نمائش+فراڈ =NEET
عمیر محمد خان
مہاراشٹر
9970306300
NEET
امتحانات طلباء کی تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ زندگیوں سے مربوط ہے۔ طلباء اپنی پوری توانائی، وقت، پیسہ اور زندگی داؤ پر لگا دیتے ہیں۔والدین اور اساتذہ بھی جذباتی لگاؤ قائم کرذلیتے ہیں اور اپنی توانائیاں لگا دیتے ہیں ۔اور اس امید پر وہ امتحان میں شریک ہوتے ہیں کہ اگلی زندگی میں وہ زرین مستقبل میں داخل ہوں گے ۔ خواب کی تعبیر اورسنہرا مستقبل انھیں اس میں پوشیدہ نظر اتا ہے۔ مگر۔۔۔۔۔ حیف ۔۔۔۔نیٹ تعلیمی ابتری، جرائم، عدم شفافیت ، عدم اعتماد, نمائش ،دکھاوا اور فراڈ میں ملوث ہوچکا ہے۔ NEET طلبہ کی زندگی سے ایک کھلواڑ کا سمبل symbol بن چکا ہے۔
دو سال مکمل پڑھائی میں طلباء خود کو جھونک دیتے ہیں ۔ امید اور یاس کی ایک کیفیت میں وہ مبتلا ہو جاتے ہیں ۔ کئی طلبہ ذہنی دباؤ کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔ ساتھ ہی ان کی والدین، رشتہ دار اور اساتذہ بھی اس عمل سے گزرتے ہیں۔ کلاسز جوائن کی جاتی ہیں۔ کوچنگ سینٹرز میں طلباء کی قابلیت و قوت سے زیادہ ان کی عرق ریزی کر دی جاتی ہے گویا ان کو پوری طرح نچوڑ دیا جاتا ہے۔ اس عمل نے اب ایک ہیجان خیز اور جنونیت کی شکل اختیار کر لیا ہے ۔
نیٹ حکام نے اپنی شفافیت اور معیار یت کو کھو دیا ہے۔ اعتماد کے تمام پرخچوں کو اڑا دیا ہے۔ یہ پہلی دفعہ نہیں کہ پیپر لیک کا معاملہ سامنے آیا۔ پچھلے سال بھی یہی معاملے نے کافی زور پکڑا تھا۔ لیکن وہ معاملہ رفع دفع کر دیا گیا۔ ایسا نہیں ہے کہ اس دفعہ اور پچھلی بار یہ پیپر لیک کیے گئے ہیں۔ پہلے یہ اوپری سطح پر بڑے پیمانے پر پھیلا ہوا تھا لیکن کئی سالوں بعد جب یہ نچلی سطحوں تک پہنچا تو عوام کواس سے واقفیت ہوئی۔ نہ صرف حکام بلکہ کئی ٹیوشن سینٹرز بھی اس کے زد میں تھے۔ سی ای ٹی کے امتحانات بھی جب لیے جاتے تھے اس زمانے میں چند کوچنگ سینٹرز اس میں ملوث پائے گئے تھے۔ 2015سے2026 تک کئی اقسام کے امتحانات کا بھانڈہ پھوٹ چکا ہے ۔پرچے فروخت کئے جانے کے مذموم واقعات ماضی میں منظر عام پر آئے اور سرد خانوں کی نظر ہو گئے ۔مطلب صاف ہے کہ اس میں کسی قسم کی شفافیت اور معیاریت پہلے سے بھی باقی نہیں تھی۔ آج بھی یہ عدم شفافیت اور عدم معیاریت کا شکار ہو چکا ہے۔
دوسری طرف اس امتحان کا جو نمائش و دکھاوا کیا جاتا ہے وہ انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ فارم بھرنے کے عمل سے لے کر طلبہ کا امتحان گاہوں میں پہنچنے تک کا عمل نہ صرف تکلیف دہ مرحلہ ہے بلکہ ایک جھوٹا پلندہ نظر آتا ہے۔ پین پیڈ، گھڑی۔ بیلٹ ، رومال ، پانی کی بوتل کو ممنوع قرار دیا جا نا ، فنگر پرنٹس لیا جانا ، میٹل ڈیٹیکٹر مشین سے گزارا جانا، گھنٹوں پہلے بچوں کو سینٹرز پر حاضر کروانا، گرمی کی تمازت اور تپش میں انہیں امتحان گاہوں میں روکے رکھنا ، ان کی تصویر کشی کروانا، سارے حکومتی عملوں کو اس میں جھونک دینا، کیمرے نصب کیے جانا ایک ڈھونگ اور سوانگ لگتا ہے ۔ گویا ۔۔۔
تماشا دکھا کر مداری گیا
محسوس ہوتا ہے کہ یہ صرف عوام کو دکھانے کے لیے کیا جاتا ہے۔ طلباء ، سرپرست ، تعلیمی ماہرین اور تمام تعلیمی خیر خواہ اس گمان میں رہتے ہیں کہ گویا یہ امتحان شفافیت اور اعلیٰ معیاری پیمانے سے لیا جاتا ہے۔ لیکن اس عمل نے اور اس سے بیشتر کئی معاملوں نے یہ بات ہم پر عیاں کر دی ہے کہ ایسے تمام ایگزام کی صرف نمائش کی جاتی ہے اور حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ہے۔ جہاں احتیاطی تدابیر و سختی برتی جانی چاہیے تھی وہاں پر اس پروسس کو اپنایا نہیں جاتا ہے اور نہ ہی کارگر عوامل پر عملدرآمد کیا جاتا ہے اس کے برعکس عوام اور طلبہ کے امتحان ہال اور سینٹرز پر ہی اس کا عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ اب یہ عمل انتہائی تشویش ناک اور تکلیف دہ مرحلہ بن چکا ہے۔
ایسے غیر شفافیت اور غیر معیاری ماحول میں اب طلباءو والدین، اساتذہ ، تعلیمی ماہرین، سماجی خیر خواہ اب ری ایگزام پر کتنا اعتماد رکھیں گے۔ کون اس کی یقین دہانی کرائے گاکہ اب جو ری ایگزام ہوں گے وہ بہتر انداز میں لئے جائیں گے۔ NTA نے اس تکلیف دہ مرحلے کے تعلق سے بھی سنجیدگی سے غور کرنا چاہیے طلبہ کو جس پریشانیوں اور دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس تعلق سے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے جارہے ہیں ۔ غیر ضروری فارمولٹیز کو ختم کیا جانا چاہیے۔ تعلیمی و امتحانی عملوں اور طریقہ کار کو درست کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ طلبہ اور ان کے والدین پر اپنی توانائی صرف کرنے کی۔
کمپوٹر از بیسڈ ٹیسٹ بھی اس کا کوئی تدارک نہیں ۔ نیٹ کی نمائش، ہائے ہو اور ہنگامہ کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔
وہ تمام طلبہ جو اپنی محنت، کوشش ، جدوجہد اور لگن سے امتحان میں شریک ہوئے تھے اور پر امید تھے کہ وہ عمدہ نمبرات سےکامیابی حاصل کریں گے ۔ نیٹ امتحانات رد کیے جانے کی وجہ سے ایسے تمام طلباء کا یقیناً بڑا نقصان ہو چکا ہے۔ ہم طلبہ، سر پرستوں ،اساتذہ ،سماجی خیر خواہ اور تعلیمی ماہرین سب ان کے ساتھ ایک بار پھر سے کھڑے ہیں۔ ایسے طلباء کے ساتھ یقیناً نا انصافی ہوئی ہے۔ پیپر لیک عمل قابل مذمت ہے۔ اور ہم ایسے تمام اعمال جو غیر معیاری ،غیر ذمہ داری، غیر شفاف ہیں ان کی پر زور مذمت کرتے ہیں۔ ایسے تمام قبیحہ اعمال طلبہ کی زندگی سے ایک قسم کا کھلواڑ ہے۔ تعلیمی کرپشن کو جلد سے جلد ختم کیا جانا چاہیے۔ طلباءو سرپرستوں کو ذہنی تناؤ اور مالی تناؤ سے آزاد کیا جانا چاہیے۔ طلباء میں موجود بے چینی، کشمکش، انتشار اور دباؤ کو ختم کیا جانا چاہیے۔ ایک خوشگوار ، بھروسہ مند اور پر اعتماد امتحانی ماحول اور تعلیمی ماحول طلباء کوفراہم کئے جانے کی ہم اپیل کرتے ہیں۔ اپنے اس عمل اور کوشش سے ہم معاشرے سے امید رکھتے ہیں کہ طلبہ کے مستقبل کے لیے وہ ہمارا ساتھ دیں گے اور اسی طرح ان کی خیر سگالی کے لئے مستقل میں بھی کوشاں رہیں گے۔
Comments are closed.