گمراہ کن عقائد و نظریات کی ترویج کرنے والے ساجد اڈلوری کے خلاف مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کاماریڈی کے ذمہ داران کی بروقت کارروائی، پولیس میں ایف آئی آر درج

 

سرسلہ، 10 مئی(پریس ریلیز)

گمراہ کن عقائد و نظریات کے حامل افراد کی سرگرمیوں کے خلاف مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کاماریڈی کی جانب سے مسلسل جدوجہد جاری ہے۔ اسی سلسلے میں ضلع سرسلہ کے ایک قصبہ میں ساجد اڈلوری نامی شخص کی سرگرمیوں کی اطلاع مقامی احباب کی جانب سے موصول ہونے پر کاماریڈی سے مجلس کے ذمہ داران اور کارکنان فوری طور پر مقامِ وقوعہ پہنچے۔ مقامی مسلمانوں کی موجودگی میں مذکورہ شخص کی گمراہ کن سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا، جس کے بعد مقامی ذمہ داران کے ساتھ محکمۂ پولیس سے رجوع کرتے ہوئے مذہبی بے راہ روی اور نقصِ امن پیدا کرنے کے الزام میں ایک شکایت درج کرائی گئی، جس پر مقدمہ بھی درج کر لیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق شکیل بن حنیف نامی ایک خود ساختہ مدعیٔ نبوت کے نظریات کی ترویج سے متعلق سرگرمیوں میں ملوث ساجد نامی شخص کے بارے میں اطلاع ملی کہ وہ مختلف علاقوں میں سادہ لوح اور کم علم افراد کے عقائد کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق وہ مختلف مقامات پر قیام کے دوران خود کو سچا مسلمان ظاہر کرتا ہے اور مختلف مقامات کے پتے تبدیل کرتا رہتا ہے۔ اس وقت وہ آندھرا پردیش کے شہر کاکیناڈا میں بنوائے گئے آدھار کارڈ کی بنیاد پر سرگرمِ عمل ہے۔

مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوت کاماریڈی کے ذمہ داران نے علماء، نوجوانوں اور ذمہ داران کی بروقت بیداری، دینی حمیت اور حساسیت کو سراہتے ہوئے کہا کہ عقائد کے تحفظ کے لیے سماجی و دینی شعور بے حد ضروری ہے۔ عوامی حلقوں میں بھی اس واقعہ کے بعد مذہبی معاملات میں مزید احتیاط اور بیداری کی ضرورت پر زور دیں.

 

Comments are closed.