بنگال کے چیف منسٹر سویندر ادھیکاری نئے سیاسی معمار!

 

(حافظ) افتخاراحمدقادری

iftikharahmadquadri@gmail.com

مغربی بنگال کی سیاست نے ایک ایسا تاریخی موڑ اختیار کر لیا ہے جسے صرف ایک انتخابی تبدیلی نہیں بلکہ ایک مکمل سیاسی انقلاب قرار دیا جا سکتا ہے۔ کئی دہائیوں تک بایاں محاذ، پھر ترنمول کانگریس اور ممتا بنرجی کے گرد گھومنے والی بنگال کی سیاست اب ایک نئے دور میں داخل ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ریاستی سیاست کے افق پر اب بھارتیہ جنتا پارٹی ایک غالب طاقت کے طور پر ابھری ہے اور سویندو ادھیکاری کا ریاست کے اگلے وزیر اعلیٰ کے طور پر سامنے آنا نہ صرف بی جے پی کے لیے ایک غیر معمولی کامیابی ہے بلکہ بنگال کی سیاسی نفسیات میں ایک بڑی تبدیلی کی علامت بھی ہے۔

بسوا بنگلہ کنوینشن سنٹر میں منعقد ہونے والا بی جے پی مقننہ پارٹی کا اجلاس ایک رسمی کارروائی نہیں تھا بلکہ یہ اس طویل سیاسی جد وجہد کا نقطہ عروج تھا جو بی جے پی نے برسوں کی محنت، تنظیمی استحکام اور جارحانہ سیاسی حکمت عملی کے ذریعے حاصل کیا۔ مرکزی مبصر امت شاہ اور شریک مبصر موہن چرن ماجھی کی موجودگی اس بات کا اشارہ تھی کہ پارٹی اس تبدیلی کو صرف ایک ریاستی کامیابی نہیں بلکہ قومی سیاست کے تناظر میں ایک بڑی پیش رفت سمجھ رہی ہے۔ سویندو ادھیکاری کا انتخاب کسی اتفاق کا نتیجہ نہیں۔ وہ گزشتہ کئی برسوں سے بنگال کی سیاست میں ایک مضبوط اور جارحانہ چہرے کے طور پر ابھرے ہیں۔ ترنمول کانگریس سے اپنی علیحدگی کے بعد انہوں نے بی جے پی کے لیے وہ سیاسی خلا پُر کیا جو بنگال میں پارٹی کو درپیش تھا۔ ان کی سب سے بڑی طاقت یہ رہی کہ وہ بنگال کی زمینی سیاست، مقامی سماجی ڈھانچے، دیہی نفسیات اور انتخابی حرکیات کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی نے انہیں صرف ایک لیڈر کے طور پر نہیں بلکہ بنگال میں پارٹی کے چہرے کے طور پر پیش کیا۔ بنگال کی سیاست میں یہ تبدیلی اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ ایک زمانے تک یہ تصور کیا جاتا تھا کہ بی جے پی کبھی بھی اس ریاست میں اقتدار حاصل نہیں کر سکتی۔ بنگال کو سیکولر سیاست، بائیں بازو کی فکری روایت اور بنگالی قوم پرستی کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ مگر وقت کے ساتھ سیاسی حالات تبدیل ہوئے، عوامی ترجیحات بدلیں اور ممتا بنرجی کی حکومت کے خلاف پیدا ہونے والی ناراضی نے ایک نئے سیاسی متبادل کے لیے راستہ ہموار کیا۔ ممتا بنرجی کی حکومت اگرچہ ابتدا میں عوامی امیدوں کا مرکز بنی تھی مگر وقت گزرنے کے ساتھ ان پر اقربا پروری، بدعنوانی، سیاسی تشدد، ادارہ جاتی کمزوری اور انتظامی ناکامیوں کے الزامات بڑھتے گئے۔ ریاست میں روزگار کا بحران، صنعتوں کی عدم موجودگی، سیاسی کارکنوں پر حملے، بدعنوانی کے اسکینڈلز اور پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی مرکزیت نے عوام کے ایک بڑے طبقے کو مایوس کیا۔ بی جے پی نے انہی کمزوریوں کو اپنی طاقت میں تبدیل کیا۔ خاص طور پر نوجوان طبقے میں بی جے پی نے قوم پرستی، ترقی، مضبوط قیادت اور مرکزی حکومت سے بہتر تال میل جیسے نعروں کے ذریعے اپنی جگہ بنائی۔ دوسری جانب ہندو ووٹروں کے ایک بڑے طبقے میں مذہبی شناخت اور سیاسی تحفظ کے احساس کو بھی بی جے پی نے بڑی مہارت سے استعمال کیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بنگال جیسے حساس اور پیچیدہ سیاسی مزاج رکھنے والی ریاست میں بھی عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔

سویندو ادھیکاری کی شخصیت بھی اس پورے منظرنامے میں غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ صرف ایک سیاست دان نہیں بلکہ بنگال کی انتخابی سیاست کے نہایت تجربہ کار کھلاڑی سمجھے جاتے ہیں۔ نندی گرام تحریک سے لے کر ممتا بنرجی کو سخت ترین سیاسی چیلنج دینے تک ان کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ کبھی ممتا بنرجی کے قریبی ساتھی ہوا کرتے تھے مگر آج وہی شخصیت ان کی سیاسی طاقت کے زوال کی علامت بن چکی ہے۔ یہ صورتحال دراصل بنگال کی سیاست میں وفاداریوں کی تبدیلی، نظریاتی کمزوری اور اقتدار کی نئی کشش کی عکاس ہے۔ بی جے پی نے نہ صرف تنظیمی سطح پر محنت کی بلکہ اس نے ترنمول کانگریس کے اندر موجود ناراض عناصر کو بھی اپنے ساتھ ملانے میں کامیابی حاصل کی۔ سویندو ادھیکاری اسی حکمت عملی کا سب سے طاقتور استعارہ ہیں۔ اگر واقعی وہ وزیر اعلیٰ بنتے ہیں تو ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج ریاست میں سیاسی استحکام قائم کرنا ہوگا۔ بنگال کی سیاست ہمیشہ شدید محاذ آرائی، سڑکوں کی سیاست، نظریاتی تقسیم اور طاقت کے کھلے استعمال کے لیے جانی جاتی رہی ہے۔ بی جے پی کو اقتدار ملنے کے بعد سب سے پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ محض احتجاجی سیاست کرنے والی جماعت نہیں بلکہ ایک مؤثر حکمران جماعت بھی بن سکتی ہے۔ ریاست کی معاشی صورتحال بھی فوری توجہ کی متقاضی ہے۔ صنعتی سرمایہ کاری کا فقدان، بے روزگاری، تعلیمی مسائل، کسانوں کی پریشانیاں اور شہری بنیادی ڈھانچے کی کمزوریاں نئی حکومت کے لیے ایک بڑا امتحان ہوں گی۔ اگر بی جے پی ان مسائل کے حل میں کامیاب ہوتی ہے تو وہ بنگال میں اپنی سیاسی جڑیں مضبوط کر سکتی ہے، ورنہ یہ کامیابی وقتی بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت کا قیام قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ یہ کامیابی مشرقی ہندوستان میں بی جے پی کی پوزیشن کو مزید مضبوط کرے گی اور 2029 کے پارلیمانی انتخابات کے تناظر میں بھی اسے ایک بڑی کامیابی کے طور پر دیکھا جائے گا۔ بنگال ہمیشہ سے قومی سیاست میں علامتی اہمیت رکھتا ہے اور یہاں اقتدار حاصل کرنا بی جے پی کے لیے محض ایک ریاستی فتح نہیں بلکہ ایک نظریاتی کامیابی بھی تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس پورے منظرنامے کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ بنگال کی تہذیبی شناخت، لسانی حساسیت اور ثقافتی مزاج ہمیشہ ایک مخصوص سیاسی روایت سے جڑے رہے ہیں۔ ایسے میں بی جے پی کے لیے یہ ضروری ہوگا کہ وہ صرف طاقت کے بل پر نہیں بلکہ عوامی اعتماد، ثقافتی ہم آہنگی اور انتظامی انصاف کے ذریعے اپنی حکومت کو مستحکم کرے۔ اگر ریاست میں مذہبی کشیدگی، سیاسی انتقام یا طاقت کے بے جا استعمال کا ماحول پیدا ہوا تو اس کے نتائج نہایت خطرناک ہوسکتے ہیں۔ سویندو ادھیکاری کی قیادت اب ایک نئے امتحان سے گزرنے جا رہی ہے۔ اپوزیشن میں رہ کر حکومت پر تنقید کرنا نسبتاً آسان ہوتا ہے مگر اقتدار میں آکر عوامی توقعات پر پورا اترنا سب سے مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔ بنگال کے عوام اب نعروں سے زیادہ عملی نتائج چاہتے ہیں۔ وہ ترقی، امن، روزگار اور سیاسی استحکام کے خواہاں ہیں۔ اگر نئی حکومت ان امیدوں کو پورا کرنے میں کامیاب رہتی ہے تو بنگال کی سیاست میں ایک نئے عہد کا آغاز ہوگا لیکن اگر وہ بھی ماضی کی حکومتوں کی طرح اقتدار کے نشے میں عوامی مسائل کو فراموش کر بیٹھتی ہے تو سیاسی تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا سکتی ہے۔ بہر حال اس وقت مغربی بنگال کی سیاست ایک غیر معمولی تبدیلی کے دہانے پر کھڑی ہے۔ سویندو ادھیکاری کا ابھرتا ہوا سیاسی کردار، بی جے پی کی تاریخی کامیابی، ممتا بنرجی کی کمزور ہوتی گرفت اور عوامی ذہن میں پیدا ہونے والی نئی سیاسی سوچ اس بات کا اعلان کر رہی ہے کہ بنگال اب ماضی کے سیاسی سانچوں میں قید رہنے والا نہیں۔ آنے والے دن نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک کی سیاست کے لیے نہایت اہم ثابت ہونے والے ہیں۔

*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،یو.پی

(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)

iftikharahmadquadri@gmail.com

 

Comments are closed.