ورق ورق دستاویز، ملبہ ملبہ مکان
نوراللہ نور
اسسٹنٹ ایڈیٹر بصیرت آن لائن
گزشتہ چند سالوں کے دوران غیر قانونی انہدام کی بڑھتی کارروائیوں نے یہ واضح اشارہ دے دیا ہے کہ کوئی بھی عمارت کتنی ہی پختہ کیوں نہ ہو اور دستاویزات کتنے ہی مضبوط کیوں نہ ہوں، اگر انتظامیہ نے ایک بار ارادہ کر لیا تو اس کا انہدام یقینی بنا دیا جاتا ہے۔
زیادہ پیچھے نہ جاتے ہوئے اگر حالیہ ۳ انہدام کی بات کریں تو یہ قضیہ کھل کر سامنے آ جاتا ہے کہ ان یکطرفہ کارروائیوں کے طریقہ کار سے عوام میں یہ شدید تاثر اور تشویش پیدا ہو رہی ہے کہ ان کا مقصد ایک مخصوص طبقے کو نشانہ بنانا ہے۔
سہارنپور کی سو سالہ مسجد کا انہدام یہ کہہ کر کیا گیا کہ یہ کلکٹریٹ کی زمین پر بنی ہوئی ہے، لہٰذا یہ سرکاری اراضی پر غیر قانونی قبضہ ہے۔ مگر انہدام کے بعد سامنے آنے والے دستاویزات بتا رہے ہیں کہ مسجد کلکٹریٹ کی جگہ پر نہیں بلکہ کلکٹریٹ ہی مسجد کی اراضی پر بعد میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اسی طرح مسجد میں استعمال ہونے والی اینٹوں پر بھی ۱۹۰۹ء درج ہے، لیکن ان تمام ٹھوس ثبوتوں اور دستاویزات کی موجودگی کے باوجود سو سالہ قدیم عمارت کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا گیا۔
اسی طرح آسام میں حکومت نے ۷۳ گھروں کو مسمار کر دیا، جس سے بیسیوں خاندان بے گھر ہو گئے۔ حکومت نے اپنی صفائی میں یہ عذر پیش کیا کہ یہ رہائش گاہیں آبی ذخائر اور ندی نالوں کے بہاؤ کو متاثر کر رہی تھیں اور یہ زمین صرف کاشت کاری کے لیے مخصوص تھی۔ دوسری طرف وہاں کے باشندوں کے مطابق ان کے پاس تمام قانونی کاغذات موجود ہیں اور وہ قانونی چارہ جوئی کے لیے بھی تیار تھے، لیکن انہیں اپنی بات رکھنے کا موقع دیے بغیر محض ۲۴ گھنٹے کا نوٹس دیا گیا اور اس کے بعد ان کے آشیانے مسمار کر دیے گئے۔
۲۴ گھنٹے کا وقت اتنا قلیل ہوتا ہے کہ انسان اپنی یادوں اور جمع پونجی کو بھی محفوظ جگہ منتقل نہیں کر سکتا، لیکن انتظامی جلد بازی اور بے حسی نے انسانی احساسات اور بنیادی حقوق کو بالکل پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
عدالتِ عظمیٰ نے بارہا تنبیہ کی ہے کہ طے شدہ قانونی عمل (Due Process of Law) کے بغیر کسی بھی عمارت کا انہدام غیر آئینی ہے۔ متعدد بار ریاستی حکومتوں کو عدالت کی جانب سے سخت پھٹکار کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے، مگر عدالتی ہدایات کے باوجود طے شدہ آئینی طریقہ کار کی کھلم کھلا خلاف ورزی دکھائی دیتی ہے۔
لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں
تمہیں ترس نہیں آتا بستیاں اجاڑنے میں
دراصل بات صرف دستاویزات کی پختگی کی نہیں ہے، بلکہ یہ آئینی اور جمہوریت پسند اقدار کے تنزل کا نتیجہ ہے۔ اقتدار کے اختیارات کا ایسا حد سے تجاوز آئینِ ہند کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی (Rule of Law) کو سخت نقصان پہنچا رہا ہے۔ انہیں دلائل اور عدالتی احکامات کی کوئی پروا نہیں ہے، لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ناانصافی کی عمر دراز نہیں ہوتی اور کنواں کھودنے والا بالآخر خود اس میں گرتا ہے۔
جب تک اس آمرانہ روش کے خلاف ایک مضبوط، متحد اور آئینی محاذ قائم نہیں کیا جائے گا، یوں ہی عمارتیں زمین دوز ہوتی رہیں گی اور آشیانے اجڑتے رہیں گے۔ کیونکہ جب مسندِ اقتدار پر بیٹھے لوگ ہی انتقامی جذبے سے کام لینے لگیں، تو تمام دلیلیں بے کار ثابت ہونے لگتی ہیں
Comments are closed.