موجودہ حالات میں قربانی اور مسلمانوں کا لائحہ عمل

(حافظ)افتخاراحمدقادری

مسلمانوں کے مذہبی شعائر میں عید الاضحیٰ اور قربانی کو ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔ قربانی رسم یا تہوار نہیں بلکہ ایک عظیم مذہبی فریضہ اور سنت ابراہیمی کی یادگار ہے جس کے ذریعہ بندہ مومن اپنے رب کے حضور اطاعت، ایثار، تقویٰ اور قربانی کے جذبے کا عملی مظاہرہ کرتا ہے۔ اسلام میں قربانی کا کوئی بدل نہیں ہے۔ یہ ایسا مذہبی عمل ہے جسے جذباتی یا ثقافتی عمل سمجھنا بڑی غلطی ہوگی۔ شریعتِ اسلامی نے صاحبِ نصاب مسلمان پر قربانی کو واجب قرار دیا ہے اس لیے جس شخص پر قربانی واجب ہو اس کے لیے حتی المقدور اس عظیم عبادت کی ادائیگی ضروری ہے۔ قرآنِ کریم میں الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔ اسی طرح حضور اکرم ﷺ نے اپنی پوری زندگی میں قربانی کا اہتمام فرمایا اور امت کو بھی اس کی تاکید فرمائی۔ لیکن موجودہ حالات میں بعض علاقوں میں قربانی کے تعلق سے مختلف قسم کی دشواریاں، پابندیاں اور سماجی کشیدگیاں پیدا کی جاتی ہیں۔ بعض شرپسند عناصر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس کی وجہ سے مسلمانوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ایسے حالات میں مسلمان نہ تو اپنے مذہبی فریضہ سے پیچھے ہٹیں اور نہ ہی ایسا کوئی قدم اٹھائیں جس سے معاشرہ میں کشیدگی پیدا ہو۔ اسلام اعتدال، حکمت اور امن کا مذہب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریعت نے عبادت کے ساتھ ساتھ سماجی ذمہ داریوں اور حسنِ اخلاق کی بھی تعلیم دی ہے۔ ضروری ہے کہ قربانی کے تعلق سے حکومتی ہدایات کی مکمل پاسداری کی جائے۔ اگر کسی ریاست یا ضلع کی انتظامیہ کی طرف سے مخصوص اصول و ضوابط جاری کیے گئے ہوں تو ان پر عمل کیا جائے کیونکہ اسلام قانون شکنی یا فساد کی اجازت نہیں دیتا۔ مسلمان ہمیشہ سے اس ملک کے ذمہ دار شہری رہے ہیں اور آج بھی ان کی یہی ذمہ داری ہے کہ وہ نظم و ضبط کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ قربانی کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کسی ایسے جانور کی قربانی نہ کی جائے جس پر قانونی پابندی ہو کیونکہ شریعت نے متبادل جانوروں کی بھی اجازت دی ہے۔ اگر کسی مخصوص جانور کی قربانی سے ماحول خراب ہونے یا فتنہ و فساد کا اندیشہ ہو تو ایسے موقع پر دوسرے جائز جانور کی قربانی کر لینا زیادہ بہتر اور حکمت کے قریب ہے۔ اسلام نے عبادت میں آسانی اور مصلحت دونوں کو پیش نظر رکھا ہے۔ اگر کالے جانور یا دوسرے جائز جانور کی قربانی سے دینی فریضہ ادا ہو جاتا ہے اور معاشرہ میں امن و سکون بھی برقرار رہتا ہے تو یہی طرزِ عمل دانشمندی ہے۔ آج بعض لوگ جان بوجھ کر ایسے اقدامات کرتے ہیں جن سے اشتعال پیدا ہو جبکہ اسلام نے ہر اس عمل سے بچنے کی تعلیم دی ہے جو فساد اور نفرت کا سبب بنے۔ قربانی کا مقصد دکھاوا ضد یا طاقت کا اظہار نہیں بلکہ الله تعالیٰ کی رضا اور تقویٰ کا حصول ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا کے اس دور میں ایک بہت بڑا مسئلہ یہ بھی پیدا ہوگیا ہے کہ لوگ قربانی کے جانور یا ذبیحہ کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہیں۔ بعض افراد اسے محض شوق یا اظہارِ مسرت سمجھتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس طرح کی حرکتیں کئی مرتبہ دوسروں کے جذبات کو مجروح کرنے اور نفرت کو ہوا دینے کا سبب بنتی ہیں۔ شریعت میں کہیں بھی یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ قربانی کی تشہیر کی جائے یا اس کی تصاویر عام کی جائیں۔ عبادت جتنی خاموشی، اخلاص اور وقار کے ساتھ کی جائے اتنی ہی بہتر ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ذبیحہ کی تصاویر، ویڈیوز اور غیر ضروری پوسٹوں سے مکمل اجتناب کریں تاکہ کسی بھی طرح کے تنازع یا اشتعال کا راستہ بند ہو۔ اگر کسی مقام پر حالات زیادہ خراب ہوں اور شرپسند عناصر کالے جانور یا جائز قربانی میں بھی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کریں تو مسلمانوں کو جذباتی ردِعمل کے بجائے حکمت اور صبر سے کام لینا چاہیے۔ ایسے موقع پر مقامی دانشمند، سماجی کارکنان، بااثر افراد اور مذہبی ذمہ داران کو آگے آنا چاہیے اور انتظامیہ سے بات کرکے اعتماد میں لینا چاہیے۔ گفتگو حکمت اور قانونی راستہ اختیار کرکے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہندوستان کا آئین ہر شہری کو مذہبی آزادی دیتا ہے اس لیے قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حق کی حفاظت کرنا ہر شہری کا حق ہے۔ اگر تمام کوششوں کے باوجود کسی مقام پر قربانی کی ادائیگی ممکن نہ ہو اور فساد یا جان و مال کے نقصان کا شدید اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں قریبی محفوظ آبادی میں قربانی کرا دینا مناسب ہوگا جہاں یہ دینی فریضہ آسانی سے ادا ہوسکے۔ شریعت کا مزاج سہولت اور حکمت پر مبنی ہے۔ تاہم اس کے ساتھ یہ بات بھی ضروری ہے کہ جہاں برسوں سے قربانی ہوتی آئی ہو وہاں مکمل خاموشی اختیار نہ کی جائے بلکہ کم از کم بکرے کی قربانی ضرور کی جائے اور قانونی طور پر انتظامیہ کے دفتر میں اس کا اندراج بھی کرایا جائے تاکہ مستقبل میں یہ روایت ختم نہ ہونے پائے اور آئندہ کسی قسم کی دشواری نہ ہو۔ اگر مسلمان خود ہی خوف یا دباؤ کی وجہ سے اپنے مذہبی شعائر کو ترک کردیں گے تو آنے والی نسلوں کے لیے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔ اس لیے حکمت، صبر اور قانونی طریقہ کے ساتھ اپنے دینی حقوق کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ اسلام نہ بزدلی کی تعلیم دیتا ہے اور نہ فساد کی بلکہ اعتدال اور وقار کے ساتھ زندگی گزارنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قربانی کے موقع پر صفائی ستھرائی کا خاص اہتمام بھی نہایت ضروری ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض مقامات پر قربانی کے بعد جانوروں کی آلائشیں، فضلات اور گندگی سڑکوں، نالیوں اور گلیوں میں ڈال دی جاتی ہیں جس سے نہ صرف تعفن پھیلتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی اذیت ہوتی ہے اور اسلام کے بارے میں غلط تاثر قائم ہوتا ہے۔ حالانکہ اسلام صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو بھی صدقہ فرمایا ہے۔ ایسے میں اگر مسلمان خود ہی گندگی پھیلائیں تو یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہوگا۔ لہذا! قربانی کے بعد آلائشوں کو مناسب طریقے سے دفن کیا جائے یا انتظامیہ کی مقررہ جگہوں پر پہنچایا جائے تاکہ ماحول آلودہ نہ ہو۔ خاص طور پر شہری علاقوں میں اس بات کا زیادہ خیال رکھا جانا چاہیے کہ بدبو، گندگی اور تعفن نہ پھیلے۔ مسلمان جہاں بھی رہتے ہیں وہاں انہیں اپنی تہذیب، اخلاق اور صفائی کے ذریعہ اپنی اچھی شناخت قائم کرنی چاہیے۔ قربانی کے موقع پر اگر صفائی اور نظم و ضبط کا بہترین نمونہ پیش کیا جائے تو یقیناً اس کا مثبت اثر معاشرہ پر پڑے گا۔ اسلام دوسروں کو تکلیف پہنچانے کی اجازت نہیں دیتا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔ اس لیے قربانی کے موقع پر شور و ہنگامہ، سڑکوں پر بے جا بھیڑ، جانوروں کے ساتھ غیر انسانی سلوک یا ایسی حرکتیں جن سے دوسروں کو اذیت ہو ان سب سے بچنا چاہیے۔ قربانی عبادت ہے اور عبادت وقار، سکون اور سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہے۔ آج کے حالات میں مسلمانوں کی سب سے بڑی ضرورت اتحاد، شعور اور حکمت ہے۔ جذباتی نعروں اور اشتعال انگیز رویوں سے حالات کبھی بہتر نہیں ہوتے بلکہ مزید خراب ہوتے ہیں۔ مسلمان اگر اپنے مذہبی فرائض کو شریعت کے مطابق، قانون کے دائرے میں اور بہترین اخلاق کے ساتھ ادا کریں تو یقیناً بہت سی غلط فہمیاں خود بخود ختم ہوسکتی ہیں۔ اسلام نے ہمیشہ امن، محبت، بھائی چارہ اور حسنِ سلوک کی تعلیم دی ہے۔ قربانی کا اصل پیغام بھی یہی ہے کہ انسان اپنی خواہشات کو الله کے حکم کے تابع کردے اور اپنی ذات سے زیادہ دوسروں کے حقوق اور معاشرتی بھلائی کو اہمیت دے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے الله تعالیٰ کے حکم پر اپنے بیٹے کی قربانی پیش کرنے کا ارادہ کیا تو دراصل یہ اطاعت، صبر، وفاداری اور ایثار کا بے مثال مظاہرہ تھا۔ آج مسلمانوں کو بھی اسی روح کو زندہ کرنے کی ضرورت ہے۔ قربانی کا مقصد صرف جانور ذبح کرنا نہیں بلکہ اپنے اندر کے غرور، نفرت، ضد اور بے صبری کو بھی ختم کرنا ہے۔ اگر قربانی ہمیں تحمل، اخلاق، صفائی، قانون کی پاسداری اور دوسروں کے جذبات کے احترام کا درس نہ دے تو پھر ہمیں اپنی سوچ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ مسلمان قربانی کو صرف ایک مذہبی رسم نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک مکمل دینی اور سماجی ذمہ داری کے طور پر ادا کریں۔ عبادت کے ساتھ حکمت، جذبہ کے ساتھ شعور اور دینی حمیت کے ساتھ اخلاق و قانون کی پابندی ہی وہ راستہ ہے جس سے ہم اپنے مذہبی فرائض بھی بخوبی ادا کرسکتے ہیں اور ملک میں امن و بھائی چارہ بھی برقرار رکھ سکتے ہیں۔ الله تعالیٰ تمام مسلمانوں کو صحیح سمجھ، اعتدال، حکمت اور اخلاص کے ساتھ اس عظیم عبادت کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے ملک میں امن، محبت اور باہمی احترام کی فضا قائم رکھے۔

کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت، یوپی

iftikharahmadquadri@gmail.com

 

Comments are closed.