مرکزعلم ودانش علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیمی وثقافتی سرگرمیوں کی اہم خبریں
اے ایم یو کے بیگم سلطان جہاں ہال میں شجرکاری مہم، سبکدوش ہونے والی ملازمہ کے نام پر پودا لگایا گیا
علی گڑھ، یکم ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے بیگم سلطان جہاں ہال نے محکمہ جنگلات، علی گڑھ، اور شعبہ اراضی و باغات، اے ایم یو کے اشتراک سے ’ایک پیڑ ماں کے نام‘ مہم کے تحت شجرکاری مہم کا اہتمام کیا۔ اس موقع پر سبکدوش ہونے والی ایم ٹی ایس ملازمہ سروری اماں کے نام پر ایک پودا لگایا گیا۔
بیگم سلطان جہاں ہال کی پرووسٹ پروفیسر فاطمہ خان کی رہنمائی میں پروگرام منعقد ہوا۔ وارڈن ڈاکٹر افشاں ناز نے مہمانوں کا استقبال کیا اور ہال کی جانب سے ’پودا گود لینے‘ کی پہل پر روشنی ڈالی، جس کے تحت طالبات کو پودوں کی نگہداشت اور پرورش کی ذمہ داری لینے کی ترغیب دی گئی۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی، اے ایم یو رجسٹرار پروفیسر عاصم ظفر نے اس اقدام کو سراہا اور شجرکاری کے بعد پودوں کے تحفظ اور ان کی نگہداشت کی ضرورت پر زور دیا۔ پراکٹر پروفیسر محمد نوید خان نے پائیدار شجرکاری کی اہمیت اجاگر کی، جبکہ ممبر انچارج، اراضی و باغات پروفیسر انور شہزاد نے ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے میں درختوں کے کردار کو نمایاں کیا اور سروری اماں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے اس اقدام کو سراہا۔
سروری اماں نے خود اپنے نام سے وقف کیا گیا پودا لگایا۔ 5 طالبات بشمول حنا فاطمہ، عرشیہ حبیبی، عابدہ نقوی، اذکا طیب اور شفا ہاشمی کو ’پودوں کی مائیں‘ مقرر کیا گیا اور ان کے زیرِ کفالت پودوں کی نگہداشت کی ذمہ داری سنبھالنے پر پروفیسر عاصم ظفر نے انہیں اسناد پیش کیں۔
ڈاکٹر ایس ایم احمر، ڈاکٹر شگفتہ قادری، ڈاکٹر شاذیہ فرحین، ڈاکٹر رابعہ ریاض، سید شاہ رخ حسین اور ڈاکٹر نازیہ حنیف سمیت طالبات اور عملہ کے ارکان نے بھی شجرکاری مہم میں شرکت کی۔ پروفیسر انور شہزاد نے پودوں کے ساتھ ہی افرادی قوت اور دیگر ضروری تعاون فراہم کیا، جبکہ محکمہ جنگلات، علی گڑھ کے رینجر مسٹر گورو سنگھ نے نئے لگائے گئے پودوں کے تحفظ کے لیے ٹری گارڈ فراہم کیے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ میڈیسن میں پروفیسر مجاہد بیگ کے اعزاز میں الوداعی تقریب منعقد
علی گڑھ، یکم ستمبر: جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ میڈیسن میں ادارے کے لیے پروفیسر مجاہد بیگ کی نمایاں خدمات اور ان کی علمی و تدریسی کاوشوں کے اعتراف میں ان کے اعزاز میں الوداعی تقریب آرگنائزنگ چیئرمین پروفیسر خواجہ سیف اللہ ظفر کی صدارت میں منعقد کی گئی۔ فیکلٹی آف میڈیسن کے ڈین پروفیسر محمد خالد، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج کے پرنسپل و چیف میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر انجم پرویز، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ پروفیسر نیر آصف، نیز شعبہ میڈیسن کے اساتذہ اور ریزیڈنٹس نے تقریب میں شرکت کی۔
پروفیسر مجاہد بیگ نے اپنے اہل خانہ کے ہمراہ پروگرام میں شرکت کی۔ مقررین نے مریضوں کی نگہداشت، طبی تعلیم اور علمی سرگرمیوں میں ان کی خدمات کے ساتھ ساتھ شعبہ میڈیسن کی ترقی میں ان کے کردار کو یاد کیا۔ ادارے کے ساتھ ان کی طویل وابستگی اور انڈرگریجویٹ و پوسٹ گریجویٹ طلبہ کی کئی نسلوں کے لیے استاد اور رہنما کی حیثیت سے ان کی خدمات کو سراہا گیا۔
فیکلٹی ارکان نے شعبے اور میڈیکل کالج سے پروفیسر بیگ کی وابستگی، پیشہ ورانہ مہارت اور خدمات کی تعریف کی۔ پروفیسر بیگ کے رفقائے کار، طلبہ اور خیر خواہوں نے اظہارِ تشکر کیا اور انھیں نیک خواہشات پیش کیں۔
٭٭٭٭٭٭
پروفیسر صائمہ یونس خان، پروفیسر ارمان رسول فریدی اور پروفیسر ستیش کمار اے ایم یو کورٹ کے رکن مقرر
علی گڑھ، یکم ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے شعبہ پیڈیاٹرکس اینڈ پریونٹیو ڈینٹسٹری کی چیئرپرسن پروفیسر صائمہ یونس خان، شعبہ کمپیوٹر سائنس کے چیئرپرسن پروفیسر ارمان رسول فریدی اور شعبہ وائلڈ لائف سائنسز کے چیئرپرسن پروفیسر ستیش کمار کو سربراہان شعبہ کی سینیارٹی کے مطابق اے ایم یو کورٹ کا ممبر مقرر کیا گیا ہے۔ ان کی مدت کار تین سال یا صدر شعبہ کے عہدے پر برقرار رہنے تک ہوگی۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ لسانیات میں ذرائع ابلاغ، فلم اور نشریاتی پلیٹ فارموں میں کثیر لسانیت کے موضوع پر 2ستمبر کو خصوصی لیکچر
علی گڑھ، 1 ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ لسانیات کی جانب سے ”ذرائع ابلاغ، فلم اور نشریاتی پلیٹ فارموں میں کثیر لسانیت: مواقع، چیلنجز اور نئے افق“ کے موضوع پر 2 ستمبر کو دوپہر 12:30 بجے آرٹس فیکلٹی لاؤنج میں سڈنی، آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے آزاد محقق چارلس ایس تھامسن خصوصی خطبہ دیں گے۔ فیکلٹی آف آرٹس کے ڈین پروفیسر محمد رضوان خان پروگرام میں شریک ہوں گے۔ یہ پروگرام وائس چانسلر پروفیسر نعیمہ خاتون کی اعلیٰ سرپرستی میں منعقد کیا جارہا ہے۔ شعبہ لسانیات کے چیئرمین پروفیسر ایم جے وارثی کے مطابق خطبے میں عصری ذرائع ابلاغ، فلموں اور نشریاتی پلیٹ فارموں میں کثیر لسانیت سے وابستہ مواقع، چیلنجز اور ابھرتے ہوئے امکانات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ اس سے ڈیجیٹل اور مقبول عام ذرائع ابلاغ میں زبان کے استعمال اور نمائندگی کے بدلتے ہوئے منظرنامے کی تفہیم میں مدد ملے گی۔
٭٭٭٭٭٭
جے این میڈیکل کالج، اے ایم یو کے شعبہ فارماکولوجی کی جانب سے اوور ڈوز ڈے پر بیداری پروگرام کا انعقاد
علی گڑھ، یکم ستمبر: فارماکوویجیلنس پروگرام آف انڈیا کے علاقائی تربیتی مرکز (آرٹی سی)، شعبہ فارماکولوجی، جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے سنٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈی اِن فارماکولوجی، ابن سینا اکیڈمی، علی گڑھ کے اشتراک سے انٹرنیشنل اوورڈوز بیداری یوم پر ایک بیداری پروگرام منعقد کیا، جس میں ریزیڈنٹ ڈاکٹروں، اساتذہ اور اسٹوڈنٹس سپورٹ گروپ فار ایجوکیشن سے وابستہ طلبہ نے شرکت کی۔ اس کا مقصد شرکا کو ادویات کی زائد مقدار کے استعمال، منشیات کے غلط استعمال اور نشے کے بارے میں حساس بنانا،روک تھام، بروقت شناخت، مداخلت، بحالی اور معاشرتی شمولیت کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔
پروفیسر سید ضیاء الرحمن نے حاضرین کو اوورڈوز ڈے کی اہمیت سے آگاہ کیا، جو ہر سال 31 اگست کو منایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن ادویات کی زائد مقدارکے استعمال کے بارے میں بیداری پیدا کرنے، منشیات کی لت کی روک تھام اور ان کے باعث اپنی جان گنوانے والوں کو یاد کرنے اور روک تھام و علاج کے لیے شواہد پر مبنی طریقہ کار کو فروغ دینے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ادویات کی زائد مقدار کا استعمال محض ایک انفرادی یا طبی مسئلہ نہیں بلکہ صحت عامہ کا ایک بڑا مسئلہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مربوط کوششیں ضروری ہیں۔ انھوں نے اس سلسلہ میں شعبہ فارماکولوجی، ابن سینا اکیڈمی اور متعلقہ پلیٹ فارموں کے ذریعہ کی جانے والی مختلف کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
آرٹی سی، فارماکوویجیلنس پروگرام آف انڈیا کے ساتھ اشتراک کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے پروفیسر ضیاء الرحمٰن نے بتایا کہ ادویات کے مضر اثرات کی نگرانی اور ان کی اطلاع دینا ادویات کے محفوظ اور معقول استعمال کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہم ہے۔
اس پروگرام سے نوجوان طلبہ کو سائنسی اور سماجی دونوں نقطہ نظر سے منشیات کے غلط استعمال کے نتائج کو سمجھنے کا موقع ملا۔ شرکا نے بیداری اور روک تھام کی مہم سے اظہارِ یکجہتی کے طور پر ربن بیجز پہن رکھے تھے۔
٭٭٭٭٭٭
اے ایم یو کے شعبہ سوشل ورک اور گرین سول فاؤنڈیشن کی جانب سے اسکولی طلبہ میں ریسائیکل شدہ مواد سے تیار 1600 کٹ تقسیم
علی گڑھ، یکم ستمبر: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سوشل ورک نے گرین سول فاؤنڈیشن، نوی ممبئی کے اشتراک سے یومِ آزادی اور قومی ہفتہئ سماجی خدمت کے تحت ”پائیدار مستقبل کی جانب قدم“ کے عنوان سے کٹ تقسیم کرنے کی ایک ہفتہ طویل مہم کا اہتمام کیا۔
اس مہم کے تحت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ذریعہ گود لیے گئے مواضعات اور علی گڑھ ضلع کے دیگر علاقوں کے 7 سرکاری اسکولوں کا احاطہ کیا گیا اور 1600 سے زائد طلبہ کو ایک بیگ، چٹائی اور ایک جوڑی چپل پر مشتمل کٹ فراہم کی گئی۔ یہ تمام اشیا ریسائیکل شدہ مواد سے تیار کی گئی تھیں۔
اسکولوں میں اس مہم کے دوران تعلیمی و بیداری سرگرمیاں بھی منعقد کی گئیں۔ بنیادی تعلیم محکمہ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر مسٹر لکشمی کانت پانڈے، اسٹیٹ ریسورس گروپ کے ڈاکٹر انل راگھو، یونی کامرس کے کنسلٹنٹ سید عقیل حسین، ریوولیوشن اکیڈمی کے ڈائریکٹر مسٹر محمد اسد اور ایس ایم سی صدر نزاکت علی سمیت دیگر مہمانوں نے پروگراموں میں شرکت کی۔
فیکلٹی آف سوشل سائنسز کے ڈین اور شعبہ سوشل ورک کے چیئرپرسن پروفیسر اکرام حسین سمیت ڈاکٹر محمد طاہر، ڈاکٹر قرۃ العین علی، ڈاکٹر محمد عارف خان، ڈاکٹر شائنا سیف، ڈاکٹر عندلیب، ڈاکٹر محمد عذیر اور ڈاکٹر سمیرا خانم نے اس مہم کی حمایت کی۔ ماسٹر آف سوشل ورک، سال آخر کے طلبہ نے کٹ کی تقسیم میں رضاکارانہ خدمات انجام دیں، جبکہ ریسرچ اسکالر مسٹر محمد رضا نے مہم کو مربوط کیا۔
اس پروگرام کو مسٹر شریانس بھنڈاری، مسٹر رمیش دھامی اور گرین سول فاؤنڈیشن کی ٹیم سمیت شریک اسکولوں کے معاونین اور پرنسپلوں کی حمایت حاصل رہی۔ ان میں مسز فرح مسعود (پرائمری اسکول، ڈیری فارم، مرزا پور)، مسز فرحت انجم (اپر پرائمری اسکول، ڈیری فارم، مرزا پور)، مسز رافعہ نکہت (پرائمری اسکول، رضا نگر)، مسز راجکماری (اپر پرائمری اسکول، رضا نگر)، مسٹر خلیق احمد (بالک پرائمری اسکول نمبر 2، اپر فورٹ)، مسز نازیہ اسحاق (بالک پرائمری اسکول نمبر 19، ہمدرد نگر ڈی)، اور مسز فرناز فیاض (بالک پرائمری اسکول نمبر 46، ہمدرد نگر اے) شامل تھے۔
٭٭٭٭٭٭
Comments are closed.