قربانی — عشقِ ابراہیمی کی لازوال داستان اور اس میں کوتاہی: روحانی زوال کا آغاز
بہ نوک قلم: مفتی عبد المنان قاسمی
(سابق معین مدرس: دارالعلوم وقف دیوبند، ومہتمم: دارالعلوم للبنین والبنات [سیووڈس وتلوجہ] نوی ممبئی)
تمہیدی کلمات:
جب ذی الحجہ کی مبارک فضائیں “اللہ اکبر، اللہ اکبر” کی صداؤں سے گونجتی ہیں، جب ایمان کی خوشبو فضاؤں میں پھیلتی ہے، جب فرزندانِ توحید سنتِ ابراہیمی کی یاد تازہ کرتے ہیں، تب “قربانی” محض ایک عبادت نہیں رہتی؛ بلکہ بندۂ مومن کے عشق، وفا، اطاعت اور سپردگی کی ایک زندہ تفسیر بن جاتی ہے۔
قربانی اس لمحۂ جاوداں کا نام ہے، جب ایک بوڑھا باپ اپنی زندگی کی سب سے محبوب متاع کو اللہ کے حکم پر قربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتا ہے، اور ایک فرماں بردار بیٹا گردن جھکا کر رضائے الٰہی کے سامنے سراپا تسلیم بن جاتا ہے۔ یہی وہ روح ہے جس نے قربانی کو محض ذبحِ حیوان سے بلند کرکے “ذبحِ نفس” کا عنوان عطا کیا۔ اسی لیے قربانی دراصل انسان کے اندر چھپی ہوئی خود غرضی، محبتِ دنیا، حرص و ہوس اور نفسانی خواہشات کو اللہ کے حضور قربان کرنے کا نام ہے۔
قربانی کا لغوی و شرعی مفہوم:
لغوی تحقیق:
“قربانی” کا مادہ “ق ر ب” ہے، جس کے معنی: قرب، نزدیکی اور تقرب کے ہیں۔ گویا قربانی وہ عمل ہے، جس کے ذریعے بندہ اپنے رب کا قرب حاصل کرتا ہے۔
امام راغب اصفہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہر وہ چیز جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کیا جائے، وہ قربانی ہے۔” (المفردات)
شرعی اصطلاح:
شریعتِ اسلامیہ میں “مخصوص ایام میں، مخصوص جانور کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ذبح کرنا قربانی کہلاتا ہے۔”
لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے؛ کیونکہ قربانی کا اصل تعلق “دل” سے ہے، “چھری” سے نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں خون سے زیادہ دلوں کا اخلاص معتبر ہے۔
قرآنِ کریم اور فلسفۂ قربانی:
قرآنِ حکیم قربانی کو محض ایک رسمی عمل نہیں؛ بلکہ روحانی تربیت قرار دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: “فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ.” اپنے رب کے لیے نماز پڑھیے اور قربانی کیجیے۔” (الکوثر: 2)
یہ آیت اس حقیقت کی ترجمان ہے کہ نماز بندگی کا ظاہری اظہار ہے، اور قربانی بندگی کا عملی ثبوت۔
ایک اور مقام پر فرمایا: “لَنْ يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ.” (ترجمہ): “اللہ تک نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں، نہ خون؛ بلکہ تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔” (الحج: 37)
یہاں قرآن حکیم نے قربانی کی پوری روح کو ایک جملے میں سمو دیا کہ: “اللہ تعالیٰ کو تمہارا اخلاص مطلوب ہے، تمہارا تقویٰ مطلوب ہے، تمہارا جھکا ہوا دل مطلوب ہے۔”
قربانی: تاریخِ انسانیت کا عظیم ترین منظر:
تاریخِ عالم میں بے شمار قربانیاں دی گئیں؛ مگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی اپنی مثال آپ ہے۔ ایک طرف بڑھاپے کا سہارا، آنکھوں کی ٹھنڈک، برسوں کی دعاؤں کا ثمر حضرت اسماعیل علیہ السلام؛ اور دوسری طرف ربِّ کائنات کا حکم؛ مگر عشقِ الٰہی جب دلوں میں موجزن ہوجائے، تو پھر جذبات نہیں، احکام بولتے ہیں۔
قرآنِ کریم اس ایمان افروز منظر کو یوں بیان کرتا ہے: “يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ.” “ابا جان! آپ کو جو حکم دیا گیا ہے، اسے پورا کیجیے۔ (الصافات: 102)۔
یہ جملہ صرف ایک بیٹے کا جواب نہیں؛ بلکہ رہتی دنیا تک آنے والے اہلِ ایمان کے لیے وفا و رضا کا منشور ہے۔
قربانی اور عشقِ بندگی:
قربانی دراصل بندگی کی معراج ہے۔ یہ اعلان ہے کہ: اے اللہ! میرا مال تیرا۔ میری خواہشیں تیری۔ میری محبتیں تیری؛ حتیٰ کہ میری جان بھی تیری۔ اسی لیے قربانی کو “سنتِ ابراہیمی” کہا گیا؛ کیونکہ یہ عبادت انسان کو فنا فی اللہ کے مقام تک پہنچاتی ہے۔
احادیثِ نبویہ میں قربانی کی عظمت:
حضرت ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قربانی کے دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک خون بہانے سے زیادہ محبوب کوئی عمل نہیں۔” (سنن ترمذی)
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ: صحابۂ کرامؓ نے پوچھا: یارسول اللہ! یہ قربانی کیا ہے؟ “آپ ﷺ نے فرمایا: یہ تمہارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔” (ابن ماجہ)
گویا قربانی صرف ایک عبادت نہیں، بلکہ انبیاء علیہم السلام کی یادگار، دین کا شعار اور اہلِ ایمان کی شناخت وپہچان ہے۔
قربانی کی روحانی حکمتیں:
۱-نفس کشی کی تربیت:
قربانی انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ: اللہ کی رضا کے مقابلے میں کوئی خواہش بڑی نہیں”۔
۲-اخلاص و وفا کا امتحان:
ہر قربانی دراصل ایمان کا امتحان ہے۔ جو جتنا مخلص ہوگا، اس کی قربانی اتنی ہی عظیم ہوگی۔
۳-امت میں اخوت و مساوات:
قربانی کے گوشت کے ذریعے خوشی غریبوں کے دروازوں تک پہنچتی ہے، اور اسلامی معاشرہ اخوت ومحبت کا پیکر بن جاتا ہے۔
۴-شعائرِ اسلام کا تحفظ:
قربانی اسلام کی عظیم نشانیوں میں سے ہے۔ اس کا اہتمام دراصل اسلامی شناخت کے تحفظ کا اعلان ہے۔
قربانی میں کوتاہی — ایک عظیم خسارہ:
آج کا انسان مادیت میں اس قدر ڈوب چکا ہے کہ عبادتوں کی روح کمزور ہوتی جارہی ہے۔ بعض لوگ مالی وسعت کے باوجود قربانی سے پہلو تہی کرتے ہیں؛ حالاں کہ یہ طرزِ عمل نہایت محرومی کی علامت ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جوشخص وسعت رکھنے کے باوجود قربانی نہ کرے، وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔” (ابن ماجہ)
یہ وعید اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قربانی میں غفلت صرف ایک عمل کا ترک نہیں؛ بلکہ شعائرِ اسلام سے بے رغبتی کی علامت ہے۔
عصرِ حاضر میں قربانی کا پیغام:
آج امتِ مسلمہ کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے، وہ “روحِ قربانی” ہے۔ یعنی خواہشات کی قربانی؛ انا کی قربانی؛ تکبر کی قربانی؛ گناہوں کی قربانی؛ مادہ پرستی کی قربانی۔ جب تک مسلمان اپنی نفسانی خواہشات کو قربان نہیں کرے گا، اس وقت تک حقیقی ایمان کی لذت حاصل نہیں کرسکے گا۔
خلاصۂ کلام:
قربانی ایمان کی حرارت، عشقِ الٰہی کی علامت، اور بندگی کی معراج ہے۔ یہ صرف جانور کے خون بہانے کا نام نہیں؛ بلکہ دلوں کے جھکنے اور نفس کے ٹوٹنے کا عمل ہے۔ جوشخص اخلاص ومحبت کے ساتھ قربانی کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے رب کے حضور وفا کا نذرانہ پیش کرتا ہے۔ اور جو استطاعت کے باوجود اس عظیم عبادت سے غفلت برتتا ہے، وہ صرف ایک عمل نہیں چھوڑتا؛ بلکہ روحانی برکتوں، رحمتوں اور قربِ الٰہی کے عظیم خزانے سے محروم ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی حقیقی روح سمجھنے، اخلاص کے ساتھ اس عظیم عبادت کو ادا کرنے، اور سنتِ ابراہیمی کو اپنی زندگیوں میں زندہ رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین!
Comments are closed.