اتنا مغرور نہ بن!

 

تحریر : مفتی محمد عارف باللہ قاسمی

​زمانے کا سب سے بڑا سچ یہی ہے کہ یہاں کچھ بھی ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا۔ وقت کی اس بساط پر نہ تو عروج کو ہمیشہ قائم رہنا ہے اور نہ ہی زوال کو۔ مادی دولت، ظاہری شان و شوکت اور عارضی عہدے پر غرور کرنا انسان کی سب سے بڑی نادانی ہے، کیونکہ حالات بدلتے دیر نہیں لگتی اور وقت کی ایک ہی لہر بڑے بڑے محلات کو مٹی میں ملا دیتی ہے۔

​انسان کی یہ سب سے بڑی کمزوری ہے کہ وہ اچھے دن آتے ہی اپنی اصل حقیقت اور مٹی کا وجود بھول جاتا ہے۔ جب اس کا ہاتھ دینے والا ہوتا ہے اور لوگ اس کے دروازے پر امید لے کر آتے ہیں، تو وہ نادانی میں خود کو سب سے برتر سمجھ بیٹھتا ہے؛ حالانکہ یہ خوشحالی صرف ایک امتحان ہوتی ہے۔ تاریخ کے آئینے میں ایسے بہت سے عبرت ناک واقعات موجود ہیں، جہاں صبح کے وقت دوسروں کی قسمت کا فیصلہ کرنے والے، شام ہوتے ہوتے خود ایک ایک نوالے کے لیے زمانے کے محتاج ہو گئے۔

​تکبر اور غرور کی اسی تباہی سے بچانے کے لیے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہایت سخت اور واضح الفاظ میں تنبیہ فرمائی ہے۔ صحیح مسلم کی روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

​”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہوگا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی تکبر ہوگا”۔

​یہ حدیث انسان کے غرور پر کاری ضرب ہے کہ مٹی کے انسان کو زمین پر اکڑ کر چلنا زیب نہیں دیتا۔ عاجزی اور انکساری ہی وہ خوبیاں ہیں جو اللہ کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہیں، جبکہ تکبر انسان کی تمام نیکیوں کو برباد کر کے اسے دونوں جہان میں خسارے میں دھکیل دیتا ہے۔

​مکافاتِ عمل کا یہ قانون اٹل ہے کہ ہر عروج کو ایک دن زوال کی طرف لوٹنا ہے۔ یہ عہدے اور مال و دولت کوئی مستقل جاگیر نہیں، بلکہ اللہ کی امانت ہیں جو لمحوں میں چھینی جا سکتی ہیں۔ عقلمند انسان وہی ہے جو نعمتوں کے ہجوم میں بھی عاجزی کا دامن نہ چھوڑے، کیونکہ جو شخص اچھے وقت میں دوسروں کو حقیر سمجھتا ہے، قدرت اسے ایک دن انہی لوگوں کے سامنے بے بس کر کے عبرت کا نشان بنا دیتی ہے۔

​ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے:

​اتنا مغرور نہ بن سامنے تاریخ بھی رکھ

بانٹنے والا بھی خیرات پہ آ سکتا ہے

Comments are closed.