حج 2027 ٹینڈر تنازع: ایک ہی کمپنی کو چوتھے سال بھی ٹھیکہ کیوں؟

 

(بھارتی مسلمانوں کے لیے حج مہنگا ہونے کا خدشہ: ٹینڈر عمل کی شفافیت زیرِ بحث)

 

ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین

 

حج، اسلام کا پانچواں بنیادی ستون اور دنیا بھر کے کروڑوں مسلمانوں کے لیے زندگی کی ایک مقدس روحانی منزل ہے۔ ہر سال سعودی عرب میں ادا کیے جانے والے اس فریضۂ عظیم کی بجا آوری کے لیے بھارت سے بھی عازمین کی ایک بڑی تعداد روانہ ہوتی ہے۔ ان کی رہنمائی اور سفری سہولیات کے لیے حکومتِ ہند ہر سال ایک جامع منصوبہ بندی کرتی ہے، جس میں سروس پرووائیڈر کمپنی کا انتخاب بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تاہم جب اس انتخاب کا طریقہ کار سوالات کی زد میں آ جائے، شفافیت پر حرف آئے اور غریب عازمین پر اضافی مالی بوجھ ڈالنے کا الزام عائد ہو تو یہ معاملہ محض ایک دفتری کارروائی نہیں رہتا، بلکہ جمہوری احتساب، دیانت داری اور عوامی اعتماد کا کڑا امتحان بن جاتا ہے۔ بالخصوص جب اس تناظر کو حج سبسڈی کے خاتمے اور مسلم طبقے کے گہرے تحفظات کے پس منظر میں پرکھا جائے تو یہ سوالات مزید سنگین رخ اختیار کر لیتے ہیں۔

حال ہی میں ایک ایسا تنازع سامنے آیا ہے جس نے بھارت کے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ یہ معاملہ حج 2027 کے "کمپری ہینسیو سروس پیکیج کے ٹینڈر” سے متعلق ہے، جس میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ اور صحافی سید زغام مرتضیٰ نے شدید انتظامی و مالی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کیے ہیں۔ 27 اگست 2026 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر سنجے سنگھ نے ایک ہندی اخباری رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: "پربھو شری رام کا مندر لوٹنے کے بعد اب حج یاتریوں کو بھی لوٹا جائے گا۔” انہوں نے اتھرا الخیر کمپنی اور موجودہ حکومت کے مبینہ گٹھ جوڑ پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام عائد کیا کہ اسی کمپنی کو گزشتہ برس بھی ٹھیکہ دیا گیا تھا، جس سے فی حاجی 6000 روپے کا اضافی بوجھ پڑا اور اب دوبارہ اسی کمپنی کے انتخاب سے فی حاجی 30000 روپے سے زائد کا اضافی خرچ آئے گا۔ انہوں نے یہ استفسار بھی کیا کہ تکنیکی کمیٹی کی سفارشات کو نظر انداز کر کے L3 (تیسرے درجے کی بولی دہندہ) کمپنی کو ٹھیکہ کیوں دیا گیا۔

صحافی سید زغام مرتضیٰ نے بھی سوشل میڈیا پر انہی خدشات کی تائید کی۔ ان کے مطابق اس ٹینڈر کا عمل کوالٹی اینڈ کاسٹ بیسڈ سلیکشن (QCBS) کے تحت مکمل ہوا، جس میں مشرق المتیمیذہ کمپنی نے فی حاجی 8717.01 سعودی ریال کی سب سے کم بولی لگا کر L1 کا درجہ حاصل کیا تھا، نیز تکنیکی جانچ میں 92.13 کا اعلیٰ ترین اسکور بھی پایا تھا۔ اس کے برعکس، اترا الخیر کمپنی نے فی حاجی 9777 سعودی ریال کی بولی لگائی تھی مگر اس کے باوجود ٹھیکہ اسی کے نام جاری کیا گیا۔ مرتضیٰ کا دعویٰ ہے کہ اس فیصلے کے نتیجے میں تقریباً 1.22 لاکھ بھارتی عازمین پر مجموعی طور پر 300 کروڑ روپے سے زائد کا غیر ضروری مالی بوجھ پڑے گا۔

ان الزامات کے بعد وزارتِ اقلیتی امور نے 28 اگست 2026 کو ایک پریس ریلیز جاری کی، جس میں ٹینڈر کے تمام مراحل کا بھرپور دفاع کیا گیا۔ وزارت کے مطابق سروس پرووائیڈر کمپنی کا انتخاب مکمل طور پر طے شدہ، شفاف اور باضابطہ ٹینڈرنگ عمل کے تحت عمل میں لایا گیا ہے۔ تمام بولیوں کی جانچ مجاز کمیٹیوں نے مقررہ معیارات پر کی، جن میں لاگت کے ساتھ ساتھ کارکردگی کا معیار، آپریشنل صلاحیت اور تکنیکی تیاری کو بنیادی وزن دیا گیا، اور کوئی بھی غیر متعلقہ عنصر اس فیصلے پر اثر انداز نہیں ہوا۔

تاہم متعلقہ وزارت کے وضاحتی بیان میں نہ تو بولی لگانے والی کمپنیوں کے نام واضح کیے گئے، نہ ہی قیمتوں اور رینکنگ کا تقابلی گوشوارہ پیش کیا گیا، اور نہ تکنیکی کمیٹی کی سفارشات پر کوئی تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔ اس ابہام نے ناقدین کے خدشات کو مزید تقویت دی۔ سنجے سنگھ نے وزارت کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے دوبارہ پوچھا کہ کیا یہ محض اتفاق ہے کہ گزشتہ چار سال سے مسلسل ایک ہی کمپنی کو یہ ذمہ داری سونپی جا رہی ہے۔

اس تنازع کی گونج اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اسے 2018 میں ختم کی جانے والی 64 سالہ قدیم حج سبسڈی کے تسلسل میں دیکھا جا رہا ہے۔ اس وقت حکومت کا استدلال تھا کہ 700 کروڑ روپے کی بچت اقلیتی برادری، خصوصاً طالبات کی تعلیم پر خرچ کی جائے گی، اور یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 2012 کے فیصلے کی رو سے بتدریج عمل میں لایا گیا۔ گو کہ مسلم طبقے اور قیادت کے ایک باشعور حلقے نے اس سبسڈی کو ایئر انڈیا کے لیے بالواسطہ مراعات قرار دے کر اس کے خاتمے کی حمایت کی تھی، مگر سبسڈی ختم ہونے کے بعد حج اخراجات میں ہونے والے ہوش ربا اضافے نے عام عازمین کے معاشی خدشات کو بے حد بڑھا دیا ہے۔

اگر اس تنازع کا غیر جانبدارانہ جائزہ لیا جائے تو چند پہلو کھل کر سامنے آتے ہیں۔ پہلی بات یہ کہ "QCBS” کے طریقہ کار میں صرف کم ترین لاگت ہی فیصلہ کن عنصر نہیں ہوتی بلکہ ادارہ جاتی اہلیت اور تجربے کو بھی وزن دیا جاتا ہے۔ دوسری حقیقت یہ ہے کہ اترا الخیر کمپنی اور حکومتی شخصیات کے مبینہ تعلق کا تاحال کوئی ٹھوس دستاویزی ثبوت سامنے نہیں آیا، لہٰذا یہ الزام سیاسی بیانات تک ہی محدود ہے۔ تیسری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ وزارت کے مبہم جواب کی وجہ سے پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کی حتمی سچائی کسی آزاد اور اعلیٰ سطحی تفتیش کے بغیر طشت از بام نہیں ہو سکتی۔

اس پورے معاملے کا سب سے دل دوز پہلو وہ سادہ لوح عازمین ہیں جو اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی اس مقدس فریضے کی ادائیگی پر لگا دیتے ہیں۔ جب ان کی کمائی پر غیر شفاف طریقہ کار کے تحت ڈاکہ پڑنے کی خبریں عام ہوتی ہیں تو نظام پر سے عوامی اعتماد متزلزل ہو جاتا ہے۔ نیز حکومت نے سبسڈی کے خاتمے کے وقت جس 700 کروڑ روپے کو تعلیم پر لگانے کا اعلان کیا تھا، اس کا بھی کوئی شفاف آڈٹ یا گوشوارہ آج تک سامنے نہیں آ سکا۔

حج کا بنیادی درس امن، مساوات اور للہیت ہے۔ یہ انتہائی افسوس ناک ہے کہ اس پاکیزہ عبادت کا دفتری نظام بھی سیاسی اور معاشی الجھنوں کی نذر ہو رہا ہے۔ عوامی وسائل اور مذہبی معاملات میں مکمل شفافیت ناگزیر ہے۔ حکومت کی یہ اخلاقی اور آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ تمام گوشوارے عوام کے سامنے رکھ کر ان سوالات کا تسلی بخش جواب دے، تاکہ عازمینِ حج کو کسی اضافی معاشی استحصال کے بغیر بہترین سہولیات میسر آ سکیں۔

Comments are closed.