عصری اداروں کے قیام کی اہمیت و ضرورت

 

محمد احسان اشاعتی

 

تعلیم کسی قوم کی رونق اور ترقی کی علامت ہوتی ہے۔ جو قوم تعلیم سے محروم ہوتی ہے، وہ دنیا میں بوجھ بن کر رہ جاتی ہے۔ اسلام نے بھی علم کے حصول کو ہر مسلمان پر فرض کہا ہے۔ تاہم، موجودہ دور میں تعلیم کا سوال صرف سندوں اور ڈگریوں کا نہیں بلکہ تربیت اور شناخت کا بھی مسئلہ بن چکا ہے۔ آج جب دنیا بھر میں مسلمانوں کی مذہبی، ثقافتی اور اخلاقی شناخت پر حملے ہو رہے ہیں، معاشرتی بے چینیوں اور مادی غلامی میں اضافہ ہو رہا ہے، تو مسلمانوں کے لیے اپنے الگ اسکول قائم کرنا صرف ایک ضرورت نہیں بلکہ وجود کا سوال بن چکا ہے۔

 

دینی اور اخلاقی تربیت کا تحفظ

غیر مذہبی یا سیکولر تعلیمی اداروں میں بچے سائنس، ریاضی اور دیگر جدید فنون تو سیکھتے ہیں، لیکن وہاں وہ اپنی دینی اور اخلاقی شناخت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ موجودہ تعلیمی نظام میں اخلاقیات کو ذاتی معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ جبکہ مسلمانوں کے لیے ایک ایسا نظام تعلیم ضروری ہے جہاں علوم عصریہ ،جدید سائنس اور ٹیکنا لوجی سے ماہر اساتذہ کے ذریعہ قوم کے نسل نو کو آراستہ کیا جائے تو دوسری طرف قرآن، حدیث اور سیرتِ نبوی کی تعلیم سے بھی ان کو روشناس کیا جائے ، اور اس ہدف کا حصول مسلمان اپنے اسکول قائم کرنے سے یقینی بنا سکتے ہیں کہ ان کی نسل صرف ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بنے گی بلکہ ایک اچھا انسان اور عملی مسلمان بھی ہوگی۔

 

ثقافتی شناخت کا تحفظ

جب کسی بچے کو ایک ایسا ماحول میسر ہوتا ہے جہاں اس کا مذہب، زبان اور تہذیب الگ ہو، تو اس میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ غیر مسلم اداروں میں، خاص طور پر وہاں جہاں مسلمانوں کی تعداد کم ہو، بچے اکثر "اقلیتی کمپلیکس” (Minority Complex) کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنی شناخت چھپانے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ وہ دوسروں میں ضم ہو سکیں۔ مسلم اسکول ایسا ماحول فراہم کرتے ہیں جہاں بچے اپنے نام، لباس، اپنے تہواروں اور اپنے عقائد پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

 

جدید چیلنجز اور عصری مسائل کا اسلامی حل:

آج کے دور میں دہریت، الحاد، مذہب بیزاری، ارتداد اور خاندانی نظام کی تباہی بڑے مسائل ہیں۔ عام اسکولز میں جن امور کو "عصرییت” یا "مoderinity” کا نام دیا جاتا ہے، وہ اکثر اسلامی اقدار کے خلاف ہوتے ہیں۔ مسلم اسکولز کا نظام ایسا ہونا چاہیے جو بچوں کو جدید دور کے ٹیکنالوجی اور سائنس سے آگاہ کرائے لیکن ساتھ ہی انہیں خوبیوں اور برائیوں کی پہچان بھی سکھائے۔ ہمیں ایسے افراد پیدا کرنے کی ضرورت ہے جو دور حاضر کے چیلنجز کا اسلامی نظریہ سے حل تلاش کر سکیں، نہ کہ مغربی تہذیب و کلچلر سے مرعوب ہو کر اپنی تہذیب وثقافت سے ہی سمجھوتا کرلے

 

سماجی اختلاط اور اس کے اثرات

موجودہ تعلیمی نظام میں لڑکوں اور لڑکیوں کا غیر ضروری اختلاط، سیگرٹ نوشی اور دیگر منفی عادات کا فروغ عام ہے۔ والدین اکثر اپنے بچوں کے اسکول جانے کے بعد اس بات کے فکرمند رہتے ہیں کہ وہاں ان کا کیا حال ہوگا۔ اپنے اسکول قائم کرنے سے منتظمین اور معلمین ایسا ماحول بنا سکتے ہیں جو "حجاب” اور "غض نظر” کی تعلیمات پر مشتمل ہو، جہاں بچے غیر اخلاقی عادات سے محفوظ رہیں۔

 

اقتصادی خود انحصاری:

اپنے اسکول قائم کرنے سے تعلیم کی معیشت بھی مسلمانوں کے ہاتھوں میں آ جائے گی۔ فی الحال ہم اپنے وسائل دوسروں کے اداروں میں خرچ کر رہے ہیں۔ اگر یہ رقم اپنے اداروں میں آئے تو نہ صرف بہتر معیار تعلیم یقینی بن سکے گا بلکہ مسلمان معلمین اور ملازمین کو روزگار بھی فراہم ہوگا۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اپنے اسکول قائم کرنا محض آپشن نہیں ہے، بلکہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ غرض صرف یہ نہیں کہ ہم دوسروں سے الگ تھلگ ہو جائیں، بلکہ غرض یہ ہے کہ ہم اپنی امتیازی شناخت برقرار رکھتے ہوئے دنیا میں سرگرم رہیں۔ ہمیں ایسا تعلیمی نظام تیار کرنے کی ضرورت ہے جو دنیا کا بہترین علم اور آخرت کی بہترین تیاری دونوں فراہم کرے۔قوم کے دانشوران، والدین، معلمین اور معاشرے کے دوسرے طبقات کو مل کر اس مقصد کے لیے پیش قدمی کرنی چاہئے اور پر خلوص فراخدلی کا مظاہرہ کرنا چاہئے، اس سے ہم اپنے مستقبل کو تباہی اور اجارہ داری سے بچا سکتے ہیں اور اپنے معاشرہ میں اسلامی تشخص اور دینی شعائر کی بقا میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

Comments are closed.