دورِ حاضر اور مستقبل میں مسلمانوں کے دین و ایمان کی حفاظت كے لیےاسلامی نہج پر عصری تعلیم گاہوں کی ضرورت
فیض اسماعیل خطیب
آج ہم جس دور سے گزر رہے ہیں وہ فتنوں اور دین بیزاری کا دور ہے۔ ماحول دن بدن خراب ہوتا جا رہا ہے۔ مغربی تہذیب و تمدن سے محبت رکھنے والوں نے خصوصیت کے ساتھ پورے مسلم معاشرے میں بے حیائی، غیر شرعی تعلقات، عشقِ مجازی و ناجائز محبت کو فیشن کے نام پر عام کر رکھا ہے۔ سوشل میڈیا، کوایجوکیشن، مخلوط تعلیمی ادارے اور غیر اسلامی ماحول نے ہماری نئی نسل کو شدید متاثر کیا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض اوقات ہماری بچیاں ویسٹرن کلچر کی شکار ہو کر دین سے دور، اور ایمان سے محروم ہو رہی ہیں۔
ایسے حالات میں بعض لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ شاید عصری تعلیم ہی ان خرابیوں کی جڑ ہے، حالانکہ یہ سوچ کسی حد تک درست نہیں۔ کیوں کہ دینِ اسلام، تعلیم کا مخالف نہیں بلکہ اسلام نے تو حصولِ علم پر ابھارا ہے اور اسے باعثِ عزت قرار دیا ہے۔
مسئلہ صرف تعلیم کا نہیں بلکہ غیر اسلامی اور فحاشی پر محمول تعلیمات اور بے لگام ماحول بھی ہے۔ اگر تعلیم شرعی حدود میں رہ کر دی جائے اور لی جائے تو یہی تعلیم ایک صالح اور ترقی یافتہ معاشرے کو جنم دیتی ہے ـ
اسی پسِ منطر میں حضرت مولانا ابو الحسن علی میاں الندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی ایک تقریر میں نہایت فکر انگیز بات ارشاد فرمائی۔ انہوں نے فرمایا:
اگر آپ کے پاس ایک شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ ہمارے یہاں مسجد بن چکی ہے اور اب اس کے میناروں کی تعمیر کا کام چل رہا ہے، جس کے لیے چندہ درکار ہے۔ اسی وقت ایک دوسرا شخص آتا ہے جو اسلامی نہج پر عصری تعلیم گاہ قائم کرنے کی فکر و کوشش کر رہا ہے اور اس کے لیے تعاؤن کی درخواست کرتا ہے۔
تو میں ایسے موقع پر یہ کہوں گا کہ اسلامی اسکول بنانے والے کو چندہ دیجیے ۔ اگر اسلامی اسکولیں قائم نہیں ہوئیں تو آپ یاد رکھیں کہ آپ کی نسلیں ایمان پر باقی نہیں رہینگی پھر مسجدوں کو آباد کرنے والا کون ہوگا؟
مولانا کی بات کا مقصد (نعوذ باللہ) مسجد کی اہمیت کو کم کرنا نہیں ہے ، بلکہ مسجد کے میناروں پر بے جا اسراف سے روک کر ان روپیوں کو اسلامی اسکولوں اور اسلامی عصری درسگاہوں پر خرچ کرنا ہے تاکہ امتِ مسلمہ کے دین و ایمان کی حفاظت اور تعمیر و ترقی ہوتی رہے، کیونکہ اگر نسلِ نو کی صحیح اسلامی و عصری تعلیم وتربیت نہ کی جائے تو وہ غیر مہذب اور ناپاک ماحول کی بہتی دھارا میں اپنا وجود کھو بیٹھیں گے اور کروڑوں کی لاگت سے بنی ہوئی مسجدیں بھی ویران ہو جائیں گی، کیونکہ ایک صالح اور ترقی یافتہ معاشرہ ہی مسجدوں کو آباد کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے ـ
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ماں بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ اگر ماں خود دینی شعور، اسلامی اخلاق اور صحیح تعلیم سے آراستہ ہوگی تو وہ اپنی اولاد کی بہترین دینی و اخلاقی تربیت کر سکے گی۔ لہٰذا!
بچیوں کی تعلیم کو نظر انداز نہیں کرنا ہے، بلکہ صحیح اسلامی ماحول میں دینی و عصری تعلیم دینا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔
آج امت کو ایسے تعلیمی اداروں کی اشد ضرورت ہے جو:
خالص اسلامی ماحول فراہم کرتے ہوں
دینی اقدار اور عصری تعلیم کو یکجا کرتے ہوں
بچوں کے ایمان، کردار اور حیا کی حفاظت کرتے ہوں
ایسے ادارے جو مسلم بچوں کی صحیح دینی و اخلاقی تعلیم کے لیے فکر مند ہیں، ان کی مالی مدد کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ان اداروں کو دی جانے والی ڈونیشن محض چندہ نہیں بلکہ:
. آنے والی نسلوں کی حفاظت
• دین کی بقا
• اور ہمارے لیے صدقۂ جاریہ ہے.
اگر یہ ممکن نہ ہو تو حتی الامکان مسلمانوں نے یہ کوشش کرنا چاہیے کہ اپنی اولاد اور خصوصاً اپنی بچیوں کو ایسے ادارے میں عصری تعلیم دلائے جہاں کا مینجمنٹ اور انتظامیہ مسلم ہو ـ پھر ان اداروں کے مسلم مینجمنٹ اور مسلم اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان بچیوں کی دینی تربیت کریں ، حیا و پاکدامنی کا درس دیں، اور شرعی پردے میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے فہمائش کریں اور زور دیں.
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے بچوں کی صحیح تربیت کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ایسے اداروں کا معاون بنائے جو امتِ مسلمہ کے مستقبل کو محفوظ بنانے میں کوشاں ہیں۔ آمین۔
Comments are closed.