اسلام میں قربانی کی اہمیت و فضیلت

 

ترتیب: انوار الحق قاسمی

( ترجمان و سکریٹری جمعیت علماء روتہٹ نیپال)

 

قربانی ہمارے جدِّ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم اور مبارک سنت ہے۔ یہ اسلام کے عظیم شعائر میں سے ایک اہم شعار ہے۔ قربانی کے ذریعے بندہ اپنی کامل بندگی، اطاعت اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت و مالکیت کا عملی اظہار کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قربانی کا عمل اس قدر محبوب ہے کہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی شرفِ قبولیت حاصل کر لیتا ہے۔

لغت میں قربانی کے معنی ایثار، ذبح اور عیدالاضحیٰ کے موقع پر جانور ذبح کرنے کے ہیں، جب کہ اصطلاحِ شرع میں قربانی نام ہے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرنے کے لیے مخصوص ایام(یعنی 10، 11 اور 12 ذوالحجہ) میں مخصوص جانوروں( مثلاً اونٹ، گائے، بھینس، بھیڑ، بکری اور دنبہ )کو مخصوص عمر میں اور مخصوص شرائط کے ساتھ راہ خدا میں ذبح کرنے کا۔ عربی زبان میں اس عمل کو "اُضحیہ” کہا جاتا ہے۔

 

*پچھلی امتوں کو قربانی کا حکم*

 

قربانی اسلام کا کوئی انوکھا حکم نہیں ہے ؛بل کہ دیگر امتوں کو بھی قربانی کا حکم دیا گیا تھا۔ قرآن میں اللہ پاک کا ارشاد ہے: وَلِكُلِّ أُمَّةٍ جَعَلْنَامَنْسَكًا لِيَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَى مَا رَزَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ فَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ فَلَهُ أَسْلِمُوا وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِينَ (34) الحج

ترجمہ: اور ہر امت کے لیے ہم نے قربانی مقرر کردی ہے تاکہ وہ اللہ کے دیئے ہوئے چوپایوں پر (ذبح کرتے وقت) اللہ کا نام لیا کریں؛ ؛لہذا تم لوگوں کا خدا ایک ہی خدا ہے،اسی کی فرماں برداری کرو اور (اے رسول! احکام خداوندی کے سامنے) گردن جھکا دینے والوں کو خوش خبری سنا دیجئے۔(سورہ حج، آیت:34)

معلوم ہوا کہ قربانی کے احکام پچھلی امتوں کو بھی دیے گئے تھے ؛چناں چہ بائبل میں قربانی کے بہت سے واقعات آئے ہیں؛بل کہ بہت ایسے مذاہب جو پوری طرح شرک کی آلائشوں میں لت پت ہیں،جیسے ہندو دھرم ،ان کے ہاں بھی قربانی کا تصور موجود ہے؛البتہ فرق یہ ہے کہ قربانی ہونی چاہیے تھی خدائے واحد کے لیے جیسا کہ امت مسلمہ کا عمل ہے؛لیکن دنیا کی اکثر قوموں نے قربانی کے اس عمل میں شرک کی ملاوٹ کردی ہے۔

 

*قربانی کا پس منظر*

 

خدائے حکیم و کریم نے جدِّ امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کئی ایک عظیم امتحانات سے گزارا، جن میں اپنے اکلوتے، حلیم و بردبار فرزند حضرت اسماعیل- علیہ السلام- کی قربانی کا امتحان سب سے عظیم تھا۔

قرآن کریم نے اس کا کیا ہی شاندار نقشہ کھینچا ہے: رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ (100) فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ (101) فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِن شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ (102)فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ (103) وَنَادَيْنَاهُ أَن يَا إِبْرَاهِيمُ (104) قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (105) إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ (106) وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ (107) وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ (108) سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ (109) كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ (110) سورة الصافات.

ترجمہ: اے میرے رب ! مجھے نیک بخت اولاد عطا فرما،(100)چناں چہ ہم نے اس کو ایک برد بار بیٹے کی خوش خبری دی،(101) پھر جب وہ ابراہیم کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچ گیا تو ابراہیم نے کہا: اے میرے بیٹے! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تم کو ذبح کر رہا ہوں تو تم سوچ لوکہ تمہاری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے کہا: آپ کو جو حکم ہوا ہے ،اسے کر گزریئے ،ان شاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے،(102) چناں چہ جب دونوں نے (حکم الٰہی کے سامنے) سر جھکا دیا اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹا دیا ،(103) تو ہم نے اس کو آواز دی :اے ابراہیم!(104) یقیناً تم نے خواب کو سچا کر دکھایا،ہم اسی طرح نیک کام کرنے والوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں،(105) حقیقت میں یہ بڑا امتحان تھا،(106)ہم نے ایک بڑا ذبح کیا ہوا جانور اس کے فدیہ میں دیا،(107) اور ہم نے ان کا ذکر خیر بعد کو آنے والوں میں باقی رکھا،(108)سلام ہو ابراہیم پر،(109)اسی طرح ہم نیک بندوں کو بدلہ دیا کرتے ہیں،(110) سورہ الصافات۔

ان مذکورہ آیات کریمہ میں حضرت ابراہیم- علیہ السلام- کی زندگی کے ایک اہم واقعہ کا نقشہ کھینچا ہے اور وہ یہ کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اولاد نہیں تھی،یہاں تک کہ تورات کی روایت کے مطابق جب آپ کی عمر 86/سال کی ہوگئی ،تب آپ کی دوسری بیوی حضرت ہاجرہ کے بطن سے حضرت اسماعیل- علیہ السلام- پیدا ہوئے اور جب کچھ بڑے ہوئے اور اچھی طرح چلنے پھرنے دوڑنے بھاگنے لگے ،جس کو بعض مفسرین نے7/سال اور بعض مفسرین نے 13/سال قرار دیا ہے،(التفسیر المنیر:118/23) تو اللہ تعالیٰ کو حضرت ابراہیم- علیہ السلام- کا ایک بڑا امتحان لینا منظور ہوا اور وہ اس طرح کہ آپ خواب میں تین دنوں تک دیکھتے رہے کہ آپ اپنے صاحب زادے حضرت اسماعیل- علیہ السلام – کو ذبح کر رہے ہیں ،پیغمبر کا خواب بھی اللہ تعالیٰ کی وحی کے حکم میں ہوتا ہے؛اس لیے آپ سمجھ گئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کی آزمائش مقصود ہے؛ چناں چہ آپ نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے اس عمل کو کر گزرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ؛لیکن آپ نے سوچا کہ چوں کہ قربانی کا یہ عمل حضرت اسماعیل- علیہ السلام- پر ہوگا،اس لیے ان کو بھی اعتماد میں لےلیا جائے ،اگر ان کی آمادگی ہوگی،تو بظاہر اس تکلیف دہ عمل کو انجام دینا آسان ہوگا؛اس لیے آپ نے حضرت اسماعیل- علیہ السلام – کو اپنا یہ خواب سنایا ،حضرت اسماعیل – علیہ السلام – عرض کرسکتے تھے کہ آپ نے محض یہ خواب ہی تو دیکھا ہے،ہوسکتاہے کہ اس کی تعبیر کچھ اور ہو؛لیکن آخر وہ بھی حضرت ابراہیم-علیہ السلام – کے صاحب زادے تھے ،انھوں نے بلا تامل اپنے والد سے عرض کیا کہ آپ کو جس بات کا حکم دیا گیا ہے،اسے کر گزریئے،آپ مجھے صبر کرنے والوں میں پائیں گے ،اب آپ کو حضرت ابراہیم-علیہ السلام – منی کی طرف لے گئے ،اس موقع پر شیطان نے مختلف مرحلوں پر آپ کو بہکانے کی کوشش کی اور آپ نے اس پر کنکری پھینک کر اپنی بیزاری کا اظہار فرمایا ،بالآخر آپ اس مقام پر پہنچ گئے ،جہاں آپ اپنے صاحبزادے کی قربانی دینا چاہتے تھے،اندیشہ تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ بیٹے کا چہرہ دیکھ کر محبت کا غلبہ ہوجائے ،یا چھری دیکھ کر بیٹا گھبرا جائے ،اس لیے حضرت اسماعیل -علیہ السلام- کے مشورہ پر آپ نے ان کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور انھیں کروٹ کے بل یا اوندھے منہ لٹا دیا اور چھری پھیرنے لگے ،اللہ تعالیٰ کا مقصود حضرت اسماعیل- علیہ السلام- کی قربانی نہیں تھی ؛ بل کہ دونوں باپ بیٹے کا امتحان تھااور اس امتحان میں وہ پورے اتر چکے تھے؛ اس لیے ندائے الٰہی آئی کہ تونے اپنا خواب سچ کر دکھایا؛چناں چہ حضرت ابراہیم-علیہ السلام – جو اس آواز کی طرف متوجہ ہوئے تو دیکھا کہ ایک سفید بڑی سینگوں اور بڑی آنکھوں والا صحت مند اور خوبصورت میڈھا لےکر حضرت جبرئیل- علیہ السلام – موجود ہیں؛چناں چہ اللہ کے حکم سے آپ نے اس میڈھے کی قربانی فرمائی اور اس امتحان میں بھی پوری طرح کامیاب اترے۔(خلاصہ از: تفسیر ابن کثیر:19/4)

حضرت ابراہیم-علیہ السلام – کا اپنے چہیتے فرزند حضرت اسماعیل- علیہ السلام- کی قربانی کا عمل خدائے واحد کو خوب پسند آیا ؛ اس لیے امت محمدیہ کے صاحب حیثیت مسلمانوں پر بطورِ یادگار واجب قرار دے دیا۔

 

*قربانی حقیقت و فضیلت*

 

قربانی کی ماہیت و حقیقت کے سلسلے میں صحابہ کرام -رضوان اللہ علیہم اجمعین-کا سوال اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایسا جامع جواب،جس سے قربانی کی حقیقت و فضیلت بالکل آشکارا ہوجائے گی۔ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: قَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا هَذِهِ الْأَضَاحِي؟ قَالَ: «سُنَّةُ أَبِيكُمْ إِبْرَاهِيمَ» قَالُوا: فَمَا لَنَا فِيهَا يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ حَسَنَةٌ» قَالُوا: فَالصُّوفُ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: «بِكُلِّ شَعْرَةٍ مِنَ الصُّوفِ حَسَنَةٌ».

(سُنَنُ ابْنِ مَاجَه، أَبْوَابُ الْأَضَاحِي، بَابُ ثَوَابِ الْأُضْحِيَّةِ، رَقْمُ: 3127)

ترجمہ: حضرت زید بن ارقم – رضی اللہ عنہ -فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام نے رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- سے پوچھا کہ: اے اللہ کے رسول! ان قربانیوں کی کیا حقیقت ہے؟ فرمایا کہ: تمہارے باپ حضرت ابراہیم -علیہ السلام- کی سنت ہے،ہم(صحابہ) نےعرض کیا:ہمیں اس میں کیا ملے گا؟ فرمایا کہ ہر بال کے بدلےایک نیکی۔ ہم نے کہا: اور (کیا) اون میں بھی(یہ اجر ہے) اے اللہ کے رسول؟ رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم- نے فرمایا: اون کے ہر بال کے بدلے بھی نیکی ہے۔

اس حدیث میں نبی اکرم -صلی اللہ علیہ وسلم -نے قربانی کرنے کا کتنا عظیم ثواب بیان فرمایا ہے کہ جانوروں کے بالوں کے بقدر جو کہ گننا ناممکن ہے بندے کو اللہ تبارک و تعالیٰ نیکیاں عطافرماتے ہیں،دوسری حدیث میں نبی اکرم -صلی اللہ علیہ وسلم- نے ارشاد فرمایا ،ایام قربانی (یعنی ۱۰/ تا ۱۲/ذی الحج)میں انسان کا کوئی بھی عمل اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قربانی کے جانور کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں ہے، اور قیامت کے روز قُربانی کا یہ جانور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنے سینگوں، بالوں اور کُھروں سمیت حاضر ہوگا، اور بلاشُبہ قربانی کے جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبولیت کا درجہ پالیتا ہے ،تو اے مومنو!خُوش دِلی سے قُربان کیا کرو۔ عَنْ عائشة بنت أبي بكر -رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا- أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ- قَالَ:«ما عمِلَ آدمِيٌّ مِن عمَلٍ يومَ النَّحرِ أحبَّ إلى اللهِ مِن إهراقِ دمِ؛ إنَّها لتَأْتي يومَ القيامةِ بقُرونِها وأشعارِها وأظْلافِها، وإنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِن اللهِ بمكانٍ قبلَ أنْ يقَعَ مِن الأرضِ، فَطِيبوا بها نفسًا.».رَوَاهُ الترمذي.۔

قربانی کرنا واجب ہے، رسول اللہ -صلی اللہ علیہ وسلم -نے ہجرت کے بعد ہرسال قربانی فرمائی ، کسی سال ترک نہیں فرمائی۔ جس عمل کو حضور- صلی اللہ علیہ وسلم- نے لگاتار کیاہو اور کسی سال بھی نہ چھوڑا ہو تو یہ اُس عمل کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔ علاوہ ازیں آپ -صلی اللہ علیہ وسلم- نے قربانی نہ کرنے والوں پر وعید بھی ارشاد فرمائی ہے۔ حدیث پاک میں بہت سی وعیدیں ملتی ہیں، مثلاً: آپ صلی اللہ علیہ کا یہ ارشاد ” مَن كان له سَعَةٌ ولم يُضَحِّ ، فلا يَقْرَبَنَّ مُصَلَّانا”: جو وسعت کے باوجود قربانی نہ کرے وہ ہماری عیدگاہ میں نہ آئے۔ علاوہ ازیں خود قرآن میں بعض آیات سے بھی قربانی کا وجوب ثابت ہے۔

 

*بارگاہِ الٰہی میں انسانی شکر و بندگی کی اہمیت*

 

جہاں دیگر عبادات مثلاً نماز ،روزہ،زکاة ،صدقات اور حج میں نام و نمود اور دکھاوا غیر مناسب اور ان اعمال کی روح کو متاثر کرنے والا عمل ہے ،وہیں یہ چیز یعنی ریاکاری اور دکھاوا قربانی کی روح کےلیے از حد نقصان دہ عمل ہے؛ اس لیے باری تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان سے سختی سے منع فرمایا ہے۔ارشاد باری ہے:لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ ۚ كَذَٰلِكَ سَخَّرَهَا لَكُمْ لِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلَىٰ مَا هَدَاكُمْ ۗ وَبَشِّرِ الْمُحْسِنِينَ [ الحج: 37]

ترجمہ: اللہ کو ان کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا ؛لیکن تُمہارا تقویٰ پہنچتاہے،اسی طرح اللہ نے ان چوپایوں کو تمہارے بس میں کردیا ہے؛تاکہ اللہ نے تم کو جو توفیق عطا فرمائی ہے،اس پر اللہ کی بڑائی بیان کرو اور آپ نیکی کرنے والوں کو خوش خبری سنا دیجئے۔(الحج:37)

یعنی اللہ تعالیٰ کے دربار میں چیزوں کی اہمیت نہیں ؛بل کہ انسان کے اندر شکر و بندگی کے جذبات ہون،ان کی اہمیت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تم سے زیادہ طاقت ور اور ڈیل والے جانوروں کا تمہارے قابو میں رہنا اور پھر اللہ کے راستے میں ان کی قربانی کی توفیق میسر ہونا،یہ سب اللہ ہی کی طرف سے ہے۔

انسانی شکر و بندگی کے جذبات کا اثر حضرت آدم علیہ السلام کے دو فرزندوں: ہابیل اور قابیل پر بھی ہواہے۔ ہابیل اور قابیل نے بھینٹ دی ،دونوں کا مقصد اللہ کی نزدیکی حاصل کرناتھا؛البتہ ہابیل نے اخلاص سے قربانی پیش کی تھی،اس لیے قبول ہوئی،آسمان سے سفید آگ آئی اور قربانی کو خاکستر کرگئی اور قابیل کے دل میں کھوٹ تھا،اس لیے اس کی قربانی قبول نہیں ہوئی پڑی رہ گئی ،اس پر وہ جل بھن گیا ،اس نے ہابیل کو دھمکی دی کہ میں تجھ کو قتل کرکے رہوں گا! ہابیل نے کہا: اللہ تعالیٰ پرہیز گاروں کی قربانی قبول کرتے ہیں،تیری قربانی عدم اخلاص کی وجہ سے قبول نہیں ہوئی،اس میں میرا کیا قصور ؟ اور سن لے! اگر تونے مجھے قتل کرنے کےلیے ہاتھ بڑھایا ،تو میں تجھے قتل کرنے کی ہرگز کوشش نہیں کروں گا؛کیوں کہ قتل سنگین گناہ ہے،مجھے اللہ ربّ العالمین کا ڈر لگتا ہے اور تو یہ حرکت کرے گا،تو اپنے گناہوں کے ساتھ میرے گناہ ڈھوئے گااور جہنم میں جائے گا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ستم گاروں کی یہی سزا ہے۔پھر کیا ہوا؟ قابیل کے نفس نے اس کو آمادہ کیا کہ وہ اپنے بھائی کو قتل کردے،چناں چہ وہ یہ حرکت کرگذرا اور بڑے خسارہ میں پڑ گیا۔ حدیث میں ہے کہ جو بھی ناحق قتل ہوتا ہے،تو اس کے گناہ کا ایک حصہ قابیل کو پہنچتا ہے؛کیوں کہ اس نے ناحق قتل کی طرح ڈالی!قتل تو کردیا ؛مگر اب اس کی سمجھ نہیں آیا کہ بھائی کی لاش کو کیا کرے،پس اللہ تعالیٰ نے ایک کوا بھیجا ،جس نے قابیل کے سامنے زمین کریدی ،قابیل سمجھ گیا کہ لاش کو زمین میں گاڑ دیا جائے ،اس وقت اس نے افسوس کیاکہ میرے پاس تو کوے جتنی بھی عقل نہیں! مگر اب اس بے وقوفی کا علاج کیا!۔

یہاں یہ بات بھی جان لیں کہ ہر شخص پر بقدر طاقت اپنا دفاع کرنا جائز ہے یا واجب ؟اس میں اختلاف ہے،بعض حضرات کے نزدیک صرف جائز ہے،اس قول کے مطابق ہابیل کی خود سپردگی پر کوئی اعتراض نہیں ،دوسرا قول یہ ہے کہ واجب ہے،زیادہ تر اہل علم کی یہی رائے ہے۔ ایسی صورت میں سمجھنا چاہیے کہ دفاع کے واجب ہونے کا حکم شریعت محمدی صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے،حضرت آدم علیہ السلام کی شریعت میں یہ حکم نہیں تھا۔(آسان تفسیر قرآن)

 

*قربانی کس پر واجب ہے*

قربانی(فقہائے احناف کے ہاں)ہر صاحبِ نصاب مسلمان پر فرداً فرداً اور الگ طور پر واجب ہے۔ اللہ کے نبی حضرت محمد مصطفیٰ -صلی اللہ علیہ وسلم- کا ارشاد ہے:‘جو شخص وسعت اور استطاعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے’ ۔ عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كان له سعة، ولم يضح، فلا يقربن مصلانا.سنن ابن ماجه (2/ 1044)

 

*قربانی کے وجوب کا نصاب*

 

اس سلسلے میں جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن کا در ج ذیل فتوی ملاحظہ فرمائیں۔

 

قربانی واجب ہونے کا نصاب وہی ہے جو صدقہٴ فطر کے واجب ہونے کا نصاب ہے، یعنی جس عاقل، بالغ ، مقیم ، مسلمان مرد یا عورت کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں قرض کی رقم منہا کرنے بعد ساڑھے سات تولہ سونا، یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اس کی قیمت کے برابر رقم ہو، یا تجارت کا سامان، یا ضرورت سے زائد اتنا سامان موجود ہو جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو، یا ان میں سے کوئی ایک چیز یا ان پانچ چیزوں میں سے بعض کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہوتو ایسے مرد وعورت پر قربانی واجب ہے۔

 

قربانی واجب ہونے کے لیے نصاب کے مال ، رقم یا ضرورت سے زائد سامان پر سال گزرنا شرط نہیں ہے، اور تجارتی ہونا بھی شرط نہیں ہے، ذی الحجہ کی بارہویں تاریخ کے سورج غروب ہونے سے پہلے اگر نصاب کا مالک ہوجائے تو ایسے شخص پرقربانی واجب ہے۔

 

ضرورتِ اصلیہ سے مراد وہ ضرورت ہے جو جان اور آبرو سے متعلق ہو یعنی اس کے پورا نہ ہونے سے جان یا عزت وآبرو جانے کا اندیشہ ہو، مثلاً:کھانا ، پینا،پہننے کے کپڑے، رہنے کا مکان، اہلِ صنعت وحرفت کے لیے ان کے پیشہ کے اوزارضرورتِ اصلیہ میں داخل ہیں۔

 

اور ضرورت سے زائد سامان سے مراد یہ ہے کہ وہ چیزیں انسان کے استعمال میں نہ ہوں، اور ہر انسان کی ضروریات اور حاجات عموماً دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں اور راجح قول کے مطابق ضروریات کو پوری کرنے کے لیے اشیاء کو جائز طریقہ سے اپنی ملکیت میں رکھنے کی کوئی خاص تعداد شریعت کی طرف سے مقرر نہیں ہے؛ بلکہ جو چیزیں انسان کے استعمال میں ہوں اور انسان کو اس کے استعمال کی حاجت پیش آتی ہو اور وہ اشیاء تجارت کے لیے نہ ہوں تو ضرورت اور حاجت کے سامان میں داخل ہے۔

 

لہٰذا جو چیزیں ان انسان کے استعمال میں نہ ہوں اور اس کو ان کی حاجت بھی نہ ہوتی ہو تو وہ ضرورت سے زائد سامان میں شامل ہے، قربانی کے نصاب میں اس کی مالیت کو شامل کیا جائے گا۔

 

*اختتامیہ*

 

قربانی چوں کہ ایک عظیم اور غیر معمولی عبادت ہے، اور اس کے ذریعے انسان کے اندر راہِ خدا میں اپنی جان اور اپنی محبوب ترین چیزوں تک کو قربان کرنے کا جذبہ پیدا ہوتا ہے، نیز یہ عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت محبوب اور مقبول ہے؛ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم اخلاص، تقویٰ اور خوش دلی کے ساتھ قربانی کا اہتمام کریں اور سنتِ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو زندہ کریں۔

 

اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی حقیقی روح ،اخلاص اور سنت ابراہیمی پر عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

 

Comments are closed.