علماء نیپال کا پیغامِ عید الاضحیٰ

 

نیپال سے انوار الحق قاسمی ترجمان و سکریٹری جمعیت علماء روتہٹ کی خصوصی رپورٹ

 

عید الاضحی کے پر مسرت موقع پر علماء نیپال نے مسلمانان عالم کے نام مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے کہاکہ : قربانی ہمارے جد امجد حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ایک عظیم اور یادگار سنت ہے۔ قربانی ایک ایسا مبارک اور یادگار عمل ہے جسے ہر صاحبِ نصاب مسلمان کے لیے ایامِ نحر میں حکمِ خداوندی سمجھ کر ادا کرنا واجب ہے۔

صحابہ کرام- رضوان اللہ علیہم اجمعین- نے محبوب رب العالمین سے قربانی کی حقیقت دریافت کرتے ہوئے سوال کیا کہ : اے میرے آقا! یہ قربانی جو ہم ایام نحر میں کرتے ہیں،اس کی حقیقت کیا ہے؟ ماهي الاضاحي يارسول الله ؟ تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جوابا ارشاد فرمایا: هي سنة ابيكم ابراهيم عليه السلام ؟یہ تمہارے باپ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی مبارک سنت ہے،صحابہ کرام نے پھر سوال کیا کہ ہمیں اس کے عوض کیا ملے گا؟ تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بكل شعرة حسنة. ہر بال کے بدلے ایک نیکی(یعنی قربانی کرنے والے کو قربان شدہ جانور کی پشت پر موجود ہربال کے عوض ایک نیکی عطا کی جائے گی ) صحابہ کرام -رضوان اللہ علیہم اجمعین- نے ایک بار پھر پوچھا کہ : اون کا کیا حکم ہے؟ تو آپ نے فرمایا: بكل شعرة من الصوف حسنة: یعنی اون کے ہر بال کے بدلے بھی ایک نیکی ملے گی۔ اب ذرا تصور کیجیے کہ ایک مسلمان صرف ایام قربانی میں قربانی کے ذریعہ کتنے نیک اعمال حاصل کرلیتا ہے؛ کیوں کہ ہر جانور کی پشت پر بال اس قدر زیادہ ہوتے ہیں کہ ان کا احاطہ و شمار تقریباً ناممکن ہوتا ہے،تو پھر اعمال کا شمار بھلا ممکن کیسے قرار پائے گا؟ اس لیے ایام نحر کو لوگ نیکیوں کا موسم قرار دیتے ہیں۔

اس لیے صاحب حیثیت مسلمانوں کو چاہیے نیکیوں کے اس موسم کو غنیمت سمجھیں اور قربانی دل کھول کر کریں ۔ اور اگر کوئی شخص وسعت کے باوجود بھی قربانی نہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو،تو وہ اپنے اس ارادے کو بدل کر قربانی کا اہتمام کرےم؛ کیوں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحبِ استطاعت ہونے کے باوجود قربانی ترک کرنے والوں پر سخت وعید بیان فرمائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “جو شخص وسعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔

"عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كان له سعة، ولم يضح، فلا يقربن مصلانا”(.سنن ابن ماجه (2/ 1044)

اس مشترکہ بیان پر درج ذیل علماء کے اسمائے گرامی شامل ہیں: مولانا محمد ہارون خان المظہری،مولانا محمد عزرائیل مظاہری،قاری محمد حنیف عالم قاسمی مدنی،مولانا محمد شفیق الرحمٰن قاسمی ،مولانا محمد اسعد اللہ مظاہری،مولانا شوکت علی مظاہری،مولانا محمد درخشید انور،مولانا محمد اسلم جمالی قاسمی،مولانا محمد جواد عالم مظاہری، مولانا محمد خیر الدین مظاہری،مولانا محمد صابر علی مظاہری،قاری محمد شہاب الدین عرفانی،مولانا محمد ابواللیث قاسمی ( امام و خطیب مسجدِ ابوبکر چھپکہیا بیرگنج نیپال) مولانا اسرارالحق قاسمی ،مولانا نثار احمد قاسمی،مفسر قرآن مولانا انعام الحق قاسمی.

Comments are closed.