ملک کی ترقی کا شور، بکھرتا سماج — کیا ہندوستان آگے بڑھ رہا ہے؟
جاوید جمال الدین
انسانی زندگی آزمائش، صبر اور شعور کا دوسرا نام ہے۔ زندگی کبھی خوشیوں کے چراغ روشن کرتی ہے تو کبھی غموں کے اندھیرے انسان کو گھیر لیتے ہیں۔ یہی نشیب و فراز انسان کی اصل پہچان بناتے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ آج کا انسان حقیقت سے زیادہ دکھاوے، نعروں اور مصنوعی چمک دمک کا اسیر بنتا جا رہا ہے۔ یہی حال قوموں کا بھی ہوتا ہے۔ جب کوئی قوم حقیقت سے نظریں چرا کر صرف دعوؤں، نعروں اور اشتہاروں کی دنیا میں جینے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ اندر سے کھوکھلی ہو رہی ہے۔
آج ہندوستان بھی ایک ایسے ہی دوراہے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے جہاں ایک طرف ترقی، وشو گرو، عالمی طاقت اور معاشی استحکام کے فلک شگاف نعرے ہیں، جبکہ دوسری طرف مہنگائی، بے روزگاری، نفرت، بھوک اور بے چینی کی تلخ حقیقتیں ہیں۔ حکومت اور خاص طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے خطابات سن کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن چکا ہو اور ہر سمت خوشحالی کے پھول کھل رہے ہوں۔ ہر تقریر میں ترقی کا جشن منایا جاتا ہے، ہر جلسے میں نئے ہندوستان کا خواب دکھایا جاتا ہے، اور ہر اشتہار میں قوم کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ملک تاریخ کے سنہرے ترین دور سے گزر رہا ہے۔
مگر سوال یہ ہے کہ اگر واقعی ہندوستان ترقی کر رہا ہے تو پھر عوام کے چہروں سے سکون کیوں غائب ہے؟ نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے نوکریوں کے لیے در در کیوں بھٹک رہے ہیں؟ کسان قرض اور بدحالی سے تنگ آکر خودکشیاں کیوں کر رہے ہیں؟ غریب آدمی دو وقت کی روٹی کے لیے کیوں ترس رہا ہے؟ آخر وہ کون سی ترقی ہے جس کا چرچا ایوانوں اور اسٹیجوں پر تو سنائی دیتا ہے مگر گلی، محلوں اور بستیوں میں اس کا کوئی نشان نظر نہیں آتا؟
حقیقت یہ ہے کہ ترقی صرف چمکتی سڑکوں، اونچی عمارتوں اور اشتہاری نعروں کا نام نہیں۔ ترقی کا اصل پیمانہ عوام کی زندگی ہوتی ہے۔ اگر عوام بے روزگار ہوں، نوجوان مایوس ہوں، کسان پریشان ہوں، مزدور فاقوں پر مجبور ہوں اور غریب علاج و تعلیم سے محروم ہو تو ایسے ملک کو ترقی یافتہ کہنا خود حقیقت کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔
آج ہندوستان میں مہنگائی ایک عفریت بن کر عوام کو نگل رہی ہے۔ پٹرول، ڈیزل، گیس، بجلی اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کی قیمتیں مسلسل آسمان کو چھو رہی ہیں۔ متوسط طبقہ آہستہ آہستہ غربت کی لکیر کی طرف دھکیلا جا رہا ہے جبکہ غریب آدمی کی زندگی پہلے ہی اذیت بن چکی ہے۔ ایک طرف چند بڑے سرمایہ داروں کی دولت میں حیرت انگیز اضافہ ہو رہا ہے تو دوسری طرف عام آدمی کی جیب خالی اور دسترخوان چھوٹا ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وہ تلخ حقیقت ہے جسے ترقی کے رنگین پردوں کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
بے روزگاری کی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے۔ لاکھوں نوجوان اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود روزگار سے محروم ہیں۔ نوکریاں کم اور اشتہار زیادہ ہیں۔ حکومت نوجوانوں کو روزگار دینے کے بجائے انہیں جذباتی نعروں اور مذہبی بحثوں میں الجھانے میں زیادہ دلچسپی رکھتی دکھائی دیتی ہے۔ نوجوانوں کے ہاتھوں میں کتابیں اور ہنر ہونے چاہئیں تھے مگر افسوس کہ ان کے ذہنوں میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے جا رہے ہیں۔
معیشت کے میدان میں بھی دعوے اور حقیقت ایک دوسرے کی ضد بن چکے ہیں۔ حکومت دنیا کی تیسری بڑی معیشت بننے کے خواب دکھا رہی ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ روپے کی قدر مسلسل گر رہی ہے، مہنگائی بڑھ رہی ہے اور عام آدمی کی قوتِ خرید کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی رپورٹس بار بار اس حقیقت کو سامنے لا رہی ہیں کہ ہندوستان میں بھوک، غذائی قلت اور غربت اب بھی سنگین مسائل ہیں۔ گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہندوستان کی پوزیشن کسی ترقی یافتہ ملک کی نہیں بلکہ ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتی ہے جہاں کروڑوں لوگ بنیادی ضروریات سے محروم ہیں۔
تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبے بھی زبوں حالی کا شکار ہیں۔ سرکاری اسکولوں اور اسپتالوں کی حالت کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ایک طرف ڈیجیٹل انڈیا اور عالمی قیادت کے خواب دکھائے جاتے ہیں، تو دوسری طرف لاکھوں بچے معیاری تعلیم سے محروم ہیں۔ غریب آدمی علاج نہ ہونے کی وجہ سے خاموشی سے موت کے قریب پہنچ جاتا ہے۔ اسپتالوں میں سہولتیں کم اور مجبوریاں زیادہ دکھائی دیتی ہیں۔
ان تمام مسائل سے بھی زیادہ خطرناک وہ زہر ہے جو خاموشی سے معاشرے کی رگوں میں اتارا جا رہا ہے، اور وہ ہے فرقہ پرستی۔ آج مذہب کو سیاست کا سب سے طاقتور ہتھیار بنا دیا گیا ہے۔ عوام کے اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے نفرت کی آگ بھڑکائی جا رہی ہے۔ لوگوں کو تعلیم، روزگار اور انصاف کے بجائے مذہبی نعروں میں الجھا دیا گیا ہے۔ ملک میں بھائی چارے کی فضا کمزور پڑتی جا رہی ہے اور نفرت کی دیواریں اونچی ہوتی جا رہی ہیں۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ اس نفرت کے کھیل میں میڈیا کا ایک بڑا حصہ بھی شریک نظر آتا ہے۔ جو میڈیا کبھی عوام کی آواز ہوا کرتا تھا، آج وہ حکومت کا ترجمان بنتا جا رہا ہے۔ مہنگائی، بے روزگاری، کرپشن اور عوامی مسائل پس منظر میں چلے گئے ہیں جبکہ مذہبی تنازعات، اشتعال انگیزی اور نفرت انگیز مباحث کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ ٹی وی اسکرینیں اب عوامی درد کی ترجمان کم اور سیاسی پروپیگنڈے کا میدان زیادہ محسوس ہوتی ہیں۔
سوشل میڈیا نے اس آگ پر مزید تیل ڈالنے کا کام کیا ہے۔ جھوٹی خبریں، نفرت انگیز پوسٹیں اور اشتعال انگیز ویڈیوز تیزی سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ نوجوان نسل، جو ملک کا مستقبل سمجھی جاتی ہے، اسے علم، تحقیق اور شعور کے بجائے نفرت، تعصب اور اندھی تقلید کی راہ پر دھکیلا جا رہا ہے۔ جھوٹ کو اس قدر دہرایا جا رہا ہے کہ سچائی خود کو تنہا محسوس کرنے لگی ہے۔
بدعنوانی کے خاتمے کے دعوے بھی اب محض سیاسی نعرے محسوس ہوتے ہیں۔ اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے چند مہینوں میں خستہ حال ہو جاتے ہیں۔ سڑکیں افتتاح کے فوراً بعد ٹوٹنے لگتی ہیں، پل کمزور پڑ جاتے ہیں اور عوام کے ٹیکس کا پیسہ آخر کہاں جا رہا ہے، یہ سوال آج بھی جواب طلب ہے۔ مگر افسوس کہ سوال کرنے والوں کو ہی خاموش کرانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
آج ملک کو سب سے زیادہ ضرورت اشتہاروں اور نعروں کی نہیں بلکہ سچائی، دیانت داری اور سنجیدہ قیادت کی ہے۔ ترقی صرف تقریروں سے نہیں آتی بلکہ انصاف، تعلیم، روزگار، امن اور بھائی چارے سے آتی ہے۔ کوئی بھی ملک نفرت کی بنیاد پر عظیم نہیں بن سکتا۔ جب معاشرے میں تقسیم، تعصب اور خوف بڑھنے لگے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ترقی کے دعوے صرف سراب بن چکے ہیں۔
ہندوستان کی اصل طاقت اس کی گنگا جمنی تہذیب، مذہبی رواداری اور اتحاد میں ہے۔ اگر یہی کمزور پڑ گیا تو اونچی عمارتیں، بڑی سڑکیں اور چمکتے اشتہار بھی اس ملک کو مضبوط نہیں بنا سکتے۔ ایک عظیم قوم وہی ہوتی ہے جہاں ہر شہری خود کو محفوظ، باعزت اور برابر محسوس کرے، نہ کہ خوف، نفرت اور عدم تحفظ میں زندگی گزارے۔
لہٰذا وقت کا سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ عوام نعروں کے سحر سے باہر نکلیں اور حقیقت کا سامنا کریں۔ جمہوریت میں سوال کرنا بغاوت نہیں بلکہ زندہ قوموں کی پہچان ہے۔ ہمیں یہ سوچنا ہوگا کہ ترقی کے ان دعوؤں کا فائدہ آخر کس کو پہنچ رہا ہے؟ اگر واقعی ملک ترقی کر رہا ہوتا تو اس کی روشنی عوام کے چہروں پر بھی دکھائی دیتی۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ ترقی صرف عمارتوں، سڑکوں اور اشتہاروں کا نام نہیں بلکہ عوام کی خوشحالی، انصاف، بھائی چارے اور ذہنی سکون کا نام ہے۔ جب تک ملک کا عام آدمی محفوظ، خوشحال اور مطمئن نہیں ہوگا، تب تک ہر باشعور ہندوستانی کے ذہن میں یہ سوال گونجتا رہے گا:
کیا واقعی ہندوستان ترقی کر رہا ہے، یا صرف ترقی کا شور مچایا جا رہا ہے.
Comments are closed.