اجتماعی کاموں میں مسلمان باہم تعاون کریں!
محمد قمر الزماں ندوی۔۔۔۔۔
دگھی گڈا جھارکھنڈ 9506600725
اس وقت صرف ہندستانی مسلمان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مسلمان جن نازک ،مشکل اور پریشان کن حالات سے گزر رہے ہیں اور دن بدن حالات جس قدر نازک ہوتے جارہے ہیں وہ عیاں اور بیاں ہے ۔اسلام کے خلاف چاروں طرف فکری، ثقافتی اور عملی جنگ برپا ہے ۔ لیکن افسوس کہ اس کے باوجود ہماری صفوں میں بے یقینی بے خبری بے عملی اور باہمی تعصب اور گروہی مفادات اور عصبیت عام ہے، جو کسی بھی ملت کے لئے زوال اور پستی کا عندیہ اور پیش خیمہ ہے ۔
آج مسلمان ان مشکل اور ناگفتہ بہ حالات میں بھی آپس کے تنازعات میں الجھ کر اپنی قوت فکر و عمل اور اپنی صلاحیت کار ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رہے ہیں ۔ یہ صورت حال یقینا امت کے لئے انتہائی نازک اور خطر ناک ہے ۔
افسوس کہ ہم اپنی بیماری اور مرض بھی جان رہے ہیں اور مرض کا نسخہ بھی جان رہے ہیں اور میسیحا مسیحائی بھی کر رہے ہیں، لیکن پھر بھی یہ طے کرکے بیٹھے ہیں کہ ہم کو بیمار ہی رہنا ہے اور اپنی جان اور اپنے ایمان و عقیدہ اور عزت و احترام کی حفاظت سے بے تعلق ہی رہنا ہے اور اپنی زندگی میں تبدیلی نہیں لانی ہے ۔ جب بیمار اور مریض یہ فیصلہ خود کرلے، تو اس سے بڑھ کر المیہ اور ٹریجڈی کیا ہوسکتی ہے ۔
لیکن مریض کتنا ہی بے حس ہو جائے ، معالج اور مسیحا ناامید نہیں ہوتا اور وہ اپنا نسخہ لکھنے سے نہیں رکتا اور شفا کی امید سے مایوس بھی نہیں ہوتا ۔
آج ہم اس مریض امت کے لئے ایک ایسے حکیم نباض کا داروئے شفا پیش کرتے ہیں، جنہوں نے اس امت کی مسیحائی کے لئے اپنا سب کچھ قربان کر دیا تھا اور جو اس امت کی سربلندی، اس کی تعمیر و ترقی کے لئے ہمیشہ بے چین و متفکر رہتے تھے اور جو زبان حال اور زبان قال سے کہتے تھے
میری زندگی کا مقصد تیرے دیں کی سرفرازی
میں اسی لئے مسلماں میں اسی لئے نمازی
میری مراد اپنے دور کے فقیہ زمانہ دور اندیش اور فقیہ النفس عالم دین حضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب رح ہیں، جنہوں نے اپنی اس ذیل کی تحریر میں امت کے لئے اپنے درد و سوز کو کو بیان کیا ہے اور حقیقت حال کی عکاسی کی ہے ، نیز مرض کیساتھ ساتھ نسخے کی بھی تشخیص کی ہے، حضرت قاضی صاحب رح کی شخصیت میرے لیے ایک آئیڈیل اور نمونہ کی شخصیت تھی، آج کی مجلس اور آج کے پیغام میں ہم ان کی اس تحریر کو ہدئہ قارئین کرتے ہیں اس امید کہ ساتھ کے قاضی صاحب کے اس درد کو ہم سب اوڑھ لیں اور ملت کے وجود و بقاء کے لئے باہم متحد ہو جائیں اور اجتماعی کاموں میں ایک دوسرے کا بھر پور تعاون کریں ۔
حضرت قاضی صاحب رح کی اس فکری تحریر کو توجہ سے پڑھئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بے یقینی ،بے خبری ،بے عملی اور تعصب و تنگ نظری کسی بھی فرد ،جماعت ،امت اور قوم کے لئے زوال کی بنیاد ہے ،بے یقینی یعنی اعتقاد کی کمزوری ،بے خبری یعنی اپنے گرد و پیش سے بے خبر رہنا ۔بے عملی یعنی صحیح سمت میں صحیح اقدام سے گریز ،عملی جد و جہد سے فرار اور تعصب و تنگ نظری یعنی فرد یا جماعت کا اپنے ذاتی اغراض اور گروہی مفادات کو ملی اور اجتماعی مفاد پر ترجیح دینا ،حق کو اپنے اندر محدود سمجھنا ،اچھے کاموں میں تعاون سے گریز کرنا اس لیے کہ یہ کام دوسروں کے ہاتھوں ہو رہا ہے ۔کسی کام کی مخالفت ،اس لیے نہیں کہ وہ غلط ہے بلکہ اس لئے کہ وہ کسی اور بینر کے تحت ہورہا ہے ۔
آج کا ہندستانی معاشرہ جن نازک اور پیچیدہ حالات سے گزر رہا ہے ۔ وہ روز بروز نازک ہوتے جارہے ہیں ۔ لیکن انتہائی بد قسمتی یہ ہے کہ ہماری صفوں میں انتشار روز افزوں ہے ۔ بنیادی طور پر ہم بے یقینی کا شکار ہوچکے ہیں ۔بے خبری ہماری امتیازی صفت ہے ،گرد و پیش میں کیا ہو رہا ہے ،ماحول میں ہمارے خلاف کس کس طرح کی سازشیں رچی جا رہی ہیں ۔کتنی زیر زمین تحریکیں اسلام اور مسلمانوں کی جڑیں اکھاڑ دینے کے لیے چلائی جارہی ہیں ،ہم ان تمام چیزوں سے بے خبر ہیں اور ہم اس قدر بے حس ہیں کہ اگر خبر ہو بھی تو ہمارے پاس کوئی فکر نہیں ،منصوبہ بندی نہیں ،عملی جد و جہد نہیں ،جو لوگ ذرا حساس ہیں بھی تو وہ اپنی اپنی گروہ بندی اور آپنے اپنے جماعتی حصار کے قیدی ہیں ۔ملت کے مفاد سے زیادہ انہیں گروہ اور جماعت کا مفاد عزیز ہے ،اور پھر یہ تعصب اس قدر بڑھتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے خلاف کردار کشی کی مہم شروع کر دیتے ہیں ۔
ہمیں پختہ اعتقاد اور اخلاص کی تعلیم دی گئی ہے ۔ فرد ہو، کوئی گروہ ہو یا کوئی جماعت ،اس کے لئے ضروری ہے کہ اللہ کی رضا کو سب کچھ سمجھے اور جو کرے محض اللہ کی رضا کے حصول کے لیے کرے ۔حدیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں فراست مومن کا حوالہ دیا گیا ہے اور،، لا یلدغ المؤمن من جحر مرتین ،، مومن ایک سوراخ سے دوبار نہیں ڈسا جاسکتا ۔اور خود آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر دم اپنے گرد و پیش سے باخبر رہنا اور منافقین و کفار کی سازشوں سے باخبر رہنے کی کوشش فرمانا کیا اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ہمہ دم حالات پر گہری نظر رکھنی چاہیے اور معاملات میں فراست ایمانی کا ثبوت دینا چاہیے ۔
قرآن کریم نے جس طرح عمل صالح اور جہاد فی سبیل اللہ پر زور دیا ہے اور خود قرآن نے غزوئہ فکری( فکری و نظریاتی جہاد) یعنی جادلھم بالتی ھی احسن،، کی تلقین کی ہے کیا ہمارے لیے اس کی گنجائش ہے کہ اسلام کے خلاف چاروں طرف فکری اور عملی جنگ برپا ہو اور ہم نہ صرف یہ کہ بے حس اور بے عمل رہیں بلکہ آپس کے تنازعات میں الجھ کر اپنی قوت عمل اور اپنی صلاحیت کار خود ایک دوسرے کے خلاف استعمال کریں ۔شخصیتیں جو برسہا برس میں بنتی ہیں ان کا اثر و رسوخ ملت کا قیمتی سرمایہ ہے ،ہم ان شخصیتوں کی کردار کشی کرکے اپنے ہاتھوں خود اپنی عزت کے ان میناروں کو منہدم کریں۔
اللہ تعالیٰ نے ہمیں حکم دیا ہے تعاونوا علی البر و التقویٰ ولا تعاونوا علی الاثم و العدوان ،، یعنی نیکی و تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرنا، گناہ اور ظلم کے کاموں میں تعاون نہ کرنا ۔ کیا اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کہیں بھی کسی کے ہاتھوں میں اگر کوئی کار خیر ہورہا ہو تو اس کے ساتھ ہمارا ایمانی فریضہ ہے کہ ہم تعاون کریں ۔تعاون فکری ہو یا عملی اس کا معیار صرف یہ ہے کہ پرکھیں اور جانچیں کہ یہ کام نیکی اور تقویٰ کا ہے یا نہیں ۔ یہ ہرگز نہیں ہے کہ ہم دیکھیں کہ یہ کام کس کے ہاتھوں ہو رہا ہے اور کس کے جھنڈے کے نیچے ہو رہا ہے ۔ ایسا سونچنا انتہائی درجہ کا تعصب اور تنگ نظری ہے جس کے لئے اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ۔ امت کو کلمہ کی بنیاد پر جمع کیا جانا چاہیے ۔اور کاموں میں تعاون بر و تقویٰ اور خیر کی بنیادوں پر کیا جانا چاہیے ۔ نظریات کے پیمانہ پر بھی حق کو اپنے اندر ایسے امور میں محدود جاننا جو منصوص قطعی نہیں بلکہ محل اختلاف ہوسکتے ہیں اور ان میں دو رائے ہوسکتی ہے بالکل صحیح نہیں ۔
یہ انتہائی بدنصیبی ہے کہ ہم کہ ہم کام اسلام کے نام پر کرتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی واضح تعلیمات سے گریز کرتے ہوئے ایسے ملی کاموں میں تعاون سے لوگوں کو روکتے ہیں جو سراسر خیر ہیں اور محض اس لئے روکتے ہیں کہ وہ کام ان لوگوں کے ہاتھ ہو رہا ہے جو ہمارے ہم مسلک اور ہمارے ہم جماعت نہیں ہیں ۔ یہ صورت حال امت کے لئے انتہائی خطرناک ہے ۔۔( ہفتہ وار ,, نقیب ,, یکم جنوری 2024ء )
Comments are closed.