونٹی کے اندر نہیں بلکہ دیگر طبقات اور گروہوں کے ساتھ بھی تعلقات استوار کرنے کا تقاضا کرتا ہے، کیونکہ جدید جمہوری نظام میں پائیدار کامیابی تنہائی میں نہیں بلکہ وسیع تر سماجی ہم آہنگی میں مضمر ہوتی ہے۔ یوں سیاسی تعلیم سے شروع ہونے والا یہ سفر، پالیسی سازی، قیادت کی تیاری اور اتحاد کی منزلوں سے گزرتا ہوا ایک ایسے مضبوط اور متوازن سیاسی کردار کی تشکیل کرتا ہے جو نہ صرف اپنے حقوق کا تحفّظ کر سکتا ہے بلکہ معاشرے کی مجموعی ترقی میں بھی مثبت کردار ادا کرتا ہے۔

 

وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہندوستانی مسلمان جذباتی سیاست کے بجائے فکری بالیدگی، تعلیمی ترقی، سماجی اتحاد، آئینی جدوجہد اور مثبت قومی کردار کو اپنی ترجیح بنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف مسلمانوں کو سیاسی طور پر مضبوط کرے گا بلکہ ہندوستان کی کثرت پسند روح کو بھی مستحکم بنائے گا۔ کیونکہ تاریخ ہمیشہ انہیں قوموں کو عزّت دیتی ہے جو جذبات کے ہنگاموں میں بھی حکمت کا چراغ بجھنے نہیں دیتیں۔

Comments are closed.