بنگال و تمل ناڈو الیکشن : خلیل خان کی فاختہ اڑ گئی
عمیر محمد خان
مہاراشٹر
9970306300
الیکشن کے اختتام کے بعد ، قیاسات و الزامات کا ایک دفتر کھلا پڑا ہے۔ سوئے ہوئے افراد بھی جاگ گئےاور چند افراد کے عقل کے تالے بھی بند ہو گئے ۔ اس کی بدولت شکست سے دو چار ہو ہے۔۔۔۔۔ اس کی وجہ سے ہار گئے ۔۔۔۔سن سن کے کان پک گئے۔ سبھی اس وقت ہار کی ٹوکریاں ایک دوسرے کو پہنانے میں مصروف ہیں ۔
وہ تمام دانشور جو یہ کہتے نہیں تھکتے تھے کہ ای وی ایم کے کمال سے الیکشن جیتے جاتے ہیں۔ اب کیا وہ تمام دانشور تمل ناڈو میں ای وی ایم کے ذریعہ الیکشن کی جیت کو تسلیم کرنے سےگریز کر رہے ہیں۔۔۔۔ ؟ یا من وعن تسلیم کر چکے ہیں ؟ ادھر مغربی بنگال میں ای وی ایم کی وجہ سے ہار ہوئی وہ دانشور اب غلطی سے بھی یہ بات پیش کرنے سے کترا رہے ہیں ۔ وہ راگ جو بہت دنوں سے چند افراد الاپ رہے تھے کہ ای وی ایم کے کمال سے الیکشن جیتنے کا نسخہ ایک پارٹی کے پاس ہے سب بھول گئے۔ اس سے پہلے برسر اقتدار جماعتوں نے بھی اس نسخے کا استعمال کیا تھا کبھی اس تعلق سے بھی سوچا ہے ۔۔۔؟
بس ایک بات ہر طرف گھوم رہی ہے کہ چند لوگ ہیں جو صرف الیکشن میں ہروانے الیکشن لڑ رہے ہیں۔ کسی پارٹی کے پیٹ پر پیر دینا کچھ افراد کو برداشت ہی نہیں ہو رہا ہے۔ای وی ایم کا تو قصور کسی کو نظرہی نہیں آرہا ہے۔ احتساب کے دروازے بھی بند۔ ۔۔۔۔اپنی جماعتوں کی کوتاہیاں تو کسی کو نظر نہیں آ رہی ہیں ۔وہ اپنے آپ کو غلطیوں سے مبرا سمجھ رہے ہیں ۔ تمام غلطیاں بس الیکشن لڑنے والی پارٹیوں نے کیا ہے۔ الیکشن میں میدانوں میں کام ہوا کرتے ہیں فضاؤں میں نہیں ۔۔۔۔۔اور نہ ہی فضائے بسیط کے انگشتِ دانوں کی ڈبیوں میں ۔۔۔۔۔۔!!!
کام۔۔۔ بھاشن کے علاوہ کیا ہی کیا ۔۔۔۔ہوا میں الیکشن جیتنے کے خواب۔۔۔ سماجی گزرگاہوں سے الیکشن میں معجزہ برپا کرنے کی تمنا ہر کسی کو لے ڈوبی ہے۔
SIR دوسری جانب
کا معجزہ بھی ہر کسی کے سمجھ سے بالاتر ہے۔ ایس ائی ار کے دوران تمام پارٹیز سوئی ہوئی تھیں ۔ سیاسی ورکر خواب خرگوش کے مزہ لوٹ رہے تھے۔ شیخ چلی کی عمدہ پکوان پکائے جا رہے تھے۔اور ایک پارٹی کے افراد رات دن کام کیے جا رہے تھے ۔ ان افراد کے نظریے کے مطابق ایس ائی ار کے کام کوئی کام ہی نہ تھے۔ دانشور تو اس سوچ ںسےعاری تھے کہ کیا ایس ائی ار سےالیکشن جیتے اور ہرائے بھی جا سکتے ہیں۔ ان کی نظر میں تو الیکشن جیتنے کے لیے صرف جھنڈے۔ نعرے، جلسے جلوس, اختلافی جھگڑے یہی سب کچھ ہتھکنڈے ضروری ہیں۔ ہم فاضل قوم کے فاضل افراد یہ بے ہودہ کام کی طرف کیا دھیان دیں ۔ الیکشن تو بس چوپالوں پر بیٹھنے کا نام۔۔۔۔ بحث و مباحثے کا نام۔۔۔ مجلسوں کا نام۔۔۔ اس کو اس کو نیچے دکھانے کا کام ہے۔۔۔۔۔!!
تیسرا اہم نکتہ ٹکٹ فروخت کئے جانے کے معاملے پر کسی کی توجہ نہیں ۔ دھندے والی سیاست سیاہ سے بہت کم لوگ واقف ہیں ۔ اہم افراد کو نظر انداز کیا جاتا بھی ایک اہم وجہ شکست ہے۔ عوام کے تیئں اخلاص کا فقدان اور عوامی فلاح وبہبود کی ناکارگی بھی پانسہ پلٹنے کا سبب بنا ہے ۔ عوام کا پیسہ عوام کے لئے استعمال نہ ہو بلکہ جماعتوں کے فنڈز میں اضافے کے لئے ڈپازٹ کر لیا جائے اور ذخیرہ اندوزی کردی جائے تو بے چینی و بغاوت پروان چڑھتی ہے ۔ان تمام عوامل نے عوامی تنفر کو جلا بخشی ہے ۔ غصہ و انتقام عوام میں بڑھا ہے ۔ نتیجتاً ایک تبدیلی کی چنگاری بھڑکی تھی ۔ اس کو کسی نے ایک نئی چنگاری میں تبدیل کر دیا ۔اور الیکشن جیت لیا۔اور خلیل خان کی فاختہ اڑ گئ ۔۔۔۔۔
Comments are closed.