حج اسلام کا پانچواں ستون، عشقِ الٰہی کا عظیم سفر

 

✍️ سید آصف امام کاکوی

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

زمین پر انسان نے بے شمار سفر کیے، کسی نے رزق کی تلاش میں، کسی نے اقتدار کے لیے، کسی نے علم کے لیے، اور کسی نے محبت کے لیے۔ مگر ایک سفر ایسا بھی ہے جو نہ صرف قدموں کو بلکہ روح کو بھی حرکت دیتا ہے۔ ایک ایسا سفر جس میں انسان اپنے رب کے دربار میں حاضر ہو کر اپنے گناہوں، کمزوریوں، آنسوؤں اور امیدوں کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہی سفر “حج” ہے۔ حج صرف چند عبادات کا مجموعہ نہیں، بلکہ بندۂ مومن کے ایمان، صبر، قربانی، عشق، اطاعت اور فنا فی اللہ کا عملی مظاہرہ ہے۔ یہ وہ عبادت ہے جہاں دنیا کے ہر رنگ، ہر زبان، ہر قوم، ہر نسل اور ہر طبقے کے لوگ ایک ہی لباس میں، ایک ہی نعرہ لبیک کے ساتھ، ایک ہی رب کے حضور جھک جاتے ہیں۔ لبیک اللہم لبیک، لبیک لا شریک لک لبیک، ان الحمد والنعمۃ لک والملک، لا شریک لک۔ یہ الفاظ جب لاکھوں زبانوں سے ادا ہوتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے زمین و آسمان کی فضائیں نور سے بھر گئی ہوں۔ دل کانپ اٹھتا ہے، آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں، اور روح اپنے رب کی قربت محسوس کرتی ہے۔ حج کیا ہے؟ حج اسلام کا پانچواں ستون ہے۔ ہر صاحبِ استطاعت مسلمان مرد و عورت پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے۔ یہ صرف عبادت نہیں بلکہ بندے اور خدا کے درمیان عشق و وفا کا عہد ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اور لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس کے گھر تک پہنچنے کی طاقت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے۔ حج دراصل حضرت ابراہیم علیہ السلام، حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی لازوال قربانیوں کی یادگار ہے۔ صفا و مروہ کی سعی میں ایک ماں کی بے قراری ہے، قربانی میں ایک باپ کی اطاعت ہے، اور زمزم میں اللہ کی رحمت کا سمندر۔ حج کا روحانی پیغام حج انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ اصل عزت نہ دولت میں ہے، نہ منصب میں، نہ خاندان میں، بلکہ اللہ کی اطاعت میں ہے۔ جب ایک بادشاہ اور ایک مزدور ایک ہی سفید احرام میں کھڑے ہوتے ہیں تو دنیا کی ساری اونچ نیچ مٹ جاتی ہے۔ وہاں نہ کوئی امیر رہتا ہے نہ غریب، نہ عرب نہ عجم، نہ کالا نہ گورا۔ وہاں صرف ایک شناخت رہ جاتی ہے میں اللہ کا بندہ ہوں۔ حج انسان کے دل سے غرور نکال دیتا ہے۔ احرام کا سفید لباس کفن کی یاد دلاتا ہے۔ منیٰ کے خیمے قیامت کا منظر دکھاتے ہیں۔ عرفات کا میدان حشر کی جھلک پیش کرتا ہے۔ اور مزدلفہ کی رات انسان کو اس کی حقیقت یاد دلاتی ہے۔ 2026 میں دنیا بھر سے تقریباً بیس لاکھ سے زائد عاشقانِ رسول ﷺ اور مہمانانِ خدا سرزمینِ حرم پہنچ چکے ہیں۔ مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ ایک بار پھر “لبیک” کی صداؤں سے گونج اٹھے ہیں۔عرفات کا میدان آہ… وہ عرفات جہاں گناہگار بندے آنسوؤں کے ساتھ اپنے رب سے معافی مانگتے ہیں۔جہاں دل ٹوٹتے بھی ہیں اور جڑتے بھی۔ جہاں دعائیں آسمانوں کے دروازے کھٹکھٹاتی ہیں۔ جہاں اللہ اپنے بندوں پر فخر فرماتا ہے۔ کتنے ہی لوگ وہاں پہنچ کر اپنے ماں باپ کے لیے دعا کرتے ہیں۔ کتنے اپنے مرحومین کو یاد کر کے روتے ہیں۔ کتنے اپنی بکھری ہوئی زندگیوں کو سمیٹنے کی التجا کرتے ہیں۔ عرفات صرف ایک میدان نہیں، رحمتِ الٰہی کا سمندر ہے۔ حج اور حضرت ابراہیمؑ کی قربانی حج ہمیں قربانی کا اصل مفہوم سکھاتا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں اپنے بیٹے کو ذبح کرنے کا حکم دیکھا۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے سر جھکا دیا۔ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا نے صبر کا دامن نہ چھوڑا۔ یہی وہ عظیم خاندان ہے جس نے قیامت تک آنے والے انسانوں کو سکھا دیا کہ اللہ کی رضا سب سے بڑی چیز ہے۔ آج جب حاجی شیطان کو کنکریاں مارتا ہے تو دراصل وہ اپنے نفس، غرور، حسد، لالچ، نفرت اور شیطانی وسوسوں کو ٹھکراتا ہے۔ حج کا سب سے خوبصورت منظر وہ ہوتا ہے جب لاکھوں انسان خانۂ کعبہ کے گرد طواف کرتے ہیں۔ کوئی رو رہا ہوتا ہے، کوئی دعا مانگ رہا ہوتا ہے، کوئی سجدے میں گرا ہوتا ہے، کوئی گناہوں کی معافی طلب کر رہا ہوتا ہے۔ اور بیت اللہ خاموشی سے اپنے رب کے بندوں کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ کعبہ صرف پتھروں کی عمارت نہیں، یہ عشقِ الٰہی کا مرکز ہے۔ ہر مسلمان کا دل کعبہ کی طرف دھڑکتا ہے۔ اسلام نے عورت کو حج میں عزت، وقار اور احترام عطا کیا۔ حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کی سعی کو قیامت تک عبادت بنا دیا گیا۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے ایک ماں کی بے چینی کو عبادت کا حصہ بنا دیا۔ صفا و مروہ کے درمیان دوڑنا صرف ایک عمل نہیں، بلکہ ماں کی محبت کی لازوال داستان ہے۔حج ہمیں کیا سکھاتا ہے؟ حج انسان کو صبر سکھاتا ہے برداشت سکھاتا ہے قربانی سکھاتا ہے عاجزی سکھاتا ہے اتحاد سکھاتا ہے محبت سکھاتا ہے اور اللہ سے سچی وابستگی سکھاتا ہے آج دنیا نفرت، تعصب، جنگ، ظلم اور تقسیم کا شکار ہے۔ ایسے وقت میں حج پوری انسانیت کو پیغام دیتا ہے کہ سب انسان برابر ہیں۔حاجی کون؟ صرف “حاجی” لکھ لینے سے انسان بڑا نہیں بنتا۔ اصل حاجی وہ ہے جس کے اخلاق بدل جائیں۔ جس کی زبان جھوٹ سے پاک ہو جائے۔جس کے ہاتھ ظلم سے رک جائیں۔ جس کی آنکھوں میں حیا آ جائے۔ جس کے دل میں انسانیت کی محبت پیدا ہو جائے۔ اگر حج کے بعد بھی انسان تکبر، جھوٹ، دھوکہ، نفرت اور گناہوں میں مبتلا رہے تو اس نے حج کی روح کو نہیں سمجھا۔ حج پوری امتِ مسلمہ کا سب سے بڑا اجتماع ہے۔ دنیا کے ہر ملک، ہر زبان، ہر نسل کے مسلمان ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ منظر دنیا کو پیغام دیتا ہے کہ اسلام صرف عبادت کا نام نہیں بلکہ اتحاد، محبت اور بھائی چارے کا مذہب ہے۔ آج امت کو سب سے زیادہ ضرورت اسی اتحاد کی ہے۔ ہمیں فرقوں، نفرتوں اور تعصبات سے اوپر اٹھنا ہوگا۔ کیونکہ کعبہ سب کا ہے، قرآن سب کا ہے، رسول ﷺ سب کے ہیں۔ پھر ذرا اُس منظر کو اپنے دل میں زندہ کیجیے جب دنیا کے کونے کونے سے آئے ہوئے لاکھوں انسان، اپنی زبانیں، اپنے رنگ، اپنی قومیتیں، اپنی پہچانیں سب کچھ بھلا کر صرف “اللہ کے بندے” بن جاتے ہیں۔ کوئی افریقہ سے آیا ہے، کوئی ہندوستان سے، کوئی ترکی سے، کوئی فلسطین کے زخم سینے میں لیے پہنچا ہے، کوئی شام کی تباہیوں سے بچ کر آیا ہے، کوئی اپنی ماں کی آخری خواہش پوری کرنے آیا ہے، کوئی برسوں کی مزدوری اور فاقوں کے بعد اللہ کے در پر حاضر ہوا ہے۔ مگر جب سب کے لبوں پر “لبیک اللہم لبیک” آتا ہے تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پوری انسانیت ایک ہی دل بن گئی ہو۔ منیٰ کے خیموں میں رات کے آخری پہر جب لاکھوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھتے ہیں تو فضاؤں میں عجیب سی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ کہیں سسکیاں ہیں کہیں توبہ کے آنسو کہیں ماں اپنے بچوں کے لیے دعا مانگ رہی ہے کہیں ایک جوان اپنے گناہوں پر ٹوٹ کر رو رہا ہے کہیں ایک بوڑھا شخص کانپتے ہاتھوں سے خانۂ کعبہ کو دیکھ کر صرف اتنا کہہ پاتا ہے یا اللہ میں آگیا اور پھر عرفات آہ… عرفات کا میدان وہ جگہ جہاں زمین آسمان سے باتیں کرتی محسوس ہوتی ہے۔ جہاں ہر آنسو عبادت بن جاتا ہے۔ جہاں ہر آہ عرش تک پہنچتی ہے۔ جہاں ٹوٹے ہوئے دلوں کو سکون ملتا ہے۔ سورج ڈھل رہا ہوتا ہے، ہوا میں عجیب سی نمی ہوتی ہے، اور لاکھوں سفید احراموں میں لپٹے انسان اپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی اپنے مرحوم باپ کو یاد کر کے رو رہا ہے، کوئی اپنی ماں کے قدموں کی جنت مانگ رہا ہے، کوئی بیمار اولاد کے لیے شفا چاہتا ہے، کوئی اپنے بکھرے گھر کو آباد کرنے کی دعا کر رہا ہے۔ایسا لگتا ہے جیسے انسان اپنے رب سے پہلی بار سچی بات کر رہا ہو۔ پھر مزدلفہ کی رات آتی ہے کھلا آسمان، خاموش زمین، اور لاکھوں انسان بغیر کسی دنیاوی آسائش کے مٹی پر سوئے ہوئے۔ نہ اونچے بستر، نہ محل، نہ پروٹوکول، نہ غرور۔ وہاں صرف بندہ ہوتا ہے اور اُس کا رب۔ یہی تو حج کا اصل حسن ہے یہ انسان سے اُس کی مصنوعی شان چھین کر اُسے اُس کی اصل حقیقت دکھا دیتا ہے۔ اور جب حاجی شیطان کو کنکریاں مارتا ہے تو دراصل وہ اپنے اندر کے غرور، حسد، نفرت، جھوٹ، لالچ اور گناہوں کو مارتا ہے۔ وہ اعلان کرتا ہے کہ “اے شیطان! اب تُو میرے دل پر حکومت نہیں کرے گا۔ حج انسان کو رُلا بھی دیتا ہے اور بنا بھی دیتا ہے۔ یہ دلوں کی دنیا بدل دیتا ہے۔ کتنے لوگ وہاں جا کر واپس آتے ہیں تو اُن کی آنکھوں میں نرمی، لہجے میں محبت، کردار میں عاجزی اور زندگی میں نور آ جاتا ہے۔ حج کے بعد انسان اگر پہلے جیسا ہی رہے تو سمجھ لیجیے اُس نے صرف سفر کیا، حج کی روح کو محسوس نہیں کیا۔ کیونکہ اصل حج وہ ہے جو دل کو بدل دے، روح کو جگا دے، اور انسان کو انسانیت سے محبت کرنا سکھا دے۔ عرفات میں جب سورج ڈھلنے لگتا ہے تو آسمان بھی جیسے جھک جاتا ہے۔حاجی ہاتھ اٹھا کر روتے ہیں“یا اللہ ہمارے گناہ معاف فرما۔ ہماری نسلوں کی حفاظت فرما۔ ہمارے ملک میں امن عطا فرما۔ نفرتوں کو ختم فرما۔ بھٹکے ہوئے انسانوں کو ہدایت عطا فرما۔” وہاں کی دعاؤں میں پوری انسانیت شامل ہوتی ہے۔ موجودہ دور اور حج کا پیغام آج سوشل میڈیا، سیاست، فرقہ واریت اور مادہ پرستی نے انسان کو اندر سے خالی کر دیا ہے۔ لوگ دولت میں بڑھ رہے ہیں مگر سکون میں کم ہو رہے ہیں۔ ایسے دور میں حج انسان کو اپنے رب سے دوبارہ جوڑتا ہے۔ حج ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل کامیابی بینک بیلنس نہیں بلکہ اللہ کی رضا ہے۔ دل کو ہلا دینے والا منظر سوچیے ایک بوڑھا شخص برسوں کی جمع پونجی خرچ کر کے اللہ کے گھر پہنچتا ہے۔ ایک ماں اپنے بچوں کے لیے دعا مانگتی ہے۔ ایک نوجوان اپنے گناہوں پر رو رہا ہوتا ہے۔ ایک بیمار شخص ویل چیئر پر طواف کر رہا ہوتا ہے۔ اور اللہ سب کو دیکھ رہا ہوتا ہے۔ کتنا کریم ہے میرا رب جو اپنے بندوں کو بلاتا بھی ہے، سنبھالتا بھی ہے، اور معاف بھی فرما دیتا ہے۔حج صرف سفر نہیں، زندگی کی نئی ابتدا ہے۔ یہ انسان کو زمین سے اٹھا کر آسمانوں کی روشنی سے جوڑ دیتا ہے۔ یہ بندے کو دنیا کی بھیڑ سے نکال کر اللہ کے قریب لے جاتا ہے۔ آج جب لاکھوں حاجی خانۂ کعبہ کے سامنے کھڑے ہیں تو دل سے یہی دعا نکلتی ہے یا اللہ جو تیرے گھر پہنچ گئے ان کا حج قبول فرما۔ جو جانے کی تمنا رکھتے ہیں انہیں بلاوا عطا فرما۔ ہم سب کو ایمان، اخلاص، محبت اور انسانیت کی دولت نصیب فرما۔ ہمارے دلوں کو کعبہ کی محبت سے آباد فرما۔ آمین یا رب العالمین۔

 

سید آصف امام کاکوی

پٹنہ عظیم آباد mobile number 7970631167

Comments are closed.