قربانی : اطاعت الٰہی کا عظیم مظہر

 

مولانا مفتی محمد سعیدالرحمٰن قاسمی

ناظم امارت شرعیہ، بہار،اڈیشہ،جھارکھنڈ ومغربی بنگال،پھلواری شریف ،پٹنہ

قربانی اسلام کی عظیم عبادت، اہم شعائراور سنتِ ابراہیمی ہے، اللہ تعالیٰ نے امتِ مسلمہ کو اپنی رضا، تقویٰ اور اطاعت کے اظہار کے لیے قربانی کا حکم دیا، یہ عبادت ہمیں حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ علیہما السلام کی بےمثال فرمانبرداری اور اللہ کے راستے میں ہر چیز قربان کرنے کے جذبے کی یاد دلاتی ہے ، قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ دل میں اخلاص، تقویٰ اور اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا کرنا ہے،قربانی کی ابتدا اصلاًحضرت آدمؑ کے دو بیٹوں، ہابیل اور قابیل کے واقعہ سے ہوئی، اللہ تعالیٰ نے دونوں کو قربانی پیش کرنے کا حکم دیا ، ہابیل نے اخلاص اور تقویٰ کے ساتھ بہترین جانور قربانی کے لیے پیش کیا، جبکہ قابیل نے بے دلی سے ناقص چیز پیش کی، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہابیل کی قربانی قبول فرمائی اور قابیل کی قربانی رد کردی، اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اصل اعتبار اخلاص، تقویٰ اور نیک نیتی کا ہے،قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَر( سورۃ المائدۃ : 27) اور انہیں آدمؑ کے دو بیٹوں کا سچا واقعہ سنائیے، جب دونوں نے قربانی پیش کی تو ایک کی قربانی قبول کرلی گئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی ، قربانی در اصل اطاعتِ الٰہی، تسلیم و رضا اور کامل بندگی کا عظیم مظہر ہے،حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے اللہ کے حکم کے سامنے بلا تردد سرِ تسلیم خم کر کے رہتی دنیا تک وفاداری و اطاعت کی مثال قائم کی، قرآنِ کریم میں ہے ،فلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِن ’’ یعنی “جب دونوں نے اللہ کے حکم کے آگے خود کو سپرد کر دیا، حقیقت یہ ہے کہ قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اپنی خواہشات اور محبوب چیزوں کو اللہ کی رضا پر قربان کرنے کا درس ہے۔

لفظ “قربانی” عربی لفظ “قَرُبَ” سے نکلا ہے، جس کے معنی ہیں اللہ تعالیٰ کا قرب اور خوشنودی حاصل کرنا، اسی لیے قربانی صرف جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا، اطاعت اور تقویٰ حاصل کرنے کا ذریعہ ہے،پھر یہ عبادت حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی عظیم سنت کے ذریعے امتِ محمدیہ میں ایک اہم شعار بن گئی، ذوالحجہ کے مبارک دنوں میں مسلمان اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے قربانی کرتے ہیں، جس سے بندے کے اندر اخلاص، ایثار، اطاعت اور تقویٰ پیدا ہوتا ہے، قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہے، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَا مَنْسَكًا لِيَذْكُرُوااسْمَ اللَّهِ عَلَىٰ مَا رَزَقَهُم مِّن بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ(سورۃ الحج : 34) اور ہم نے ہر امت کے لیے قربانی مقرر کی تاکہ وہ ان چوپایوں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں عطا فرمائےہیں۔

قربانی کےبےشمار فضائل قرآن کریم اور احادیث مبارکہ وارد ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ، وَمَنْ يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِنْ تَقْوَى الْقُلُوبِ ( سورۃ الحج : 32) اور جو اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کی پرہیزگاری سے ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور دینی شعائر جیسے قربانی، نماز اور دیگر احکامِ دین کی تعظیم کرتا ہے، تو یہ اس کے دل کے تقویٰ اور ایمان کی علامت ہے۔

ایک مقام پر اماں حضرت عائشہ صدیقہؓ سے روایت ہے ،قال رسول الله ﷺ : ما عمل ابن آدم يوم النحر عملاً أحب إلى الله من إهراق الدم، وإنه ليأتي يوم القيامة بقرونها وأشعارها وأظلافها، وإن الدم ليقع من الله بمكان قبل أن يقع من الأرض، فطيبوا بها نفساً ( السنن الترمذی جلد ۱ ص / ۱۸۰)

( ترجمہ ) رسول اللہ ﷺنے فرمایا :قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں، قربانی کا جانور قیامت میں اپنے سینگ، بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا، اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوجاتا ہے، لہٰذا خوش دلی سے قربانی کرو۔ مذکورہ حدیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ قربانی کے ایام میں قربانی سے زیادہ محبوب عمل کوئی نہیں ہے ، لہٰذا جن مسلمان پرقربانی واجب ہے وہ قربانی کے ایام میں قربانی ہی کریں ، رقم صدقہ کرنے سے قربانی کی ادائیگی نہیں ہوگی، دوسری حدیث میں حضرت زید بن ارقم ؓسے روایت ہے ، قالوا: يا رسول الله ما هذه الأضاحي؟ قال: سنة أبيكم إبراهيم، قالوا: فما لنا فيها؟ قال: بكل شعرة حسنة، قالوا: فالصوف؟ قال: بكل شعرة من الصوف حسنة۔ ( مسند احمد جلد / ۴ ص ، ۳۶۸ ) ترجمہ :صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے،عرض کیا: اس میں ہمارے لیے کیا ثواب ہے؟فرمایا: ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے، حتیٰ کہ اون کے ہر بال پر بھی نیکی ہے۔

ایک اور روایت میں جو حضرت علی بن ابی طالب ؓسے مروی ہے، قال النبي ﷺ : يا فاطمة قومي فاشهدي أضحيتك، فإنه يُغفر لك عند أول قطرة من دمها كل ذنب عملتيه، ويؤتى بها يوم القيامة بلحمها ودمها فيوضع في ميزانك سبعين ضعفاً۔ (کنز العمال ، ج / ۱۵ ص / ۱۸۶) نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے: اے فاطمہ زہرا! اپنی قربانی کے پاس حاضر ہو جاؤ، کیونکہ اس کے خون کے پہلے قطرے کے ساتھ تمہارے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں، اور قیامت کے دن قربانی کو ستر گنا بڑھا کر میزان میں رکھا جائے گا، مذکورہ بالا احادیث سے قربانی کی فضیلت وعظمت روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے ۔

شریعت نے صاحبِ استطاعت مسلمانوں کو قربانی کا خاص حکم دیا ہے، اور جو شخص وسعت کے باوجود قربانی نہ کرے اس کے بارے میں سخت وعید وارد ہوئی ہے، رسول اللہ ﷺ نےقربانی نہ کرنے والے کے لیے سخت تنبیہ اور ہدایت دی ہے عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله ﷺ قا ل مَنْ وَجَدَ سَعَةً فَلَمْ يُضَحِّ، فَلَا يَقْربَنَّ مُصَلَّاناً ( سنن ابن ماجہ : ۳۱۲۳) جو شخص وسعت اور استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئیں ۔ ا س حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے قربانی نہ کرنے پر وعید کو مؤثرانداز میں بیان فرمایا،فلا يقربن مصلانا” یعنی “وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے” کے الفاظ سخت ناراضگی، تنبیہ اور زجر کے لیے ہیں۔اس کا مقصد یہ نہیں کہ واقعی اسے مسجد یا عیدگاہ میں آنے سے روک دیا جائے، بلکہ مقصود یہ ہے کہ ایسا شخص ایک عظیم اسلامی شعار کو ترک کر رہا ہے، وہ اللہ کی بڑی نعمت کے باوجود عبادت سے غفلت برت رہا ہے، اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت سے بے رغبتی دکھائی۔علماء فرماتے ہیں کہ یہ حدیث قربانی کی بہت زیادہ تاکید پر دلالت کرتی ہے، خصوصاً ان لوگوں کے لیے جو مالی وسعت رکھتے ہوں۔

ملکی حالات اورحکمت ومصلحت کے تقاضہ کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے قربانی کی جائے ، قانون کی خلاف ورزی نہ کی جائے ، اس موقع پر صفائی وستھرائی کا پور اخیال رکھیں، قربانی کے فضلات یعنی خون، غلاظت، اوجھڑی، ہڈی اور کھال وغیرہ محلے کی نالیوں میں نہ بہائیں، انہیں محفوظ جگہ پردفن کریں تاکہ تعفن و بد بو پیدا نہ ہو اور کسی کی تکلیف کا سب نہ بنے۔ اگر قربانی کے جانوروںکی کھال کسی محتاج یا مستحق مدرسے یادینی ادارہ میں دینے کی سہولت ہوتو ضروردی جائے، ورنہ چرم فروخت کرکے اس کی قیمت دی جائے، قربانی کے گوشت کو رشتہ دار، دوست احباب اور ضرورت مند بھائیوں تک محتاط اور محفوظ طریقہ سے پہونچائیں، سوشل میڈیا ، وہاٹس ایپ یا فیس بک پر جانوروں کے ذبح کی تصویر ویڈیو وغیرہ اپ لوڈ یا شیر نہ کریں،اللہ تعالی تمام مسلمانوں کو نیک نیتی، اور اخلاص و للہیت کے ساتھ قربانی کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے آمین یا رب العالمین ۔

Comments are closed.