وہ روحانی سفر… جس کے مسافر کو اللہ مل جاتا ہے!

✍🏻 ایڈوکیٹ یاسین ملک
ہم ایک ایسے دور میں سانس لے رہے ہیں جہاں ہر طرف شور ہے اسکرینوں کا شور، خبروں کا شور، خیالات کا شور۔ مگر اس سارے شور میں ایک چیز جو سب سے پہلے گم ہوتی ہے، وہ ہے سکون۔ انسان مسجدوں میں جاتا ہے، نمازیں پڑھتا ہے، روزے رکھتا ہے مگر پھر بھی اندر سے ایک خلا ہے جو بھرتا نہیں۔ ایک بے نام بے چینی ہے جو پیچھا نہیں چھوڑتی۔ کوئی پوچھے تو جواب نہیں، کوئی سمجھائے تو الفاظ نہیں ملتے۔ یہی وہ لمحہ ہے جب انسان کو کسی رہبر کی ضرورت ہوتی ہے۔
آج تصوف کا نام لیا جائے تو ایک طبقہ اسے محض رسموں، مبالغوں اور غلو سے تعبیر کرتا ہے، یا پھر وہ خرافات جو عوام میں اس نام سے پھیلائی گئی ہیں۔ کچھ لوگ اسے بدعت سمجھتے ہیں، کچھ اسے فرار سمجھتے ہیں، اور کچھ اسے محض قصے کہانیوں کا مجموعہ۔ سوشل میڈیا کے اس پُرآشوب دور میں تصوف و سلوک پر اعتراضات بھی عام ہیں اور جہالت پر مبنی نمائندگی بھی۔ ایسے ماحول میں ایک سنجیدہ طالبِ حق کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ آخر وہ حقیقی تصوف کہاں ہے جس نے دلوں کو اللہ سے جوڑا؟ وہ سلوک کہاں ہے جس نے انسان کے باطن کو سنوارا؟ اور وہ تربیت کہاں ہے جس نے نفس کے اندھیروں میں نور اتارا؟
حقیقت یہ ہے کہ تصوف اسلام کی روح ہے۔ یہ وہ علم ہے جو ظاہری عبادت کو باطنی حضوری سے جوڑتا ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جو نماز کو محض حرکات سے نکال کر مناجات بناتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی اصل صورت دیکھتا ہے نہ وہ جو دنیا نے بنائی، بلکہ وہ جو اللہ نے بنائی۔ مگر اس علم کو سمجھنے کے لیے ایک معتبر رہنما چاہیے۔ ایک ایسی آواز جو علم بھی رکھتی ہو، تجربہ بھی، اور درد بھی۔
اللہ کے فضل سے ہمارے دور میں ایسی شخصیات موجود ہیں جنہوں نے اس علمِ گراں مایہ کو نہ صرف سینے میں محفوظ رکھا بلکہ اسے صفحات پر بھی اتارا تاکہ آنے والی نسلیں بھی اس چشمے سے سیراب ہو سکیں۔
انہی نادر شخصیات میں سے ایک نام ہے حضرت مولانا محمد عمرین محفوظ رحمانی صاحب دامت برکاتہم ہے۔
جنھوں نے تصوف و سلوک کے میدان میں ایک ایسا علمی و تربیتی سرمایہ مرتب فرمایا ہے جو محض کتابوں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک سالک کے لیے عملی رہنمائی، فکری اعتدال اور روحانی تربیت کا مکمل نقشہ محسوس ہوتا ہے۔ حضرت والا سلسلۂ قادریہ، نقشبندیہ، چشتیہ اور سہروردیہ کے صاحبِ نسبت و بافیض شیخِ طریقت ہیں۔ ملک کے ممتاز عالمِ دین، مفسرِ قرآن، اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قومی سیکریٹری کی حیثیت سے علمی دنیا میں ان کی خدمات محتاجِ تعارف نہیں۔ مگر ان کی شخصیت کا ایک نہایت اور شاید سب سے اہم پہلو وہ ہے جو دلوں کی اصلاح، باطن کی تربیت اور سلوک کی حقیقی روح سے متعلق ہے۔ یعنی یہاں فقط خانقاہی بزرگ نہیں بلکہ ایک ایسا وجود ہے جو منبر پر بھی ہے، مسند پر بھی، اور دل پر بھی۔
جب ایسے شیخ سے قلم اٹھتا ہے تو الفاظ محض حروف نہیں رہتے وہ تجربے کا نچوڑ بن جاتے ہیں۔ حضرت والا نے تصوف و سلوک پر گیارہ ایسی کتابیں تصنیف فرمائی ہیں جو مل کر ایک مکمل دستورِ حیات بناتی ہیں ابتدائی طالب کے لیے بھی، اور پختہ سالک کے لیے بھی۔ یہ کتابیں ہیں
مکتوبات مرشد • افادات مرشد • نقوش اکابر • جن کا نقش پا چراغ • تصوف و سلوک کی حقیقت • یاد مرشد • صحبت مرشد • رہبر فنِ خطابت • ارشاد مرشد • اہم صفات برائے سالکین • مطالعہ کی سرگزشت
ہر کتاب ایک الگ دروازہ ہے مگر سب کی منزل ایک ہی ہے اللہ سے قربت اور نفس کی اصلاح, درحقیقت مختلف عنوانات کے باوجود ایک ہی مرکز کے گرد گھومتا دکھائی دیتا ہے“انسان کو اللہ والا کیسے بنایا جائے؟”
ان کتابوں کی سب سے بڑی خصوصیت شاید یہی ہے کہ یہ محض خانقاہی اصطلاحات یا مشکل فلسفیانہ مباحث تک محدود نہیں۔ان کی زبان عام فہم ہے، اسلوب دلنشیں ہے، اور انداز ایسا ہے کہ ایک عام قاری بھی استفادہ کرے اور ایک سنجیدہ طالبِ سلوک بھی اپنے لیے زادِ راہ محسوس کرے۔
یہاں تصوف جذباتی نعروں کی صورت میں نہیں ملتا، بلکہ شریعت کی روشنی میں باطن کی اصلاح کے ایک متوازن، معتدل اور ذمہ دار تصور کے طور پر سامنے آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تصانیف کو پڑھتے ہوئے بار بار یہ احساس ہوتا ہے کہ مصنف صرف لکھ نہیں رہا… بلکہ ایک نسل کی تربیت کر رہا ہے۔
یہ سلسلہ کیوں؟
اگلی قسطوں میں ہم ان کتابوں کا ایک ایک در کھولیں گے۔ آپ جانیں گے کہ
مکتوبات مرشد : میں وہ کیا راز ہیں جو ایک مرشد اپنے مرید کو لکھتا ہے
تصوف و سلوک کی حقیقت: میں اشکالات کرنے والوں کے لیے کیا علمی جواب ہے
اہم صفات برائے سالکین: میں کون سی وہ صفات ہیں جن کے بغیر سلوک کا سفر ادھورا ہے
صحبت مرشد: میں وہ بات جو شاید آپ نے کہیں اور نہ پڑھی ہو
یہ مضمون ان کے لیے ہے جو بے چین ہیں مگر جانتے نہیں کیوں۔ان کے لیے جو نماز پڑھتے ہیں مگر سکون نہیں ملتا۔ان کے لیے جو تصوف کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں مگر دل میں کہیں ایک کھنچاؤ ضرور ہے۔
اگلی قسط میں ملیں گے ایک ایسی کتاب کے ساتھ جو شاید آپ کی زندگی بدل دے۔تاکہ صرف کتابوں کا تعارف نہ ہو… بلکہ ان کے ذریعے ایک فکر، ایک تربیت اور ایک معتدل روحانی راستہ بھی سامنے آ سکے۔
اور شاید کسی بےقرار دل کو اس کی منزل کا پہلا اشارہ بھی مل جائے…

Comments are closed.