فرشتوں کو جاننا چاہیے؛ لیکن شیطان کو جاننا زیادہ ضروری ہے

 

تحریر : مولانا عبدالحمید نعمانی

 

8/مئی کو فقہ اکیڈمی میں بین مذاہب شادی اور ارتداد پر ایک پروگرام تھا، مولانا عتیق احمد بستوی نے محاضرہ پیش کیا، ہم سے بھی اظہار خیال کے لیے کہا گیا تو ہم نے کہا صرف یک طرفہ اچھی باتیں کہنے لکھنے سے سماج کے سامنے انتخاب کا مسئلہ ختم ہو جاتا ہے، اس سے اس میں بڑا خلاء پیدا ہو جاتا ہے، توحید کی اہمیت بتانے کے ساتھ شرک کی خرابی اور اس سے دور و نفور رہنے کا جذبہ پیدا کرنا بھی ضروری ہے، ہم آپ جس ہندستانی سماج میں رہتے ہیں اس کے بارے میں ہم کتنا جانتے ہیں، اسے جانے بغیر کوئی مفید کام نہیں کیا سکتا ہے، بہت سے مسلم نام والے کہتے ہیں کہ ہم سناتنی ہیں، وہ بری طرح دباؤ میں ہیں، بغیر جانے بولنے اور میڈیا کے سامنے آنے بیماری بھی عام ہوتی جا رہی ہے، یہاں یہ سوال ضروری ہے کہ سناتن ہے کیا، ہندوتو وادی سماج نظریاتی و عملی بحران میں بری طرح مبتلا ہے، وہ سوالات کے جوابات دیے بغیر اسلام اور مسلمانوں پر حملے کرتے ہوئے اپنے شاندار ماضی کا تذکرہ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اسلام کچھ دنوں میں ختم ہو جائے گا، ایسی حالت میں مسلم اہل علم کے لیے بنیادی سوالات اٹھانے کے مواقع ہیں، لیکن صحیح سوال بھی باتوں کو جانے بغیر نہیں کیا جا سکتا ہے، ہندوتو وادی سماج یہ بتانے سے قاصر ہے کہ راون کی سونے کی لنکا کہاں تھی، رام چندر کے زمانے کی کوئی چیز نہیں ملتی ہے، حالاں کہ بہت سی کھدائیاں کی جا چکی ہیں، مسلمانوں کو جبرا جے شری رام کا نعرہ لگانے کے لیے کہا جاتا ہے لیکن اس نعرہ کا ذکر کسی رامائن اور ہندو دھرم گرنتھوں میں نہیں ملتا ہے، ہم نے اس تعلق سے کئی آچاریوں کی موجودگی میں ایک ٹی وی پروگرام میں سوال اٹھایا تو تمام آچاریہ تو چپ رہے لیکن ایک برہمن صحافی نے ادھر ادھر کی باتیں کر کے بات بنانے کی کوشش کی، ہم نے کہا کہ الحمدللہ ہم نے قرآن، بخاری، ہدایہ، طبری کے ساتھ رامائن کا بھی مطالعہ کیا، جتنی رامائن کے آپ نام نہیں جانتے ان کا ہم نے مطالعہ کیا، ہمیں نہیں گھما سکتے ہیں، کسی ایک کا حوالہ دیں جس میں جے شری رام کا نعرہ ہو، وہ جواب نہیں سکے، گیسٹ ہاؤس میں چائے پیتے ہوئے دھرم گرو بولے کہ یہ نعرہ سناتن نہیں ہے بلکہ بی جے پی، آر ایس ایس کا کچھ دنوں پہلے کا ایجاد کردہ نعرہ ہے، برہمن صحافی نے کہا کہ آپ کی بات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا ہے، فقہ اکیڈمی کے پروگرام میں ہم نے کہا کہ فرشتوں کو جاننا چاہیے لیکن شیطان کو جاننا زیادہ ضروری ہے، یہ ہمارے نانا جان رح کہتے تھے، ہم نے امام ابن قیم رح کی کتاب الفوائد مطبوعہ دارالفکر بیروت کے حوالے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان پیش کیا کہ اسلام کا شیرازہ ایک ایک کر کے بکھر جائے گا جب اہل اسلام میں جاہلیت کو جاننے والے نہیں ہوں گے، یہ کام مسلم اہل علم کا ہے، کوئی سیاست داں نہیں کر سکتا ہے، اس کے مفادات و مقاصد الگ قسم کے ہوتے ہیں، بہت سے اہل علم ایسے ہیں جن کا بیان، بیانیہ اور قابل توجہ بن سکتا ہے،

Comments are closed.