جامعہ عائشہ صدیقہ(نورچک، بسفی مدھوبنی) میں گزشتہ کل گزارے ہوئے چند یادگار پَل اور مشاہدے پر مبنی کچھ تاثرات!

 

مفتی اشرف علی قاسمی

خادم التدریس جامعہ دارالایمان (ہیگڈے نگر بنگلور)

گزشتہ کل بروز بدھ شمالی بہار کے معروف ضلع مدھوبنی کے مردم خیز گاؤں نورچک میں واقع تعلیمِ نسواں کے ایک نہایت مقبول، فعال اور باوقار ادارے جامعہ عائشہ صدیقہ میں حاضری کا شرف حاصل ہوا۔ یہ وہ ادارہ ہے جو *ایک مؤقر و مقبول ترین عالم دین حضرت مولانا مفتی محمد حسنین صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ (بانی و ناظم جامعہ عائشہ صدیقہؓ* ) کی زیرِ نگرانی نہایت حسنِ انتظام اور وسیع تر تعلیمی وژن کے ساتھ اپنے مشن کی جانب مسلسل گامزن ہے۔

 

جامعہ میں حاضری کی خواہش عرصۂ دراز سے دل میں تھی، تاہم اس سعادت کا موقع *محترم مولوی امداد اللہ صاحب* (شریکِ عربی ہفتم، دارالعلوم دیوبند) کی کئی سالوں سے جاری دعوت و اصرار کے نتیجے میں میسر آیا۔ چنانچہ گزشتہ روز اس علمی و تربیتی مرکز کی زیارت اور وہاں کے علمی ماحول کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا، جس نے دل پر خوش گوار اور دیرپا نقوش چھوڑے۔

 

جامعہ پہنچنے پر سب سے پہلے جامعہ کے متحرک، فعال اور جواں سال استاذ *مولوی محمد انعام اللہ صاحب* (فرزندِ ارجمند حضرت مولانا مفتی محمد حسنین صاحب قاسمی) سے ملاقات ہوئی۔ موصوف نے نہایت خندہ پیشانی، محبت اور اپنائیت کے ساتھ استقبال فرمایا بعد ازاں خصوصی ناشتہ سے ضیافت کی جس میں محبت، خلوص اور اپنائیت کی وہ کیفیت محسوس ہوئی جو اہلِ علم کی میزبانی کا خاصہ ہے۔

 

اسی موقع پر جامعہ کے مقبول ترین اور عالی نسبتوں کے حامل بزرگ عالم *حضرت مولانا محب اللہ صاحب قاسمی دامت برکاتہم العالیہ (شیخ الحدیث جامعہ ہذا* ) سے بھی ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔ حضرت کی زیارت اور ملاقات یقیناً اس حاضری کی ایک اہم یادگار تھی۔ بعد ازاں جامعہ کے دیگر اساتذۂ کرام سے بھی ملاقات ہوئی، جس سے ادارے کے علمی ماحول اور باہمی محبت و اخوت کی ایک خوب صورت تصویر سامنے آئی۔

 

اس کے بعد مولوی محمد انعام اللہ صاحب نے نہایت تفصیل کے ساتھ جامعہ کا تعارف کرایا اور اس کے قیام، سنگِ بنیاد اور مختلف مراحلِ ارتقا سے واقفیت فراہم کی۔ پھر جامعہ کی تعلیمی و تربیتی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے مختلف شعبہ جات اور درسگاہوں کا گشت کروایا۔

 

جامعہ کی اعدادیہ سے دورۂ حدیث تک کی تعلیمی ترتیب، باقاعدہ درسگاہیں، شعبۂ کمپیوٹر، مشین سلائی کی تربیت، مضمون نگاری، ماہنامہ اور تسلسل کے ساتھ جاری دیواری پرچہ—یہ سب طالبات کے علمی ذوق، تخلیقی صلاحیت اور فکری بیداری کی روشن علامتیں محسوس ہوئیں۔

 

خصوصاً عصری تعلیم کے لیے قائم کی گئی ڈیجیٹل کلاسوں نے بہت متاثر کیا۔ مختلف باصلاحیت اور ذی استعداد خواتین کے ذریعے ان کلاسوں میں تعلیم و تربیت کا انتظام اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ادارہ صرف روایتی دینی تعلیم تک محدود نہیں، بلکہ وقت کے تقاضوں، بدلتے ہوئے حالات اور آنے والے مستقبل کی ضروریات کو بھی پوری بصیرت کے ساتھ پیشِ نظر رکھتا ہے۔

 

اسی طرح دارالقرآن کی درسگاہیں بھی قابلِ ذکر ہیں، جہاں طلبۂ حفظ و ناظرہ کے لیے تعلیم کا نظم ہے۔ ان درسگاہوں میں عصری علوم کی مناسب شمولیت بھی ادارے کی وسعتِ نظر اور بانیِ ادارہ کی دوربینی و دوراندیشی کی واضح دلیل محسوس ہوئی۔ دینی بنیادوں کے استحکام کے ساتھ زمانۂ حاضر کی ضروریات سے واقفیت پیدا کرنا یقیناً ایک ایسا امتزاج ہے جس کی آج کے دور میں شدید ضرورت ہے۔

 

الحمدللہ! جامعہ کے مختلف شعبہ جات کا معائنہ کرنے کے بعد دل کو بے حد خوشی اور اطمینان حاصل ہوا۔ سرزمینِ بہار کے بارے میں یہ جملہ مشہور ہے کہ ” *یہاں کی زمینیں جہاں مردم خیز ہوتی ہیں، وہیں مردم خور بھی ہوتی ہیں* “ایسے ماحول اور مختلف اسباب و وسائل کی کمی کے باوجود اگر ایک ادارہ اس شان، وسعت اور مقبولیت کے ساتھ اپنی علمی و تربیتی خدمات انجام دے رہا ہو تو یہ بلاشبہ اہلِ علاقہ کے لیے بالخصوص اور پورے صوبۂ بہار کے لیے بالعموم کسی نعمتِ غیر مترقبہ سے کم نہیں۔

 

یہ بھی خوش آئند بات ہے کہ جامعہ کی سرگرمیوں میں محض تعلیمی مشغولیت نہیں بلکہ فکر، ذوق، تربیت، خود اعتمادی اور عملی زندگی کی تیاری کے مختلف پہلوؤں کو بھی شامل رکھا گیا ہے۔ بلاشبہ کسی بھی تعلیمی ادارے کی اصل کامیابی صرف بڑی عمارتیں یا کثیر تعدادِ طلبہ نہیں، بلکہ ایسی نسل تیار کرنا ہے جو علم کے ساتھ شعور، صلاحیت کے ساتھ کردار اور دینی وابستگی کے ساتھ زمانے کے تقاضوں کو سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہو۔

 

جامعہ سے رخصت ہوتے وقت ادارے کی طرف سے چند عدد سہ ماہی رسائل بھی عنایت کیے گئے۔ واپسی کے بعد جب ان رسائل کے اوراق پلٹنے اور مضامین کا مطالعہ کرنے کا موقع ملا تو جامعہ کے مشن، وہاں کے باصلاحیت و ذی استعداد اساتذہ و معلمات، طالبات کے عمدہ ذوق، علمی کاوشوں اور انقلابی فکر کا مزید اندازہ ہوا۔

 

رسائل کے مطالعے نے اس احساس کو اور بھی مضبوط کیا کہ جب کوئی ادارہ اکابرِ امت کی دعاؤں، ان کے قائم کردہ خطوط اور دینی و تعلیمی اصولوں کی روشنی میں خلوص، محنت اور مسلسل جدوجہد کے ساتھ پروان چڑھتا ہے تو اس کے ثمرات بھی یقیناً خوش گوار، امید افزا اور دور رس ہوتے ہیں۔

 

جامعہ عائشہ صدیقہؓ میں گزرا ہوا یہ مختصر وقت بظاہر چند گھنٹوں پر مشتمل تھا، لیکن اس دوران جو علمی ماحول دیکھا، اہلِ علم سے ملاقاتیں ہوئیں، اساتذہ و معلمات کی محنتوں کا مشاہدہ کیا اور طالبات کے ذوق و صلاحیت کی جھلکیاں دیکھیں، وہ سب دل و دماغ پر دیرپا اثر چھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔

 

یقیناً ایسے ادارے کسی ایک فرد کی کاوش کا نتیجہ نہیں ہوتے؛ ان کے پسِ پشت ایک طویل جدوجہد، خلوص، دعائیں، قربانیاں اور مسلسل محنت کارفرما ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات و خواتین کی کاوشوں کو شرفِ قبول بخشے جنہوں نے اس علمی و تربیتی گلشن کی آبیاری میں اپنا حصہ ادا کیا ہے۔

 

آخر میں اس مبارک و مسعود حاضری کے موقع پر بارگاہِ الٰہی میں دست بدعا ہوں کہ اللہ تعالیٰ جامعہ عائشہ صدیقہؓ کو دن دوگنی رات چوگنی ترقیات سے نوازے، اس کے فیض کو مزید وسیع فرمائے، اسے داخلی و خارجی تمام فتنوں اور آزمائشوں سے محفوظ رکھے ،

اللہ تعالیٰ اس علمی شجر کو مزید تناور فرمائے، اس کی شاخوں کو دور تک پھیلائے، اس کے سائے کو امت کی بیٹیوں کے لیے باعثِ خیر بنائے اور یہاں سے نکلنے والی ہر طالبہ کو علم، عمل، کردار اور دعوت و اصلاح کا روشن چراغ بنائے۔

آمین بجاہِ النبی الامین ﷺ

مفتی اشرف علی قاسمی

خادم التدریس جامعہ دارالایمان (ہیگڈے نگر بنگلور)

Comments are closed.