مشرقِ وسطیٰ میں امریکہ-اسرائیل اتحاد کو ایک اور بڑا دھچکا
تحریر: محمد برہان الدین قاسمی
ایڈیٹر: ایسٹرن کریسنٹ، ممبئی
(11 ستمبر 2026ء)
مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست اتنی تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے کہ بہت سے لوگ اس کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق یمن کی انصاراللہ حوثی تحریک نے تقریباً 3,000 مربع کلومیٹر علاقے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے—اگرچہ علاقے کے حجم کے بارے میں مختلف رپورٹس میں مختلف اعداد و شمار سامنے آئے ہیں—جس میں المخا بندرگاہ، باب المندب کے علاقے کے بعض حصے اور قریبی جزائر بھی شامل ہیں۔ یہ علاقے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور امریکہ کی حمایت یافتہ یمنی افواج کے زیرِ کنٹرول تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ 2 سے 10 ستمبر 2026ء کے درمیان حوثیوں کی وسیع اور تیز رفتار پیش قدمی کے بعد مغربی یمن کا بحیرۂ احمر سے متصل تقریباً پورا ساحلی علاقہ اب حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔ ان پیش رفتوں کی رفتار ماضی قریب کے ان واقعات کی یاد دلاتی ہے جب 2024ء میں احمد الشرع کی افواج نے شام پر کنٹرول حاصل کیا تھا اور 2021ء میں طالبان نے افغانستان پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا۔
اس وقت دنیا کے دو انتہائی اہم اور تزویراتی آبی راستے—خلیجِ فارس میں آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں باب المندب—امریکہ-اسرائیل محور کے مؤثر کنٹرول سے باہر دکھائی دے رہے ہیں، جس کے نتیجے میں نہرِ سویز سے گزرنے والی بحری تجارت بھی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔ اس تزویراتی صورتِ حال میں خلیجی ممالک خود کو جنوب، شمال اور مشرق سے ایران، اس کے حلیف عمان اور حوثیوں سے گھرا ہوا محسوس کر رہے ہیں، جو مغربی یمن کے وسیع علاقوں پر قابض ہیں۔ یہ بلاشبہ امریکہ اور خطے میں اس کے اتحادیوں کے لیے ایک بڑا اور غیر متوقع دھچکا، اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران ایران کے لیے ایک اہم تزویراتی فائدہ ہے۔
عالمی تجارت پہلے ہی شدید مشکلات سے دوچار ہے، تیل کی قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں اور عالمی معیشت تیزی سے بحران میں ڈوب رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دباؤ میں دکھائی دے رہے ہیں اور اس بلااشتعال جنگ سے نکلنے کا کوئی واضح راستہ نظر نہیں آ رہا جو انہوں نے نیتن یاہو کے لیے ایران کے خلاف شروع کی تھی، لیکن جس نے اب پوری دنیا کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ ایران کی معیشت بھی خراب حالت میں ہے، لیکن گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران اس نے پابندیوں سے نمٹنے کے اپنے طریقے ضرور پیدا کر لیے ہیں۔
ہم اس بات کو سراہتے ہیں کہ اب تک ترکی اور پاکستان نے سعودی عرب کی جانب سے حوثیوں کے خلاف اس جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے گریز کیا ہے۔ دونوں ممالک نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مکہ معاہدے سے قبل کے تنازعات تینوں ممالک کے درمیان ہونے والے اس معاہدے کے دائرے میں شامل نہیں ہیں، جس کے تحت کسی ایک ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ مکہ معاہدہ مستقبل کی جنگوں سے متعلق ہے، جب کہ سعودی-حوثی تنازعات ماضی کے مختلف ادوار سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہاں بھی امریکی ڈیپ اسٹیٹ ترکی کی ان کوششوں کا مقابلہ کرنے میں مشکلات سے دوچار دکھائی دیتی ہے جن کا مقصد مکہ معاہدے کو موجودہ جنگ سے الگ رکھنا اور پاکستان کو اس جنگ میں براہِ راست شامل ہونے سے روکنا ہے۔ دوسری جانب پاکستان کے ایران کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، جنہیں وہ غالباً برقرار رکھنا چاہے گا۔
یمن کے معاملے میں سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بھی اختلافات پائے جاتے ہیں، کیونکہ دونوں کے مفادات مختلف ہیں اور میدانِ جنگ میں ان کے اپنے اپنے حامی گروہ موجود ہیں، جو الگ الگ کشتیوں میں اور مختلف سمتوں میں سفر کر رہے ہیں۔ موجودہ صورتِ حال میں واضح طور پر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ نہ سعودی عرب اور نہ ہی متحدہ عرب امارات حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کی پوزیشن میں ہیں، جب کہ ان کے امریکہ-اسرائیل اتحادی بھی انہیں فیصلہ کن مدد فراہم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ترکی اور پاکستان سعودی عرب کے لیے آخری امید تھے، لیکن اب تک یہ امید محض امید ہی بنی ہوئی ہے۔ متحدہ عرب امارات کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے اسرائیل یا امریکہ، یا دونوں، ایک بار پھر آسمان سے کچھ بم برسا سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں یمن میں مزید بے گناہ شہری مارے جا سکتے ہیں۔ لیکن ایسے فضائی حملے زمینی صورتِ حال میں کوئی بڑا تغیر پیدا کرنے میں غالباً کامیاب نہیں ہوں گے۔
مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست تبدیل ہو رہی ہے اور اس کے ساتھ دنیا میں طاقت کا توازن بھی بدل رہا ہے۔ ہماری دنیا یک قطبی نظام سے کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے۔ روس اور چین بتدریج عالمی طاقت میں اپنا حصہ بڑھا رہے ہیں، جب کہ ڈالر کی اجارہ داری بھی آہستہ آہستہ، لیکن مسلسل کمزور ہوتی جا رہی ہے۔
اب وقت آ گیا ہے کہ بھارت آگے بڑھے اور ٹرمپ یا نیتن یاہو کے دباؤ سے آزاد ہو کر اپنی آزادانہ پوزیشن اختیار کرے۔ برکس (BRICS) بھارت کے لیے عالمی سطح پر اپنا مؤقف پیش کرنے اور مشرقِ وسطیٰ میں امن کا مطالبہ کرنے کا ایک مؤثر پلیٹ فارم بن سکتا ہے۔ بھارت کو فلسطین کی آزادی کے حق میں اپنی سابقہ پالیسی بھی دوبارہ زندہ کرنی چاہیے۔ ہم 1947ء سے لے کر وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی اور ڈاکٹر منموہن سنگھ کے ادوارِ حکومت تک فلسطین کے کاز کے ساتھ مسلسل کھڑے رہے ہیں۔ ہم امید اور دعا کرتے ہیں کہ وہ دن ضرور آئے گا جب عرب اور مسلمان متحد ہوں گے، اور جب غزہ اور فلسطین صہیونی قبضے اور اسرائیل کی نسل کش و جارح حکومت سے آزاد ہوں گے، ان شاء اللہ۔
Comments are closed.