اللّٰہ کی گرفت سے پہلے اللّٰہ کی طرف لوٹ آؤ
🖋️ محمد دلشاد قاسمی
یہ دنیا اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہے، یہ زمین اسی کی ملکیت ہے، اور اس پر بسنے والا ہر انسان اسی کے سامنے جواب دہ ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو فراموش کرکے سرکشی کی راہ اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کو معمولی سمجھنے لگتا ہے، گناہوں کو کھلے عام انجام دینے لگتا ہے، مساجد کی حرمت پامال ہونے لگتی ہے، انہیں منہدم کیا جانے لگتا ہے اور کلامِ الٰہی کی بے حرمتی کی جاتی ہے، تو پھر انسان کو اللّٰہ کی گرفت سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔
قرآنِ کریم بارہا ہمیں سابقہ قوموں کے انجام سے عبرت دلاتا ہے۔ کتنی ہی قومیں اپنی قوت، اپنی سلطنت، اپنی دولت اور اپنی تہذیب و تمدن پر نازاں تھیں؛ مگر جب اللہ کی پکڑ آئی تو ان کی شان و شوکت لمحوں میں خاک میں مل گئی۔ بڑے بڑے محلات کھنڈرات بن گئے، آبادیاں ویران ہوگئیں اور وہ لوگ جنہیں اپنی طاقت پر بڑا ناز تھا، تاریخ کے اوراق میں عبرت کا نشان بن کر رہ گئے۔
چند روز قبل نیپال میں پیش آنے والے ہولناک سیلاب نے ایک بار پھر انسان کو قدرت کی بے پناہ قوت کا احساس دلایا۔ دیکھتے ہی دیکھتے بستیاں ملبے کا ڈھیر بن گئیں، بلند و بالا عمارتیں زمین بوس ہوگئیں، لوگ اپنی آنکھوں کے سامنے موت کو بڑھتے ہوئے دیکھتے رہے، مگر بے بسی کا عالم یہ تھا کہ کسی کی طاقت، کسی کی تدبیر اور کسی کا اختیار کام نہ آیا۔ چند لمحے پہلے جو زندگی سے معمور تھے، اگلے ہی لمحے موت کی آغوش میں جا سوئے۔
دنیا اسے ایک قدرتی حادثہ کہہ سکتی ہے، کوئی اسے محض اتفاق قرار دے سکتا ہے، لیکن ایک مؤمن ایسے واقعات کو صرف ظاہری اسباب کی نظر سے نہیں دیکھتا۔ اس کے لیے یہ واقعات عبرت، تنبیہ اور بیداری کا پیغام بھی ہوتے ہیں۔ البتہ کسی مخصوص حادثے کے بارے میں قطعی طور پر یہ فیصلہ کر دینا کہ وہ لازماً اللہ کا عذاب تھا، ہمارے اختیار میں نہیں؛ حقیقتِ حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔
ہمیں دوسروں کے انجام پر فیصلے سنانے سے زیادہ اپنے انجام کی فکر کرنی چاہیے۔ سوال یہ نہیں کہ فلاں پر مصیبت کیوں آئی؛ اصل سوال یہ ہے کہ اگر آج اللہ کی پکڑ آ جائے تو ہم کس حال میں ہوں گے؟
انسان عجیب غفلت میں مبتلا ہے۔ اسے اپنی زندگی کے اگلے لمحے کا بھی یقین نہیں، مگر وہ برسوں کے منصوبے بناتا ہے۔ وہ دنیا کو سنوارنے میں لگا رہتا ہے، مگر آخرت کو بھول جاتا ہے۔ اسے اپنی عمارت کی مضبوطی کا اطمینان ہوتا ہے، مگر اپنی قبر کی تیاری کی فکر نہیں ہوتی۔
موت نہ دستک دیتی ہے، نہ وقت بتاتی ہے، نہ عمر دیکھتی ہے۔ کبھی ایک لمحہ پوری زندگی کا آخری لمحہ بن جاتا ہے۔ جو شخص چند لمحے پہلے اپنے مستقبل کے خواب دیکھ رہا ہوتا ہے، اچانک اس کی زندگی کا سفر ختم ہوجاتا ہے۔
اس لیے ہمیں خوف کے ساتھ فکر بھی کرنی چاہیے، اور فکر کے ساتھ اصلاح بھی۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے بچنا چاہیے، اس کے حضور جھکنا چاہیے، اپنے گناہوں سے توبہ کرنی چاہیے، نمازوں کی پابندی کرنی چاہیے، حقوق العباد ادا کرنے چاہئیں اور زندگی کے ہر لمحے یہ احساس دل میں زندہ رکھنا چاہیے کہ ہم اللہ کے ہیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
آج جو سانس ہمارے سینے میں چل رہی ہے، ضروری نہیں کہ کل بھی باقی ہو۔ آج جو وقت ہمارے ہاتھ میں ہے، ممکن ہے کل ہمارے پاس نہ ہو۔ آج توبہ کا دروازہ کھلا ہے، کل شاید مہلت ہی ختم ہوجائے۔
پس دوسروں کی تباہی کو تماشا نہیں، اپنے لیے آئینہ بنائیے؛ زمین کے لرزنے سے پہلے اپنے دل کو جگائیے؛ اور اللہ کی گرفت آنے سے پہلے اللہ کی طرف لوٹ آئیے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں غفلت کی نیند سے بیدار فرمائے، اپنی نافرمانی سے محفوظ رکھے، ہر قسم کی آفت و مصیبت سے ہماری حفاظت فرمائے، ہمیں حوادثِ زمانہ سے عبرت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور جب زندگی کا آخری لمحہ آئے تو ایمان، توبہ اور اپنی رضا کی حالت میں ہمارا خاتمہ فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔
Comments are closed.