عمائدین و علماۓ کرام کی خدمت میں!

 

. . . . تندئ باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب!

. . . . وہ تو چلتی ہے، تجھے اونچااٹھانے کیلئے۔

.14/مئی2026ء

 

مکرمی!

وطن عزیزمیں درپیش موجودہ احوال بندےکےخیال میں اہل ایمان میں بیداری اور وطن وملت کے تئیں الله کی طرف سے اپنی ذمہ داری کو سنجیدگی سے لینے کے لئےہیں، کہ اسکی مرضی بغیر کچھ بھی ممکن نہیں۔ جب کبھی نا مناسب حالات آتے ہیں، ہم جلد پریشان ہوجاتے ہیں۔ہر طرف دیکھتے ہیں مگر اپنے گریبان میں نہیں۔ میڈیا کے اس دور میں بدخواہوں کی پھیلائی جارہی خبروں، ویڈیوز پر اپنے بھولے پن سے یقین کرکےخوف اور اندیشوں کا شکار ہوتے اور ٹینشن میں مزید اضافہ کرلیتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں "احوال”، اچھے یابرے، ایک مخلوق ہیں اور انکا تعلق بھی خالق رب العالمین سے ہے۔ ہمارےایمان کا یہ اٹوٹ حصہ ہے کہ جو کچھ ہونا ہے یا ہوگا، اسکی مرضی ہی سےہوگا۔ حالات میں بگاڑکے سبب کا پتہ ہمیں”ظھرالفساد فی البر والبحر بما کسب ایدی الناس” سے ملتا ہے۔ "ان الله لا یغیرمابقوم ، حتی یغیروا ما بانفسھم” والی آیت مبارکہ ہمیں حرکت میں آنے کی دعوت دیتی ہے۔”لیس للانسان الاماسعی”کا آسمانی پیغام ہمیں عملی جد و جہد کا

پر سنجیدگی کی دعوت دیتا ہے۔ ہم مسلمانان ہند، رب العالمین کے ممنون ہیں کہ بشمول عرب ممالک، عالم اسلام کے دیگر حصوں کے مقابلے میں ہمیں دین پر "عمل” کرنے اور اسکی اشاعت کے لئے رکاوٹیں نہ رہیں۔ پچھلے چند سالوں میں ملک میں درپیش مشکل احوال بیشتر، ہماری دین کے تیئں لاپرواہی ہی کا نتیجہ ہیں۔ عوام، اہل علم سےدور، بے نیاز، اور مستقبل میں ہونے والے نتیجے سے بے فکر تو اکثر اہل علم اپنے دائرۀ مصروفیت سے وقت نکال کر نبوی طریقے پر اصلاح کی عملی محنت کیلئے تیار نہیں۔ نتیجہ سامنے ہے۔ دین سے مسلسل غفلت سے قوم میں اولاد بڑوں کی نافرمان تو خواتین میں بے پردگی عام ہوتی گئی۔ جس سے لڑکیوں میں ارتداد کی وبا پھیل گئ تو لڑکے باغی ہوتے گئے۔ اس بدعملی کی نحوست سے مرد حضرات بزدلی وکم ہمتی کاشکارہوگئےاور مدرسےناگہانی باطل طاقتوں کا شکار۔ ان حالات میں دین پر عمل کی فکر لئے بلا طلب اپنی آبادی، محلہ میں آنے والوں کا ساتھ دینے کی بجاۓ، عدم تعاون، غیر ضروری شبھات و تاویلات سے نا قدری نے اپنوں کے ہاتھوں حالات کو مزید ابتر بنادیا ہے۔ بر صغیر کے مسلمان، دیوبند، لکھنو، سہارنپور، علی گڑھ وغیرہ جیسے اعلی تعلیمی مراکز تعلیم، تحقیق وتدریس، دعوت وتبلیغ، اقامت دین اوربلاسودی نظام معیشت کےاداروں کےقیام کے ذریعہ پچھلی صدی میں عالم اسلام کیلئے کلید بردار بنے علم کے چشمے بہاتے رہے۔ مگر آج ہم انکے جانشین، سماج کے تیزی سے بدلتے،بڑھتے آج کےتقاضوں پر کما حقہ چلنے سے قاصررہ گئے۔اہل علم حضرات کی فکروں میں آگۓ اس جمود سے ایک طرف بے فکر قوم کے تئیں اپنی ذمہ داری سے عہدہ براں نہ ہوسکے اور نہ اپنے میدان علم میں کچھ کار ہاۓ نمایاں کر دکہا سکے۔ کچھ تو سیاست میں اپنی روزی روٹی کو تلاش کرتے نظر آۓ۔اس کانتیجہ آج قوم کی اپنی شناخت ہی سے محرومی کی شکل میں ظاہرہورہا ہے۔ مخفی مباد کہ عالم عرب کےاہل علم دین کی اکثریت کئی دہوں سے علاقہ میں چھاۓ سیاسی بھونچالوں کاشکار ہوکر مفلوج ہوچکی ہے۔ ہمیں اپنے بڑوں کی میراث کوسنبھالنے کی ذمہ داری پوری کرنی ہوگی۔ضرورت ہےہر ایک ،عالم ہوکہ عام فرد، دانشور ہوکہ سیاسی، سماجی کارکن عملی اقدام کے ذریعہ اپنے دائرۀ اختیار میں اصلاح وتعمیر احوال کیلئے روزانہ ہم خیال احباب کو لیکر محلے کی مسجد کو مرکز بناکر الله رب العزة سے رہبری مانگتے ہوۓ باہمی مشاورت کے ذریعہ اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآں ہو۔ ورنہ مزید زوال اور آخرت میں سخت گرفت یقینی ہے۔

 

الداعی الی الخیر::

سید الیاس باشاہ

ڈائریکٹرالمعھد الاقتصاد الاسلامی۔۔

حیدر آباد۔ الھند۔

Comments are closed.