جمعیۃ علماء ہند کے تربیتی ورکشاپ میں مفتی اشفاق قاضی کی خصوصی شرکت
ائمۂ مساجد کی ذمہ داریاں اور تربیت، کامیاب کاؤنسلنگ، پری و پوسٹ میرج پر اہم رہنمائی
نئی دہلی۔26؍اگست: جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے اصلاحِ معاشرہ کے عنوان سے منعقدہ چار روزہ تربیتی ورکشاپ میں معروف عالمِ دین، مذہبی اسکالر، شریعہ ایڈوائزر اور فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے بانی و ڈائریکٹر مفتی اشفاق قاضی نے جمعیۃ علماء ہند کی خصوصی دعوت پر دہلی کے مرکزی دفتر میں شرکت کی ، اور دو روز تک مختلف اہم موضوعات پر شرکاء سے سیر حاصل گفتگو کی، ۲۴؍اگست کو ’’ائمۂ مساجد کی ذمہ داریاں‘‘ اور ائمۂ مساجد کی تربیت کے موضوع پر رات ۸ بجے سے ۱۰ بجے تک خصوصی نشست ہوئی، جس میں مفتی اشفاق قاضی نے ائمۂ مساجد کے مقام و منصب، ان کی دینی و معاشرتی ذمہ داریوں اور موجودہ دور کے تقاضوں پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام صرف نماز کا امام نہیں بلکہ مسجد اور معاشرے کے درمیان ایک مؤثر دینی و اصلاحی رہنما ہوتا ہے، مسجد کو صرف نماز کی ادائیگی کی جگہ تک محدود رکھنے کے بجائے اسے تعلیم، تربیت، اصلاح، رہنمائی اور معاشرتی خیر کا مرکز بنانے کی ضرورت ہے، وہیں ۲۵؍اگست کو انہوں نے ’’کامیاب کاؤنسلنگ اور بہترین کاؤنسلرز‘‘، ’’کاؤنسلرز کی صفات‘‘، نیز شادی سے قبل تربیت اور شادی کے بعد رہنمائی کے موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی۔ مفتی اشفاق قاضی نے فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر میں اپنے عملی تجربات اور وہاں پیش آنے والے مختلف خاندانی و ازدواجی معاملات کی روشنی میں بتایا کہ مؤثر کاؤنسلنگ محض مشورہ دینے کا نام نہیں، بلکہ فریقین کو تحمل سے سننے، مسئلے کی اصل نوعیت سمجھنے، اعتماد قائم کرنے، رازداری برقرار رکھنے اور حکمت و توازن کے ساتھ حل کی طرف رہنمائی کرنے کا نام ہے، انہوں نے شادی سے قبل تربیتی پروگرام کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ لڑکے اور لڑکی کو ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں، باہمی حقوق، اختلافات کے حل، مالی معاملات، سسرالی رشتوں، گفتگو کے آداب اور ایک دوسرے کی نفسیاتی ضرورتوں سے پہلے ہی واقف کرایا جائے تو بہت سے تنازعات کو جنم لینے سے قبل روکا جاسکتا ہے، جبکہ شادی کے بعد رہنمائی کا مقصد پیدا ہونے والے اختلافات کو شدت اختیار کرنے سے پہلے صبر، حکمت اور باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ ایک بہترین کاؤنسلر کے لیے دینی بصیرت کے ساتھ انسانی نفسیات، خاندانی حالات اور معاشرتی حقیقتوں کی سمجھ بھی ضروری ہے، اسے کسی ایک فریق کا نمائندہ بننے کے بجائے انصاف، خیر خواہی اور اصلاح کو اپنا مقصد بنانا چاہیے، مفتی اشفاق قاضی نے اپنے تجربات کی روشنی میں یہ بھی واضح کیا کہ خاندانی تنازعات اکثر کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں ہوتے بلکہ غلط فہمی، ناقص گفتگو، انا، مالی دباؤ، رشتوں میں عدم توازن اور ایک دوسرے کی توقعات کو نہ سمجھنے جیسے عوامل مل کر مسائل کو پیچیدہ بناتے ہیں، اس لیے کاؤنسلرز کو ظاہری شکایت کے بجائے اصل مسئلے تک پہنچنے کی صلاحیت پیدا کرنی چاہیے، بتادیں کہ تربیتی ورکشاپ اصلاحِ معاشرہ جمعیۃ علماء ہند ۲۴ تا ۲۷؍اگست ۲۰۲۶ء نئی دہلی میں جاری ہے، جس میں مجموعی طور پر ۶۳ شرکاء شریک ہیں۔ ورکشاپ کا انعقاد مدنی ہال، دفتر جمعیۃ علماء ہند، ۱ بہادر شاہ ظفر مارگ، نئی دہلی میں ہورہا ہے۔ اس تربیتی پروگرام میں مشرقی، وسطی اور مغربی اترپردیش زون کے علاوہ بہار، آسام، متحدہ پنجاب، مدھیہ پردیش، مغربی بنگال، گجرات، کرناٹک، آندھرا پردیش، تریپورہ، ناگالینڈ، میزورم، میگھالیہ، اتراکھنڈ، دہلی، جھارکھنڈ، اڈیشہ، مہاراشٹر، گوا، تلنگانہ اور راجستھان سے نمائندگی ہے۔
واضح رہے کہ مفتی اشفاق قاضی جامع مسجد ممبئی میں واقع دارالافتاء والارشاد میں بطور صدر مفتی بھی خدمات انجام دے رہے ہیں اور دینی رہنمائی کے ساتھ خاندانی و معاشرتی اصلاح کے میدان میں نمایاں سرگرم ہیں۔ ان کی حال ہی میں ’’عالیشان مساجد اور مسلمان‘‘ کے عنوان سے کتاب بھی شائع ہوئی ہے، جس میں مسجد نبوی ﷺ کے طرز پر مساجد کے ذریعے عبادت کے ساتھ تعلیم، تربیت، اصلاح، سماجی خدمت اور مسلمانوں کی مختلف ضروریات کی تکمیل کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے۔
Comments are closed.