مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی
استاذ حدیث وادب ادارہ ہذا
اس سینۂ گیتی پر انگنت شخصیات نمودار ہوتی ہیں، اس افق دنیا پر جلوہ گر بھی ہوتی ہیں اور وقت موعود آجاتا ہے تو ان کا سورج غروب بھی ہوجاتا ہے ؛ ؛ لیکن بعض جانے والے وہ ہوتے ہیں، جن کا جانا امت کے لئے بڑے درد وکرب کا باعث ہوتا ہے ، جو اپنے کارناموں ،خوبیوں اور ہمہ جہات خدمات کی بنیاد پر اس دھرتی پر اپنے وجود کے انمٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں، ان کی یادیں اور ان کی کارہائے نمایاں زبان حال سے ان کے وجود کی کمی کا بار بار احساس دلاتی رہتی ہیں۔
بڑی بڑی شخصیات کا چلاجانا یہ امت مسلمہ کے لئے کوئی فال نیک نہیں ہے ، کچھ سالوں سے ، خصوصا کرونا کے بعد سے امت کی عظیم شخصیات ایک انبوہ کثیر اس دنیا سے رخصت ہوگیا، ابھی ٤اپریل، ٢٠٢٦ کو ہندوستان کی ایک عظیم اور مایہ ناز شخصیت ، اسلاف کی نشانی، پیکر جہد وعمل ، حکمت ودانش کاسرچشمہ ، یعنی حضر ت مولانا حکیم عبد اللہ مغیثی صاحب اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئے ، انا للہ ونا لیہ راجعون۔
نسبت وتعلق اور علمی مقام
حضرت مولانا عبد اللہ مغیثی صاحب ملک کے اکابر علماء میں شمار ہوتے تھے، وہ دار العلوم دیوبند کے عظیم اور ممتاز فضلاء میں گنے جاتےتھے، انہیں دار العلوم دیوبند کے ممتاز اساتذہ حضرت علامہ فخر الدین مرادآبادی ، علامہ ابراہیم بلیاوی رحمہم اللہ سے شرف تلمذ حاصل تھا،آپ کو حکیم الامت حضرت تھانوی کے تربیت یافتہ اکابرین بالخصوص مولانا شاہ وصی اللہ الہ آبادی اور مفتی محمود حسن گنگوہی رحمہما اللہ سے فیض یافتہ اور مجاز بیعت تھے، اسکے علاوہ حضرت مولانا ابو الحسن علی ندوی رحمہ اللہ کے نسبت یافتہ، ان کے خلیفہ ومجاز اور ان کے کاز وساز کے نمائندہ ، ان کے افکار ونظریات کے حامل ، ان کے مشن اور کام کے دھنی، ہمہ جہت خدمات کا بوجھ اپنے ناتواں کاندھوں پر تھامے ہوئے اپنے شیوخ واکابرین کے حقیقی جانشین نظر آتے ہیں ـ
پیدائش اور تعلیم
ان کی پیدائش تحصیل” بہت” موضع گھگرولی کے ایک خوش حال کسان گھرانے میں ١٩٣٦کو ہوئی، اور ٤اپریل ، ٢٠٢٦ بروز ہفتہ ااتوار کی درمیانی شب تقریبا نوے سال کی عمر میں اس دار فانی سے راہی عالم بقا ہوگئے ، ابتدائی تعلیم جامعہ اسلامیہ تعلیم القرآن ریڑھی تاجپورہ نامی مدرسہ میں ہوئی، اپنے استاذ حضرت مولانا حشمت علی صاحب کی خصوصی توجہات سے قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی تعلیم اسی مدرسہ میں حاصل کی، پھر سن ١٩٥٣ میں دار العلوم دیوبند میں داخلہ لیا، وہاں سے انہوں نے ۱۹۵۷میں دورہ حدیث سے فراغت حاصل کی، دورہ حدیث میں مشہور فقیہ وعالم دین حضرت مولانا قاضی مجاہد الاسلام صاحب رحمہ اللہ ان کے رفیق درس اور ساتھی رہے ہیں، بخاری کے استاذ حضرت شیخ الاسلام حسین احمد مدنی رحمہ اللہ رہے ہیں۔
قومی وملی خدمات
آپ ایک مدرسہ کے مہتمم ہی نہیں، بلکہ قومی سطح کے قائد بھی تھے ۔
آل انڈیا ملی کونسل: طویل عرصہ سے مولانا آل انڈیا ملی کونسل کے صدر اور حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی کے دست راست بن کر اس پلیٹ فارم سے قوم کے ملی مسائل ( جیسے بابری مسجد مسلم پرسنل وغیرہ میں بڑے کار انجام دیئے)۔
مسلم پرسنل لاء بورڈ: آپ بورڈ کے رکن تاسیسی اور رکن عاملہ بھی تھے اور شرعی قوانین کے تحفظ کے لئے آپ کی بے باک آواز ہمیشہ توانا رہی ۔
آپ کی ملی خدمات کے اعتراف میں آپ کو ”انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹو اسٹڈیز ( آئی او یس)کی جانب سے ”لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ” سے نوازا گیا۔
مہتمم مدرسہ اسلامیہ گلزار حسینیہ اجراڑہ اورخدمات
بحیثیت مہتمم آپ نے اس ادارے کو ایک مقامی مکتب سے اٹھا کر بین الاقوامی شہرت یافتہ جامعہ اور یونیورسٹی بنایا، جہاں آپ کی نگرانی میں جامعہ میں ناظرہ وحفظ سے لے کر دورہ حدیث اور تخصص تک کے شعبے قائم ہوئے ، اور طلباء کی اخلاقی تربیت اور نشوونما پر بھی خوب توجہات مبذول کیں۔
اس کے علاوہ دیوبند دلی، سہارنپور ، غازی آباد ہاپور میرٹھ اور مغربی یوپی کا وہ خطہ جہاں ہمارے اکابرین کی نمایاں دینی خدمات رہی ہیں، اسکے اطراف واکناف میں ان کی ملی ودینی خدمات کا وسیع جال بچھا ہوا تھا، یہاں جگہ جگہ مدارس ومکاتب کا قیام کیا اور ان کی نگرانی وسرپرستی کی، وہاں کے مختلف مدارس ومکاتب کے قیام کے ساتھ ساتھ ان کے جلسوں کی نگرانی اور صدارت اور خطابات اس طور پر فرمائی کہ اس علاقے کا کوئی بچہ بنیادی دینی تعلیم سے محروم نہ رہے۔
تعمیراتی شاہکار اور خانقاہی نظام
جامعہ کی عظیم الشان مسجد، دار الاقامہ اور درسگاہیں آپ کے انتظام وانصرام اور حسن تدبیر کے اعلی شاہکار اور نمونہ ہیں، اس کے ساتھ ساتھ اس ادارہ کو مالی اور انتظامی اعتبار سے بھی خوب مستحکم کیا۔
مزید جامعہ کے فیض کو صرف طلبہ تک محدود نہ رکھا بلکہ اس کو اہل علاقہ کی اصلاح کا مرکز بنایا، ہر رمضان خانقاہ مغیثیہ میں اعتکاف کا اہتمام اور آپ کے اصلاحی بیانات اور مواعظ سے ہزاروں نوجوانوں کی زندگی میں انقلاب بپا ہوگیا
صحافتی خدمات: ماہنامہ یادگار سلف
آپ نے ”یادگار سلف ” کے نام سے ایک ماہنامہ مدرسہ سے جاری کیا، جو اسلاف کے تحریروں اور موجودہ حالات اور امت کے سلگتے مسائل ، جامعہ کے شب و روز، مہتمم صاحب کے اسفار، بانی مدرسہ کے احوال اور عالمی خبروں پر مشتمل ایک معلومات کی دستاویز کی حیثیت بھی رکھتا ہے ، ریختہ پر موجود اس کے مختلف ماہناموں کی ورق گردانی کے دوران احقرنے دیکھااس ماہنامہ میں میرے اپنے مضامین، تصویر کے دورخ، زکوة ایک فریضہ خداوندی، آزادی وطن مسلمانوں کے رہین منت ہے” مضامین دیکھنے کو ملے ۔
اس کے علاوہ آپ ، تنظیم ابنائے قدیم دار العلوم دیوبند کے مرکزی صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کے مجلس عاملہ کے رکن، مدرسہ مظاہر العلوم سہارنپور وقف کی شوری کے رکن اور مزید سینکڑوں مکاتب ومدارس کے سرپرست اور نگران اعلی بھی تھے۔
خطبات وبیانات کا نرالا انداز
جہا ں جہاں پر خطبات اور تقاریر ہوتیں ، اس کا انداز نہایت نرالا ہوتا، آواز کی گھن گرج کے ساتھ اسلام کی قوت وطاقت اور انبیاء ، صحابہ اور اسلاف کی قربانیوں کا ذکر بڑے درد بھرے انداز میں بیان کرتے ، سامعین ہمہ تن گوش ہوجاتے، ان کے مسلم پرسنل بورڈ، آل انڈیا ملی کونسل ہو یا امت کے فلاح وبہود اور یکجہتی اور اتحاد کا پیغام بڑے جھنجوڑنے والے انداز میں بیان کرتے ہیں، آواز میں بھی کرب وبے چینی کی کیفیت ہوتی، ہر شخص بلکہ اسٹیج پر براجمان عظیم شخصیات کو بھی مخاطب کرکے خطاب کرتے ، نبی کریم ۖ ، صحابہ اکابرین اوراسلاف کی حکایتوں اور واقعات اور ان کے اخلاق وکردار کے ذریعے مجمع کو ہمہ تن گوش فرمادیتے، ایک ایک بات سامعین کی دل کو مخاطب کرتی، اس طرح اصلاح امت کے حوالہ سے بڑی خدمات انجام دی ۔
اکابر کی صحبت اور اس سے استفادہ
مدرسہ حسینہ اجڑواڑہ میرٹھ اوراس مغربی یوپی کے علمی وعملی علاقوں میں ان کی تقریروں اور جلسوں کی صدارت اور صدراتی خطاب جلسوں کی رونق کو چار چاند لگادیتا، نوے سال کی عمر پانا اور اس دوران گذرے ہوئے اکابر کے یادوں کو اپنے دل میں پہناں کرلینا، ان کے اخلاق وکردار عینی شاہد بننا، اس کی بذات خود گواہی دینا اور اکابرین کی صحبت ورفاقت او ر ان کے درد وکسک کو اپنے اندر پانا اور اپنے عینی مشاہدات اور اکابرین کے اخلاق وکردار کو بیان کرنا یہ لوگوں کی زندگی کے کایا پلٹے کے لئے کافی تھا۔
وفات پر ملال
حضرت مولانا کا انتقال ٥اپریل ٢٠٢٦کو میرٹھ کے ایک اسپتال میں ہوا، ان کی وفات پر امیر شریعت مولانا فیصل رحمانی، مولانا خالد سیف اللہ رحمانی اور دیگر اہم شخصیات نے تعزیت کا اظہار کیا اور ان کی وفات کو ”ایک عہد کا کا خاتمہ ” قرار دیا ۔آپ نے اپنے پیچھے تلامذہ اور مخلصین ایک جماعت چھوڑی ہے جو آپ کے مشن (تعلیم اور ملی اتحاد ) کے پیغام کو آگے بڑھائے گی.
مولانا حکیم عبد اللہ مغیثی ایک عہد ساز شخصیت
Comments are closed.