مغربی بنگال: وام سے رام تک
ڈاکٹر مظفر حسین غزالی
مغربی بنگال ہندوستان کی سیاست میں ہمیشہ ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ ریاست طویل عرصے تک بائیں بازو کی سیاست، مزدور تحریکوں، انقلابی نظریات اور سیکولر مزاج کی علامت سمجھی جاتی رہی۔ ایک وقت تھا جب مغربی بنگال کو ’’سرخ قلعہ‘‘ کہا جاتا تھا کیونکہ یہاں تقریباً چونتیس برس تک کمیونسٹ جماعتوں کی حکومت قائم رہی۔ مگر وقت کے ساتھ سیاسی منظرنامہ بدلتا گیا اور وہی ریاست جہاں ’’وام‘‘ یعنی بائیں بازو کا غلبہ تھا، آج وہاں ’’رام‘‘ یعنی ہندوتوا کی سیاست اور بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئی ہے۔یہ تبدیلی اچانک نہیں آئی بلکہ اس کے پیچھے کئی سیاسی، معاشی، سماجی اور ثقافتی عوامل کارفرما رہے۔ مغربی بنگال کا ’’وام سے رام‘‘ تک کا سفر دراصل ہندوستانی سیاست میں بدلتی ہوئی ترجیحات اور عوامی نفسیات کی ایک اہم مثال ہے۔
مغربی بنگال میں بائیں بازو کی سیاست کی جڑیں آزادی سے پہلے ہی مضبوط ہو چکی تھیں۔ مزدور تحریکیں، کسان احتجاج، تعلیمی اداروں میں انقلابی سوچ اور طبقاتی مساوات کے نظریات نے کمیونسٹ پارٹی کو عوام میں مقبول بنایا۔ 1977میں جیوتی بسو کی قیادت میں بائیں محاذ اقتدار میں آیا اور پھر مسلسل چونتیس برس تک حکومت کرتا رہا۔ یہ ہندوستان کی جمہوری تاریخ کی طویل ترین منتخب کمیونسٹ حکومت تھی۔بائیں بازو کی حکومت نے ابتدائی دور میں کئی اہم اصلاحات کیں۔ زرعی اصلاحات کے ذریعے کسانوں کو زمین کے حقوق دیے گئے۔’’آپریشن برگا‘‘ جیسی اسکیموں نے غریب کسانوں کی حالت بہتر بنائی۔ دیہی علاقوں میں پنچایتی نظام کو مضبوط کیا گیا جس سے عام لوگوں کی سیاسی شمولیت بڑھی۔اسی وجہ سے غریب اور متوسط طبقہ کمیونسٹ حکومت کا مضبوط حامی بن گیا۔
اس دور میں مغربی بنگال کو ایک فکری اور ثقافتی مرکز بھی سمجھا جاتا تھا۔ ادیب، شاعر، فنکار اور دانشور بائیں بازو کے نظریات سے متاثر تھے۔ تعلیم یافتہ طبقہ سیکولرزم اور سوشلسٹ فکر کو ترقی پسند سیاست کی علامت سمجھتا تھا۔ابتدائی کامیابیوں کے باوجود وقت کے ساتھ بائیں بازو کی حکومت کمزور ہونے لگی۔ سب سے بڑی وجہ معاشی ترقی کی سست رفتاری تھی۔جب ہندوستان کے دیگر صوبے صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری کی طرف بڑھ رہے تھے، مغربی بنگال میں صنعتیں بند ہونے لگیں۔ مزدور یونینوں کی سخت پالیسیوں اور مسلسل ہڑتالوں نے سرمایہ کاروں کو خوفزدہ کر دیا۔ نتیجتاً بے روزگاری میں اضافہ ہوا اور نوجوان بہتر مواقع کے لیے دوسری ریاستوں کا رخ کرنے لگے۔
اس صورتحال کو بدلنے کے لئے مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ بدھی دیو بھٹا چاریہ نے ریاست میں صنعتوں کو بڑھاوا دینے کا فیصلہ کیا ۔ حکومت نے سنگور میں ٹاٹا موٹر کے صنعتی منصوبے کے لیے کسانوں کی زمین حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اور نندی گرام میں خصوصی اقتصادی زون قائم کیا ۔ جس کے خلاف شدید احتجاج ہوا کہا گیا کہ کمیونسٹ حکومت اپنے نظریہ کے خلاف کام کر رہی ہے ۔ پارٹی ، بیوروکریسی کا شکار ہو گئی اور مقامی سطح پر بدعنوانی کے الزامات لگنے لگے۔
کسانوں پر پولیس کارروائی اور تشدد نے عوامی غصے کو بھڑکا دیا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب غریب کسانوں کی حامی سمجھی جانے والی کمیونسٹ حکومت خود کسانوں کے خلاف نظر آنے لگی۔ان تحریکوں نے بائیں بازو کی اخلاقی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔ عوام کو محسوس ہوا کہ حکومت تبدیل لانے کے بجائے اپنا اقتدار بچانے کے لئے سرمایہ دارانہ مفادات کے لیے عام لوگوں کی قربانی دے رہی ہے۔اس کی وجہ سے بائیں بازو کی قیادت وقت کے ساتھ عوام سے دور ہوتی گئی ۔ جس کا فائدہ ممتا بنرجی اور ان کی جماعت ترنمول کانگریس کو ہوا ۔ واضح رہے کہ 1999 سے 2004 تک ممتا بنرجی واجپئی حکومت میں کابینہ وزیر تھیں ۔ انہوں نے خود کو غریب عوام، کسانوں اور بنگالی شناخت کی نمائندہ کے طور پر پیش کیا۔ ان کی سادہ طرزِ زندگی اور جارحانہ سیاست نے عوام کو متاثر کیا۔
2011 کے اسمبلی انتخابات میں ترنمول کانگریس نے تاریخی کامیابی حاصل کی اور چونتیس سالہ کمیونسٹ اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ یہ مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نئے دور کا آغاز تھا۔آر ایس ایس ، بی جے پی نے ممتا کو درگا کہہ کر پکارا ۔ ان کی تعریف میں سنگھ کے ترجمان پنچ جنے نے کئی مضامیں لکھے ۔ ممتا کی کامیابی سے ہی مغربی بنگال میں ہندتوا کی سیاست کا راستہ کھلا ۔
ابتدا میں عوام کو امید تھی کہ ممتا بنرجی ریاست میں ترقی، روزگار اور شفاف حکومت فراہم کریں گی، مگر وقت کے ساتھ ان کی حکومت پر بھی اقربا پروری، بدعنوانی ، مسلمانوں کی منھ بھرائی اور سیاسی تشدد کے الزامات لگے۔بی جے پی نے اس کا فائدہ اٹھا کر وہاں اپنی زمیں تیار کی ۔ عوام کی بے چینی کو ابھارا کر اس نے اپنے لئے سیاسی قوت حاصل کرنے کا راستہ ہموار کیا۔ ممتا نے پالیسی کی سطح پر کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کا مسلمانوں کو کوئی فائدہ ہوا ہو ۔ صرف ووٹ حاصل کرنے کے لئے مسلمانوں کو خوش کرنے والی بات کی ۔ کیونکہ یہاں 142 اسمبلی سیٹوں پر مسلمانوں کی تعداد قابل ذکر ہے ۔ جن میں 64 پر اس نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ یہی غلطی کانگریس بھی کرتی رہی ہے ، مسلمانوں کی منھ بھرائی کے الزام کا جواب دینے کے لئے اسے سچر کمیٹی کی رپورٹ کو سامنے لانا پڑا تھا ۔ رپورٹ کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کی حالت دلتوں سے بھی خراب ہے ۔
ایک وقت تھا جب بی جے پی مغربی بنگال میں نہایت کمزور جماعت سمجھی جاتی تھی۔ بنگال کی ثقافت کو سیکولر اور ترقی پسند مانا جاتا تھا، اس لیے ہندوتوا سیاست کو یہاں زیادہ پذیرائی حاصل نہیں تھی۔مگر 2014 کے بعد حالات بدلنے لگے۔ نریندر مودی کی قیادت میں بی جے پی نے پورے ہندوستان میں قوم پرستی اور ہندوتوا کے بیانیے کو مضبوط کیا۔ مغربی بنگال میں بھی پارٹی نے مذہبی شناخت اور ہندو ووٹروں کے احساسِ عدم تحفظ کو سیاسی طاقت میں بدلنے کی کوشش کی۔ مغربی بنگال میں غیر قانونی بنگلہ دیشی مہاجرین کا مسئلہ زور و شور سے اٹھایا۔ پارٹی کا مؤقف تھا کہ غیر قانونی دراندازی سے مقامی آبادی کا توازن بدل رہا ہے اور ہندو آبادی خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے۔این آر سی اور شہریت ترمیمی قانون جیسے معاملات نے اس بحث کو مزید تیز کر دیا۔
بی جے پی نے ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے کو ایک سیاسی علامت بنا دیا۔یہ نعرہ صرف مذہبی عقیدت کی علامت نہیں رہا بلکہ سیاسی مزاحمت اور ہندو شناخت کے اظہار کا ذریعہ بن گیا۔مغربی بنگال میں کئی مقامات پر ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے اور ترنمول کارکنوں کے درمیان تنازعات خبروں کا حصہ بنے۔ اس سے مذہبی قطبیت میں اضافہ ہوا۔ترنمول کانگریس نے بی جے پی کے خلاف ’’بنگالی شناخت‘‘ مچھی بھات کا بیانیہ اپنایا۔ ممتا بنرجی نے خود کو بنگال کی ثقافت، زبان اور علاقائی خودمختاری کی محافظ کے طور پر پیش کیا۔اس کے باوجود بی جے پی نے دیہی علاقوں اور نوجوان ووٹروں میں اپنی جگہ بنائی۔باقی کثر ای ڈی ، ایس آئی آر ، الیکشن کمیشن ، عدلیہ اور مرکزی فورسیز نے پوری کر دی ۔
2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے مغربی بنگال میں حیران کن کامیابی حاصل کی اور واضح کر دیا کہ ریاست کی سیاست اب مکمل طور پر بدل چکی ہے۔’’وام سے رام‘‘کے سفر کو صرف مذہبی سیاست سے نہیں سمجھا جا سکتا بلکہ اس کے پیچھے کئی سماجی اور معاشی عوامل بھی ہیں۔مغربی بنگال میں روزگار کے مواقع محدود ہونے کی وجہ سے نوجوانوں میں بے چینی بڑھی۔اس ی کے تحت بی جے پی نے خود کو ترقی، سرمایہ کاری اور مضبوط قیادت کی علامت کے طور پر پیش کیا ۔ پہلے بنگال میں بائیں بازو کے دانشورحلقے رائے عامہ پر اثر انداز ہوتے تھے، مگر اب ڈیجیٹل میڈیا نے سیاسی بیانیے کو بدل دیا ۔ قوم پرستی، مذہبی جذبات اور جذباتی نعروں نے نوجوان نسل کو متاثر کیا ، جس میں سوشل میڈیا کا کردار بھی اہم رہا ۔
ریاست میں سیاسی تشدد ایک سنگین مسئلہ رہا ہے۔ کمیونسٹ دور ہو یا ترنمول حکومت، مخالف کارکنوں کے خلاف تشدد کے الزامات لگتے رہے ہیں۔
بی جے پی نے خود کو سیاسی جبر کے خلاف متبادل قوت کے طور پر پیش کیا۔لیکن کامیابی کے بعد اسکے کارکنان نے لیفٹ یا ترنمول کے کارکنان سے بھی بڑھ کر تشدد کے واقعات کو انجام دیا ۔
اگرچہ کمیونسٹ جماعتیں آج کمزور ہو چکی ہیں، لیکن یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مغربی بنگال سے بائیں بازو کی فکر مکمل طور پر ختم ہو گئی ہے۔
ریاست کی ادبی، ثقافتی اور تعلیمی روایت اب بھی سیکولر اور ترقی پسند خیالات سے جڑی ہوئی ہے۔بہت سے دانشور اور نوجوان آج بھی فرقہ وارانہ سیاست کے مخالف ہیں۔تاہم یہ حقیقت بھی واضح ہے کہ بائیں بازو عوامی سطح پر اپنی وہ طاقت کھو چکا ہے جو کبھی اس کی پہچان تھی۔
عوام اب نظریاتی سیاست کے بجائے شناخت، قوم پرستی اور فوری معاشی فوائد کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ مغربی بنگال کا ’’وام سے رام‘‘ تک کا سفر ہندوستانی سیاست کی بدلتی ہوئی تصویر پیش کرتا ہے۔آج مغربی بنگال ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ایک طرف اس کی قدیم سیکولر اور فکری روایت ہے اور دوسری طرف ہندوستان میں ابھرتی ہوئی ہندوتوا کی سیاست۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مستوبل میں بنگال اپنی ثقافتی شناخت اور سیاسی روایت کو کس حد تک برقرار رکھ پاتا ہے، یا پھر ’’وام ‘‘ کی سیاست ’’ رام‘‘ سے بدل جائے گی ۔
Comments are closed.