نقباء ،امارت شرعیہ کے چہرے اوراس کے ترجمان ہیں:حضرت امیر شریعت

 

شہر بھبھوا ضلع کیمورمیں منعقد اجلاس نقباء ونائبین سے حضرت امیر شریعت ودیگر علمائے کرام کا خطاب

کیمور(پریس ریلیز) امارت شرعیہ ملک کا نہایت ہی باوقار اور منفرد شرعی نظام ہے،آپ سب کے لئے یہ بات باعث شرف اور لائق شکر ہے کہ اللہ نے آپ کو بحیثیت نقیب اور نائب نقیب اس عظیم شرعی نظام سے وابستگی اوراس کے سایہ میں ملی خدمت کا بہترین موقع فراہم کیاہے،آپ اپنی آبادی میں امارت شرعیہ کا چہرہ اوراس کے ترجمان ہیں،آپ کی ایمانی ذمہ داری ہے کہ اس منصب کی دل سے قدرکریں اور جو ذمہ داریاں آپ کے سپرد کی گئی ہیں پوری محنت ولگن کے ساتھ اس کو پورا کرنے کی سعی کریں، آپ اپنی ذمہ داریوں کے تئیں جس قدر فکر مند ہوں گے اور امارت شرعیہ کے پیغام اوراس کی آواز کو جتنی قوت کے ساتھ اپنے حلقہ اور اپنی آبادیوں میں عام کریں گے امارت شرعیہ کا تنظیمی ڈھانچہ اسی قدر مضبوط اور مستحکم ہوگا،اسی طرح آپ خود اپنے کردار وعمل کو جتنا شریعت کا پابند بنائیں گے اس کے اثرات دوسروں پر مرتب ہوں گے، آپ ہمیشہ یہ سوچ کر قدم اٹھائیں کہ آپ اپنے آبادی میں امارت شرعیہ کے نمائندہ اورترجمان ہیں،ان خیالات کا اظہار امیر شریعت مفکر ملت حضرت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی مدظلہ نے آج مورخہ ۹؍مئی کو مدرسہ اسلامیہ قاسم العلوم ببورا ،بھبھوا ضلع کیمور کی وسیع جامع مسجد میں منعقد ضلع کیمور کے نقباء ونائبین نقباء امارت شرعیہ کے خصوصی تربیتی اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے اپنے صدارتی بیان میں کیا،ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم وقت اور حالات کے اعتبار سے اپنے کو بیدار رکھیں ،خیر امت ایک ذمہ دار فرد کی حیثیت سے آپسی اتحاد کے قیام ،تعلیم کے فروغ، انصاف کو عام کرنے اورانسانی خدمت کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کو اپنا ترجیحی عمل بنائیں ۔ آپ نے فرمایاکہ ہمیں یہ سارے کام محض رضائے الہی کے لئے کرنا چاہئے،جس عمل میں رضائے الہی پیش نظر ہوگی یقینا وہ عمل مقبول بھی ہوگا اور مؤثر بھی۔اس تربیتی اجلاس میں حضرت امیر شریعت مدظلہ نے تربیتی نقطہ نظر سے مزید کئی اہم پہلوئوں پر گفتگو فرمائی اور حاضرین کو ضروری امور سے واقف کرایا،اس اجلاس کو خطاب کرتے ہوئے امارت شرعیہ کے ناظم وصدر مفتی جناب مولانامفتی محمد سعیدالرحمن قاسمی صاحب نے نظام امارت کی عظمت ،اسلامی نظام میں اطاعت امیر کے وجوب اور امارت شرعیہ کی ہمہ جہت خدمات پر جامع گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ امارت شرعیہ کا نظام نبوی نظام خلافت وامارت کا عکس جمیل ہے،مسلمان جہاں کہیں بھی رہیں اگر دینی سربراہی سے محروم ہیں تو ان کی ذمہ داری ہے کہ اپنے میں سے کسی دینی شخصیت کو امیر منتخب کرکے نظام امارت قائم کرے اور اپنے امیر شرعی کی ماتحتی میں شرعی واجتماعی زندگی گذارے، اس ملک میں ترکی خلافت کے خاتمہ اور انگریزوں کے غلبہ کے بعد مسلمان کچھ اسی طرح کے حالات سے دوچار ہوئے ،چنانچہ وقت کے بابصیرت علمائے کرام نے اس شرعی حکم کو سامنے رکھتے ہوئے امارت کا قیام عمل میں لایا جس کی برکت سے ہمیں قرآن پاک کی اس آیت پر عمل کی سعادت حاصل ہوئی جس میں اللہ اور رسول کی اطاعت کے ساتھ منتخب کئے گئے امیر شرعی کی اطاعت کا حکم دیا گیا،ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ امارت شرعیہ محض ایک تنظیم اور ادارہ نہیں بلکہ ایک ایسی فکر اور ایک ایسے شرعی نظام کا نام ہے جس کا وجود اور تحفظ اس ملک میں مسلمانوں کے لئے ایک دینی فریضہ کی حیثیت رکھتاہے،اللہ کا شکر ہے کہ امارت شرعیہ جن بنیادوں پر قائم ہوئی اور جن مقاصد کو ان کے اکابر نے ہمیشہ سامنے رکھا آج بھی امارت شرعیہ اپنے موجودہ امیر کی سرپرستی میں ان مقاصد کو ترجیحی حیثیت دیتے ہوئے ترقی کی راہ پر رواں دواں ہے،آپ نقباء ونائبین نقباء اس نظام امارت کے اہم دست وبازو ہیں،آپ جس قدر مقاصد امارت کو رو بعمل لانے اور اپنی ذمہ داریوں کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مستعد رہیں گے انشاء اللہ امارت شرعیہ اسی قوت اور تیزگامی کے ساتھ ترقی کی راہ پر رواں دواں رہے گی۔امارت شرعیہ کے صدر قاضی جناب مولانامفتی محمد انظار عالم قاسمی صاحب نے اپنی گفتگو میں نظام قضاء ضرورت اور اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ امارت شرعیہ کا نظام قضاء ملک اور ملت دونوں کے لئے باعث رحمت ہے،اس نظام نے نہ صرف انصاف کی راہ کو آسان بنایابلکہ اس کے ذریعہ ایمان ،عزت وآبرو اور مال وزر کی حفاظت بھی ہوتی ہے اور کئی قسم کے گناہوں سے بچنا نصیب ہوتاہے،انہوں نے کہاکہ دارالقضاء میں معاملات کو پیش کرنامحض کوئی استحبابی یا اختیاری عمل نہیں بلکہ ایک وجوبی عمل ہے جس سے گریز سراسر گناہ اور تباہی ہے، اسی طرح دارالقضاء کے زیر اثر صرف طلاق ونکاح اور خلع جیسے معاملات لائے جاتے ہیں جب کہ ہمیں تمام سول معاملات دارالقضاء میں پیش کرنے چاہئیں اور کم خرچ اور کم وقت میں انصاف حاصل کرنا چاہئے، انہوں نے نقباء حضرات سے توقع ظاہرکی کہ وہ سماج میں پیدا ہونے والے اختلاف اور جھگڑوں کے تصفیہ کے لئے اپنے اپنے حلقہ کے عوام وخواص کو دارالقضاء کی طرف رجوع کرنے کی ترغیب دیں گے۔امارت شرعیہ کے نائب ناظم اور شعبہ تنظیم کے انچارج جناب مولانامفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے نقباء ونائبین کو تنظیم کی اہمیت ،اس کے استحکام کی ضرورت ،نقباء کے منصب ومقام کی عظمت پر مؤثر انداز میں روشنی ڈالنے کے ساتھ حضرات نقباء ونائبین کو ان کی ذمہ داریاں بتائیں،ا نہوں نے کہا کہ آج کا یہ اجتماع اس سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے جو مفکر اسلام حضرت مولانا محمد ولی رحمانی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے عہد امارت میں شروع فرمایا تھا،کہ ہرضلع کے آبادی کو تنظیمی سلسلہ سے جوڑ کر ضلع سطح پر نقباء ونائبین نقباء کا خصوصی تربیتی اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ ضلع کی ہرآبادی تنظیمی ڈھانچہ سے مربوط ہو اور ہرآبادی میں نقیب اور نائب نقیب کی حیثیت سے امارت شرعیہ کے نمائندہ موجود رہیں،چنانچہ اسی سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے موجودہ امیر شریعت مدظلہ کی ہدایت کے مطابق گذشتہ چند سالوں میں ضلع ارریہ ،پورنیہ، کشن گنج،کٹیہار ،شیوہر،سیوان اور گوپال گنج میں ضلع سطح کے اجتماعات نقباء منعقد کئے گئے اور امسال ضلع کیمور کا یہ اجلاس آج ۹؍مئی کو شہر بھبھوا میں ۱۰؍مئی کو ضلع رہتاس کے شہر ڈہری اون سون میں منعقد ہورہاہے،تقریباً تین سو سے زائد آبادیوں میں قدیم تنظیم کے احیاء اور جدید تنظیم کے قیام کا عمل پورا کیا گیا ہے،جس کے نمائندہ یعنی نقباء ونائبین نقباء اس وقت یہاں موجود ہیں ، انہوں نے امید ظاہر کی کہ جو ذمہ داریاں حضرت امیر شریعت مدظلہ کی طرف سے آپ کو سپرد کی جارہی ہے اس کو ضرور عمل میں لائیں گے اور اپنی اپنی آبادیوں میں اس تنظیمی کڑی کو مستحکم رکھیں گے،مفتی صاحب مزید کہاکہ انشاء اللہ جلد ہی پنچایت ،بلاک اور ضلع سطح کی کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی اور پورے ضلع میں تنظیمی نظام کو مضبوط بنایا جائے گا۔امارت شرعیہ کے معاون ناظم جناب مولانا قمر انیس قاسمی صاحب نے امارت شرعیہ کے خدمات اور اس کے پھیلے ہوئے شعبہ جات کا تعارف کراتے ہوئے کہاکہ یہ دینی نظام پوری ملت کے لئے ایک عظیم مذہبی نعمت ہے جس کی قدر دانی ہرمسلمان پر لازم ہے، انہوں نے امارت شرعیہ کی طرف سے جاری سرگرمیوں اور آئندہ کے عزائم پر بھی روشنی ڈالی۔دوسرے معاون ناظم جناب مولانا احمد حسین قاسمی مدنی صاحب نے نظام امارت کی شرعی وتاریخی حیثیت پر گفتگو کی اور کہاکہ نظام امارت عہد رسالت میں قائم اس شرعی نظام کا نمونہ ہے جس کا سلسلہ ملت کی طویل تاریخ میں کسی نہ کسی شکل میں جاری رہاہے،ضرورت ہے کہ ہم سب اس نظام سے وابستگی کو اپنی سعادت سمجھیں اور اپنے امیر شریعت کی ماتحتی میں زندگی کے اجتماعی نظام کو مستحکم بنائیں۔اس اجلاس میں نقباء حضرات کے لئے وقفہ سوال وجواب بھی رکھا گیا اور حاضرین کو اظہار خیال کا موقع بھی دیا گیا، اپنے اظہار خیال میں حاضرین نے اس اجتماع کو ضلع کیمور کے لئے دینی بیداری کا پیش خیمہ بتایا اور حضرت امیر شریعت سے گذارش کی کہ تنظیمی سلسلہ کے تمام مرحلہ کو پورا کرایا جائے اور ایک ایک آبادی میں دینی بیداری کی تحریک کو عام کیا جائے۔اجلاس کا آغاز جناب مولانا عبدالماجد رحمانی مبلغ امارت شرعیہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور عزیز م عاقب بن علی حسن نے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم میں نعت پاک پیش کئے،آج کی اس اجلاس میں جناب حافظ احتشام صاحب رکن شوریٰ امارت شرعیہ،مولانا منظر قاسمی صاحب،مولانا منہاج عالم ندوی صاحب اور مولانا شاہ نواز عالم مظاہری صاحب بھی موجود رہے جب کہ اس اجلاس کی تیاری اوراس کے نظم ونسق کو سنبھالنے میں مولانا اسعداللہ نیموی،مولانا سرفراز مظاہری، مولانا عبدالواحد رحمانی ،حافظ عمیر احمد صاحب،مولانا صلاح الدین قاسمی، مولانا شاہد رحمانی ،مولانا حشرالدین صاحب اورمولانا عبدالماجد رحمانی مبلغین امارت شرعیہ جناب مولانا قمر انیس قاسمی معاون ناظم امارت شرعیہ کی سرکردگی میں مسلسل مصروف عمل رہے،اسی طرح استقبالیہ کمیٹی کے احباب جناب اشتیاق خان صاحب،جناب اسلم خان صاحب، جناب نوشاد گدی صاحب، جناب عارف انصاری صاحب، جناب شمیم صاحب،جناب معشوق صاحب ،جناب ذوالقرنین صاحب ،جناب ساجد صاحب ،جناب مولانا آفتاب عالم قاسمی صاحب،حافظ اکبر علی صاحب، حافظ علی حسن صاحب حافظ امام الدین صاحب ،حافظ اعجاز اورمدرسہ اسلامیہ قاسم العلوم کے اساتذہ وطلباء بالخصوص اس کے ناظم جناب قاری ارشاد صاحب نے اجلاس کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں کلیدی رول نبھایا۔

Comments are closed.