بجھا دیں گے جہنم کو یہ آنسو ہیں ندامت کے ، یوم عرفہ کی حقیقت و اہمیت

مولانا محمد شاہد ناصری حنفی

مدیر اعلیٰ ماہنامہ مکہ میگزین ممبئی

بانی و صدر ادارہ دعوۃ السنۃ ویلفیئر ٹرسٹ مہاراشٹرا

 

اللہ تعالیٰ کا بے پایاں شکر و احسان ہے کہ اُس نے ایک مرتبہ پھر ہمیں یومِ عرفہ جیسی عظیم ساعتوں تک پہنچنے کی مہلت عطا فرمائی۔ وہ دن جسے رحمتوں کی بارش، مغفرت کی بہار، اور قبولیتِ دعا کا خاص لمحہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی پوری زندگی میں بعض اوقات ایسے آتے ہیں جو محض دن نہیں ہوتے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے خصوصی دعوتِ قرب ہوتے ہیں، یومِ عرفہ بھی انہی مقدس ترین لمحات میں سے ایک ہے۔
بعض روایات کے مطابق عشرۂ ذوالحجہ کے یہ مبارک ایام، خصوصاً یومِ عرفہ، عبادت و بندگی کے اعتبار سے سال کے تمام دنوں پر فضیلت رکھتے ہیں۔ یہاں تک کہ اہلِ علم نے یہ بھی لکھا ہے کہ ان ایام میں نیکیوں کی قبولیت اور عبادات کی عظمت اپنی ایک جدا شان رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اہلِ دل ان لمحات کو غنیمت جانتے ہیں اور اپنے ظاہر و باطن کو اللہ تعالیٰ کے حضور جھکانے کی کوشش کرتے ہیں۔
یومِ عرفہ دراصل بندۂ مومن کے لیے محاسبۂ نفس کا دن ہے۔ یہ وہ دن ہے جب انسان دنیا کی ہنگامہ خیزی، مصروفیات کے شور، اور زندگی کی بے شمار الجھنوں سے نکل کر اپنے رب کے حضور بیٹھتا ہے۔ اپنے گناہوں کی گرد جھاڑتا ہے، اپنی غفلتوں پر آنسو بہاتا ہے، اپنے ٹوٹے ہوئے دل کی داستان سناتا ہے، اور رحمتِ الٰہی کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔
اگر ہو سکے تو ایک مرد مومن اس دن اپنی تمام غیر ضروری مشغولیات سے خود کو الگ کرکے ، تنہائی کے کچھ لمحے اپنے رب کے لیے مخصوص کرے ، اور قرآنِ کریم کی تلاوت ،اور دیگر ا ذکار و استغفار میں مشغول رہے، اور سربہ سجود ہو کراپنے دین و دنیا کے تمام مسائل اللہ تعالیٰ کے حضور رکھ دے۔ کیونکہ یہی وہ دن ہے جس میں مانگا ہوا رد نہیں کیا جاتا، ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑے جاتے ہیں، اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو ہدایت کی روشنی عطا کی جاتی ہے۔
یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل سہارا صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ دنیا کے دروازے بند ہو جائیں تب بھی اُس کی رحمت کے در کھلے رہتے ہیں۔ انسان کے وسائل ختم ہو جائیں تب بھی اُس کی قدرت ختم نہیں ہوتی۔ اسی لیے اہلِ معرفت کہا کرتے ہیں کہ یومِ عرفہ دراصل امید کا دن ہے؛ ایسا دن جس میں ایک گناہگار انسان بھی اپنے رب کی رحمت سے قریب ہو جاتا ہے۔

واقعۃً یومِ عرفہ ایسا بحرِ رحمت ہے کہ عقل اس کی وسعتوں کا احاطہ نہیں کر سکتی اور قلم اس کی عظمتوں کا پورا حق ادا کرنے سے عاجز دکھائی دیتا ہے۔ یہ وہ مقدس دن ہے جس کی فضیلت کے چرچے صرف زمین پر نہیں بلکہ آسمانوں میں بھی ہوتے ہیں۔ یہ وہ ساعتِ نور ہے جب رحمتِ الٰہی اپنے جلال و جمال کے ساتھ بندوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے، جب خطاکاروں کی فریادیں بارگاہِ ربوبیت میں شرفِ قبول پاتی ہیں، جب آنسو عبادت بن جاتے ہیں، سجدے نجات کا پروانہ بن جاتے ہیں، اور دعائیں تقدیر کے فیصلوں کو بدلنے لگتی ہیں۔
یومِ عرفہ بندۂ مؤمن کے لیے محض ایک دن نہیں، بلکہ روحانی بیداری، قلبی تطہیر اور قربِ الٰہی کی معراج ہے۔ یہ وہ مبارک دن ہے جس میں رحمت کے سمندر جوش میں ہوتے ہیں، مغفرت کے دروازے وا ہوتے ہیں، اور ربِّ کریم اپنے بندوں پر ایسا فخر فرماتا ہے جس کا تصور ھی دلوں کو سرشار کردیتا ہے۔ یہی وہ دن ہے جس میں جہنم سے آزادی کے پروانے تقسیم ہوتے ہیں، گناہوں کے دفتر مٹائے جاتے ہیں، اور ٹوٹے ہوئے دلوں کو سکون و اطمینان کی دولت عطا کی جاتی ہے۔
کتنے ہی بدنصیب ہیں وہ لوگ جو اس عظیم دن کو دنیا کے مشاغل، بازاروں کی ہنگامہ خیزی، یا غفلت کی نیند میں کھو دیتے ہیں، اور کتنے خوش نصیب ہیں وہ بندے جو عرفہ کے ہر لمحے کو ذکر، دعا، تلاوت، درود اور اشکِ ندامت سے سجا لیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یومِ عرفہ محبتِ الٰہی کا موسمِ بہار ہے؛ ایسا موسم جس میں بندۂ گناہگار امید کے چراغ روشن کر کے رحمتِ خداوندی کے در پر دستک دے سکتا ہے۔
پس اہلِ ایمان کے لیے سعادت کی بات ہے کہ وہ اس دن کو زندگی کے عام دنوں کی طرح نہ گزاریں، بلکہ اس کے ایک ایک لمحے کو حاصل عبادت بنانے کی کوشش کریں، اور اس کی ہر ساعت کو دعا کی خوشبو سے معطر کریں، اور اپنے دلوں کو اس یقین سے بھر لیں کہ شاید یہی وہ دن ہو جس میں آسمانوں پر ان کے نام مقبول بندوں میں لکھ دیے جائیں۔
یوم عرفہ محض عبادت کا ایک موقع نہیں بلکہ بندۂ مؤمن کے لیے مغفرت، قربِ الٰہی، اشکِ ندامت اور دعاؤں کی قبولیت کا عظیم موسمِ بہار ہے۔ اس دن زمین پر بندے دعا میں مشغول ہوتے ہیں اور آسمانوں پر ان کے لیے رحمتوں کے فیصلے صادر ہوتے ہیں۔
رسولِ اکرم ﷺ نے یومِ عرفہ کی عظمت کو ان الفاظ میں بیان فرمایا:
“ما مِن يومٍ أكثرَ مِن أن يُعتِقَ اللهُ فيه عبدًا مِن النارِ مِن يومِ عرفة”
“اللہ تعالیٰ یومِ عرفہ سے زیادہ کسی دن بندوں کو جہنم سے آزاد نہیں فرماتا۔”
(صحیح مسلم)
یہ حدیثِ مبارکہ یومِ عرفہ کی شان کو واضح کرتی ہے کہ یہ دن جہنم سے آزادی، مغفرت اور رحمتِ خداوندی کے نزول کا دن ہے۔ اسی لیے اہلِ معرفت اس دن کو غفلت میں نہیں گزارتے بلکہ اپنی روح کو توبہ، دعا اور ذکر سے منور کرتے ہیں۔
اسی طرح حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
“خيرُ الدعاءِ دعاءُ يومِ عرفة”
“سب سے بہترین دعا، یومِ عرفہ کی دعا ہے۔”
(جامع ترمذی)
یہ ارشاد اس حقیقت کا اعلان ہے کہ عرفہ کے دن مانگی جانے والی دعائیں اللہ تعالیٰ کے دربار میں خاص مقام رکھتی ہیں۔ گویا یہ دن دعا کی قبولیت کا آسمانی موسم ہے۔
رسولِ کریم ﷺ نے یومِ عرفہ کے روزے کی فضیلت بھی یوں بیان فرمائی:
“صيامُ يومِ عرفة أحتسبُ على اللهِ أن يُكفِّرَ السنةَ التي قبلَه والسنةَ التي بعدَه”
“مجھے اللہ سے امید ہے کہ یومِ عرفہ کا روزہ ایک سال پہلے اور ایک سال بعد کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔”
(صحیح مسلم)
کتنی عظیم رحمت ہے کہ ایک دن کا روزہ دو سال کے گناہوں کے لیے بخشش کا ذریعہ بن جاتا ہے۔
یومِ عرفہ کے دن رسول اللہ ﷺ بکثرت ذکر، تسبیح، تہلیل اور دعا میں مشغول رہتے تھے۔ خصوصاً یہ مبارک دعا کثرت سے پڑھتے:
“لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد، وهو على كل شيء قدير”
ترجمہ:
“اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے، تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھتا ہے۔”
یہ وہ کلمات ہیں جنہیں نبی کریم ﷺ نے یومِ عرفہ کی بہترین دعا قرار دیا ہے ۔
اسی طرح عرفہ کے دن ان دعاؤں کا اہتمام بھی نہایت بابرکت ہے:
“اللهم إنك عفوٌّ تحبُّ العفوَ فاعفُ عني”
“اے اللہ! تو بہت معاف فرمانے والا ہے، معافی کو پسند فرماتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔”
“رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ”
“اے ہمارے رب! ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما، اور ہمیں جہنم کے عذاب سے بچا لے۔”
“اللهم اعتق رقابنا من النار”
“اے اللہ! ہماری گردنوں کو جہنم سے آزاد فرما دے۔”
“اللهم اغفر لي ولوالديَّ وللمؤمنين والمؤمنات”
“اے اللہ! میری، میرے والدین کی، اور تمام مؤمن مردوں اور عورتوں کی مغفرت فرما۔”

حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “یہ افضل ترین استغفار ہے۔”
اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَىٰ عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ، وَأَبُوءُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي؛ فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ۔
ترجمہ:
اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں، تو نے مجھے پیدا فرمایا اور میں تیرا بندہ ہوں… پس مجھے بخش دے، کیونکہ تیرے سوا گناہ بخشنے والا کوئی نہیں۔
صحیح بخاری، حدیث: 6306

رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ
ترجمہ:
اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا، اور اگر تو نے ہمیں نہ بخشا اور ہم پر رحم نہ فرمایا تو ہم ضرور خسارہ پانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
سورۃ الأعراف: 23
کثرتِ مغفرت کی دعا
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ، دِقَّهُ وَجِلَّهُ، وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ، وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ
ترجمہ:
اے اللہ! میرے تمام گناہ بخش دے، چھوٹے بھی اور بڑے بھی، پہلے بھی اور پچھلے بھی، ظاہر بھی اور پوشیدہ بھی۔ صحیح مسلم، حدیث: 483
رحمت و مغفرت کی جامع دعا
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِكَ تَهْدِي بِهَا قَلْبِي، وَتَجْمَعُ بِهَا شَمْلِي، وَتَغْفِرُ بِهَا ذَنْبِي
ترجمہ:
اے اللہ! میں تجھ سے ایسی رحمت مانگتا ہوں جس کے ذریعے تو میرے دل کو ہدایت دے، میرے منتشر معاملات کو جمع فرما، اور میرے گناہوں کو بخش دے۔
المعجم الکبیر للطبرانی (حسن المعنیٰ)
مختصر مگر عظیم استغفار
أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ
ترجمہ:
میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ زندہ اور قائم رکھنے والا ہے، اور میں اسی کی طرف توبہ کرتا ہوں۔
سنن ابی داؤد، حدیث: 1517
رحمت کی دعا
يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ
ترجمہ:
اے ہمیشہ زندہ رہنے والے، اے سب کو قائم رکھنے والے! میں تیری رحمت کے ذریعے فریاد کرتا ہوں۔
سنن ترمذی، حدیث: 3524
7۔ حضور ﷺ کی کثرت سے پڑھی جانے والی دعا
رَبِّ اغْفِرْ لِي وَتُبْ عَلَيَّ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
ترجمہ:
اے میرے رب! مجھے بخش دے اور میری توبہ قبول فرما، بے شک تو بہت توبہ قبول فرمانے والا، نہایت رحم والا ہے۔
سنن ترمذی، حدیث: 3434

اللَّهُمَّ مَغْفِرَتُكَ أَوْسَعُ مِنْ ذُنُوبِي، وَرَحْمَتُكَ أَرْجَىٰ عِنْدِي مِنْ عَمَلِي
ترجمہ:
اے اللہ! تیری مغفرت میرے گناہوں سے زیادہ وسیع ہے، اور تیری رحمت مجھے اپنے عمل سے زیادہ امید دلاتی ہے۔

اَللَّهُمَّ ارْوِ خَاطِرَنَا بِالْجَبْرِ، وَصُبَّ عَلَى قُلُوبِنَا مِنْ كُلِّ خَيْرٍ، وَأَدِمْ عَلَيْنَا مِنْ فَضْلِكَ بِالسِّتْرِ، وَأَذِقْنَا حَلَاوَةَ الْعِوَضِ بَعْدَ الرِّضَا وَالصَّبْرِ،
وَاسْقِنَا مِنْ يَدَيْ حَبِيبِكَ الْمُصْطَفَى ﷺ شَرْبَةً هَنِيئَةً مَرِيئَةً لَا نَظْمَأُ بَعْدَهَا أَبَدًا..

اَللَّهُمَّ أَرْوِ قُلُوبَنَا بِالرَّاحَةِ، وَأَرْوِ حَيَاتَنَا بِالْعَطَاءِ وَالسُّرُورِ، وَأَرْوِ قُلُوبَنَا بِكُلِّ أُمْنِيَةٍ نَحْلُمُ بِهَا، وَأَرْوِ حَيَاتَنَا بِالْأَقْدَارِ السَّعِيدَةِ

اَللَّهُمَّ صَلِّ وَسَلِّمْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ ﷺ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ ،
ترجمہ:
اے اللہ! ہمارے دلوں اور احساسات کو اپنی مہربان نوازش اور ٹوٹے دلوں کے جوڑ سے سیراب فرما، ہمارے قلوب پر ہر قسم کی بھلائی نازل فرما، اور اپنے فضل سے ہماری پردہ پوشی اور حفاظت ہمیشہ قائم رکھ۔
اور ہمیں رضا اور صبر کے بعد اپنی عطا کی مٹھاس چکھا دے۔
اور اپنے محبوب مصطفیٰ ﷺ کے مبارک ہاتھوں سے ہمیں ایسی خوشگوار اور مبارک گھونٹ نصیب فرما کہ اس کے بعد کبھی پیاس نہ لگے۔
اے اللہ! ہمارے دلوں کو راحت سے بھر دے، ہماری زندگیوں کو عطا اور خوشیوں سے سیراب فرما، ہمارے دلوں کو ہر اُس جائز آرزو سے نواز دے جس کا ہم خواب دیکھتے ہیں، اور ہماری زندگیوں کو خوشگوار تقدیروں سے معمور فرما۔
اے اللہ! ہمارے نبی محمد ﷺ پر، آپ کی آل اور تمام صحابہ پر رحمت و سلام نازل فرما ،
یومِ عرفہ کا اصل حسن یہی ہے کہ بندہ اپنے رب کے حضور ٹوٹ جائے، اپنی بے بسی کا اعتراف کرے، آنکھوں کو اشکبار کرے اور رحمتِ خداوندی سے امید باندھ لے۔ یہ دن دنیا کے شور سے نکل کر اللہ کے در پر جھک جانے کا دن ہے۔ یہ دن اپنے ماضی کے گناہوں کو آنسوؤں میں بہا دینے اور ایک نئی روحانی زندگی شروع کرنے کا دن ہے۔
پس خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے ہونٹ ذکرِ الٰہی سے تر رہیں، جن کی زبان درود شریف اور دعاؤں سے معطر ہو، جن کی آنکھیں خشیتِ الٰہی سے نم ہوں، اور جن کے ہاتھ دعا کے لیے بلند ہوں۔ کیونکہ عرفہ کا سورج ڈوبتے ڈوبتے نہ جانے کتنے گناہگاروں کے مقدر بدل دیتا ہے، کتنے خطاکاروں کو بخشش عطا ہو جاتی ہے، اور کتنے نام جہنم سے آزادی پانے والوں میں لکھ دیے جاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں یومِ عرفہ کی حقیقی برکتیں نصیب فرمائے، اس دن کی دعاؤں کو قبول فرمائے، اور ہمیں اپنے مقبول، مغفور اور آزاد کردہ بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین یا رب العالمین،
ہمارے پیر و مرشد حضرت مولانا شاہ محمد احمد صاحب پرتاب گڑی رحمت اللہ علیہ نے کیا خوب فرمایا ہے ،
تسلی ہم گنہ گاروں کو حاصل ہو گئی احمد
بجھا دیں گے جہنم کو یہ آنسو ہیں ندامت کے،

Comments are closed.