یا اللہ حج کے ایام میں ہماری دعا قبول فرما!

 

تحریر: جاوید بھارتی

دنیاوی قانون کے مطابق جو مجرم اپنے آپ کو قانون کے حوالے کردیتا ہے یا عدالتوں میں سرینڈر کرتا ہے تو اس کے ساتھ کچھ رعایت برتی جاتی ہے،، یاد رکھیں میدان عرفات تو اللہ کی عدالت ہے یاد رکھیں جب میدان محشر قائم ہوگا تب بھی اللہ کی عدالت ہوگی جہاں حساب وکتاب ہوگا اور جزا و سزا کا فیصلہ ہوگا وہاں بھی کوئی بچے گا تو صرف اور صرف اللہ کے فضل و کرم کی بنیاد پر ہی بچے گا اسی کی ایک جھلک ہے میدان عرفات جہاں لوگ حاضر ہوکر کہتے ہیں کہ اے اللہ میں حاضر ہوں،، اے اللہ میں حاضر ہوں،، میں خطاکار ہوں، میں سیاہ کار ہوں، دولت کے نشے میں بہک گیا، اپنے جاہ و منصب میں مست ہوگیا، تیرے احکامات کو بھول بیٹھا لیکن اے رب کائنات آج میں تیرے دربار میں اپنی چودھراہٹ ٹھکراکر آیا ہوں، اپنا جاہ و منصب چھوڑکر آیا ہوں، اپنے تمام گارڈ و پروٹوکول کو ٹھوکر مارکر آیا ہوں مجھے اپنے سارے جرم قبول ہیں آج یقین ہوگیا کہ کوئی مددگار نہیں بس ایک تو ہی مددگار ہے اور تیرے ہی کرم سے بیڑہ پار ہے تو ہماری حاضری کو قبول فرما اور رحم و کرم کا معاملہ فرما

اے اللہ ہم سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کے ناخن تک گناہوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، اے اللہ ہماری انکھیں گناہ کر چکی ہیں، اے اللہ ہماری زبان گناہ کر چکی ہیں، اے اللہ ہمارا دل وسوسوں سے بھرا ہے، اے اللہ ہمارے قدم بہکے ہوئے ہیں ، ائے اللہ ہم رات کے اندھیروں میں گناہ کر چکے ہیں، اے اللہ ہم مجمعے میں گناہ کر چکے ہیں، اے اللہ ہم اکیلے میں بھی گناہ کر چکے ہیں ، اے اللہ ہم حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی میں کوتاہی کرچکے ہیں، اے اللہ ہم اپنے ہاتھوں کو سخاوت کے لئے اٹھانے میں پیچھے رہ گئے ہیں ، اے اللہ ہم اپنے پاؤں کو راہ صداقت میں بڑھانے میں بھی پیچھے رہ گئے ہیں ، اے اللہ تونے آنکھیں عطا کیں لیکن ہم دیدار حقیقت میں پیچھے رہ گئے ہیں ، اے اللہ تونے ہمیں پیشانی عطا کی لیکن ہم تیری بارگاہ میں جھکانے میں پیچھے رہ گئے ہیں ،اے اللہ تونے زبان عطا کی لیکن ہم تیرے ذکر و اذکار میں پیچھے رہ گئے ہیں ، اے اللہ تونے ہمیں رہنے کے لئے مکان دیا لیکن اس مکان سے ہم تلاوت قرآن کی صدا بلند کرنے میں پیچھے رہ گئے ہیں ، اے اللہ تونے ہمیں آرام کے لئے نیند اور رات عطا کی لیکن اس رات کے حصے میں ہم تہجد ادا کرنے اور تجھ سے قریب ہونے میں پیچھے رہ گئے ہیں، اے اللہ فجر کے وقت اذان کے کلمات سن کر ہم مسجد کی طرف دوڑنے میں پیچھے رہ گئے ہیں ، اے اللہ ظہر، عصر اور مغرب کی اذان کے کلمات سن کر بھی ہم مسجد کی طرف نہیں دوڑتے، اے اللہ ہم نماز عشاء بھی ترک کرتے ہیں، اے اللہ تیرے دربار میں ہم اپنے جرموں کا اقرار کرتے ہیں صرف اس آس اور امید و یقین سے کرتے ہیں کہ تو ہی خالق و مالک ہے ، توہی رحمٰن و رحیم ہے ، تو ہی کریم و غفار ہے ،اے اللہ ہمارے گناہوں کا اقرار کسی عدالت میں کیا جائے تو ہمیں پھانسی کی سزا دے دی جائے، ہمیں جیلوں میں بند کر دیا جائے، ہمیں کوڑے مار دیے جائیں، مگر تو گناہوں کو معاف کرنے والا ہے ، تو ہی ہماری فریاد کو سننے والا ہے، تو اپنے بندوں سے ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے ،اے کریم خدا ہم تیرے دربار میں نہ آئیں تو ہم کہاں جائیں، تیری بارگاہ میں نہ گڑگڑائیں تو کہاں گڑگڑائیں ، اے پروردگار تو نے جو فرمایا کہ جب میرا بندہ مجھے مصیبت میں پکارتا ہے تو میں اس کی پکار کو سنتا ہوں، پھر تجھ سے زیادہ رحم کرنے والا کون ہے اے کریم خدا تیرے حبیب کی امت اج کسم پرسی کی حالت میں ہے، اے اللہ جگہ جگہ تیرے حبیب کی امت کے بچوں کی چیخیں نکل رہی ہیں، اے کریم خدا آج آندھی زلزلے طوفان یہاں ہیں ،اے اللہ تیرے محبوب کی پوری امت کو دنیا کے کچھ ظالم حکمران ہلاک کرنا چاہتے ہیں، قران مقدس کی بے حرمتی کرتے ہیں، تیرے محبوب کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں، دین اسلام کو دنیا سے مٹانے کا خواب دیکھ رہے ہیں، اور اس کے لیے کوشش کر رہے ہیں، تیرے بندوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توے جا رہے ہیں،، اے رب العالمین اب تو رحم فرما کرم فرما رحم و کرم کی بارش فرما،،

اے اللہ ہم گنہگار ہیں ہم خطا کار ہیں ہم سیاہ کار ہیں ہم بدکار ہیں لیکن اے پروردگار آخر ہم تیرے ہی بندے ہیں اور تیرے محبوب کی امت ہیں جب بھی سجدہ کرتے ہیں تو تیری بارگاہ میں ہی سجدہ کرتے ہیں تیرے محبوب کا ہی کلمہ پڑھتے ہیں ،، اے اللہ جتنے بھی فرزندان اسلام حج بیت اللہ کے لئے مکہ مکرمہ گئے ہوئے ہیں اور جتنے زائرین تیرے محبوب کے آستانہ مقدس پر حاضری دے چکے ہیں اور جتنے لوگ حج کے بعد حاضری دیں گے ان کا واسطہ ، حج کے ایام میں جتنے حجاج کرام میدان عرفات میں جمع ہیں ان کا واسطہ ، جتنے لوگ لبیک اللہم لبیک کی صدائیں بلند کررہے ہیں ان کا واسطہ ،، اے اللہ تجھے تیرے محبوب محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ ، تجھکو تیری رحیمی و کریمی کا واسطہ الہ العالمین پوری دنیا میں مذہب اسلام کا بول بالا فرما، پوری دنیا کے مسلمانوں کے جان و مال ، ایمان و عمل ، عزت و آبرو کی حفاظت فرما ، پوری دنیا کو حاسدین کے حسد اور مفسدین کے فساد سے محفوظ فرما ، پوری دنیا کو امن وامان کا گہوارہ بنا، ہماری پیشانیوں میں سجدوں کی تڑپ پیدا فرما، ہمارے دلوں کو حب نبی سے روشن فرما اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے حالات سازگار بنا ، یا اللہ ہر مسلمان کو حج بیت اللہ کی سعادت اور آستانہ سید عرب وعجم پر حاضری نصیب فرما ،دشمنان اسلام کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا اور مسلمانوں کو کامیابی و کامرانی عطا فرما آمین ثم آمین یا رب العالمین

Comments are closed.