ہر تحریر کو اپنی ذات پر منطبق کرنا غیر ضروری حساسیت اور منفی سوچ کا نتیجہ ہے
مفتی محمد نسیم ثمر اسعدی
بنگلور، کرناٹک
آج کے دور میں سوشل میڈیا، واٹس ایپ اسٹیٹس اور مختلف تحریروں کا دائرہ اس قدر وسیع ہو چکا ہے کہ ہر روز ہزاروں خیالات، تجربات، مشاہدات اور اصلاحی باتیں لوگوں تک پہنچتی ہیں۔
کوئی جہیز کی لعنت پر قلم اٹھاتا ہے، کوئی سودی لین دین کی تباہ کاریوں پر روشنی ڈالتا ہے، کوئی شادیوں میں ہونے والی فضول خرچی، نمود و نمائش اور بے جا اخراجات کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، اور کوئی معاشرے کی اخلاقی کمزوریوں پر چند سطریں لکھ دیتا ہے۔
مگر افسوس!
ان تمام تحریروں کے درمیان ایک عجیب رویہ تیزی سے بڑھتا جا رہا ہے — ہر لکھی ہوئی بات کو فوراً اپنی ذات پر منطبق کر لینا۔ جیسے ہی کسی تحریر میں “جہیز” کا ذکر آتا ہے، کچھ لوگ فوراً اپنے گھروں کی طرف دیکھنے لگتے ہیں۔
“فضول خرچی” کا لفظ پڑھتے ہی بعض دل اپنی تقریبات کا حساب لگانے لگتے ہیں۔
“سود” پر تنقید ہو تو کئی چہروں پر خاموش اضطراب تیرنے لگتا ہے۔ اور پھر یوں محسوس کیا جاتا ہے جیسے یہ تحریر پورے معاشرے کے لیے نہیں، صرف انہی کو نشانہ بنانے کے لیے لکھی گئی ہو حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع اور سادہ ہے۔ اہلِ قلم جب معاشرے کی کسی برائی پر بات کرتے ہیں تو ان کا مقصد کسی ایک فرد کی پردہ دری نہیں ہوتا، بلکہ ایک اجتماعی بیماری کی نشان دہی کرنا ہوتا ہے۔ جہیز کے خلاف لکھی گئی تحریر کسی ایک خاندان کے خلاف اعلان نہیں ہوتی، بلکہ اس رسمِ ظالمانہ کے خلاف احتجاج ہوتی ہے۔سود پر گفتگو کسی مخصوص انسان کو رسوا کرنے کے لیے نہیں، بلکہ اس گناہ کی سنگینی واضح کرنے کے لیے ہوتی ہے۔
اسی طرح شادیوں کی فضول رسومات پر تنقید کسی ایک محفل کو ہدف بنانے کے لیے نہیں، بلکہ امت کو سادگی اور اعتدال کی طرف بلانے کے لیے ہوتی ہے۔ لیکن بعض لوگ اپنی غیر ضروری حساسیت یا منفی سوچ کی وجہ سے ہر جملے میں خود کو تلاش کرنے لگتے ہیں۔ انہیں ہر تحریر اپنی طرف اٹھتا ہوا تیر محسوس ہوتی ہے۔
ہر اشارہ ذاتی حملہ دکھائی دیتا ہے، اور ہر نصیحت دل پر بوجھ بن جاتی ہے۔ یہ کیفیت دراصل انسان کے اندر موجود بے چینی کی علامت ہوتی ہے۔
کیونکہ صاف دل انسان نصیحت کو سکون سے سنتا ہے۔ اگر اسے اپنی اصلاح کا پہلو نظر آ جائے تو خاموشی سے خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے، اور اگر بات اس پر صادق نہ آئے تو مسکرا کر آگے بڑھ جاتا ہے۔ مگر وہ دل جو ہر وقت خود کو کٹہرے میں محسوس کرے، وہ ہر لفظ سے زخمی ہونے لگتا ہے۔ سمجھدار اور وسیع ظرف لوگ ہر بات کو ذاتی مسئلہ بنانے کے بجائے تحریر کے اصل مقصد کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
وہ اصلاحی بات سے نصیحت حاصل کر لیتے ہیں، مگر بلاوجہ خود کو نشانہ نہیں سمجھتے۔
کیونکہ دانش مندی یہ نہیں کہ انسان ہر بات کا جواب تلاش کرے، بلکہ اصل دانائی یہ ہے کہ وہ ہر بات کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرے۔
یاد رکھئے!
ہر آئینہ صرف آپ کا چہرہ نہیں دکھاتا۔ کچھ آئینے پورے معاشرے کی تصویر بھی سامنے رکھتے ہیں۔ ہر لکھی ہوئی بات آپ کے بارے میں نہیں ہوتی، ہر نصیحت آپ کو مخاطب نہیں کرتی، اور ہر جملہ آپ کی ذات پر حملہ نہیں ہوتا۔ اسلام بھی ہمیں حسنِ ظن، برداشت اور مثبت سوچ کی تعلیم دیتا ہے۔
بلاوجہ بدگمانی کرنا یا ہر بات کو اپنے اوپر لے لینا نہ صرف ذہنی بے سکونی پیدا کرتا ہے بلکہ تعلقات میں بھی تلخی بھر دیتا ہے۔ بدگمانی انسان کے سکون کو کھا جاتی ہے، جبکہ وسیع ظرفی انسان کو وقار عطا کرتی ہے۔ ایک بالغ اور سمجھدار انسان وہی ہوتا ہے جو ہر بات کو ٹھنڈے دل سے سنے، سمجھے، اور اگر اس میں واقعی اپنی اصلاح کا پہلو پائے تو خاموشی سے اپنی اصلاح کر لے، ورنہ فضول رنجش، شکوے اور بدگمانی میں مبتلا نہ ہوں،زندگی کو آسان بنائیے۔
لفظوں سے لڑنے کے بجائے انہیں سمجھنے کی عادت ڈالیے۔
ہر اصلاحی تحریر کو اپنی توہین سمجھنے کے بجائے معاشرے کے درد کی ایک صدا سمجھیے۔ کیونکہ قلم جب سچ لکھتا ہے تو وہ کسی ایک فرد کے خلاف نہیں، بلکہ پورے سماج کی اصلاح کے لیے آواز بلند کرتا ہے۔
Comments are closed.