مقاصدی قواعد اور اقلیتوں کے مسائل پر ان کی تطبیق کے موضوع پر اہم علمی و تربیتی پروگرام منعقد

معاصر دور میں مقاصدِ شریعت کی معنویت، مخلوط معاشرے کے مسائل، اقلیتوں کے فقہی مسائل اور مختلف سماجی و سیاسی حالات میں شرعی اصولوں کی عملی تطبیق کے متعدد پہلوؤں پر اہل علم کی گفتگو

 

حیدرآباد: اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا)، نئی دہلی کے زیر اہتمام اور المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد کے اشتراک و تعاون سے ’’مقاصدی قواعد اور اقلیتوں کے مسائل پر ان کی تطبیق‘‘ کے عنوان سے علمی و تربیتی پروگرام، مؤرخہ: 4-6 ربیع الاول 1448ھ، مطابق: 18-20 اگست 2026ء، روز: منگل – جمعرات منعقد ہوا، جس میں معاصر دور میں مقاصدِ شریعت کی معنویت، مخلوط معاشرے کے مسائل، اقلیتوں کے فقہی مسائل اور مختلف سماجی و سیاسی حالات میں شرعی اصولوں کی عملی تطبیق کے متعدد پہلوؤں پر اہلِ علم نے گفتگو کی۔

 

پروگرام کا آغاز مقاصدِ شریعت کی بنیادی اہمیت اور مخلوط معاشرے میں بقائے باہم کے اصولوں سے ہوا۔ مفتی شاہد علی قاسمی نے مقاصدِ شریعت کا تعارف پیش کرتے ہوئے حفظِ دین، حفظِ جان، حفظِ عقل، حفظِ نسل اور حفظِ مال کو بنیادی مقاصد قرار دیا اور واضح کیا کہ ان سے واقفیت مسائل کے حل کی بصیرت اور اجتہادی صلاحیت پیدا کرنے میں معاون ہے۔ ’’مخلوط معاشرہ اور بقائے باہم کی بنیادیں‘‘ کے موضوع پر انہوں نے مذہبی آزادی، عدل و انصاف، انسانی جان و مال کے تحفظ، اقلیتوں کے حقوق اور باہمی احترام کو پُرامن بقائے باہم کے بنیادی اصول قرار دیا۔

 

جامعہ عائشہ نسواں حیدرآباد کے استاذِ حدیث مفتی عارف باللہ نے ’’مسلم مصالح کے لیے سیاسی پارٹیوں یا غیر مسلم تنظیموں کے ساتھ تعلقات‘‘ کے موضوع پر موجودہ جمہوری و دستوری ماحول میں مسلمانوں کے سیاسی و سماجی تعامل کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے مکمل کنارہ کشی اور مفاد پرستانہ وابستگی، دونوں انتہاؤں سے بچتے ہوئے دینی اصولوں اور اسلامی تشخص کی حفاظت کے ساتھ جائز حقوق اور اجتماعی مفادات کے لیے مؤثر سیاسی و سماجی کردار کی ضرورت پر زور دیا۔

 

اسی نشست میں المعہد کے نائب ناظم مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی نے مقاصدِ شریعت کی علمی بنیادوں اور عصر حاضر میں اس کی معنویت پر گفتگو کرتے ہوئے شریعت کو عدل، رحمت، حکمت اور مصلحت پر قائم قرار دیا۔ انہوں نے ابن تیمیہ، ابن قیم، امام شاطبی، علامہ قرافی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہم اللہ کی علمی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے واضح کیا کہ مقاصدِ شریعت فقہی روایت کا بنیادی حصہ ہیں۔ ہندوستانی تناظر میں ’’فقہِ تعایش‘‘ کی ضرورت، میثاقِ مدینہ اور متغیر مسائل میں حالات، عرف اور مصالح کی رعایت پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے اسلامی تشخص کی حفاظت کے ساتھ مشترکہ انسانی مفادات میں تعاون کی تلقین کی۔

 

دوسری نشست میں ڈاکٹر مولانا مفتی تنظیم عالم قاسمی، استاذِ حدیث دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد، نے ’’تبدیلیِ مذہب کے بعد کسی مسلمان کا اپنے غیر مسلم رشتہ دار کا وارث ہونا‘‘ کے مسئلے کو مقاصدی قواعد کی روشنی میں پیش کیا۔ انہوں نے اس مسئلے کی فقہی تاریخ، مختلف آرا اور حفظِ دین، دعوتِ اسلام اور تالیفِ قلب جیسے مقاصد کا جائزہ لیتے ہوئے بعض معاصر فقہی اداروں کے فیصلوں کا حوالہ دیا۔

 

مولانا تبریز عالم حلیمی قاسمی، استاذِ حدیث دارالعلوم حیدرآباد، نے ’’سماج کی ترقی اور بقائے باہم کے لیے مختلف مذاہب کے درمیان مفاہمت‘‘ کے موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے بقائے باہم کو مذہبی و ثقافتی اختلاف کے باوجود امن، تحمل اور تعاون کے ساتھ زندگی گزارنے سے تعبیر کیا اور موالات، مواسات، مدارات اور معاملات کی تفصیل بیان کرتے ہوئے واضح کیا کہ جائز سماجی و معاشی معاملات میں حسنِ سلوک اور تعاون کی گنجائش ہے، جب کہ عقائد و عبادات میں کسی مفاہمت کی گنجائش نہیں۔

 

ڈاکٹر محمد سراج الدین قاسمی، اسسٹنٹ پروفیسر اسلامک اسٹڈیز، مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، نے ’’مخلوط آبادی میں غیر مسلموں کے تہواروں اور شادیوں میں شرکت‘‘ کے موضوع پر مقاصدی قواعد کی روشنی میں گفتگو کی۔ انہوں نے معاصر مسائل کے حل میں زمینی حقائق، عرف اور معاشرتی حالات کے درست فہم کی ضرورت پر زور دیا۔ شادی بیاہ میں شرکت کو شرعی حدود اور حسنِ معاشرت سے مربوط کرتے ہوئے مذہبی تہواروں کے سلسلے میں اسلامی تشخص اور حفظِ دین کو بنیادی ترجیح قرار دیا۔

 

آخری نشست میں ڈاکٹر مولانا مفتی محمد اعظم ندوی، صدر شعبۂ ثقافت المعہد، نے ’’علم المقاصد پر تحریر کردہ معاصر کتابیں: خصوصیات و امتیازات‘‘ کے عنوان سے مقاصدِ شریعت پر لکھی گئی اہم جدید و معاصر تصانیف کا تعارف اور ان کی علمی خصوصیات پیش کیں۔ ڈاکٹر مولانا مفتی احمد نور عینی، استاذِ حدیث و فقہ المعہد، نے ’’بھارتی سماجی انصاف کی تحریک کے ساتھ تعامل‘‘ کے موضوع پر ہندوستانی سماجی انصاف کی تحریکوں کے ساتھ مسلمانوں کے تعامل کو مقاصدی قواعد کی روشنی میں پرکھا۔ مولانا پروفیسر محمد فہیم اختر ندوی، استاذِ شعبۂ اسلامیات مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، نے ’’مقاصدی قواعد اور عملی تطبیقات‘‘ کے عنوان سے نئے اور پیش آمدہ مسائل پر مقاصدی قواعد کے اطلاق کا منہج متعدد عملی مثالوں کے ذریعے واضح کیا۔

 

تینوں نشستوں کی صدارت بالترتیب المعہد کے نائب ناظم مفتی عمر عابدین قاسمی مدنی، معتمدِ امورِ انتظامی مفتی اشرف علی قاسمی اور فقیہ العصر حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، جنرل سکریٹری اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا و ناظمِ المعہد، نے فرمائی۔ صدورِ نشست نے اپنے صدارتی کلمات میں مقاصدِ شریعت کے علمی فہم، عصر حاضر کے پیچیدہ مسائل کے ادراک اور شرعی اصولوں کی روشنی میں متوازن فقہی رہنمائی کی ضرورت پر زور دیا۔ بالخصوص حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اختتامی نشست میں پروگرام کے مجموعی علمی و تربیتی فوائد پر روشنی ڈالی اور مقاصدِ شریعت کے مطالعے کو عصر حاضر کے مسائل کے حل سے مربوط کرنے کی ضرورت واضح کی۔

 

 

پروگرام کی مختلف نشستوں میں طلبہ نے تلاوتِ قرآن اور نعتِ رسول ﷺ کی سعادت حاصل کی۔ پہلی نشست کی نظامت مولانا نوشاد اختر ندوی، صدر شعبۂ مطالعۂ مذاہب، نے انجام دی، دوسری نشست کی نظامت مولانا محمد انظر قاسمی، استاذ المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد، نے کی، جب کہ تیسری اور آخری نشست کی نظامت مولانا ناظر انور قاسمی، صدر شعبۂ انگریزی المعہد العالی الاسلامی حیدرآباد، نے بحسن و خوبی انجام دی۔ آخری نشست میں طلبہ نے ورکشاپ کے علمی و تربیتی فوائد کے حوالے سے اپنے تاثرات بھی پیش کیے۔ اس موقع پر اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کی مطبوعہ کتاب ’’جدید مسائل اور فقہ اکیڈمی کے فیصلے‘‘ بھی شرکائے پروگرام، بالخصوص طلبہ میں تقسیم کی گئی۔

 

پروگرام کا مجموعی علمی ماحول اس احساس کو نمایاں کرتا رہا کہ مقاصدِ شریعت فقہی روایت سے الگ کوئی نیا علم نہیں، بلکہ نصوص و فقہی اصولوں کے صحیح فہم اور معاصر حالات میں ان کی مناسب تطبیق کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ اس کے ذریعے طلبہ کو جدید فقہی مسائل کے ادراک، صحیح تصورِ مسئلہ اور شرعی اصولوں کی روشنی میں متوازن حل تلاش کرنے کی عملی بصیرت فراہم کرنے کی کوشش کی گئی۔

Comments are closed.