بنگال کی سیاست کا آئینہ
جیت کے پیچھے چھپے مقدمات، دولت اور جمہوریت کی بے چین تصویر
✍️ شفی احمد اور سید آصف امام کاکوی کی خاص رپورٹ
مغربی بنگال اسمبلی انتخابات 2026 کے نتائج آ چکے ہیں۔ کہیں جشن ہے، کہیں سیاسی طاقت کا مظاہرہ، کہیں گل پوشی اور کہیں اقتدار کے نئے خوابوں کی تعبیر لکھی جا رہی ہے۔ کولکاتا کی سڑکوں سے لے کر دیہی بنگال کے چھوٹے قصبوں تک سیاسی شور اپنے عروج پر ہے۔ مگر اسی شور، نعروں اور کامیابی کے جشن کے بیچ ایک ایسی رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے جمہوریت کے چہرے پر کئی تلخ سوال ثبت کر دیے ہیں۔ ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارمز (ADR) کی تازہ رپورٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں، بلکہ ہندوستانی سیاست کے بدلتے مزاج کا وہ آئینہ ہے جس میں طاقت، دولت، خوف، مقدمات اور جمہوریت ایک ساتھ دکھائی دیتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا سیاست اب عوامی خدمت کے بجائے صرف اقتدار کے حصول کا کھیل بنتی جا رہی ہے؟ کیا صاف شبیہ رکھنے والے امیدوار اب انتخابی سیاست میں کمزور تصور کیے جاتے ہیں؟ اور کیا عوام کے پاس واقعی بہتر متبادل باقی رہ گئے ہیں؟ رپورٹ کے مطابق مغربی بنگال اسمبلی کے 292 منتخب اراکین میں سے 190 یعنی تقریباً 65 فیصد اراکین اسمبلی نے اپنے خلاف مجرمانہ مقدمات کا اعلان کیا ہے۔ 2021 کے انتخابات میں یہی شرح 49 فیصد تھی۔ صرف پانچ برسوں میں یہ اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ سیاست میں جرائم کا سایہ مزید گہرا ہو چکا ہے۔ ان 190 میں سے 170 ایسے امیدوار ہیں جن پر سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔ کسی پر قتل کا الزام، کسی پر اقدامِ قتل، کسی پر خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات۔ یہ صرف قانونی دفعات نہیں، بلکہ جمہوریت کے سینے پر وہ سوال ہیں جو ہر حساس شہری کے دل کو بے چین کرتے ہیں۔سب سے زیادہ تشویشناک حقیقت یہ ہے کہ 14 کامیاب امیدواروں نے اپنے خلاف قتل جیسے سنگین مقدمات درج ہونے کی بات خود اپنے حلف ناموں میں تسلیم کی ہے۔ 54 امیدوار اقدامِ قتل کے مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ خواتین کے خلاف جرائم کے مقدمات 63 منتخب نمائندوں پر درج ہیں، جبکہ دو امیدوار ایسے بھی ہیں جن پر عصمت دری جیسے سنگین الزامات موجود ہیں۔ سوچیے، جب قانون بنانے والے خود عدالتوں میں صفائی پیش کر رہے ہوں تو عام آدمی انصاف کی امید کہاں لے کر جائے؟ جب اسمبلی کے دروازوں تک پہنچنے کا راستہ کردار کے بجائے طاقت اور اثر و رسوخ سے طے ہونے لگے، تو جمہوریت کے معنی بدلنے لگتے ہیں۔ بنگال ہمیشہ فکر و دانش، انقلابی سیاست، ادبی تحریکوں اور عوامی شعور کی سرزمین مانا جاتا رہا ہے۔ یہی بنگال کبھی دانشوروں، قلمکاروں اور عوامی مزاحمت کی علامت تھا۔ یہاں سیاست صرف اقتدار کی نہیں بلکہ نظریے کی بات کرتی تھی۔ مگر وقت کے ساتھ منظرنامہ تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اب سیاست میں نظریاتی بحثیں کم اور انتخابی مساوات زیادہ نظر آتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے لیے سب سے اہم سوال یہ رہ گیا ہے کہ “کون جیت سکتا ہے؟”۔ امیدوار کی شبیہ، اس کا کردار، اس کی سماجی وابستگی یا اخلاقی ساکھ اب ثانوی حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ADR کی رپورٹ کے مطاب بھارتیہ جنتا پارٹی کے 206 کامیاب امیدواروں میں سے 152 امیدواروں نے اپنے خلاف مجرمانہ مقدمات ظاہر کیے ہیں، یعنی تقریباً 74 فیصد۔ ان میں سے 68 فیصد پر سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔ دوسری جانب ترنمول کانگریس کے 80 منتخب امیدواروں میں سے 34 امیدواروں پر مجرمانہ مقدمات ہیں، جبکہ 31 فیصد پر سنگین الزامات موجود ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف سیاسی جماعتوں کا تجزیہ نہیں کرتے بلکہ یہ اس انتخابی سوچ کو بے نقاب کرتے ہیں جس میں “جیتنے کی صلاحیت” ہر اخلاقی معیار پر بھاری پڑ رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں اب ایسے امیدوار تلاش کرتی ہیں جو ووٹ لا سکیں، چاہے ان کے خلاف کتنے ہی مقدمات کیوں نہ ہوں۔ چھوٹی جماعتوں کی حالت بھی مختلف نہیں۔ عام جنتا اُنیّن پارٹی، سی پی ایم اور آل انڈیا سیکولر فرنٹ کے تمام کامیاب امیدواروں نے اپنے خلاف مجرمانہ مقدمات کا اعلان کیا ہے۔ صرف کانگریس کے دو منتخب امیدوار ایسے ہیں جن پر کوئی مقدمہ درج نہیں۔ مگر سوال یہی ہے کہ کیا صاف شبیہ اب سیاست میں ایک استثنا بنتی جا رہی ہے؟ یہ رپورٹ صرف سیاست کے جرائم زدہ ہونے کی کہانی نہیں سناتی بلکہ سیاست میں بڑھتی معاشی غیر مساوات کا دردناک چہرہ بھی دکھاتی ہے۔ انتخابات اب عام آدمی کے لیے مسلسل مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ کروڑوں کی جائیداد رکھنے والے امیدوار سیاست پر حاوی ہوتے جا رہے ہیں۔ عوام کے درمیان جا کر غربت مٹانے کے نعرے لگانے والے کئی رہنما خود کروڑوں کی جائیداد کے مالک ہیں۔ ایک عام نوجوان، ایک متوسط طبقے کا کارکن یا ایک دیہی پس منظر رکھنے والا ایماندار شخص انتخاب لڑنے کا خواب دیکھنے سے پہلے ہی وسائل کی جنگ میں ہار جاتا ہے۔جمہوریت کا اصل تصور یہ تھا کہ ہر طبقے کی آواز اسمبلی تک پہنچے۔ مگر اب صورتحال یہ ہے کہ سیاست میں داخلہ بھی سرمایہ مانگتا ہے، انتخاب لڑنا بھی سرمایہ مانگتا ہے اور انتخاب جیتنا بھی۔ ایسے میں غریب عوام کی نمائندگی آخر کون کرے گا؟

تعلیم کے میدان میں رپورٹ کچھ امید ضرور دلاتی ہے۔ تقریباً 63 فیصد منتخب نمائندے گریجویٹ یا اس سے زیادہ تعلیم یافتہ ہیں۔ 32 فیصد امیدوار پانچویں سے بارہویں جماعت تک تعلیم یافتہ ہیں جبکہ ایک امیدوار نے خود کو ناخواندہ قرار دیا ہے۔ لیکن یہاں بھی ایک بڑا سوال موجود ہے۔ کیا صرف ڈگریاں کافی ہیں؟ اگر تعلیم یافتہ نمائندے بھی سنگین جرائم کے الزامات میں گھرے ہوں تو پھر تعلیم اور اخلاقی سیاست کا رشتہ کہاں کھڑا ہوتا ہے؟ تعلیم اگر شعور، دیانت اور سماجی ذمہ داری پیدا نہ کرے تو صرف سند بن کر رہ جاتی ہے۔ خواتین کی نمائندگی کی تصویر بھی زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ 292 اراکین اسمبلی میں صرف 37 خواتین کامیاب ہو کر اسمبلی پہنچی ہیں، یعنی صرف 13 فیصد۔ 2021 میں یہ شرح 14 فیصد تھی۔ یہ اس وقت کی حقیقت ہے جب خواتین ہر میدان میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ سیاست میں خواتین کے احترام کی باتیں جلسوں میں بہت کی جاتی ہیں، مگر ٹکٹ تقسیم ہوتے وقت خواتین اکثر سب سے پیچھے دکھائی دیتی ہیں۔ عمر کے اعداد و شمار بھی دلچسپ ہیں۔ 63 فیصد منتخب نمائندے 41 سے 60 برس کے درمیان ہیں، جبکہ صرف 16 فیصد نمائندے 25 سے 40 برس کے ہیں۔ یعنی نوجوان سیاست کی بات تو بہت ہوتی ہے مگر اسمبلی تک نوجوانوں کی رسائی اب بھی محدود ہے۔ تین منتخب نمائندے 80 برس سے زائد عمر کے ہیں۔ تجربہ یقیناً جمہوریت کی طاقت ہے، مگر نوجوان قیادت کی کمی مستقبل کے سیاسی توازن کو کمزور کرتی ہے۔ مغربی بنگال کا یہ انتخاب صرف اقتدار کی تبدیلی یا نشستوں کی جیت ہار کی کہانی نہیں، بلکہ ہندوستانی جمہوریت کے بدلتے مزاج کی ایک گہری تصویر ہے۔ دیہات اور قصبوں میں رہنے والا عام آدمی آج بھی سڑک، اسپتال، تعلیم، روزگار اور تحفظ چاہتا ہے۔ مگر انتخابی موسم آتے ہی مذہب، ذات، جذبات اور سیاسی قطبیت کا شور اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ جمہوریت کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ عوام اپنے نمائندے خود منتخب کرتے ہیں۔ لیکن جب انتخابی میدان میں صاف شبیہ والے چہرے کم اور مقدمات والے امیدوار زیادہ دکھائی دینے لگیں تو یہ جمہوریت کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہ رپورٹ کسی ایک جماعت کے خلاف فردِ جرم نہیں، بلکہ پورے سیاسی نظام کے سامنے رکھا گیا وہ آئینہ ہے جس میں ہر جماعت کو اپنا چہرہ دیکھنا چاہیے۔ سوال صرف بنگال کا نہیں، تقریباً ہر ریاست میں سیاست کا جرائم سے رشتہ گہرا ہوتا جا رہا ہے۔سیاسی جماعتیں جیتنے والے چہرے چاہتی ہیں، اور عوام کئی مرتبہ مجبوری میں انہی چہروں کو منتخب کرتے ہیں۔ مگر جمہوریت صرف ووٹ حاصل کرنے کا نام نہیں۔ جمہوریت اعتماد کا نام ہے۔ اس یقین کا نام کہ عوام کا نمائندہ ان کی آواز بنے گا، ان کے خوف کی وجہ نہیں۔ آج ضرورت صرف قانون بدلنے کی نہیں بلکہ سیاسی سوچ بدلنے کی ہے۔ سیاسی جماعتوں کو ٹکٹ تقسیم کرتے وقت اخلاقیات کو ترجیح دینی ہوگی۔ عوام کو بھی مذہبی جذبات، ذات پات اور وقتی نعروں سے اوپر اٹھ کر امیدوار کے کردار، شفافیت اور عوامی خدمت کو دیکھنا ہوگا۔ اگر سیاست میں دولت اور جرائم کا اثر اسی طرح بڑھتا رہا تو سب سے زیادہ نقصان اسی عام آدمی کا ہوگا جو ہر پانچ برس بعد امید کی انگلی تھام کر ووٹ ڈالنے جاتا ہے۔ بنگال کے عوام نے اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ اب وقت منتخب نمائندوں کا ہے کہ وہ عوام کو یہ یقین دلائیں کہ اسمبلی صرف اقتدار کا ایوان نہیں بلکہ خدمت، جوابدہی اور اعتماد کی جگہ بھی ہے۔ ورنہ ہر الیکشن میں صرف اعداد و شمار بدلیں گے، مگر جمہوریت کی بے چینی اور عوام کی خاموشی مزید گہری ہوتی جائے گی۔
Comments are closed.