دعوتِ توحید اور حقوقِ انسانی
(انسانیت کی آزادی، مساوات اور امن کا آفاقی منشور)
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
تمام تعریفیں اُس اللّٰہ کے لیے ہیں جو ربُّ العالمین ہے، جس نے انسان کو اشرفُ المخلوقات بنایا، اسے عقل و شعور کی نعمت عطا فرمائی، اور ہدایت کے لیے انبیاءِ کرامؑ کا سلسلہ جاری فرمایا تاکہ انسان ظلمتوں سے نکل کر نورِ حق کی طرف آ سکے۔ درود و سلام اُس عظیم ہستی حضرت محمد مصطفیٰﷺ پر جنہوں نے انسانیت کو توحید، عدل، رحمت، مساوات اور احترامِ آدمیت کا وہ آفاقی پیغام دیا جس نے صدیوں سے جکڑی ہوئی انسانیت کو آزادی، امن اور وقارِ حیات سے ہمکنار کیا۔
اسلام کی دعوت دراصل انسان کی فطرت کی آواز ہے۔ یہ وہ پیغام ہے جو انسان کو بندوں کی غلامی سے نکال کر صرف ایک اللّٰہ کی بندگی میں داخل کرتا ہے، اور اسی بندگی میں انسان کی حقیقی آزادی پوشیدہ ہے۔ تاریخِ انسانی کا مطالعہ یہ حقیقت واضح کرتا ہے کہ جب بھی انسان نے اللّٰہ کی ہدایت سے منہ موڑا، ظلم، جبر، استحصال، نسلی تفاخر، طبقاتی تقسیم اور اخلاقی انحطاط نے جنم لیا۔ اور جب بھی انبیاءِ کرامؑ کی دعوتِ توحید نے انسان کے دل و دماغ کو منور کیا، معاشروں میں عدل، اخوت، رواداری اور احترامِ انسانیت کی بہار آ گئی۔
اسلام نے انسان کو صرف عبادات کا نظام نہیں دیا بلکہ ایک ایسا جامع ضابطۂ حیات عطاء کیا جس میں انسانی حقوق کی حفاظت کو عبادت کا درجہ حاصل ہے۔ قرآنِ مجید نے انسان کے جان، مال، عزّت، آزادی اور انصاف کے حق کو مقدّس قرار دیا، اور رسولِ اکرمﷺ نے اپنے قول و عمل سے ایک ایسے مثالی معاشرے کی بنیاد رکھی جہاں غلام و آقا، امیر و غریب، عرب و عجم سب ایک ہی صف میں کھڑے نظر آئے۔
آج جب کہ دنیا مادّی ترقی کے باوجود روحانی اضطراب، اخلاقی بحران، جنگ و جدال، معاشی استحصال اور انسانی ناانصافی کا شکار ہے، انسانیت ایک بار پھر اسی پیغامِ توحید کی محتاج دکھائی دیتی ہے جو دلوں میں رحم پیدا کرے، انسان کو انسان کا بھائی بنائے، اور زمین کو امن و سکون کا گہوارہ بنا دے۔ زیرِ نظر مضمون "دعوتِ توحید اور حقوقِ انسانی” اسی حقیقت کو واضح کرنے کی ایک ادنیٰ سی کوشش ہے کہ حقیقی انسانی آزادی، مساوات، عدل اور امن کا سر چشمہ صرف اور صرف عقیدۂ توحید ہے۔
انسانی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی انسان نے اپنے خالقِ حقیقی سے تعلق کو کمزور کیا، اس کی زندگی ظلم، استحصال، طبقاتی تقسیم، نفرت، جنگ اور ناانصافی کی آماجگاہ بن گئی۔ انسان نے انسان کو غلام بنایا، طاقت کو حق سمجھ لیا، دولت کو معیارِ عزّت قرار دیا، اور رنگ، نسل، زبان اور مذہب کی بنیاد پر تفریق کو اپنے تمدّن کا حصّہ بنا لیا۔ لیکن جب بھی دنیا میں دعوتِ توحید کی صدا بلند ہوئی، انسان کو اس کے حقیقی مقام اور وقار کا شعور ملا، ظلم کے ایوان لرز اٹھے، اور انسانیت نے آزادی، مساوات اور امن کی خوشبو محسوس کی۔
دعوتِ توحید محض ایک مذہبی اصطلاح نہیں بلکہ انسانی حقوق کا سب سے بڑا اور مستحکم سر چشمہ ہے۔ توحید دراصل اس اعلان کا نام ہے کہ اقتدارِ اعلیٰ صرف اللّٰہ کے لیے ہے، انسان کسی انسان کا بندہ نہیں، اور زمین پر ہر فرد عزّت و حرمت کے ساتھ جینے کا حق رکھتا ہے۔ یہی عقیدہ انسان کو ظاہری اور باطنی غلامیوں سے آزاد کرتا ہے اور اسے ایک ایسے معاشرے کی تعمیر کی دعوت دیتا ہے جہاں عدل، رحم، اخوت اور احترامِ انسانیت بنیادی اقدار ہوں۔
عقیدۂ توحید اور انسانی آزادی
توحید انسان کو سب سے پہلے فکری آزادی عطاء کرتی ہے۔ جب انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ نفع و نقصان، عزّت و ذلّت، زندگی و موت کا مالک صرف اللّٰہ ہے تو وہ دنیا کی طاقتوں، ظالم حکمرانوں، سرمایہ داروں اور باطل قوتوں کے سامنے جھکنے سے انکار کر دیتا ہے۔ یہی وہ روحانی آزادی ہے جو انسانی وقار کی بنیاد بنتی ہے۔ اسلام انسان کو اسی آفاقی آزادی کی دعوت دیتا ہے کہ وہ اپنی بندگی، اطاعت اور وابستگی کو صرف ایک اللّٰہ کے لیے خالص کر دے اور ہر طرح کی باطل غلامی سے نجات حاصل کرے۔ قرآنِ مجید اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں یوں بیان کرتا ہے "قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ۔ کہہ دیجیے! اے اہلِ کتاب، آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اللّٰہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں” (سورۃ آلِ عمران: 64)۔
یہ آیت دراصل انسانیت کے لیے آزادی، مساوات اور وحدت کا عالمی منشور ہے، جو انسان کو انسان کی غلامی سے نکال کر صرف اللّٰہ واحد کی بندگی میں داخل کرتی ہے۔ توحید کا پیغام یہ ہے کہ انسان کی اصل قدر اس کے اخلاق، تقویٰ اور کردار میں ہے، نہ کہ اس کے رنگ، نسل، زبان یا دولت میں۔ قرآنِ مجید نے انسانوں کے درمیان نسلی و طبقاتی امتیازات کو رد کرتے ہوئے اعلان کیا:
"بے شک اللّٰہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزّت والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے”۔
اسی حقیقت کو قرآنِ مجید ایک اور مقام پر نہایت جامع انداز میں یوں بیان کرتا ہے "يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا۔ اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں اس لیے تقسیم کیا تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو” (سورۃ الحجرات: 13)۔
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ نسل، قوم، زبان اور قبیلہ صرف تعارف کا ذریعہ ہیں، فضیلت اور برتری کا معیار نہیں۔ انسانوں کے درمیان حقیقی عزّت و عظمت کا پیمانہ صرف تقویٰ، کردار اور اخلاق ہے۔ یہی وہ آفاقی اصول ہے جس نے انسانی مساوات کا ایسا ابدی منشور پیش کیا جس کے سامنے دنیا کے تمام نسلی، طبقاتی اور خاندانی تفاخر ماند پڑ گئے۔ رسولِ اکرمﷺ نے بھی اپنے خطبۂ حجۃ الوداع میں اسی قرآنی تعلیم کو عملی اور عالمی اعلان کی صورت میں پیش فرمایا "کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ سے” (مسند احمد)۔ اسلام نے اس عظیم تعلیم کے ذریعے عرب و عجم، گورے اور کالے، امیر و غریب کے درمیان قائم مصنوعی دیواروں کو منہدم کیا اور انسان کو صرف انسان ہونے کے ناطے عزّت و احترام عطاء کیا۔
دنیاوی استحصال اور تفرقات کی اصل بنیاد
دنیا میں ہونے والے اکثر مظالم کی جڑ دراصل عقیدۂ توحید سے دوری ہے۔ جب انسان اللّٰہ کو بھلا دیتا ہے تو وہ اپنی خواہشات، طاقت، قومیت، سرمایہ یا اقتدار کو معبود بنا لیتا ہے۔ یہی شرک کی وہ عملی صورت ہے جس سے استحصال جنم لیتا ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام میں طاقتور کمزور کا استحصال کرتا ہے، سیاسی نظام میں حکمران عوام کے حقوق پامال کرتے ہیں، اور معاشرتی نظام میں ذات پات، نسل اور قومیت کی بنیاد پر انسانوں کو تقسیم کیا جاتا ہے۔ یہ سب اس وقت پیدا ہوتا ہے جب انسان اپنی بندگی کا مرکز اللّٰہ کے بجائے دنیاوی مفادات، خواہشات اور اقتدار کو بنا لیتا ہے۔ اسلام ایسے ہر نظامِ ظلم و استحصال کی سخت مذمت کرتا ہے اور انسان کو عدل، دیانت اور حقوق کی ادائیگی کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآنِ مجید واضح طور پر اعلان کرتا ہے "إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ۔ بے شک اللّٰہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا” (سورۃ آلِ عمران: 57)۔
یہ ارشاد اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ ظلم خواہ معاشی ہو، سیاسی ہو یا معاشرتی، وہ اللّٰہ کی نگاہ میں سخت ناپسندیدہ ہے۔ اسی طرح انسانی حقوق اور معاشی انصاف کے تحفّظ کے لیے قرآن یہ حکم دیتا ہے "وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ۔ اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو” (سورۃ ہود: 85)۔ یہ آیت صرف کاروباری لین دین تک محدود نہیں بلکہ انسانی حقوق، عزّت، محنت اور معاشرتی انصاف کے تمام تقاضوں کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ گویا اسلام ایک ایسے عادلانہ معاشرے کی بنیاد رکھتا ہے جہاں انسان انسان کا استحصال نہیں بلکہ اس کے حقوق کا محافظ بنتا ہے۔
آج دنیا بظاہر ترقی یافتہ ہونے کے باوجود شدید اضطراب کا شکار ہے۔ دولت کی فراوانی ہے مگر سکون نہیں، علم کی وسعت ہے مگر حکمت ناپید، انسانی حقوق کے نعرے ہیں مگر انسان محفوظ نہیں۔ کہیں نسل پرستی ہے، کہیں مذہبی منافرت، کہیں اقتصادی غلامی، کہیں جنگ و تباہی۔ یہ تمام بحران اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انسان نے اپنی روحانی بنیاد کھو دی ہے۔
عقیدۂ توحید کی خرابی کے نتائج
جب توحید کا تصور کمزور پڑ جاتا ہے تو معاشرہ اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔ انسان اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے، انصاف کی جگہ مفاد لے لیتا ہے، اور طاقت ہی حق قرار پاتی ہے۔ جب انسان اللّٰہ کی حاکمیت اور جواب دہی کے احساس سے دور ہو جاتا ہے تو اس کے اندر سے خوفِ خدا، رحم، انصاف اور انسانی ہمدردی کی صفات ماند پڑنے لگتی ہیں۔ نتیجتاً فرد اور معاشرہ دونوں ایک ایسے بحران کا شکار ہو جاتے ہیں جہاں مادّی ترقی کے باوجود روحانی و اخلاقی تباہی جنم لیتی ہے۔ اسی اخلاقی انحطاط کے نتیجے میں:
• ظلم و جبر عام ہو جاتا ہے
• کمزور طبقات استحصال کا شکار ہوتے ہیں
• دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے
• معاشرتی نفرتیں بڑھتی ہیں
• انسانیت تقسیم در تقسیم کا شکار ہو جاتی ہے
• روحانی سکون ختم ہو جاتا ہے
قرآنِ مجید اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے "ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ۔ خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا ان اعمال کی وجہ سے جو لوگوں کے ہاتھوں نے کمائے” (سورۃ الروم: 41)۔ گویا جب انسان اپنی زندگی کو خدائی ہدایت سے آزاد کر لیتا ہے تو فساد، ظلم اور بے سکونی اس کا مقدّر بن جاتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں انسان بظاہر زندہ مگر حقیقت میں اندر سے مردہ ہو جاتا ہے۔ دلوں سے رحم نکل جاتا ہے، رشتوں سے محبت ختم ہو جاتی ہے، اور معاشرہ خوف، بے اعتمادی اور انتشار کی تصویر بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام انسان کو بار بار توحید، تقویٰ اور اخلاقی پاکیزگی کی طرف بلاتا ہے تاکہ فرد اور معاشرہ دونوں تباہی سے محفوظ رہ سکیں۔
دعوتِ توحید: امن و آشتی کی بنیاد
دعوتِ توحید انسان کو صرف عبادت کا طریقہ نہیں سکھاتی بلکہ زندگی گزارنے کا ایک مکمل ضابطہ عطاء کرتی ہے۔ یہ انسان کو عدل، احسان، رواداری، خدمتِ خلق اور احترامِ انسانیت کا درس دیتی ہے۔ جب ایک معاشرہ حقیقی توحید کو قبول کرتا ہے تو وہاں ظلم کے بجائے انصاف، نفرت کے بجائے محبت، اور انتشار کے بجائے وحدت جنم لیتی ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجید نے اسلامی معاشرت کی بنیاد عدل و احسان کو قرار دیتے ہوئے فرمایا "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ۔ بے شک اللّٰہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے” (سورۃ النحل: 90)۔
یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام محض چند عبادات کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا عادلانہ اور رحمت پر مبنی نظامِ حیات ہے جس میں ہر انسان کے حقوق کے تحفّظ کی ضمانت موجود ہے۔ رسولِ اکرمﷺ نے بھی انسانی امن، سلامتی اور خیر خواہی کو ایمان کا بنیادی تقاضا قرار دیتے ہوئے فرمایا "مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں” (صحیح بخاری)۔ اسی طرح اسلام نے انسانیت کی خدمت کو عبادت اور اللّٰہ کی قربت کا ذریعہ قرار دیا۔ حضور اکرمﷺ کا ارشاد ہے: تمام مخلوق اللّٰہ کا کنبہ ہے، اور اللّٰہ کو وہ شخص زیادہ محبوب ہے جو اس کے بندوں کے لیے زیادہ نفع بخش ہو۔ (شعب الایمان)
یہ تعلیمات اس حقیقت کی ترجمان ہیں کہ دعوتِ توحید کا اصل مقصد ایک ایسا معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں انسان انسان کے لیے رحمت، سہارا اور امن کا ذریعہ بنے۔ چنانچہ اسلامی تعلیمات میں انسانی جان، مال، عزّت اور آزادی کو مقدّس قرار دیا گیا ہے۔ حضور اکرمﷺ نے حجۃ الوداع کے تاریخی خطبے میں انسانی حقوق کا ایسا جامع منشور پیش کیا جس کی مثال انسانی تاریخ میں مشکل سے ملتی ہے۔ آپﷺ نے فرمایا کہ کسی عربی کو عجمی پر اور کسی گورے کو کالے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں مگر تقویٰ کی بنیاد پر۔
یہی وہ عظیم فکر تھی جس نے غلاموں کو سردار بنایا، عورت کو عزّت دی، یتیم کو تحفّظ دیا، مزدور کو حق دلایا اور معاشرے کے کمزور طبقات کو وقار عطاء کیا۔ گویا اسلام نے توحید کے ذریعے نہ صرف انسان کے عقیدے کی اصلاح کی بلکہ ایک ایسا پُرامن، منصفانہ اور باوقار انسانی معاشرہ تشکیل دیا جس کی بنیاد رحم، انصاف اور اخوت پر قائم تھی۔
توحید اور معاشرتی عدل
توحید کا سب سے بڑا سماجی اثر یہ ہے کہ وہ انسان کو جواب دہی کا احساس عطاء کرتی ہے۔ جب فرد یہ یقین رکھتا ہے کہ اسے ایک دن اللّٰہ کے سامنے اپنے اعمال کا حساب دینا ہے تو وہ ظلم، خیانت، دھوکہ اور ناانصافی سے بچنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی احساسِ احتساب انسان کے کردار میں دیانت، انصاف، رحم اور امانت داری پیدا کرتا ہے، اور اسی سے ایک صالح اور متوازن معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ اسلام نے معاشرتی عدل کی بنیاد محض قانونی خوف پر نہیں بلکہ انسان کے باطن میں موجود خوفِ خدا اور احساسِ ذمّہ داری پر رکھی ہے۔ چنانچہ قرآنِ مجید انسان کو امانت اور انصاف کی ادائیگی کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے "إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا۔ بے شک اللّٰہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچاؤ” (سورۃ النساء: 58)۔
اسی آیت میں آگے عدل و انصاف کے آفاقی اصول کو یوں بیان کیا گیا "وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ النَّاسِ أَن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ۔ اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو” (سورۃ النساء: 58)۔ یہ تعلیمات اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ اسلامی معاشرہ امانت، انصاف اور ذمّہ داری کے اصولوں پر قائم ہوتا ہے۔ جب حکمران، قاضی، تاجر اور عام فرد سب اپنے آپ کو اللّٰہ کے حضور جواب دہ سمجھتے ہیں تو ظلم، بدعنوانی اور استحصال کے راستے بند ہونے لگتے ہیں۔ رسولِ اکرمﷺ نے بھی اجتماعی ذمّہ داری اور جواب دہی کے احساس کو نہایت جامع انداز میں بیان فرمایا "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال ہوگا” (صحیح بخاری)۔
اسی احساسِ جواب دہی سے ایک صالح معاشرہ وجود میں آتا ہے۔ حکمران رعایا کے حقوق کا محافظ بنتا ہے، تاجر دیانت اختیار کرتا ہے، قاضی انصاف کرتا ہے، اور صاحبِ ثروت غریب کے حق کو پہچانتا ہے۔ گویا توحید انسان کے باطن کو پاک کر کے معاشرے کے ظاہر کو سنوار دیتی ہے، اور یہی پاکیزگی ایک عادل، پُرامن اور باوقار انسانی معاشرے کی بنیاد بنتی ہے۔
عصرِ حاضر میں دعوتِ توحید کی ضرورت
آج انسانیت جس فکری انتشار، اخلاقی بحران اور عالمی ناانصافی کا شکار ہے، اس کا حل محض سیاسی نعروں یا معاشی منصوبوں میں نہیں بلکہ انسان کے قلب و روح کی اصلاح میں ہے۔ دنیا کو ایک بار پھر اس دعوت کی ضرورت ہے جو انسان کو انسان سے نہیں بلکہ اللّٰہ سے جوڑے، جو رنگ و نسل کے بت توڑے، جو ظلم کے ایوانوں کو چیلنج کرے، اور جو انسانیت کو امن و اخوت کا پیغام دے۔ دعوتِ توحید دراصل انسان کی عظمت کا اعلان ہے۔ یہ مظلوم کو حوصلہ دیتی ہے، ظالم کو خبردار کرتی ہے، اور انسان کو اس کے حقیقی مقام سے روشناس کراتی ہے۔ یہی وہ دعوت ہے جو دنیا کو نفرت سے محبت، انتشار سے وحدت، اور ظلم سے عدل کی طرف لے جا سکتی ہے۔
اگر انسانیت واقعی امن، انصاف اور حقیقی انسانی حقوق کی متلاشی ہے تو اسے عقیدۂ توحید کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ کیونکہ توحید صرف ایک عقیدہ نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر انقلابی فکر ہے جو انسان کو ہر طرح کی غلامی سے آزاد کر کے اسے عزّت، مساوات اور امن عطاء کرتی ہے۔ جب معاشرہ توحید کی روشنی میں تشکیل پاتا ہے تو وہاں انسان انسان کا دشمن نہیں بلکہ مددگار بن جاتا ہے، طاقت ظلم کا ذریعہ نہیں بلکہ عدل کا محافظ بنتی ہے، اور دنیا امن و آشتی کا ایسا گہوارہ بن جاتی ہے جہاں ہر فرد اپنے حقوق کے ساتھ باوقار زندگی گزار سکتا ہے۔ دعوتِ توحید دراصل انسانیت کی نجات، معاشرتی عدل اور عالمی امن کی سب سے روشن امید ہے۔
اسلام کا پیغام دراصل انسانیت کی بقا، فلاح اور حقیقی کامیابی کا پیغام ہے۔ دعوتِ توحید انسان کو اس کے ربّ سے جوڑ کر نہ صرف اس کی روحانی پیاس بجھاتی ہے بلکہ اسے ایک ایسا ہمہ گیر نظامِ حیات عطاء کرتی ہے جس میں عدل، مساوات، رحم، امن اور انسانی وقار کی مکمل ضمانت موجود ہے۔ یہی وہ دعوت ہے جو انسان کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللّٰہ واحد کی بندگی میں داخل کرتی ہے، اور اسی بندگی میں انسان کی اصل آزادی اور عزّت پوشیدہ ہے۔
آج کی دنیا جس اخلاقی زوال، معاشی استحصال، نسلی تعصّب، فکری انتشار اور ظلم و جبر کی آگ میں جل رہی ہے، اس کے لیے محض مادّی ترقی یا سیاسی اصلاحات کافی نہیں۔ انسانیت کو ایک بار پھر اسی آسمانی ہدایت کی ضرورت ہے جو دلوں کو نرم کرے، انسانوں کو ایک دوسرے کا خیر خواہ بنائے، اور زمین پر عدل و رحمت کی فضا قائم کرے۔ اسلام کی دعوتِ توحید یہی عالمگیر پیغام لے کر آئی ہے کہ تمام انسان ایک ہی ربّ کے بندے اور ایک ہی انسانی خاندان کے افراد ہیں؛ لہٰذا کسی کو کسی پر ظلم، استحصال یا برتری کا حق حاصل نہیں۔
قرآنِ مجید نے جس معاشرے کا خواب پیش کیا ہے وہ ایسا معاشرہ ہے جہاں حق کمزور کی طاقت بن جائے، انصاف حکمران کی پہچان ہو، دولت امانت سمجھی جائے، اور انسانیت احترام و محبت کے رشتے میں بندھی ہو۔ رسولِ اکرمﷺ کی حیاتِ طیبہ اسی قرآنی نظام کی عملی تصویر تھی، جہاں رحم و کرم عبادت تھا، عدل ایمان کا تقاضا تھا، اور انسان کی عزّت سب سے بڑی امانت قرار پاتی تھی۔ لہٰذا آج ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلمان خود دعوتِ توحید کے حقیقی علمبردار بنیں، اپنے کردار، اخلاق اور معاملات میں اسلام کی تعلیمات کو زندہ کریں، اور دنیا کے سامنے یہ ثابت کریں کہ اسلام نفرت نہیں بلکہ رحمت ہے، جبر نہیں بلکہ آزادی ہے، اور تفرقہ نہیں بلکہ وحدت و اخوت کا پیغام ہے۔
اگر انسانیت کو واقعی امن، سکون، عدل اور انسانی عظمت کی منزل حاصل کرنی ہے تو اسے اسی ابدی حقیقت کی طرف لوٹنا ہوگا جسے قرآن نے "صراطِ مستقیم” قرار دیا ہے۔ کیونکہ دعوتِ توحید ہی وہ نور ہے جو انسان کو ظلمتوں سے نکال کر امن، انصاف اور فلاح کی روشنی عطاء کرتا ہے، اور یہی وہ آفاقی پیغام ہے جو دنیا کو حقیقی معنوں میں ایک پُرامن، باوقار اور عادل انسانی معاشرہ بنا سکتا ہے۔
توحید دراصل انسان کو اس حقیقت سے آشنا کرتی ہے کہ کائنات کا خالق و مالک ایک ہے، اور اسی کے سامنے سب انسان برابر ہیں۔ یہی عقیدہ انسان کے دل میں جواب دہی، عدل، رحم، اخوت اور احترامِ انسانیت کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ جب انسان اپنے آپ کو ایک قادرِ مطلق ہستی کے سامنے جواب دہ سمجھتا ہے تو وہ ظلم، استحصال، تعصب اور ناانصافی سے دور رہنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسی شعور سے ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جہاں طاقت کمزوروں کے تحفّظ کے لیے استعمال ہوتی ہے، جہاں انسان کی عزّت نسل، رنگ، زبان اور مذہب سے بالاتر ہو کر تسلیم کی جاتی ہے، اور جہاں محبت و ہمدردی انسانی تعلقات کی بنیاد بنتے ہیں۔
قرآنِ مجید اسی حقیقت کو نہایت جامع انداز میں بیان کرتا ہے: اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُم مِّنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ۔ اللّٰہ ایمان والوں کا دوست ہے، وہ انہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی کی طرف لاتا ہے۔ (سورۃ البقرہ: 257)۔ یہ روشنی صرف روحانی ہدایت تک محدود نہیں بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی رہنمائی کرتی ہے۔ یہ فرد کو اخلاقی پاکیزگی عطاء کرتی ہے، خاندان کو محبت و استحکام بخشتی ہے، معاشرے میں عدل و مساوات قائم کرتی ہے اور انسانیت کو باہمی احترام اور امن کا راستہ دکھاتی ہے۔
اسی پیغامِ رحمت کی تکمیل حضور اکرمﷺ کی ذاتِ مبارکہ میں نظر آتی ہے، جنہیں اللّٰہ تعالیٰ نے پوری انسانیت کے لیے رحمت بنا کر بھیجا: وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ۔ اور ہم نے آپﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔ (سورۃ الانبیاء: 107)۔ آپﷺ کی تعلیمات نے انسان کو انسان کا دشمن نہیں بلکہ خیرخواہ بنانا سکھایا۔ آپﷺ نے عدل کو اقتدار کی بنیاد، رحم کو طاقت کی روح، اور انسانیت کی خدمت کو عبادت کا درجہ عطاء کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کا اصل مقصد ایک ایسا عالمی معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں انسان خوف کے بجائے امن، نفرت کے بجائے محبت، اور ظلم کے بجائے انصاف کے سائے میں زندگی گزار سکے۔
آج کی دنیا مادّی ترقی کے باوجود بے سکونی، نفرت، جنگ، استحصال اور اخلاقی بحران کا شکار ہے۔ انسان نے سائنسی میدان میں حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کرلی ہیں، مگر روحانی اور اخلاقی اقدار سے دوری نے اسے اندر سے بے چین اور غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں دعوتِ توحید صرف ایک مذہبی پیغام نہیں بلکہ انسانیت کی بقاء، امنِ عالم اور انسانی وقار کی بحالی کی ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ لہٰذا وقت کا تقاضا ہے کہ انسان دوبارہ اس الٰہی ہدایت کی طرف رجوع کرے جو انسان کو انسان سے جوڑتی ہے، دلوں میں رحم پیدا کرتی ہے، اور دنیا کو عدل و امن کا گہوارہ بناتی ہے۔ یہی صراطِ مستقیم ہے، یہی پیغامِ انبیاء ہے، اور یہی انسانیت کی حقیقی نجات کا راستہ ہے۔
Comments are closed.