قربانی اور عصرِ حاضر کا مشاہدہ

 

تحریر الطاف جمیل شاہ سوپور

​تخلیقِ کائنات کا اصل جوہر تسلیم و رضا، اور بندگیِ رب کا نقطۂ عروج جذبۂ ایثار ہے۔ تاریخِ انسانی کے ماتھے پر سجی سچی بندگی کی داستانوں میں سب سے روشن اور ولولہ انگیز داستان اس عظیم الشان قربانی کی ہے، جس کی یاد ہر سال دنیائے اسلام میں ذوالحجہ کے مبارک ایام میں تازہ کی جاتی ہے۔ قربانی محض ایک سالانہ رسم، گوشت خوری کا روایتی بہانہ یا چوپایوں کی نمائش کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ اس جذبۂ ابراہیمی کی ابدی تجدید ہے جس نے انسانیت کو خالقِ کائنات کے حضور سب کچھ وار دینے کا سب سے بڑا سبق سکھایا۔

​یہ عبادتِ مالی اور عبادتِ بدنی کا ایک ایسا حسین اور متوازن امتزاج ہے جہاں مومن اپنے مال سے ایک بے زبان جانور خریدتا ہے اور اسے خالصتاً اللہ کی رضا کے لیے قربان کر دیتا ہے۔ قرآنِ کریم نے اس عبادت کی اصل روح کو انتہائی بلیغ انداز میں ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:

​”اللہ کو ہرگز ان (جانوروں) کا گوشت اور ان کا خون نہیں پہنچتا، بلکہ اسے تو تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ اسی طرح اللہ نے انہیں تمہارے لیے مسخر کیا ہے تاکہ تم اس کی ہدایت پر اس کی بڑائی بیان کرو، اور نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجیے۔” (سورۃ الحج: 37)

​معاشرے کے گہرے اور مسلسل مشاہدے کے دوران یہ بات شدت اور درد کے ساتھ محسوس ہوتی ہے کہ جہاں لوگ قربانی کے لیے مہنگے سے مہنگے جانور خریدنے اور اپنی امارت کا سکہ جمانے میں مسابقت کرتے ہیں، وہاں ذبح کے لطیف آداب، جانور کے حقوق اور قربانی کے بعد صفائی کے بنیادی و اخلاقی تقاضوں سے یکسر غافل نظر آتے ہیں۔ شریعتِ اسلامیہ ایک مکمل ضابطۂ حیات اور دینِ فطرت ہے، جو جہاں انسانوں کے باہمی حقوق متعین کرتی ہے، وہاں حیوانات کے ساتھ بھی نرمی، مروت اور "احسان” کا حکم دیتی ہے۔ زیرِ نظر مقالے میں ہم ان تمام پہلوؤں کا کتاب و سنت کی روشنی میں احاطہ کریں گے اور عصرِ حاضر کے رویوں کا تنقیدی جائزہ لیں گے۔

​1. شریعتِ اسلامیہ میں "احسان” کا تصور

​اسلام کی پوری عمارت عدل، توازن اور احسان پر قائم ہے۔ شریعت کی رو سے احسان یہ ہے کہ ہر کام کو اس کے حسنِ غایت، نفاست اور بہترین طریقے سے سرانجام دیا جائے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشادِ گرامی ہے:

​”بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے اور پاک صاف رہنے والوں سے محبت کرتا ہے۔” (سورۃ البقرہ: 222)

​سیدنا ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

«الطَّهُورُ شَطْرُ الْإِيمَانِ»

​”پاکیزگی ایمان کا نصف (آدھا) حصہ ہے۔” (صحیح مسلم: 223)

​الف۔ "نظفوا افنیتکم” کا حقیقی مفہوم اور دورِ حاضر کا المیہ

​قربانی کے مبارک دنوں میں ہمارے گلی کوچوں کا جو نقشہ ابھرتا ہے، وہ انتہائی تاسف خیز ہے۔ گلیوں میں خون کے تالاب، اوجھڑی کی تعفن زدہ بدبو اور آلائشوں کے بکھرے ڈھیر اسلام کی ان روشن اور پاکیزہ تعلیمات کا منہ چڑاتے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

​«نَظِّفُوا أَفْنِيَتَكُمْ وَلَا تَشَبَّهُوا بِالْيَهُودِ»

​”اپنے صحنوں اور گھر کے ارد گرد کے احاطوں کو صاف ستھرا رکھو اور یہودیوں کی مشابہت اختیار نہ کرو۔” (سنن الترمذی: 2799)

​اس حدیث کی روشنی میں، اپنے گھر کے سامنے کی گلی، محلے اور عوامی راستے کو صاف رکھنا ہماری شرعی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ قربانی ایک انفرادی اور اختیاری عبادت ہے، لیکن اس کی وجہ سے پورے محلے کو تعفن، غلاظت اور گندگی میں مبتلا کر دینا حقوق العباد کی شدید پامالی اور صریح ظلم ہے۔

​ب۔ راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا اجر اور گندگی پھیلانے کا وبال

​نبی کریم ﷺ نے مومن کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا:

​«تُمِيطُ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ صَدَقَةٌ»

​”تمہارا راستے سے کسی تکلیف دہ چیز (پتھر، کانٹا، گندگی) کو ہٹا دینا بھی صدقہ ہے۔” (صحیح البخاری: 2989)

​فکر و تدبر کا مقام ہے کہ جب راستے سے تکلیف دہ چیز کو محض ہٹا دینا کارِ ثواب اور صدقہ ہے، تو خود اپنے ہاتھوں سے راستوں میں تعفن، خون اور اوجھڑی پھینک کر دوسروں کے لیے اذیت کا سامان کرنا کتنا بڑا گناہ اور شرعی جرم ہوگا؟

​جانور کی وہ اشیاء جو کھانے کے قابل نہیں ہیں، انہیں کھلے کچرا دانوں, چوراہوں، گلیوں یا نالیوں میں ڈالنے سے سخت پرہیز کرنا لازم ہے۔ نالیوں میں خون اور اوجھڑی بہانے سے نظامِ نکاسی بلاک ہو جاتا ہے اور گندا پانی سڑکوں پر پھیل جاتا ہے، جس سے راہگیروں اور نماز پڑھنے والوں کے کپڑے ناپاک ہوتے ہیں اور تعفن سے مہلک بیماریاں جنم لیتی ہیں۔

​2. ماحولیاتی طہارت کے لیے عملی تدابیر

​شریعت محض احکامات کا مجموعہ نہیں بلکہ حل بھی پیش کرتی ہے۔ ذیل کے جدول میں قربانی کے دوران پیش آنے والے عصری مسائل اور ان کے شرعی و ماحولیاتی حل پیش کیے گئے ہیں:

نمبر معاشرتی مسئلہ / کوتاہی شرعی و ماحولیاتی متبادل اور حل

1 خون کا گلیوں میں بہنا ذبح کی جگہ پر پہلے مٹی یا ریت ڈالی جائے، اور ذبح کے فوراً بعد پانی سے اچھی طرح بہا کر وہاں چونا یا جراثیم کش دوا چھڑکی جائے تاکہ مکھیاں اور جراثیم نہ پھیلیں۔

2 آلائشوں کا کھلے عام پھینکنا ان آلائشوں کو پلاسٹک کے بڑے اور مضبوط تھیلوں میں بند کر کے بلدیہ کے مقرر کردہ کچرا دانوں میں ڈالا جائے، یا آبادی سے دور زمین میں گڑھا کھود کر دبا دیا جائے۔

3 راستوں کی ناکہ بندی جانوروں کو عین سڑک، فٹ پاتھ یا تنگ گلی کے بیچ میں باندھنے اور ذبح کرنے سے مکمل گریز کیا جائے تاکہ بیماروں، راہگیروں اور گاڑیوں کی آمد و رفت متاثر نہ ہو۔

4 ہڈیوں اور فضلات کا بکھرنا گوشت بنانے کے بعد بچ جانے والی ہڈیوں اور چربی کو آوارہ کتوں کے آگے ڈالنے کے بجائے مناسب طریقے سے تلف کیا جائے تاکہ محلے میں آوارہ کتوں کا ہجوم اور خوف و گندگی نہ پھیلے۔

3. گوشت کی تقسیم اور معاشرتی آداب

​قربانی کا ایک بنیادی اور اہم ترین مقصد غریب، مستحق اور سفید پوش بھائیوں کی دلجوئی اور ان کی کچلی ہوئی خوشیوں کو سہارا دینا ہے۔ مگر موجودہ معاشرتی رویوں میں یہ تلخ حقیقت اکثر سامنے آتی ہے کہ لوگ گوشت کا بہترین، لذیذ اور مغز دار حصہ اپنے فریزر کی نذر کر کے مہینوں کے لیے محفوظ کر لیتے ہیں اور غریبوں کے حصے میں صرف چربی، ہڈیاں اور چھچھڑے آتے ہیں۔ یہ عمل تقویٰ کی روح کے سراسر منافی ہے۔

​قرآنِ مجید میں واشگاف الفاظ میں ارشاد ہے:

​”پس تم اس میں سے خود بھی کھاؤ اور تنگ دست محتاج کو بھی کھلاؤ۔” (سورۃ الحج: 28)

​مستحب طریقہ: گوشت کے تین برابر اور منصفانہ حصے کیے جائیں؛ ایک حصہ اپنے اہل و عیال کے لیے، ایک حصہ دوست احباب اور رشتہ داروں کے لیے، اور ایک حصہ خالصتاً فقراء و مساکین کے لیے۔

​سفید پوشوں کا بھرم: غریبوں اور ضرورت مندوں کو گوشت دیتے وقت ان کی عزتِ نفس کا خاص خیال رکھا جائے۔ انہیں اپنے دروازوں پر لمبی لائنوں میں کھڑا کر کے ان کی غربت کا تماشا بنانے اور تذلیل کرنے کے بجائے، خاموشی اور احترام کے ساتھ ان کے گھروں تک گوشت پہنچایا جائے تاکہ ان کا بھرم قائم رہے۔

​4. اہم باتیں

​معاشرتی نشیب و فراز اور شریعتِ مطہرہ کے بنیادی مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے، ذیل میں چند ایسی کلیدی ہدایات دی جا رہی ہیں جن پر عمل کر کے ہم اپنی قربانی کو رسمیت کے دلدل سے نکال کر ایک مثالی عبادت بنا سکتے ہیں:

​نیت کی طہارت: گوشت خوری، باہمی مفاخرت، برادری میں "واہ واہ” یا کسی بھی دنیاوی فائدے کے بجائے نیت صرف اور صرف اللہ کی رضا ہو۔

​آلات کی تیزی: ذبح سے پہلے چھری کو اس حد تک تیز کر لیا جائے کہ جانور کو سیکنڈوں کے اندر راحت مل جائے اور وہ تڑپنے سے بچ جائے، لیکن یاد رہے کہ یہ تیزی جانور کے سامنے نہ کی جائے کہ یہ اس کی نفسیاتی اذیت کا باعث ہے۔

​پردے کا اہتمام: ایک جانور کو دوسرے جانور کے سامنے ہرگز ذبح نہ کیا جائے، اور نہ ہی ذبح شدہ جانور کے خون اور تڑپ کے اوپر دوسرے زندہ جانور کو لٹایا جائے۔ یہ رحمتِ دو عالم ﷺ کی تعلیمات کے خلاف ہے۔

​جلد بازی سے گریز: جب تک جانور کی جان مکمل طور پر نہ نکل جائے اور اس کا جسم ٹھنڈا نہ ہو جائے، اس کی کھال اتارنے، ہاتھ پاؤں توڑنے یا ٹانگیں کاٹنے کی سخت ممانعت پر عمل کیا جائے۔

​اجرت کا شرعی مسئلہ: قصاب کی اجرت قربانی کے گوشت، کھال، چربی یا جھول سے قطعی نہ دی جائے، بلکہ اپنے پاس سے الگ رقم دی جائے۔ (صحیح مسلم کی حدیث کے مطابق، سیدنا علیؓ فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ہمیں قصاب کو قربانی میں سے بطور اجرت کچھ بھی دینے سے منع فرمایا تھا)۔

​صفائی کی ذاتی مہم: ذبح کے بعد اپنے حصے کی صفائی کے لیے حکومتی اداروں کا انتظار کرنے کے بجائے خود کمر بستہ ہوں۔ گلی کو دھوئیں، جراثیم کش ادویات ڈالیں اور گندگی کو زمین دوز کریں۔

​آخری بات

​حاصلِ کلام یہ ہے کہ قربانی صرف ایک بے زبان جانور کے گلے پر چھری چلا دینے کا نام نہیں، بلکہ یہ اپنے اندر چھپی انا، سفلی خواہشات، بخل اور غفلت کو الٰہی احکامات کے حضور ذبح کر دینے کا ایک بلیغ استعارہ ہے۔ جب تک ہم اپنی عبادات کو ظاہری رسوم سے بلند کر کے ان کے باطنی فلسفے اور اخلاقی تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں کریں گے، تب تک ہم قربانی کے حقیقی ثمرات سے محروم رہیں گے۔

​عصرِ حاضر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ "إِنَّ اللهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ” اور "نَظِّفُوا أَفْنِيَتَكُمْ” جیسے نبویؐ اصولوں کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کا جزوِ لاینفک بنایا جائے۔ شریعت کے بتائے ہوئے آدابِ طہارت اور حقوقِ خلق کی پاسداری محض ایک سماجی ذمہ داری نہیں، بلکہ ایمان کا وہ مقتضا ہے جو بارگاہِ الٰہی میں ہماری قربانیوں کی مقبولیت کا ضامن بنتا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمیں دین کے ظاہری و باطنی آداب کو کماحقہ سمجھنے اور ان پر خلوصِ دل سے عمل پیرا ہونے کی توفیق بخشے۔

​آمین یا رب العالمین۔

Comments are closed.