مرکز علم و دانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
پریس ریلیز
اے ایم یو کے کالج آف نرسنگ میں بین الاقوامی یوم نرسنگ کی تقریب کا اہتمام
علی گڑھ، 13 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کالج آف نرسنگ میں بین الاقومی یوم نرسنگ جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ یہ دن فلورنس نائٹنگیل کے یوم پیدائش پر دنیا بھر میں نرسوں و طبی خدمات انجام دینے والے پیشہ ور افراد کی خدمات کے اعتراف کے طور پر منایا جاتا ہے۔
بی ایس سی نرسنگ کے دوسرے سمسٹر کی طالبہ مس اِذکا صدف نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور بین الاقوامی یوم نرسنگ کے موضوع پر اظہارِ خیال کیا۔ طلبہ نے مختلف موضوعاتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، جس سے مریضوں کی نگہداشت اور پیشہ ورانہ عمدگی کے تئیں ان کی وابستگی ظاہر ہوئی۔ پروگرام کے دوران ہونے والی گفتگو میں صحت عامہ کے نظام میں نرسنگ کی بڑھتی ہوئی اہمیت، مسلسل تعلیم، مہارتوں کے فروغ اور طبی عمل میں ہمدردانہ رویے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور جدید طبی نظام میں نرسوں کے بدلتے ہوئے اور اہم کردار کو اجاگر کیا گیا۔
پروگرام کا انعقاد پرنسپل پروفیسر فرح اعظمی کی رہنمائی اور ڈاکٹر وجے لکشمی کی نگرانی میں کیا گیا۔ آخر میں بی ایس سی نرسنگ، دوسرے سمسٹر کی طالبہ مس تمکین نے کلمات تشکر ادا کئے۔ اس موقع پر ڈاکٹر وجے لکشمی ورما، ڈاکٹر سفینہ بیوی ایس ایس، ڈاکٹر اسحاق محمد، مسز پامیلا ایس جوزف، مسز جے این سونجا، مسز شیوانی مسیح، مسز دیپتی منج، مسز روبینہ، مسز مہوش، مسز ریشما، مسٹر مصباح معین اور مسٹر محمد فرقان موجود تھے۔ مسز شیوانی اے مسیح نے ہم نصابی کمیٹی کے انچارج کی حیثیت سے پروگرام کو مربوط کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے پروفیسر نے ریسرچ میتھڈولوجی کورس میں خطبات پیش کئے
علی گڑھ، 13 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے پروفیسر ایس ایم خان نے بلاسپور، چھتیس گڑھ میں واقع گرو گھاسی داس وشوودیالیہ کے شعبہ تعلیم کے زیرِ اہتمام انڈین کونسل آف سوشل سائنس ریسرچ (آئی سی ایس ایس آر) کے مالی تعاون سے منعقدہ دس روزہ ریسرچ میتھڈولوجی کورس میں ”ٹیسٹوں کی تیاری اور معیار سازی“ کے موضوع پر سلسلہ وار خطبات دیے۔
”سماجی علوم کی تحقیق میں ابھرتے ہوئے مسائل: روایتی میتھڈولوجی، ڈیجیٹل ٹولس و تکنیک کے تناظر میں“کے عنوان سے منعقدہ اس کورس کو نوجوان اور ابھرتے ہوئے محققین کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔
پروفیسر خان کے سیشنز میں نظریاتی تفہیم کے ساتھ عملی تربیت کو بھی شامل کیا گیا۔ انہوں نے شرکاء کو اوپن سورس شماریاتی سافٹ ویئر پلیٹ فارم ’جامووی‘ کے ذریعے اہم شماریاتی پیمانوں کے کمپیوٹیشن سے بھی روشناس کرایا۔ انھوں نے اعلیٰ سطحی سائیکومیٹرک تجزیے کی سہل کاری اور تحقیقی آلات و وسائل کو اسکالرز کے لیے زیادہ قابلِ رسائی بنانے پر زور دیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کی فیکلٹی آف یونانی میڈیسن کے پی جی اسکالرز نے ہمدرد لیباریٹریز کا صنعتی دورہ کیا
علی گڑھ، 13 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی فیکلٹی آف یونانی میڈیسن نے ریسرچ، انوویشن اینڈ انٹرپرینیورشپ ڈیولپمنٹ (ریڈ) سیل کے زیر اہتمام پوسٹ گریجویٹ اسکالرز کے لیے ہمدرد لیبارٹریز کی مینوفیکچرنگ یونٹ کا ایک روزہ صنعتی دورہ منعقد کیا۔
ہمدرد لیباریٹریز انڈیا کے تعاون سے منعقدہ اس دورے کا مقصد طلبہ کو یونانی طب میں جدید دواسازی کے عملی طریقوں سے روشناس کرانا اور صنعت و اکیڈمیا کے درمیان اشتراک کو مضبوط بنانا تھا۔ پروگرام میں 30 پوسٹ گریجویٹ اسکالرز نے شرکت کی، جن کے ساتھ فیکلٹی اراکین ڈاکٹر قاضی زید احمد، ڈاکٹر عزیز الرحمٰن اور ڈاکٹر سنبل رحمٰن بھی موجود تھے۔
ڈین، فیکلٹی آف یونانی میڈیسن، پروفیسر ایس ایم اشرف نے اسکالرز کو ماہرین سے خاطر خواہ استفادہ کرنے اور روایتی طب کے جدید صنعتی طریقہئ کار کے ساتھ بڑھتے ہوئے انضمام کو سمجھنے کی ترغیب دی۔
ہمدرد کی فیکٹری میں وفد کا استقبال ڈپٹی جنرل منیجر (ایچ آر) جناب انعام علی اور سینئر جنرل منیجر (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ) ڈاکٹر سنتوش کمار جوشی نے کیا۔ انہوں نے شرکاء کو تحقیقی و مینوفیکچرنگ یونٹس کا دورہ کرایا۔ اسکالرز نے یونانی ادویات کی تیاری، کوالٹی کنٹرول، معیار سازی اور بڑے پیمانے پر پیداوار کے مختلف مراحل کا جی ایم پی رہنما خطوط کے تحت مشاہدہ کیا۔
اس دوران ایک تعاملی نشست بھی منعقد ہوئی، جس میں چیف پروڈکشن اینڈ پروجیکٹ آفیسر جناب شمشاد علی، جناب انعام علی اور ڈاکٹر سنتوش کمار جوشی نے یونانی دوا سازی کے شعبے میں تحقیق، اختراع اور صنعت کاری کے مواقع پر روشنی ڈالی۔
ایڈمنسٹریٹو آفیسر جناب دانش نے ڈاکٹر صغیر احمد خان، منیجر (ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ) اور ڈاکٹر اروند کمار ترپاٹھی، کوالٹی کنٹرول منیجر کے تعاون سے پروگرام کو مربوط کیا۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کرکٹ کلب کے زیرِ اہتمام سمر کوچنگ کیمپ کے ٹرائلز 18 مئی کو منعقد ہوں گے
علی گڑھ، 13 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے کرکٹ کلب کی جانب سے ضلع علی گڑھ کے اسکولی طلبہ کے لیے 23واں کرکٹ سمر کوچنگ کیمپ، ولنگڈن کرکٹ پویلین میں منعقد کیا جائے گا۔
کرکٹ کلب کے صدر پروفیسر یوسف الزماں خان کے مطابق کوچنگ کیمپ کے لیے انتخابی ٹرائلز 18 مئی کو سہ پہر 3 بجے منعقد ہوں گے۔ منتخب شرکاء سے یونیورسٹی کی جانب سے کوئی کوچنگ فیس نہیں لی جائے گی۔ درخواست فارم جمع کرنے کی آخری تاریخ 18 مئی،دوپہر ڈیڑھ بجے تک مقرر کی گئی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے فیکلٹی رکن نے تھری ڈی پرنٹیڈڈینٹل امپلانٹ ڈیزائن کے لئے برطانیہ کا پیٹنٹ حاصل کیا
علی گڑھ، 13 مئی: ڈاکٹر زیڈ اے ڈینٹل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ پروستھوڈونٹکس کے فیکلٹی رکن ڈاکٹر پنکج کھراڈے نے اپنے علمی معاونین کے ساتھ مل کر پروستھیٹک زمرے کے تحت میڈیکل اینڈ لیبارٹری ایکوئپمنٹ کلاس میں تھری ڈی پرنٹیڈ ڈینٹل امپلانٹ کے لیے حکومتِ برطانیہ سے بین الاقوامی پیٹنٹ حاصل کیا ہے۔
برطانیہ کے انٹلیکچوئل پراپرٹی دفتر نے ”تھری ڈی پرنٹیڈ امپلانٹ وِد انٹرنل پوروزیٹی اینڈ ایستھیٹک ایکسٹرنل ڈیزائن“ کے عنوان سے اس اختراع کو منظوری دے کر رجسٹر کر لیا ہے۔ اس اختراع کا مقصد ہڈی کے ساتھ امپلانٹ کا بہتر انضمام، بافتی ہم آہنگی میں بہتری اور ہڈیوں کے ڈھانچے کے ساتھ زیادہ مؤثر بایومکینیکل مطابقت فراہم کرنا ہے۔ ڈاکٹر کھراڈے نے بتایا کہ اس ڈیزائن میں ڈینٹل اور کرینیوفیشیئل استعمالات کے لیے جمالیاتی قبولیت کو بھی مدنظر رکھا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پیش رفت جدید پروستھوڈونٹکس اور ریسٹوریٹیو ڈنٹسٹری میں حسب ضرورت اور حیاتیاتی طور پر مربوط امپلانٹ ٹیکنالوجیز کے میدان میں جاری ترقی کی عکاس ہے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن کے زیراہتمام ماہواری سے متعلق بیداری پروگرام منعقد
علی گڑھ، 13 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ کمیونٹی میڈیسن نے ماہواری سے متعلق عالمی یومِ بیداری کے موقع پر علی گڑھ سیلف ریلائنس الائنس (آسرا) این جی او میں ماہواری کے ایام میں صفائی اور صحت کی دیکھ بھال پر ایک بیداری پروگرام آسرا کی بانی ڈائریکٹر ڈاکٹر فائزہ عباسی کی رہنمائی اور شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی چیئرپرسن پروفیسر عظمیٰ ارم کی نگرانی میں منعقد کیا۔
شعبہ کمیونٹی میڈیسن کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ احمد نے معلوماتی خطاب کرتے ہوئے ماہواری کے دوران غذائیت سے متعلق اہم پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے خون کی کمی (انیمیا) سے بچاؤ، آئرن سے بھرپور غذا کی اہمیت اور ماہواری کے دوران متوازن غذا برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
جونیئر ریزیڈنٹ ڈاکٹر سری لکشمی نے ماہواری کے دوران صفائی و صحت کی دیکھ بھال کے طریقوں پر گفتگو کی اور ماہواری سے متعلق عام غلط فہمیوں کو دور کیا۔ انہوں نے شرکاء کو ان علامات اور صحت سے متعلق مسائل کے بارے میں بھی آگاہ کیا جن کے لیے طبی توجہ ضروری ہوتی ہے، جن میں ضرورت سے زیادہ خون بہنا، ماہواری کے غیر معمولی ادوار اور دیگر متعلقہ مسائل شامل ہیں۔
پروفیسر عظمیٰ ارم نے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے ماہواری کے دوران مناسب صفائی برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ انفیکشن سے بچاؤ اور مجموعی صحت و تندرستی کو فروغ دیا جا سکے۔ اس موقع پرموجود لڑکیوں اور خواتین میں سینیٹری پیڈ تقسیم کیے گئے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ اردو میں اردو افسانوں کے ملیالم ترجمہ ”اردوکتھاکل“ کا اجراء
علی گڑھ،13مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں اردوکے منتخب بیس افسانوں کے ملیالم ترجمے ”اردو کتھا کل“ کا اجراء کیا گیا، جس میں فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ٹی این ستیسن کا ترجمہ بھی شامل ہے۔ پروفیسر قمر الہدی فریدی،پروفیسر عبد المنان صدیقی، پروفیسر وبھا شرما،پروفیسر سید سراج الدین اجملی، پروفیسر ٹی این ستیسن، پروفیسر آفتاب احمد آفاقی، پروفیسر محمد علی جوہر، پروفیسر طارق چھتاری کے ہاتھوں اجرا عمل میں آیا۔
پروفیسر سید سراج الدین اجملی نے مترجم پروفیسر ٹی این ستیسن کا تعارف کرائے ہوئے کہاکہ پروفیسر ستیسن ایک زمینی انسان ہیں جو اپنے ماتحتوں کا بھرپور خیال رکھتے ہیں۔
صدر شعبہ اردو پروفیسر قمرالہدی فریدی نے پروگرام کی صدارت کرتے ہوئے مصنف اور کتاب کا تعارف پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ اس کتاب میں سعادت حسن منٹو،کرشن چندر،راجندر سنگھ بیدی،عصمت چغتائی،قرۃ العین حیدر،سریندر پرکاش،خواجہ احمد عباس،رام لعل،بلراج کومل،جیلانی بانو،سلام بن رزاق،ذکیہ مشہدی،سید محمد اشرف،طارق چھتای اور خالد جاوید وغیرہ کی کہانیاں شامل ہیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ پروفیسر ٹی این ستیسن کا اپنا ایک علمی وقار ہے۔ انہوں نے اردو کے اہم اور منتخب افسانوں کا ملیالم میں ترجمہ کیا ہے۔ ترجمے زبانوں اور تہذیبوں کو جوڑتے ہیں۔ ادب ماضی میں جھانکنے کی ایک کھڑکی ہے جبکہ ترجمہ دوسری تہذیبوں اور زبانوں کو جاننے کا ایک وسیلہ ہے۔
پروفیسر محمد علی جوہر نے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی صرف باب العلم ہی نہیں ہے وہ انسان بھی بناتی ہے، انہوں نے کہا کہ وہ طلبا کے ساتھ ہی اساتذہ کی بھی تربیت کرتی ہے۔ پروفیسر ستیسن نے اردو افسانوں کا ترجمے کرکے اس سے اپنی بے حد محبت کا اظہار کیا ہے جو لائق ستائش ہے۔
پروفیسر طارق چھتاری نے اردو کتھا کل کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ستیسن نے ایک ایسی زبان میں ترجمہ کیاہے جس میں عام طور پر اہل اردو ترجمہ نہیں کرپاتے جس کے لیے وہ قابل مبارکباد ہیں۔انہوں نے کہا کہ ترجمہ کسی قوم کی داخلی کیفیات تک سے قاری کو واقف کراتا ہے، چونکہ پروفیسر ستیسن نے صرف ترجمہ زبان دانی سے نہیں کیا ہے بلکہ انہوں نے اردو تہذیب کو جیا ہے اور اس میں رچے بسے ہیں اس لیے ان کا یہ ترجمہ مزید اہمیت کا حامل ہوجاتاہے۔
پروفیسر وبھا شرما نے کتاب کے اجراء پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ اردو بھی مبارکباد کا مستحق ہے کہ اس نے اس کتاب کے ترجمے کا اجراء کیا۔ انہوں نے اردو زبان اور اس کی تہذیب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے انسان میں شائستگی آتی ہے، اظہار کاخوبصورت طریقہ دیتی ہے جس کی تہذیب سے اب ملیالم بولنے والے بھی واقف ہوں گے۔ پروفیسر وبھا شرما نے پروفیسر ٹی این ستیسن کی ہشت پہلو شخصیت کے سلسلے میں کہا کہ ان کا ذہنی کینوس بہت وسیع ہے، وہ علمی طور پر بہت توانا ہیں اور انسانی سطح پر ہم نے ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھاہے جس کی پیروی کی جانی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب کے ترجمے سے شعبہ اردو سے ملیالم کا تعلق قائم ہوگا۔ انہوں نے اس ترجمے کے ذریعہ دو زبانوں اور دو تہذیبوں کو جاننے کا حق ادا کیا ہے۔اس سے دونوں کو مضبوطی ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ترجمے کے ذریعہ تہذیبوں اور زبانوں کو جوڑنے کا کام لینا چاہیے۔
صدر شعبہ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے پروفیسر ٹی این ستیسن کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس ترجمے نے دو تہذیبوں کو جوڑنے کا کام کیاہے۔اردو زبان کے افسانوں کے ملیالم میں ترجمہ کے لیے ہم اہل اردو ان کے مشکور ہیں کیونکہ انہوں نے اردو کے سفیر کا کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ترجمے کے ذریعہ اپنا نام تاریخ کے زریں صفحات میں درج کرا لیا ہے۔
پروفیسر عبد المنان صدیقی نے کہا کہ پروفیسر ٹی این ستیسن سے شروع سے ہی تعلق خاطر رہا ہے، ان کی وجہ سے ہم نے ملیالم کے چند جملے بھی سیکھے، ان جملوں نے ہم دونوں کو بہت قریب کردیا۔ پروفیسر ٹی این ستیشن نے پوری کتاب کا ترجمہ کیاہے، جو اردو اور ملیالم کو قریب کریگی جس سے دونوں تہذیبیں قریب آئیں گی۔
ڈین فیکلٹی آف آرٹس اور اردو کتھا کل کے مترجم پروفیسر ٹی این ستیسن نے کہا کہ میں نے اردو کی کہانیوں کا انتخاب اپنی صواب دید پر کیاہے،جس میں کوشش کی ہے کہ اردو کہ ایسی اچھی کہانیاں شامل کروں جو اردو اور اس کی تہذیب کی نمائندہ ہوں۔ انہوں نے کہا کہ زندگی کا زیادہ حصہ ہم نے علی گڑھ یعنی اردوتہذیب کے درمیان گزارا ہے جس کی وجہ سے مجھے اس زبان اور تہذیب محبت ہوگئی، جس کا اظہار یہ مترجمہ کتاب ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس کتاب میں بیس کہانیوں کا ترجمہ شامل ہے۔
صدر شعبہ اردو پروفیسر قمرالہدی فریدی نے آخرمیں اختتامی کلمات کے علاوہ سبھی مہمانوں اور شرکاء کا شکریہ بھی اداکیا۔پروگرام میں شعبہ اردو کے ساتھ ہی دوسرے شعبوں کے اساتذہ اور طلبہ کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ تاریخ میں تعزیتی نشست کا انعقاد
علی گڑھ، 13 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سینٹر آف ایڈوانسڈ اسٹڈی (سی اے ایس)، شعبہ تاریخ میں سابق اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر اوم پرکاش سریواستو کے انتقال پر ایک تعزیتی نشست منعقد کی گئی۔ ان کا انتقال گزشتہ 7 مئی کو ہوا تھا۔ تعزیتی نشست میں شعبہ کے اساتذہ، رفقائے کار اور طلبہ نے ڈاکٹر سریواستو کی علمی خدمات اور شعبہ کے لیے ان کی مخلصانہ خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ڈاکٹر اوم پرکاش سریواستو 24 جولائی 1956 کو کانپور میں پیدا ہوئے تھے۔ انہوں نے دین دیال اپادھیائے گورکھپور یونیورسٹی سے بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں، جبکہ ایم فل اور پی ایچ ڈی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مکمل کیں۔ انہوں نے 1985 میں شعبہ تاریخ کے آثارِ قدیمہ سیکشن میں سینئر ٹیکنیکل اسسٹنٹ (پوٹری) کے طور پر اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ بعد ازاں 2015 سے جولائی 2021 میں اپنی سبکدوشی تک قدیم ہندوستانی تاریخ اور آثارِ قدیمہ کے اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر خدمات انجام دیں۔
اپنے علمی کریئر کے دوران ڈاکٹر سریواستو نے اٹلی، امریکہ، برطانیہ، جنوبی کوریا، تائیوان، انڈونیشیا، پرتگال، بنگلہ دیش، سری لنکا، اردن اور ایران سمیت مختلف ممالک میں منعقد ہونے والی قومی و بین الاقوامی کانفرنسوں اور سیمیناروں میں شرکت کی۔
صدر شعبہ پروفیسر حسن امام نے ڈاکٹر سریواستو کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ایک مخلص استاد، عمدہ محقق اور خوش اخلاق ساتھی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شعبہ کے لیے ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس موقع پر اساتذہ نے مرحوم کے اہل خانہ سے دلی تعزیت کی۔
پسماندگان میں اہلیہ محترمہ وندنا سریواستو اور دو بیٹے امت راہل اور روہت راہل شامل ہیں۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو میں قومی آرٹ نمائش ”فریگمنٹس آف ایپی فینی“ کا آغاز
علی گڑھ، 13 مئی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کی معین الدین احمد آرٹ گیلری میں قومی آرٹ نمائش ”فریگمنٹس آف ایپی فینی“ کا افتتاح عمل میں آیا، جس میں فنکاروں، اساتذہ، طلبہ اور فنونِ لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور عصری فن پاروں اور تخلیقی اظہار کوسراہا۔
اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون نے نمائش کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر سر جے جے اسکول آف آرٹ، آرکیٹیکچر اینڈ ڈیزائن، ممبئی کے وائس چانسلر پروفیسر ہِم کمار چٹرجی، سابق اے ایم یو وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز، اسکول آف ویژول آرٹس دہلی کے ڈین پروفیسر راجن شری پد پھلاری، فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر ٹی این ستیسن، دفتر رابطہ عامہ کی ممبر انچارج پروفیسر وبھا شرما، یونیورسٹی لائبریرین پروفیسر نشاط فاطمہ اور ڈپٹی پراکٹر پروفیسر عفت اصغر بھی موجود تھے۔
پروفیسر نعیمہ خاتون نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش فنکارانہ اشتراک، تخلیقی مکالمے اور شریک فنکاروں کو وسیع شناخت فراہم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ سابق وائس چانسلر پروفیسر محمد گلریز نے کہا کہ اس نوعیت کی سرگرمیاں ثقافتی روابط کو مضبوط بنانے اور ابھرتے ہوئے فنکاروں کی حوصلہ افزائی میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
پروفیسر ہِم کمار چٹرجی نے کہا کہ آرٹ نمائشیں تجرباتی خیالات اور بامعنی بصری اظہار کو فروغ دینے کا مؤثر ذریعہ ہیں، جبکہ پروفیسر راجن شری پد پھلاری نے کہا کہ آرٹ ایک ایسی تبدیلی لانے والی قوت ہے جو انسانوں میں ہمدردی اور نئے زاویہ فکر کو جنم دیتی ہے۔
نمائش میں واٹر کلر، ایکوا ٹنٹ، آئل، ایکرائلک، فوٹوگرافی، مجسمہ سازی اور انسٹالیشن آرٹ کے فن پارے پیش کیے گئے ہیں، جبکہ متعدد انٹرایکٹیو اور تصوراتی تخلیقات بھی شائقین کی توجہ کا مرکز ہیں۔ نمائش میں ملک کے مختلف حصوں سے جو فنکار شریک ہیں ان میں شرابانی داس گپتا، اسون ساتھیان، سمیت شریواستو، ہرش موریہ، رجنی آریہ، محمد ریاض اور یش بھوپتے شامل ہیں۔
افتتاحی تقریب میں فیض اللہ احمد کی پرفارمنس آرٹ پیشکش توجہ کا مرکز رہی۔ نمائش کے دوران صوفی یزدانی اور آرین پرتاپ سنگھ کی پرفارمنس بھی شامل رہے گی، جبکہ بیہان داس اور شمیم خان پر مشتمل ایک پینل مباحثہ بھی ہوگا۔
یہ نمائش گیلری کوآرڈینیٹر پروفیسر بدر جہاں کی نگرانی میں منعقد کی گئی ہے، جس میں پینٹنگ، فوٹوگرافی، مجسمے، انسٹالیشن آرٹ اور مکسڈ میڈیا تخلیقات کے ذریعے عصری آرٹ کے متنوع رجحانات کو پیش کیا گیا ہے۔
پروفیسر بدر جہاں نے کہا کہ یہ نمائش صرف فن پاروں تک محدود نہیں بلکہ اس کا ہدف آرٹ کے سلسلہ میں تبادلہ خیال، تخلیقی تحریک اور فنی ارتقا کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم فراہم کرنا بھی ہے۔
٭٭٭٭٭٭
Comments are closed.