ری چارج Recharge

مفتی احمد نادر القاسمی

اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا

 

موبائل ری چارج ہوتاہے پیسوں سے. جاندارکاجسم ری چارج ہوتاہے دانے اورہوا یعنی آکسیجن سے .اورروح ری چارج ہوتی ہے عبادت.تلاوت اورذکرواذکار سے .اوردین ری چارج ہوتاہے. دینی مجالس.درس قران.درس حدیث..دینی کتب کے مطالعے دینی باتوں کے مذاکرے.اورتذکیہ قلب سے .”فذکر فان الذکری تنفع المؤمنیں”(سورہ ذاریات 55) اور:”الابذکراللہ تطمئن القلوب”(سورہ رعد 28). یہ نفع دینا اورقلوب کا ذکرسے مطمئن ہونا یہ ری چارج ہی توہے. آج ہمارا حال .بلکہ ہرگھرکاحال یہ ہےکہ ہم موبائل تو پابندی سے ری چارج کرتےہیں.چاہے کچھ بھی کرناپڑے.مگر موبائل ری چارج ضرور کراتےہیں..چونکہ گھرکےہرفرد کے پاس موبائل ہے.یعنی تعلیم اورکمیونیکیشن کےنام پرکھلونا بچے سےلیکر بوڑھے تک اورمردسےلیکر عورت تک گھرہرممبرکےپاس ہے.اس لئیے اپنابھی ری چارج کراتےہیں .بیوی بچوں کابھی کراتےہیں. کراتےضرورہیں. اگرنہیں کراتے تودین کاری چارج نہیں کراتے. آج ہمارے گھروں میں موبائل زندہ ہے.دین زندہ نہیں. دین رہے کوئی بات نہیں. کوئی نمازتک نہ پڑھے چلےگا. مگرموبائل ری چارج نہ ہو توبیوی سے لڑائی بچوں سے جنگ.آفس میں طعنہ. ہمارے گھروں میں صبح چھ بجے سے رات کے دوبجے تک موبائل چل سکتاہے. ریلیں اوریوٹوب پرویڈیوز تو دیکھی جاسکتی ہیں. مگردین کامذاکرہ نہیں ہوسکتا.دین کی کوئی سیکھی اورسکھائی نہیں جاسکتی. آج موبائل کا استعمال دس فیصد ضروت میں اورنوے فیصد لایعنی ہورہاہے. گویاہمارے ری چارج کانوےفیصد موبائل میں لایعنی صرف ہورہاہے.پرخارکرنےوالی کمپنیوں .اور لایعنی ویڈیواپلوڈکرنے والوں پرخرچ کررہےہیں. مگراس کاافسوس ہمیں نہیں. ہوتا..گھروں سےدین چلاگیا.اندھیراآگیا.اس کاافسوس .نہیں..ہمارے بچوں میں دین نہ ہونے.اورموبائل سے گھرآبادہونے سے نہ کتنے گھراجڑگئے. ہماری کتنی بچیاں اوربچے بےراہ روی کاشکار ہوکرارتداد کی دلدل میں جاپھنسے .مگرہمیں اس کا افسوس نہیں. ہمارے بچے قران سے دور. نماز سے دور.اخلاق سے دور اور.منشیات کے عادی ہوگئے..اپنے گھرکودین کی روشنی سے ری چارج کرکے جگمگانے کی کوشش نہیں کرتے .مگر موبائل ری چارج ضرورکراتے ہیں. معاف کیجئےگا.ضرورت سے انکار.مگرہمارے گھروں اورہماری اورہمارےکنبے کی زندگی کادینی ری چارج سے خالی ہونابہت افسوس ناک ہے. فکرکیجئے. "یایھاالذین آمنوا قوانفسکم واھلیکم نارا”(سورہ تحریم آیت 6). ہم دنیاکی اصلاح کی فکرکرتے اوراپنے گھراوربچوں کی دینی تربیت سے غافل رہتےہیں. یہ قابل مواخذہ جرم ہے. آج ہم نے اپنے گھرکی عورتوں اوربیویوں کو دنیاکے کام کارفیق اورساتھی تو بنایا.مگر ان کو دین کی داعیہ اور مربیہ نہیں بنایا. نتیجہ یہ ہے کہ وہ دنیاکےکاموں اوربازاروں سے میں تو خوب دلچسپیاں لیتی ہیں.مگربچوں کی دینی اوراخلاقی تربیت. کی ذمہ داری سے ان کی زندگی باکل خالی ہے. جبکہ وہ تو قران کی روسے امربالمعروف اورنھی عن المنکر میں مردوں کی برابرکی شریک ہیں.جن کے پاس پیسے ہیں ان گھرانوں میں مرداپنے دنیاکےکام سے گھروں سے باہررہتےہیں اورخواتین اپنے دنیاکے کام سے گھروں سے باہررہتی ہیں. اوربچے اسکول اورخادماووں کے حوالے. اب غورکیجئے .کہاں گیاان کامربیانہ کردار .اورداعیانہ اورراعیانہ ذمہ داری. اورجومتوسط اورغریب گھرانے ہیں انھوں نے اپنی عورتوں کو داعیانہ مزاج کاحامل ہی نہیں بنایا. اس معاشرتی کوتاہی میں عرب وعجم سب برابرہیں. اللہ تعالی ہمیں فکرصالح.اورصراط مستقیم کی توفیق عطاکرے.اور اپنے گھروں کودین سے آباد کرنے توفیق دے، آمین

Comments are closed.