راجیہ سبھا انتخابات اور کرناٹک میں مسلم نمائندگی: کانگریس کے سامنے ایک بڑا سیاسی امتحان
محمد امین نواز
ملک کی سیاست میں راجیہ سبھا کو ہمیشہ ایک باوقار، سنجیدہ اور فکری ایوان کی حیثیت حاصل رہی ہے۔ پارلیمنٹ کا ایوانِ بالا نہ صرف قانون سازی میں اہم کردار ادا کرتا ہے بلکہ مختلف ریاستوں، طبقات اور سماجی اکائیوں کی نمائندگی کا آئینی پلیٹ فارم بھی سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی راجیہ سبھا انتخابات کا اعلان ہوتا ہے تو سیاسی جماعتوں کے اندر سرگرمیاں بڑھ جاتی ہیں اور مختلف طبقات اپنی نمائندگی کے مطالبات شدت سے پیش کرنے لگتے ہیں۔اس مرتبہ بھی صورت حال کچھ مختلف نہیں۔ الیکشن کمیشن کی جانب سے ملک بھر کی 24 راجیہ سبھا نشستوں کے لیے انتخابی عمل شروع ہوتے ہی کرناٹک کی چار نشستوں پر سیاسی نظریں مرکوز ہوگئی ہیں۔ ان چار نشستوں میں سب سے زیادہ توجہ اس بات پر دی جا رہی ہے کہ کیا کانگریس اس مرتبہ کسی مسلم قائد کو راجیہ سبھا بھیج کر اقلیتی طبقہ کو سیاسی نمائندگی فراہم کرے گی یا نہیں۔الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق 18 جون کو ووٹنگ ہوگی، جبکہ 8 جون نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔ 11 جون تک امیدوار اپنے کاغذات واپس لے سکیں گے اور اسی دن ووٹوں کی گنتی کے بعد نتائج کا اعلان ہوگا۔ کرناٹک سے جن چار اراکین کی میعاد ختم ہورہی ہے، ان میں سابق وزیر اعظم ایچ ڈی دیوے گوڑا، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے، بی جے پی کے ایرّنا کڈاڈیاورکے نارائناشامل ہیں۔ریاستی اسمبلی میں کانگریس کی واضح اکثریت کے باعث چار میں سے تین نشستیں کانگریس کے حصے میں آسکتی ہیں، جبکہ ایک نشست بی جے پی کو ملنے کا امکان ہے۔ یہی عددی طاقت اس وقت کانگریس کے لیے ایک بڑا سیاسی موقع بھی ہے اور امتحان بھی۔کرناٹک کی سیاست میں مسلمانوں کا کردار ہمیشہ اہم رہا ہے۔ ریاست کی تقریباً 14سے زائد فیصد مسلم آبادی کئی اضلاع میں فیصلہ کن سیاسی حیثیت رکھتی ہے۔ بیدر، گلبرگہ، رائچور، یادگیر، وجئے پور، میسور، بنگلورو اور ساحلی کرناٹک کے کئی علاقوں میں مسلم ووٹ کسی بھی جماعت کی جیت یا شکست کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاریخی طور پر مسلمان کانگریس کے مضبوط حامی رہے ہیں۔ خاص طور پر بی جے پی کے سیاسی عروج کے بعد اقلیتی طبقہ نے خود کو کانگریس کے قریب محسوس کیا۔2023 کے اسمبلی انتخابات میں بھی مسلمانوں نے بڑی حد تک کانگریس کی حمایت کی۔ یہی ووٹ بینک کئی حلقوں میں پارٹی کی کامیابی کا سبب بنا۔ اگر مسلم ووٹ کانگریس کے ساتھ نہ ہوتے تو شاید ریاست میں اقتدار کی تصویر مختلف ہوتی۔یہی وجہ ہے کہ اب مسلم تنظیمیں، علماء، دانشور، وکلاء، سماجی کارکن اور سیاسی حلقے مسلسل یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ کانگریس اپنی تین ممکنہ نشستوں میں سے کم از کم ایک نشست کسی باصلاحیت اور تجربہ کار مسلم کے لیے مخصوص کرے۔یہ مطالبہ صرف سیاسی نمائندگی تک محدود نہیں بلکہ یہ اعتماد، شمولیت اور سماجی انصاف کا سوال بھی بن چکا ہے۔ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہ یہ محسوس کرتا ہے کہ انہیں انتخابی سیاست میں ووٹ بینک کے طور پر استعمال تو کیا جاتا ہے، مگر اقتدار اور پالیسی سازی کے اہم مواقع پر ان کی نمائندگی محدود کردی جاتی ہے۔
اگر کرناٹک کی سیاسی تاریخ کا جائزہ لیا جائے تو کانگریس نے مختلف ادوار میں چند مسلم قائدین کو راجیہ سبھا بھیجا ضرور ہے، مگر تعداد کے اعتبار سے یہ نمائندگی انتہائی محدود رہی ہے۔ان مسلم قائدین میں سب سے نمایاں نام کے رحمن خان کا ہے۔ رحمن خان پہلی مرتبہ 1993 میں راجیہ سبھا پہنچے۔ اس کے بعد انہیں 2000 اور 2006 میں دوبارہ ایوان بالا بھیجا گیا۔ وہ مسلسل تین مرتبہ راجیہ سبھا کے رکن منتخب ہوئے اور بعد میں نائب چیئرمین راجیہ سبھا جیسے اہم منصب تک پہنچے۔ ان کی پارلیمانی خدمات کو آج بھی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔رحمن خان نے اقلیتی حقوق، اردو زبان، وقف املاک، تعلیمی اداروں اور سماجی انصاف کے موضوعات پر بھرپور آواز اٹھائی۔ وہ نہ صرف ایک سنجیدہ پارلیمنٹرین کے طور پر جانے گئے بلکہ انہوں نے قومی سیاست میں کرناٹک کی مسلم قیادت کو وقار بھی بخشا۔اسی طرح سی ایم ابراہیم کو 1994 میں جنتادل(ایس)نے راجیہ سبھا بھیجا۔ سی ایم ابراہیم اپنی شعلہ بیانی، سیاسی بصیرت اور قومی سطح کی شناخت کے باعث جنوبی ہند کی مسلم سیاست کا ایک اہم چہرہ رہے ہیں۔ انہوں نے مرکزی وزارت میں بھی خدمات انجام دیں اور اقلیتی سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا۔ان کے علاوہ مختلف ادوار میں بعض دیگر مسلم شخصیات کو بھی محدود مدت کے لیے نمائندگی دی گئی، تاہم مجموعی طور پر دیکھا جائے تو آزادی کے بعد سے اب تک کرناٹک سے کانگریس کے ٹکٹ پر پانچ سے بھی کم نمایاں مسلم قائدین راجیہ سبھا پہنچ سکے ہیں۔یہ اعداد و شمار اس حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں کہ مسلم آبادی کے تناسب کے اعتبار سے نمائندگی نہایت کم رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرتبہ اقلیتی حلقوں میں یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ کانگریس اپنی سیکولر شبیہ کو مضبوط بنانے کے لیے کسی مسلم کو راجیہ سبھا بھیج سکتی ہے۔ اگر کانگریس ایسا فیصلہ کرتی ہے تو اس کے کئی فوری اور دور رس سیاسی فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ اقلیتی طبقہ میں پارٹی کے تئیں اعتماد مزید مستحکم ہوگا۔ مسلمانوں میں یہ پیغام جائے گا کہ کانگریس صرف ووٹ لینے والی جماعت نہیں بلکہ نمائندگی دینے والی پارٹی بھی ہے۔اس کے علاوہ جنوبی ہند میں کانگریس کی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط ہوسکتی ہے۔ کرناٹک، تلنگانہ، کیرالا اور تمل ناڈو میں اقلیتی ووٹ سیکولر سیاست کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کانگریس کرناٹک سے کسی مسلم کو راجیہ سبھا بھیجتی ہے تو اس کا مثبت پیغام پورے جنوبی ہند میں جائے گا۔ایک اور اہم فائدہ یہ ہوگا کہ پارلیمنٹ میں اقلیتی مسائل پر مضبوط اور سنجیدہ آواز میسر آسکے گی۔ آج ملک میں اردو زبان، وقف املاک، اقلیتی تعلیمی اداروں، بے روزگاری، سماجی تحفظ اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی جیسے کئی اہم مسائل موجود ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی باصلاحیت مسلم ایوان بالا میں موجود ہوگا تو وہ ان مسائل کو مؤثر انداز میں پیش کرسکے گا۔کانگریس کے لیے یہ فیصلہ اخلاقی اور نظریاتی اعتبار سے بھی اہم ہے۔ پارٹی ہمیشہ خود کو سیکولر جماعت کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ اگر وہ مسلمانوں کے ووٹ تو حاصل کرے مگر نمائندگی نہ دے تو اس کے سیکولر دعوے کمزور پڑسکتے ہیں۔ موجودہ دور میں نمائندگی کی سیاست انتہائی اہم ہوچکی ہے۔ ہر طبقہ یہ دیکھتا ہے کہ اسے اقتدار، پارلیمنٹ اور فیصلہ سازی میں کس حد تک شامل کیا جا رہا ہے۔ اگر کانگریس اس حقیقت کو سمجھتے ہوئے مسلم نمائندگی کو یقینی بناتی ہے تو اسے سیاسی طور پر بڑا فائدہ ہوسکتا ہے۔اسی مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ اگر کانگریس اس مرتبہ بھی کسی مسلم قائد کو راجیہ سبھا نہیں بھیجتی تو اس کے سیاسی نقصانات بھی ہوسکتے ہیں۔ مسلمانوں میں احساسِ محرومی مزید بڑھ سکتا ہے۔ پارٹی کے اندر موجود مسلم کارکنوں اور مقامی قائدین میں مایوسی پیدا ہوسکتی ہے۔ مسلسل نظرانداز کیے جانے کی صورت میں اقلیتی ووٹر خاموش سیاسی احتجاج بھی کرسکتے ہیں۔ اگرچہ مسلمان مکمل طور پر کسی دوسری جماعت کی طرف منتقل نہ ہوں، لیکن ان کے اندر سیاسی بے دلی پیدا ہوسکتی ہے، جو مستقبل کے انتخابات میں ووٹنگ فیصد کو متاثر کرسکتی ہے۔اسی طرح علاقائی جماعتیں اور بعض مذہبی و سماجی تنظیمیں اس مسئلہ کو بنیاد بناکر کانگریس پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔ اس سے پارٹی کی سیکولر شبیہ کو نقصان پہنچنے کا خدشہ بھی پیدا ہوسکتا ہے۔
کرناٹک کی سیاست میں اس وقت یہ بحث مرکزی حیثیت رکھتی ہے کہ اگر کرناٹکمیں حکمراں جماعت انڈین نیشنل کانگریسکسی مسلم کو راجیہ سبھاکے لیے نامزد کرتی ہے تو وہ محض علامتی نمائندگی کے بجائے ایک تعلیم یافتہ، معتدل، باوقار، تجربہ کار اور قانون سازی و قومی امور میں مؤثر کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھنے والی شخصیت ہونی چاہیے۔ اس بحث کے پس منظر میں مسلمانوں کی پارلیمانی نمائندگی میں مسلسل کمی، بڑھتا ہوا سماجی و سیاسی احساسِ محرومی، اور گزشتہ برسوں میں ہندوتوا سیاست کے فروغ اور فرقہ وارانہ ماحول کے باعث پیدا ہونے والی بے چینی شامل ہے، جس نے مسلم ووٹر خصوصاً نوجوان طبقے میں سیاسی شعور اور مطالبات کو مزید مضبوط کیا ہے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ راجیہ سبھا کی نشست محض سیاسی ایڈجسٹمنٹ نہیں بلکہ قومی سطح پر پارٹی کے نظریاتی اور سیکولر مؤقف کا اظہار ہوتی ہے، اس لیے دیوراج ارس کے دور سے قائم سماجی توازن اور شمولیت کی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے ایک قابلِ قبول اور مؤثر مسلم چہرہ سامنے لانا ضروری ہے۔سدارامیاکی قیادت میں حکومت کی سماجی انصاف کی پالیسیوں کے تناظر میں اس فیصلے کو مزید اہمیت دی جا رہی ہے، جبکہ کانگریس کے اندر بھی ایسے ناموں پر غور جاری ہے جو مختلف طبقات میں قابلِ قبول ہوں۔ اگر پارٹی اس موقع پر مسلم نمائندگی کو اہمیت دیتی ہے تو اسے انتخابی اور اخلاقی دونوں سطح پر فائدہ ہو سکتا ہے، اور اس سے نوجوان ووٹرز کا اعتماد بھی مضبوط ہوگا، جبکہ نظرانداز کرنے کی صورت میں سیاسی بے اعتمادی، ووٹ ٹرن آؤٹ میں کمی اور طویل المدتی ناراضگی جیسے اثرات سامنے آنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔اگرمسلم نمائندگی کو نظرانداز کرتی ہے تو مسلم ووٹروں میں سیاسی بے اعتمادی، ناراضی اور کانگریس سے دوری بڑھ سکتی ہے۔اس کے نتیجے میں بعض علاقوں میں ووٹ اور آئندہ انتخابات میں پارٹی کی مجموعی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔
Comments are closed.