بزمِ صدف انٹرنیشنل کے چیئرمین شہاب الدین احمد کے اعزاز میں پروقار شعری نشست و عشائیہ
ریاض سعودی عرب سے مفتی منصور قاسمی کی خصوصی رپورٹ
ریاض کی فعال ادبی تنظیم "عالمی اردو محور” کے زیرِ اہتمام بزمِ صدف انٹرنیشنل کے چیئرمین شہاب الدین احمد کی ریاض آمد پر 29 اگست بروز ہفتہ کی شام ایک پروقار شعری نشست اور پر تکلف عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ شہاب الدین احمد سفرِ عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے مکہ جارہے تھے ۔ ریاض پہنچے تو عالمی اردو محور کے صدر افتخار راغب اور ذمہ داران تنظیم نے اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ان کے اعزاز میں ایک یادگار نشست کا انعقاد کیا۔
اس نشست کی صدارت معروف شاعر سلیم کاوش نے کی، جب کہ خواجہ مسیح الدین مہمانِ خصوصی اور شہاب الدین احمد مہمانِ اعزازی کے طور پر شریک ہوئے۔ نظامت کے فرائض حسان عارفی نے احسن طریقے سے انجام دیے۔ پر تکلف عشائیہ کے بعد باضابطہ نشست کا آغاز ہوا۔ عالمی اردو محور کے صدر افتخار راغب نے مہمانِ اعزازی کا تفصیلی تعارف پیش کیا۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے مہمانِ اعزازی شہاب الدین نے کہا:
”میں کوئی شاعر یا ادیب نہیں ہوں، لیکن ادب سے گہرا لگاؤ رکھتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک پانچ سو سے زائد چھوٹی بڑی شعری و ادبی محافل کا انعقاد کر چکا ہوں۔ مجھے یہ دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی کہ افتخار راغب جس طرح قطر میں ادبی سرگرمیوں کے لیے متحرک تھے، اسی طرح ریاض میں بھی فعال ہیں۔ اگرچہ میں خود کو اس پذیرائی کے قابل نہیں سمجھتا، تاہم میرا ماننا ہے کہ اسی طرح کی نشستیں ادب کی حقیقی خدمت ہیں۔ بڑے مشاعروں کے مقابلے میں ایسی سنجیدہ نشستوں کے ذریعے ادب کا فروغ زیادہ مؤثر انداز میں ہوتا ہے۔”
محفل میں شریک شعراء نے شاندار کلام پیش کر کے خوب داد و تحسین حاصل کی۔
منتخب اشعار درج ذیل ہیں۔
جانے والے کو عُذر چاہیے تھا
میرا ہونا تھا مسئلہ شاید
سلیم کاوش
ہر گھر کی دیواروں پر تحریرِ اخوت ہو
اس طرزِ نگارش کو ایجاد کریں پھر سے
خواجہ مسیح الدین
رِس رہا ہے تعلق کی رگ رگ سے خوں، کیا کروں
کتنے خستہ ہیں قصرِ وفا کے ستوں، کیا کروں
افتخار راغبؔ
میں جا چکا تھا دور سرابوں کے شہر سے
تم نے مجھے پکار کے اچھا نہیں کیا
حسان عارفی
ایک اک لفظ میں دانائی ہوا کرتی تھی
پہلے ہر بات میں گہرائی ہوا کرتی تھی
سراج عالم زخمی
شگفتہ پھول بھی مرجھا رہے ہیں دہشت سے
خدا کے واسطے اب چھوڑیں باغبانی آپ
منصور قاسمی
عشق میں سود و زیاں یہ تاجرانہ کار ہے
عشق کی معراج ہوتی ہے فقط ایثار سے
عبدالاول اول سنگرامپوری
انھیں خیال کی خوشبو سے گھر مہکتا ہے
جو وقت ہم نے ترے قرب میں گزارے تھے
عبدالرحمٰن راشد عمری
Comments are closed.