ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے؟

 

سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد

رابطہ: 8099695186

 

ملک کی معاشی حالت ان دنوں بد سے بدتر ہوتی جارہی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ اچھے دنوں کا خواب اب محض خواب ہی رہے گا،ملک بھر کے عوام کو ایک بار پھر مہنگائی کے شدید جھٹکے کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ روزمرہ استعمال کی کئی اہم اشیاء بہت جلد مزید مہنگی ہونے کے آثار ظاہر ہونے لگے ہیں،صابن،صرف،بسکٹ،پیکٹ بند غذائی اشیاء،مشروبات اور گھریلو استعمال کی دیگر مصنوعات تیار کرنے والی بڑی کمپنیاں بڑھتے اخراجات کے سبب قیمتوں میں اضافہ کی تیاری کررہی ہیں،فاسٹ موونگ کنزیومر گڈز یعنی ایف ایم سی جی شعبے سے وابستہ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ خام تیل، پیکجنگ مٹیریل،ٹرانسپورٹ اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ان کے لیے بڑا چیلنج بن چکا ہے،عالمی سطح پر سپلائی چین میں رکاوٹوں اور مغربی ایشیا میں کشیدگی کے اثرات بھی پیداواری لاگت میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیے جا رہے ہیں،ڈالر کے مقابلے روپے کی کمزور ہوتی قدر نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے،کمپنیوں کے عہدے داران کے مطابق گزشتہ چند ماہ کے دوران مختلف مصنوعات کی قیمتوں میں پہلے ہی تین سے پانچ فیصد تک اضافہ کیا جا چکا ہے،اگر خام مال اور ٹرانسپورٹ اخراجات میں کمی نہ آئی تو آئندہ دنوں میں مزید مہنگائی دیکھنے کو مل سکتی ہے،اس کا براہ راست اثر عام صارفین کے گھریلو بجٹ پر پڑنے کا خدشہ ہے،بڑھتی لاگت سے نمٹنے کمپنیاں صرف قیمتیں بڑھانے تک محدود نہیں رہی بلکہ بعض مصنوعات کے پیکٹ کا وزن کم کرنے کی حکمت عملی بھی اختیار کررہی ہیں،کئی کمپنیاں رعایتی اسکیموں اور تشہیری اخراجات میں کمی لا کر منافع کو برقرار رکھنے کی کوشش کررہی ہیں،ساتھ ہی سپلائی نظام کو زیادہ موثر بنانے اور ذخیرہ اندوزی کے انتظامات پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ بازار میں 5/ 10 اور15 روپے والے چھوٹے پیک برقرار رکھنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقے پر فوری اثرات کم پڑیں،تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر مہنگائی کا دباؤ برقرار رہا تو چھوٹے پیک بھی زیادہ عرصہ سستے نہیں رہ سکیں گے،ہندوستانی یونی لیور لمیٹڈ کے چیف فائنانشل آفیسر نرنجن گپتا نے اعتراف کیا کہ کمپنی پر 8 سے 10 فیصد تک مہنگائی کا دباؤ ہے،جس کے باعث مختلف مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا،انہوں نے اشارہ دیا کہ اگر یہ اخراجات مزید بڑھے تو آئندہ دنوں میں نئی قیمتیں نافذ کی جا سکتی ہیں،اسی طرح ڈابر انڈیا کے گلوبل چیف ایگزیکٹو آفیسر موہت ملہوترا نے کہا کہ کمپنی رواں مالی سال میں تقریبا 10 فیصد افراط زر کا سامنا کر رہی ہے،ان کے مطابق کئی زمروں میں قیمتیں پہلے ہی بڑھائی جا چکی ہیں جبکہ لاگت کم کرنے کے مختلف اقدامات پر بھی کام جاری ہے،برٹانیہ انڈسٹریز کے چیف ایگزیکٹو آفیسر رکشیت ہرگیو نے بتایا کہ پیکجنگ اور ایندھن کے اخراجات میں تقریبا 20 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،ان کے مطابق کمپنی قیمتیں بڑھانے کے ساتھ بعض مصنوعات کے پیکٹ کا وزن کم کرنے کے امکانات پر بھی غور کررہی ہے،خاص طور پر بڑے پیک والے مصنوعات متاثر ہو سکتی ہیں،نیسلے انڈیا کے چیئرمین اور مینجنگ ڈائریکٹر منیش تیواری نے موجودہ معاشی صورتحال کو غیر یقینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی بازار میں شدید اتار چڑھاؤ ہے اور آئندہ چند ماہ کے حالات پر واضح اندازہ لگانا آسان نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ کمپنی ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کی تیاری کررہی ہے،ماہرین اقتصادیات کے مطابق اگر خام تیل،ایندھن اور درآمدی اشیاء کی قیمتوں میں استحکام پیدا نہ ہوا تو آئندہ مہینوں میں عام گھریلو استعمال کی مزید مصنوعات مہنگی ہوسکتی ہیں،جس سے متوسط اور غریب طبقے کی مشکلات میں اضافہ ہونے کا خدشہ بڑھتا جارہاہے۔

اس رپورٹ کو پڑھکر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ بھارت اب سنگین معاشی بحران کا شکار ہونے لگا ہے،ماہرین کے مطابق بیرونی زرمبادلہ کے خرچ کو کم کرتے ہوئے ملک کی معیشت کو سنبھالا جا سکتا ہے،پچھلے دنوں نریندر مودی نے ہندوستانی شہریوں کو سونے کی خریدی سے اجتناب،اور بیرونی سفر سے اجتناب کرنے کا مشورہ دینے کے علاوہ ملازمین اور ورکرس کو ورک فرم ہوم کے احیا کا مشورہ دیتے ہوئے ملک کی معاشی حالت کی ابتری کا اعتراف کیا تھا،وزیراعظم کی 140 کروڑ ہندوستانیوں سے کی جانے والی اپیل کا منفی اثر اسٹاک مارکیٹ پردیکھا جانے لگا ہے اور ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ملک معاشی ایمرجنسی کی جانب تیزی سے بڑھ رہا ہے،معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ ملک میں ایمرجنسی کے دوران آنجہانی اندرا گاندھی نے بھی اس طرح اپیل نہیں کی تھی اور نہ ہی ڈاکٹر منموہن سنگھ نے عالمی معاشی بحران کے دوران اس طرح کی اپیل کی تھی لیکن نریندر مودی کی اپیل کے ساتھ ہی ملک بھر میں تشویش کی لہر دوڑنے لگی ہے،مودی نے ہندوستانی شہریوں سے صرف سونے کی خریدی سے اجتناب کرنے یا بیرونی سفر بند کرنے کی اپیل نہیں کی بلکہ انہوں نے ملازمین کو ورک فرم ہوم کے احیا کا مشورہ دینے کے علاوہ عوام سے خردنی تیل کے استعمال میں 10 فیصد کی کمی لانے اور انہیں ذاتی گاڑیوں کے استعمال کے بجائے میٹرو ریل کے استعمال یا الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کے ذریعے ایندھن کا استعمال کم کرنے کی بھی اپیل کی تھی،ان کی اس اپیل کے ساتھ ہی معاشی ماہرین اور تقابلی جائزہ لینے والوں نے ملک کی معاشی حالت کے ساتھ ڈاکٹر منموہن سنگھ کے دور حکومت میں زائد تین سال تک خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کیے جانے والے اضافے کی تفصیلات پیش کرنی شروع کر دی،ڈاکٹر منموہن کے دور حکومت میں زائد تین سال تک عالمی بازار میں خام تیل کی قیمتیں 140 ڈالر فی بیرل رہی لیکن اس کے باوجود ان کے دور میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے علاوہ خریدی میں ہونے والی مشکلات کا تذکرہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی عوام سے استعمال میں کمی لانے کی اپیل کی گئی اور اب دو ماہ میں نریندر مودی حکومت نہ صرف عوام کو ایندھن کے استعمال میں کمی کا مشورہ دینے لگی ہے بلکہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی ہے،مودی کی اپیل کے مقاصد کے متعلق ماہرین کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں شہری روپیہ ادا کرتے ہوئے سونا خریدتے ہیں جبکہ حکومت ہند کو ڈالر ادا کرتے ہوئے سونا خریدنا پڑتا ہے،اسی طرح پیٹرول اور ڈیزل کے علاوہ پکوان گیس بھی ڈالر ادا کرتے ہوئے خریدنے پڑتے ہیں،نریندر مودی نے ایندھن کے استعمال میں کمی کا مشورہ دیتے ہوئے میٹرو اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کا جو مشورہ دیا ہے اس کا مقصد بھی ایندھن کی خریدی کے سبب معیشت پر پڑنے والے دباؤ کو کم کرنے کی کوشش ہے،مودی حکومت ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے سبب پیدا شدہ حالات کا حوالہ دیتے ہوئے انتخابات کا عمل مکمل ہوتے ہی حکومت کو درپیش مسائل کا تذکرہ شروع کردیا ہے،ڈاکٹر منموہن سنگھ تین سال 140 ڈالر فی بیارل خام تیل کی عالمی بازار میں قیمت کے باوجود ملک بھر میں ایندھن کی سربراہی میں رکاوٹ پیدا ہونے نہیں دی تھی،لیکن فروری کے اواخر میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد اندرون دو ماہ نریندر مودی نے ہندوستانی معیشت کو بچانے کے لیے ہندوستانی شہریوں سے تعاون طلب کرنا شروع کردیا ہے،بلکہ حقیقت یہ ہے کہ مودی حکومت دو ماہ کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ کیے جانے والے اتار چڑھاؤ کو برداشت نہیں کر پا رہی ہے،وزیراعظم نے حیدرآباد میں بی جے پی کے جلسہ عام کے دوران کی گئی تقریر میں ہندوستانیوں سے جو اپیل کی ہے وہ دراصل ملک کے معاشی حالات کی عکاسی کرتی ہے،ورک فرم ہوم کے احیا کی جو بات کی گئی ہے اسے دیکھتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ ایندھن کی کھپت میں کمی لانے کے لیے وزیراعظم نے یہ اپیل کی ہے،وزیراعظم کی اپیل کے ساتھ ہی ہندوستانی بازار میں پیدا ہونے والی ہلچل کے متعلق معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حصص بازار میں اس طرح کا رد عمل ظاہر ہوتا رہے گا تو ایسی صورت میں معاشی بحران کی صورتحال پیدا ہونے لگ جائے گی اور حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کے ذریعہ اسے عوامی قوت خرید سے باہر کرنے کے بھی اقدامات کیے جا سکتے ہیں،وزیراعظم نے خردنی تیل کی خریدی کے سبب پیدا ہونے والے زر مبادلہ پر دباؤ کو بھی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستانی عوام 10 فیصد تیل کے استعمال کو کم کرتے ہوئے ہندوستانی معیشت میں اپنا تعاون کر سکتے ہیں،وزیراعظم کی اپیل کے بعد ان کے دورہ گجرات اور وہاں کیے گئے روڈ شو کو بھی مختلف گوشوں سے تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم عوام سے ایندھن کے استعمال کو کم کرنے کی اپیل کر رہے ہیں اور دوسری طرف سینکڑوں گاڑیوں کے قافلے میں خود روڈ شو کررہے ہیں۔

مغربی ایشیا کے چیلنج سے نمٹنے وزیراعظم نریندر مودی نے ہندوستانی شہریوں کو جو مشورہ دیا اس پر کانگریس پارٹی نے وزیراعظم کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا،اس نے کہا کہ سمجھوتہ کرنے والا وزیراعظم ملک کو چلانے کا اہل نہیں رہا،اپوزیشن جماعت نے وزیراعظم مودی سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی 12 سالہ ناکامیوں کا بوجھ ہندوستانی عوام کے کندھوں پر نہ ڈالیں،کانگریس قائد راہل گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم کے الفاظ ناکامی کا اعتراف ہے،انہوں نے ہندی میں لکھے ایکس پوسٹ میں کہا کہ کل مودی جی نے عوام سے قربانیاں دینے کو کہا،انہوں نے کہا کہ لوگ سونا نہ خریدیں، بیرون ملک سفر نہ کریں،پیٹرول،فرٹلائز اور خردنی تیل کا استعمال گھٹادیں،میٹرو میں سفر کریں اور گھر سے کام کریں،راہل گاندھی نے کہا کہ یہ مشورہ یا نصیحت کے الفاظ نہیں ہیں،یہ ناکامی کا ثبوت ہے 12 سال میں ملک کو ایسے موڑ پر لا کر چھوڑ دیا گیا کہ اب عوام سے یہ کہا جارہا ہے کہ تمہیں کیا خریدنا ہے اور کیا نہیں خریدنا ہے،کہاں جانا ہے اور کہاں نہیں جانا ہے؟ کانگریس صدر ملیکار جن کھڑگے نے کہا کہ جواب دہی سے بچنے پھر ایک بار عوام پر ذمہ داری ڈال دی گئی۔ سمجھوتہ کرنے والا وزیراعظم ملک کو چلانے کا اہل نہیں رہا،انہوں نے کہا کہ ایسے وقت جب لوگ ناموافق حالات سے لڑرہے ہیں،وزیراعظم انہیں بچت کا بھاشن دینے میں مصروف ہیں،کھڑگے نے ایکس پر لکھا کہ 28 فروری کو جب مغربی ایشیا میں جنگ شروع ہوئی تھی، کانگریس پارٹی نے بحران کے ہر پہلو کو سامنے رکھ دیا تھا،اس نے معیشت کی تباہی،روپیے کی گھٹتی قدر،بڑھتی مہنگائی، پیٹرول،ڈیزل،ایل پی جی اور کسانوں کے فرٹیلائزر کی قلت،فوڈ سیکیورٹی کو لاحق خطرہ،دواؤں کے بڑھتے دام وغیرہ ہر چیز پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی تھی،کھڑگے نے پوچھا کہ وزیراعظم اس وقت انتخابی مہم اور روڈ شو میں کیوں مصروف تھے وہ صورتحال قابو میں ہونے کا دعوی کیوں کررہے تھے؟اب الیکشن ختم ہوچکا ہے تو قوم کو بھاشن دیا جارہا ہے کہ یہ کرو یہ نہ کرو وہ خریدو،یہ نہ خریدو،یہ بچاؤ، گھر سے کام کرو، کانگریس جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے کہا کہ مودی جی اپنی 12 سالہ ناکامیوں کا بوجھ ہندوستانی عوام کے کندھوں پر نہ ڈالیں،وزیراعظم نے حیدرآباد میں عوام سے جو غیر متوقع اپیل کی اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشی صورتحال سرکاری اعداد و شمار سے کہیں زیادہ خراب ہے،کفایت شعاری کے سخت اقدامات بشمول ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کا امکان ہے اور ایسا ماحول بنایا جارہا ہے کہ لوگ اسے قبول کرلیں۔اتر پردیش کے سابق وزیراعلی اور سماج وادی پارٹی ایس پی کے قومی صدر اکھلیش یادو نے بھی بھارتیہ جنتا پارٹی اور بی جے پی پر تیکھا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات ختم ہوتے ہی حکومت کو بحران یاد آگیا ہے،انہوں نے کہا کہ ملک کےلئے سب سے بڑا بحران بی جے پی ہی ہے اور مرکزی حکومت کی حالیہ اپیل،اس کی معاشی اور پالیسی سازی کی ناکامیوں کو بے نقاب کرتی ہیں،ایس پی سربراہ نے کہا کہ اگر اتنی پابندیاں لگانی پڑرہی ہیں تو پانچ ٹریلین ڈالر کی جملائی معیشت کیسے بنے گی؟انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی حکومت کے ہاتھ سے معیشت کی لگام چھوٹ چکی ہے،ڈالر مسلسل مضبوط ہورہا ہے اور روپیہ کمزور ہوتا جارہا ہے،اکھلیش یادو نے سونے کی خریداری سے متعلق حکومت کی اپیل پر بھی طنز کیا،انہوں نے کہا کہ عوام تو ویسے ہی ڈیڑھ لاکھ روپے تولہ سونا خریدنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

تلنگانہ کے وزیر ٹرانسپورٹ پونم پر بھاکر نے بھی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے عوام کو ایندھن اور سونے کے استعمال کے بارے میں دیے گئے مشورے کو مضحکہ خیز قرار دیا،گاندھی بھون میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے پونم پر بھاکر نے کہا کہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز شخصیت کے لیے اس طرح کا بیان دینا مناسب نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کی حیدرآباد آمد کے موقع پر عوام نے امید ظاہر کی تھی کہ ریاست کی ترقی سے متعلق اہم اعلانات کیے جائیں گے،کانگریس حکومت کی جانب سے ایئرپورٹ پر وزیراعظم کا استقبال کیا گیا اور چیف منسٹر ریونت ریڈی نے ترقیاتی پروگراموں میں شرکت کی،وزیراعظم نے پریڈ گراؤنڈ پر جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے پیٹرول،ڈیزل،خوردنی تیل کے کم استعمال اور ایک سال تک سونے کی خریدی نہ کرنے کا مشورہ دیا انہوں نے کہا کہ عوام کو مشورہ دینے والے وزیراعظم نے گجرات میں ہزاروں گاڑیوں کے ساتھ روڈ شو کیا ہے، انہوں نے کہا کہ بہتر حکمرانی کے نام پر مرکزی حکومت،عوام پر بوجھ عائد کررہی ہے،عوام کو حالات میں بہتری کا بھروسہ دلانے کے بجائے وزیراعظم ڈرانے کی کوشش کررہے ہیں،انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجیکٹ میں بےقاعدگیوں کی سی بی آئی جانچ کے لیے حکومت نے مرکز کو مکتوب روانہ کیا لیکن کئی ماہ گزرنے کے باوجود کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔سوال یہ ہے کہ ملک جس معاشی ایمرجنسی کے دور سے گذررہا ہے یہ سلسلہ کہاں جاکر ختم ہوگا اور اسکا ذمہ دار کون ہے؟

*(مضمون نگار معروف صحافی اور سیاسی تجزیہ نگار ہیں)*

sarfarazahmedqasmi@gmail.com

 

Comments are closed.