دوسرے مذاھب اورانسانیت کا احترام
مفتی احمدنادرالقاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا
جس وقت ہنٹنگٹن کی دنیامیں پائےجانےوالے مذھبی گروہوں یاتہذیبوں کے درمیان تصادم والی کتاب the clash of civilizations and the remaking of world order شائع ہوئی تھی اوراس کے بین الاقوامی سطح پر خوب چرچے ہوئے..جس میں انھوں نے بنیادی طورپر دنیا کی دوعالمی تہذیبوں .یعنی اسلام اورمغربیت کے درمیان سردجنگ کے بعد ٹکراو کی بات کہی تھی. اس وقت میرے ذہن میں یہ بات آئی تھی کہ اگر دنیا میں لوگوں کے درمیان *مذھب اورانسانیت کااحترام* باقی رہےگا تو نظریاتی کشمکش کے باوجود دوتہذیبوں اورمذاھب کے درمیان عمومی ٹکراو کبھی نہیں ہوسکتا. جزوی سے انکارنہیں.جیسے بش انتظامیہ کے زمانے میں عراق.اورافغانستان کے ساتھ .صلیبی جنگ کانام دیکرٹکراو ہوا. اوراس وقت اسرارئیل اورامریکہ ملکر ایران کے ساتھ نبردآزماہے. جسے اگرچہ اسٹیٹ آف ہرموز یا جوہری توانائی کی جنگ کہاجارہاہے. مگرہے وہ درپردہ تہذیبی تصادم اوراس بات کو اسرائیل کی شمولیت نے پختہ کردیاہے. اس کے درپردہ بھی انسانیت اورمذھب کاعدم احترام کا عنصر ہی کارفرماہے. اب آتے ہیں.میانمار اور بھارت کی موجودہ صورت حال کی طرف. .برمامیں جوکچھ ہوا اور عالمی برادری وہاں کےانسانیت کے خلاف ہونے والے جرائم پرتھراگئی تھی. وہ بھی دراصل مذھبی اورقومی .نیز تہذیبی عدم احترام کے نتیجے میں ہی رونماہوا. تھا جس کی زدمیں آنے والے لاکھوں انسان آج بھی اس دردسے کراہ رہے ہیں. ہمارے ملک بھارت میں .2014 کے بعد جوحالات ماب لنچننگ .نفرت ہجومی قتل .معاشی بائکاٹ اور ووٹ کی اکثریت کی بنیاد قانونی طریقے سے اسلامی شناخت کو ختم کرنے اورمسلم کمیونٹی کو ایک بے اثر کمیونٹی بنادینے کی صورت سامنے آئئی اورجس کاسلسلہ ہنوز جاری ہے. اسے میں تہذیبی تصادم اس لئیے نہیں کہ سکتاکہ ایک تہذیب اقلیت میں ہے اورکمزورہے. اوردوسراگروہ اکثریت میں ہے اورمعاشی.سیاسی اورافرادی قوت میں زیادہ ہے. دونوں کاکوئی مقابلہ نہیں ہے. اسلئے میں اس صورت حال کو بجائے تصادم کے نفرت.مذھبی عصبیت.اوردوسرے مذھب اورانسانیت کے عدم احترام کی نظرسے دیکھتاہوں . اگر اپنے مذھب کے ساتھ دوسرے مذھب اوردوسرے کی آستھا بھی احترام ہوتاتو کبھی اکثریت کی بنیادپر قانون کاسہارالیکر مسلمان اور اسلام سے جڑی ہوئی چیزوں کوختم کردینے کی کوشش نہیں ہوتی. بلکہ جس طرح اپنے مذھب سے جڑی ہوئی چیزوں کے تحفظ.اوربقاکی کوششیں ہورہی ہیں.دوسرے مذاھب کی طرح مسلمانوں. بلکہ ان کے مذھبی چیزوں کی بھی حفاظت کی تدابیرکی جاتیں. مگرمعاملہ اس کے برعکس ہے. اوریہ نتیجہ ہے دوسرے مذھب کے عدم احترام کا. بھلے ہی اس کاکچھ بھی نام دےکر قانون سازی کی جاتی ہو.مگر مقصد صاف ہے. مسلم کمیونٹی کو اپنی تہذیںی روایات میں ضم کرنا. اسی موجودہ وندے ماترم والے مسئلہ کو لے لیجئے .ظاہرہے ہندوعقیدے کے مطابق دھرتی کو ایک پالن ہار دیوی کامقام ہے .ان کے یہاں ایکشورواد نہیں ہے.اس لئے دھرتی کی وندناکرنے میں ان کے یہاں کوئی مضائقہ نہیں ہے. مگر ایک مسلمان دنیاکی کسی شیئ کو خالق ورازق اوراللہ کادرجہ نہیں دے سکتا. اورنہ ہی اس کی وندناکرسکتاہے.اس کےعقیدے کے مطابق زمین سے اگنے والے اناج بھی زمین نہیں اگاتی .اس میں طاقت کہاں.وہ پانی کے قطروں اوراللہ کے حکم کی محتاج ہے.اس لئیے کبھی وہ زمین کو خداکادرجہ نہیں دے سکتا. ورنہ وہ مسلمان ہی باقی نہیں رہےگا. مذھب ہی بھرشٹ ہوجائےگا. ہندوبھائیوں کو بجائے اپنی منطق لگانے. قانون کی خلاف ورزی اوردیش دروہی کانام دینے کہ مسلمانوں کی آستھا اورمذھبی عقیدے کا احترام کرتے ہوئے اپنی اپنی جگہ رہ کر ملک کو آگے لے جانے کی بات کرنی چاہئے. میں ایک بارپھر ہنٹنگٹن کے تہذیبی تصادم کے نظریہ کی تردید کرتے ہوئے .یہ کہتاہوں کہ *اگر قرانی اصول "لکم دینکم ولی دین” اور”ولاتسبوا الذین یدعون من دون اللہ "کواختیارکرتےہوئے دنیامیں ہرمذھب کے اعتقادی مسلمات اورانسانیت کے احترام کوملحوظ رکھاجائے توکبھی تہذیبوں میں تصادم نہیں ہوگا.
Comments are closed.